find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Eid ka Chand kahi Ek Din pahle to kahi ek Din bad kyu Dikhayi deta hai?

Mashriki Mumalik me ek Din Bad Chand kyu Dikhayi deta hai?

Western Country me Chand ek Din pahle kaise najar aata hai?

رویت ہلال

تحریر: شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظه الله

اختلا ف مطالع کی صحیح صورت حال سمجھنے کے لئے چند مقدمات کا لحاظ ضروری ہے:
١ زمین سے چاند کا فاصلہ سورج کی نسبت کم ہے۔
٢ چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے، مشہور مقولہ ہے:
نورالقمر مستفاد من نور الشمس .
''چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے''
لہذا چاند کا وہی حصہ روشن ہوگا جو سورج کے سامنے ہوگا، مہینے کی آخری تاریخوں مثلا ٢٧،٢٨ یا ٢٩ کو چاند نظر نہیں آتا ، وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان دنوں چاند سورج کے قریب ہوتا ہے اور اس کا منور حصہ سورج کی اور غیر منور حصہ زمین کی جانب ہوتا ہے۔
٣ چاند روزانہ ایک منزل مشرق کی طرف سے سورج سے پیچھے ہٹتا ہے۔
٤ چاند تبنظر آتا ہے ،جب سورج سے ایک منزل (١٢ درجات سے کچھ زائد) بعید ہو ۔

٥ مشرقی ممالک میں اگر چاند نظر آجاتا ہے تو مغربی ممالک میں یقینا نظر آجائے گا۔ عارضی مانع موجود ہو تو ممکن ہے نظر نہ آئے ، مثلا گردو غبار یا عرض بلد کا بعد وغیرہ۔
اب ذرا تفصیل سے اس پر غور فرمائیے، زمین کی قدرتی ساخت ایسی ہے کہ مغربی ممالک میں چاند اور سورج مشرقی ممالک سے پہلے غروب ہو جاتے ہیں، لہذا مشرقی ممالک میں چاند جب سورج سے ایک منزل پیچھے ہٹے گا اور مشرقی ممالک میں نظر آئے گا تو لازما مغربی ممالک میں بھی نظر آجائے گا۔بلکہ مغربی ممالک کا چاند مشرقی ممالک سے زیادہ روشن اور واضح ہوگا، کیوں کہ مغربی ممالک میں سورج ذرا تاخیر سے غروب ہوگا، اتنے میں چاند مزید سورج سے پیچھے ہٹ چکا ہوگا ،اور جتنا ایک منزل (١٢) درجات سے پیچھے ہٹتا جائے گا رویت حتمی ہوتی جائے گی۔
البتہ مغربی ممالک میں چاند اگر نظر آجاتا ہے تو ضروری نہیں کہ مشرقی ممالک میں بھی نظر آئے، بلکہ بعض دفعہ ناممکن ہو جاتا ہے، خصوصا ان ممالک میں جو مغربی ممالک سے ایک منزل (١٢درجات) کے فاصلے پر واقع ہیں، چاند کے لئے ممکن نہیں کہ وہ ایک منزل پیچھے ہٹ جائے اور ان مشرقی ممالک میں بھی نظر آجائے، جو مقام رویت سے ایک منزل (١٢درجات) دور ہیں۔
مناسب ہے کہ رویت ہلال میں قرب و بعد کے لئے چاند کی ایک منزل (١٢درجات) ہی کو معیار تسلیم کیا جائے۔ یاد رہے کہ ہر دو درجات کے درمیان ٦٩ میل کا فاصلہ ہوتا ہے، اس لحاظ سے بارہ درجات کی مسافت ٨٢٨ میل کے لگ بھگ ہوگی۔
ا ب صورت حال مزید نکھر کر سامنے آگئی ہے، مسافت مطلع کے واحد ہونے کا معیار چوں کہ ٨٢٨میل ہے،اس لئے ایک مغربی ملک میں اگر چاند نظر آتا ہے تو اس کے مشرق میں ٨٢٨ میل کے اندر اندر جتنے ملک آئیںگے ،ان میں اس مغربی ملک کی رویت کا اعتبار ہوگا،جو اس مسافت سے زیادہ دور ہوں گے ان کا مطلع البتہ مختلف ہے۔
لیکن مشرقی ممالک میں اگر چاند نظر آجاتا ہے تو وہ تمام مغربی ممالک کے لئے قابل اعتبار ہے،مطلع ایک ہو یا مختلف ۔۔۔۔۔۔کیوں کہ مشرق کا مطلع جتنا مختلف ہوگا،وہاں چاند اتنا ہی زیادہ روشن اور اونچا دکھائی دے گا۔
خط استواء سے شمالا جنوبا رہنے والوں کیلئے رویت کا معیار وہی ہو گا جو خط استواء پر رہنے والوں کے لئے ہوگا، مثلا خط استواء پر طول بلد ٧٠ پر رہنے والوں کے لئے رویت کا جو حکم ہو گا وہی طول بلد ٧٠ سے شمالا جنوبا رہنے والوں کا حکم ہوگا،خواہ رہنے والے قطب شمالی اور قطب جنوبی کے قریب ہی کیوں نہ رہتے ہوں۔۔۔۔۔۔یہاں پر موسم سرما میں چاند کے نظر آنے کا امکان بھی کم ہے۔واللہ اعلم بالصواب
ازافادات : من شیخنا پیر محمد یعقوب قریشی نوراللہ مرقدہ
اس مسئلہ میں مولاناعبد الرحمان کیلانی رحمہ اللہکی تصنیف لطیف ''اسلام کا نظام فلکیات ''اور اہل حدیث ،ہندی عالم مولانا ابوالعاص وحیدی کی کتاب مستطاب ''رویت ہلال اور اختلاف مطالع ''کا مطالعہ مفید رہے گا۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS