Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Showing posts with label Gunah. Show all posts
Showing posts with label Gunah. Show all posts

Zina Ki Saja Kya hai Islam me? Zina ke Bad Tauba kar lene se Kya Allah Maaf kar dega?

 Aaj ke Daur me Agar Koi zina KAr le to Use Zina ki saja kaun dega ? Qazi ya Hukumat?

Kisi Musalman se Zina ho jaye to wah Kis ke pas jayega iska Zikr karne ke liye?

Zina Ki Saja kya hai Islam me aur yah Shadi Shuda ya Gair Shadi Shuda ke liye kitni saja hai?

zina ki Saja islam me, Zani Mard aur Aurat ki Saja, Islam me Rapist ki saja

بِسْـــــــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّـــــلاَم عَلَيــْــــكُم وَرَحْمَـــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه
🖋 تحریر : مسزانصاری
سوال :::::
میں صحیح البخاری کی حدیث نمبر 5270 کا مطالعہ کر رہا تھا حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں::
کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن پھر وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے (اور زنا کا اقرار کیا) پھر انہوں نے اپنے اوپر چار مرتبہ شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو، کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، پھر آپ نے پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہو چکی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عیدگاہ پر رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب انہیں پتھر لگا تو وہ بھاگنے لگے لیکن انہیں حرہ کے پاس پکڑا گیا اور جان سے مار دیا گیا۔
حدیث ہے یا قیامت !!!!! اللہ اکبر کبیرہ !!!!!!! اللہ پاک صحابہ پر اپنی رحمتوں کا نزول کرے اور میرے گناہوں کو معاف کرے ۔
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد کچھ سوالات میرے ذہن میں آئے جسکی بابت آپ احباب کی طرف رجوع کیا اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آنے والے سوالات درج ذیل ہیں جن کے بارے رہنمائی درکار ہے تاکہ میں اپنی آخرت و عاقبت کا ساماں کر سکوں۔
سوال نمبر1: صحابی نے گناہ کیا اور بارگاہ رسالت میں اعتراف کیا گناہ کا تاکہ آخرت میں اس بابت سوال نہ ہو اس سے تو میرا یہ سوال ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ بتقاضا بشریت سرزد ہو جائے تو ہم کس کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کریں تاکہ دنیا میں ہی اسکا خمیازہ بھگت لیں اور آخرت میں ہم سے اس بابت کوئی سوال نہ ہو کیونکہ وہ صحابہ جنت کی بشارت پانے والوں کا یہ حال ہے تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں اپنی تو ساری زندگی ہی گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہے ؟؟؟؟؟
سوال نمبر2: میری ناقص سمجھ کے مطابق گناہ کا اعتراف وقت کے حکمران قاضی کے سامنے کرنا بنتا ہے اور اسی قاضی حکمران کو سزا دینے کا اختیار ہے جیسا کہ اوپر حدیث میں ہے کہ صحابی نبی ﷺ کے پاس آیا جو کہ نبیوں کے امام ہیں ﷺ اگر میری یہ سمجھ درست ہے تو موجودہ ملک جو کہ پاکستان ہے جس میں میں رہتا ہوں ایک اسلامی ملک تو ہے لیکن یہاں اسلام نام کی چیز کوئی نہیں جن قوانین کو اسلامی قوانین سے منسوب کیا وہ اصل میں فقہ حنفی ہے اور فقہ حنفی کیا ہے بتانے کی ضرورت نہیں اور اکثر قوانین ایسے ہیں جو کہ انگریز کے ہیں انگریز ہندوپاک سے تو چلا گیا لیکن اپنے کچھ قانون یہاں چھوڑ گیا خیر یہ تو ایک داستان ہے داستانوں میں اگر میری سمجھ درست ہے تو ہم یہاں کس کے سامنے اپنے آپکو سزا کے لئے پیش کریں تاکہ دنیا میں ہی اپنے اس گناہ سے چھٹکارا حاصل کر لیں ؟؟؟؟؟

سوال نمبر3: مجھ سے اگر کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے کسی قسم کا بھی اور میں اس گناہ کو ختم کرنے کے لئے سزا کے طور پر اپنے آپکو پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو کیا میری استغفار میرے اس گناہ کو ختم کر دے گی اور کیا اللہ میری اس استغفار کے بدلے میرے اس گناہ کو معاف کر کے آخرت میں بھی مجھ سے اس بابت سوال نہ کرے اور نہ اس بابت کوئی مواخذہ کرے کیا ایسا ممکن ہے ؟؟؟؟
سوال نمبر4: ایسے کونسے اعمال ہیں جو کبیرہ گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں میرے علم میں تو ابھی تک کبیرہ گناہوں کا خاتمہ اس گناہ سے پکی سچی توبہ ہے لیکن انسان ہوں پھر بھی اگر کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جائے تو ایسا کونسا عمل ہے جو کبیرہ گناہوں کو جڑ سے ختم کر دیتا ہے ؟؟
سوال نمبر5: کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں مجھے انکی تفصیل جاننی ہیں کچھ میرے علم میں ہیں لیکن میں جاننا چاہتا ہوں سارے کبیرہ گناہوں کے بارے تاکہ حتی الامکان کوشش کر سکوں ان سے بچ سکوں ؟؟؟؟؟
سوال نمبر6: اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ مالک کائنات اس قدر رحیم و کریم ہے کہ وہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے جہاں اس مالک کی اس قدر مہربانی و رحمت کا تذکرہ دیکھتا ہوں تو وہی جہنم کی ہولناکیوں کا منظر ، قبر کی تاریکی ، پل صراط کی ہولناکی ، سورج کی تپش سے نفسی نفسی کا عالم اللہ اکبر کبیرہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جہاں اسکا یہ فرمان یاد آتا ہے کہ اسکی رحمت اسکے غصے پر حاوی ہے وہیں اسکا یہ فرمان بھی یاد آتا ہے کہ اے انسان کیا تو بے خبر ہے اس قیامت کے دن سے جس دن اعمال کا پہاڑ لے کر آئے گا انسان اور اسکے وہ اعمال ہوا ہو جائیں گے اور وہ عمل اسکےکسی کام نہ آئیں گے ان دونوں میں جہاں ایک طرف خوشخبری ہے وہیں دوسری طرف ڈر بھی ہے ؟؟؟؟؟
آپکو بھی وقت کی قلت کا سامنا رہتا ہے مجھے اس بات کا بھی خیال ہے اس بابت مزید کچھ سوالات ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ میرے انہی سوالوں کے جواب میں انکا جواب بھی موجود ہو گا ان شاء اللہ لہذا زیادہ زحمت دینا آپکو مجھے بھی اچھا نہیں لگتا اور کوشش کرتا ہوں کہ سوال مختصر ہی کروں اور آپکو زحمت تب ہی دیتا ہوں جب کسی ابہام کا شکار ہوتا ہوں تو بجائے اسکے کہ میں اپنی قیاس آرائیوں پر مفروضوں پرکوئی نتیجہ اخذ کر کے اسی کو حجت مان لوں اہل علم سے رہنمائی لینا ضروری سمجھتا ہوں۔
نوٹ: میرے ان سوالات کو بغور پڑھیے گا اور الشیخ سے ڈسکس کیجیے گا پھر ہی انکا جواب لکھیے گا جب آپکو آسانی ہو میں ان شاء اللہ منتظر رہوں گا اور ان شاء اللہ ان سوالات کے بعد کچھ سوالات تقدیر سے متعلق ایک حدیث ہے اس بابت میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں موضوع چونکہ تقدیر کا ہے لہذا اس بابت زیادہ سوال بھی درست نہیں کہیں چھوٹی سی غلطی بھی دائرہ ایمان سے خروج کا سبب نہ بن جائے لیکن ان شاء اللہ میری نیت صرف اور صرف اس حدیث کی بابت رہنمائی ہے خیر میں ابھی اس بارے مزید مطالعہ کر لوں پھر ہی اس بابت تفصیل سے سوالات عرض کروں گا ان شاء اللہ الرحمن
موجودہ سوالات کا منتظر رہوں گا اللہ پاک اپکو اور الشیخ کو عزتوں سے برکتوں سے نوازے دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا کرے حاسدین کے حسد و شر سے محفوظ رکھے اور آپکی محنت اور دین اسلام کی اشاعت کو آپکے لئے صدقہ جاریہ بنائے اور آپ کے لئے اس کام کوبخشش کا زریعہ بنائے ۔ جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء الدنیا والاخراہ
۝͜͡ ͜͡ ۝͜͡ ͜͡ ͜͡ ۝͜͡ ͜͡ ۝͜͡ ͜͡ ۝͜͡ ͜͡
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
◐ عزیز دینی بھائی اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے بندے !!! آپ کو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور متقی بندوں میں شامل فرمائے کہ آپ نے وہ موضوع چھیڑا ہے جو یقینًا ان شاءاللہ العزیز ان بے شمار لوگوں کو مستفید کرے گا جو اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دامنگیر رکھتے ہیں ، لیکن اسکے ساتھ ظالم معاشرے کے رسوا کن رویہ انکے لبوں کو سی دیتا ہے مگر اپنے اللہ کے غضب پر رحمت کو غالب پاتے ہیں ۔

ہمارے برادرِ اسلام آپ كو یہ بات معلوم ہونا چاہیے كہ مسلمان شخص كو لائق نہيں كہ اس نے جس گناہ سے توبہ كر لى ہو اسے عظيم اور بڑا سمجھے؛ كيونكہ اللہ تعالى كى رحمت و مغفرت اور اس كى معافى و درگزر اس كے گناہوں سے بھى بڑھ كر ہے. جب اللہ تعالیٰ شرکِ اکبر کے سنگین ترین گناہ کو توبہ سے مٹا دیتا ہے تو اسکے بعد کوئی گناہ مثل شرکِ اکبر کے نہیں رہ سکتا ۔
بے شک اسلام انصاف پسند دین ہے ۔ اسلام کی نافذ کی گئی کوئی حد ظلم نہیں بلکہ معصیت کو لگام دینے کے لیے بے مثال اقدام ہوتی ہیں ۔

اللہ تعالی نے زانی مرد اور زانیہ عورت کے لیے حدود سزا مقرر کی ہے جسکی رو سے زانی مرد و عورت اگر شادی شدہ ہوں تو انہيں رجم کیا جائےگا ، اور جو شادی شدہ نہ ہو اسے ایک سو کوڑے مارے جائيں گے ۔ اور زنا كو ثابت کرنے كے ليے چار مسلمان اور آزاد اور عادل گواہوں كى گواہى شرط ہے ۔ جنہوں نے اپنى آنكھوں سے زنا ديكھا ہو ۔ امام الماوردى كہتے ہيں:
" اور زنا ميں گواہى كا طريقہ اور وصف يہ ہے كہ: اس ميں گواہوں كا يہ كہنا كافى نہيں: ہم نے اسے زنا كرتے ديكھا، بلكہ انہيں وہ وصف بيان كرنا ہو گا جس زنا كا انہوں نےمشاہدہ كيا ہے، اور وہ اس طرح كہيں: ہم نے مرد كا عضو تناسل عورت كى شرمگاہ ميں اس طرح داخل ہوتے ديكھا جس طرح سرمہ ڈالنے كى سلائى سرمہ دانى ميں داخل ہوتى ہے.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ماعز رضى اللہ تعالى عنہ كے اقرار كو ثابت كرنے كے ليے فرمايا:
كيا تو نے اس طرح دخول كيا جس طرح كہ سرمہ ڈالنے والى سلائى سرمہ دانى ميں داخل ہو جاتى ہے، اور پانى كا ڈول كنوئيں ميں ؟
تو اس نے كہا: جى ہاں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے رجم كرنے كا حكم ديا "
اسلام شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی شرعئی سزا مقرر کرتا ہے اور رجم و سنگسارشادی شدہ زانی اور غیر شادی شدہ کو کوڑوں کی سزا اور حد اس وقت لگائي جاۓ گی جب کہ جماع کیا جاۓ اور ایک دوسرے کی شرمگاہ آپس میں داخل ہو ۔ یہ شرعئی حد ہے جسے بدلنے کا کسی بشر کو اختیار نہیں ۔ یہاں تک کہ اس کے لیے سفارش کرنا بھی نا پسندیدہ ہے۔ مجرم کے اعتراف پر یا چار گواہوں کی شہادت (Witness) دینے پر نبی کریم ﷺ نے شادی شدہ زانی پر رجم یعنی سنگساری کی سزا نافذ فرمائی ہے۔ یہ حد جاری کی گئی۔ جو لوگ اس حد شرعئی سے انحراف کرتے ہیں وہی لوگ اسلامی شریعت کو اپنی خواہشاتِ نفسانی کا کھلونا بنانا چاہتے ہیں ۔اس حد شرعئی کے سلسلے میں ہم پہلے فرامین ِرسول کریمﷺ بیان کرتے ہیں :
➊ عن عائشة قالت: قال رسول اﷲ ﷺ (لا یحل دم امرئ مسلم یشھد أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدًا رسول اﷲ إلا في إحدٰی ثلاث: رجل زنیٰ بعد إحصان فإنه یرجم ورجل خرج محاربًا باﷲ ورسوله فإنه یقتل أو یصلب أو ینفی من الأرض أو یَقتل نفسا فیُقتل بھا)
ابوداود:4353، قال الالبانی:'صحیح

''حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، مگر تین صورتوں میں اس کا خون مباح ہوجاتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے، اس جرم پر اسے سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے تو (اس جرم کی پاداش میں ) اسے قتل کیا جائے گا یا اسے سولی دی جائے گی یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کر دے تو اس پر اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کر دیا جائے گا۔''
➋ عن عبداﷲ قال: قال رسول اﷲ ﷺ (لا یحل دم امرئ مسلم یشھد أن لا إله إلا اﷲ وأني رسول اﷲ إلا بإحدی ثلاث: النفس بالنفس والثیب الزاني والمفارق لدینه التارك للجماعة)
صحیح بخاری :6878

''حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کسی مسلمان کا خون جائز نہیں جب کہ وہ یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین حالتوں میں اس کا خون مباح ہوگا۔ پہلی یہ کہ قصاص کی حالت میں ، دوسری یہ کہ شادی شدہ زانی ہونے کی صورت میں اور تیسری یہ کہ دین کو چھوڑنے اور جماعت ِمسلمین سے الگ ہونے کی شکل میں ۔''

➌ عن بریدة قال جاء ماعز بن مالك إلی النبي ﷺ فقال یا رسول اﷲ! طهرني فقال: (ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني۔فقال رسول اﷲ ﷺ: )ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتُب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني فقال النبي ﷺ مثل ذلك۔ حتی إذا کانت الرابعة قال له رسول اﷲ ﷺ: (فیم أُطهرك؟) فقال: من الزنا۔ فسأل رسول اﷲ ﷺ : (أبه جنون؟) فأُخبِر أنه لیس بمجنون فقال: (أشرب خمرا؟) فقام رجل فاستنکه فلم یجد منه ریح خمر۔قال: فقال رسول اﷲﷺ: (أزنیتَ؟) فقال نعم۔ فأمر به فرُجم
صحیح مسلم:1695
''بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالکؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسولؐ! مجھے پاک کر دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو، چلا جا اور اللہ سے بخشش مانگ اور توبہ کر۔ تھوڑی دور بعد وہ پھر لوٹ آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پاک کر دیجئے۔ اللہ کے نبیؐ نے پھر اسی طرح کہا حتیٰ کہ جب چوتھی مرتبہ ایسا ہوا تو آپ ؐ نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں ؟ اُنہوں نے کہا: زنا سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ دیوانہ تو نہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ مجنوں نہیں ۔ پھر آپ ؐنے پوچھا کیا اس نے شراب پی ہے؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور ان کو سونگھا تو شراب کی بو نہ پائی، پھر آپؐ نے فرمایا :کیا تو نے زنا کیا ہے ؟ ماعز ؓ بولے: ہاں ! پس آپؐ کے حکم پر اُنہیں رجم کر دیا گیا۔''
➍ عن جابر بن عبد اﷲ أن رجلا من أسلم جاء إلی رسول اﷲ ﷺ فاعترف بالزنا فأعرض عنہ ثم اعترف عنہ، حتی شھد علی نفسہ أربع شہادات فقال لہ النبي: (أبك جنون؟) قال: ''لا'' قال:(أحصنت)قال: ''نعم'' قال: فأمر به النبي ﷺ فرُجم في المُصلّٰی، فلمّا أذلقته الحجارة فَرَّ،فأدرك فرُجم حتی مات
ابو داود:4430، قال الالبانی:'صحیح

''حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، مگر تین صورتوں میں اس کا خون مباح ہو جاتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے، اس جرم پر اسے سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے تو (اس جرم کی پاداش میں ) اسے قتل کیا جائے گایا اسے سولی دی جائے گی یا اسے جلاوطن کر دیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اس پر اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کر دیا جائے گا۔''
⛔ اللہ کے رسولﷺ حدشرعئی نافذ فرماتے ہیں ملاحظہ کیجیے
➊ عن جابر بن عبد اﷲ أن رجلا من أسلم جاء إلی رسول اﷲ ﷺ فاعترف بالزنا فأعرض عنہ ثم اعترف عنہ، حتی شھد علی نفسہ أربع شہادات فقال لہ النبي: (أبك جنون؟) قال: ''لا'' قال:(أحصنت)قال: ''نعم'' قال: فأمر به النبي ﷺ فرُجم في المُصلّٰی، فلمّا أذلقته الحجارة فَرَّ،فأدرك فرُجم حتی مات
ابو داود:4430، قال الالبانی:'صحیح
''حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ اَسلم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جرمِ زنا کا اعتراف کیا، آپؐ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، اس نے پھراقرار کیا اور جب چار دفعہ قسم کھا چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:کیاتو پاگل ہے؟'' اُس نے جواب دیا:'نہیں ' آپؐ نے پوچھا: ''کیا تو شادی شدہ ہے؟''وہ بولا: 'جی ہاں ' پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ لوگ اسے عیدگاہ کی طرف لے گئے اور رجم کرنے لگے۔ جب اسے پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا، لوگوں نے تعاقب کرکے اسے پھر جالیا اور سنگسار کردیا۔''
➋ عن أبي ھریرة قال: أتی رجل رسول اﷲ ﷺ وھو في المسجد فناداہ فقال یا رسول اﷲ! إني زنیت فأعرض عنه حتی ردَّدَ علیه أربع مرات، فلما شھد علی نفسه أربع شھادات، دعاہ النبي ﷺ فقال: (أبك جنون؟) قال: لا۔قال:(فھل أحصنت؟)قال : نعم۔ فقال النبي! : (اذھبوا به فارجموہ)
صحیح بخاری:6815
''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورؐ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس آدمی نے آپؐ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسولؐ! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔'' آپؐ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی، اس آدمی نے آپ کو چار مرتبہ متوجہ کرنے کی کوشش کی پھر جس وقت اس نے چار دفعہ قسم کھا کر اپنے جرم کا اقرار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر پوچھا: ''کیا تو پاگل ہے؟ وہ بولا: 'نہیں ' آپؐ نے پوچھا: ''کیا تو شادی شدہ ہے؟'' جواب ملا: 'جی ہاں ' اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ''لوگو! اسے لے جا کر سنگسار کر دو۔''
➌ عن بریدة قال جاء ماعز بن مالك إلی النبي ﷺ فقال یا رسول اﷲ! طهرني فقال: (ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني۔فقال رسول اﷲ ﷺ: )ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتُب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني فقال النبي ﷺ مثل ذلك۔ حتی إذا کانت الرابعة قال له رسول اﷲ ﷺ: (فیم أُطهرك؟) فقال: من الزنا۔ فسأل رسول اﷲ ﷺ : (أبه جنون؟) فأُخبِر أنه لیس بمجنون فقال: (أشرب خمرا؟) فقام رجل فاستنکه فلم یجد منه ریح خمر۔قال: فقال رسول اﷲﷺ: (أزنیتَ؟) فقال نعم۔ فأمر به فرُجم
صحیح مسلم:1695
''بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالکؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسولؐ! مجھے پاک کر دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو، چلا جا اور اللہ سے بخشش مانگ اور توبہ کر۔تھوڑی دور بعد وہ پھر لوٹ آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پاک کر دیجئے۔ اللہ کے نبیؐ نے پھر اسی طرح کہا حتیٰ کہ جب چوتھی مرتبہ ایسا ہوا تو آپ ؐ نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں ؟ اُنہوں نے کہا: زنا سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ دیوانہ تو نہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ مجنوں نہیں ۔ پھر آپ ؐنے پوچھا کیا اس نے شراب پی ہے؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور ان کو سونگھا تو شراب کی بو نہ پائی، پھر آپؐ نے فرمایا :کیا تو نے زنا کیا ہے ؟ ماعز ؓ بولے: ہاں ! پس آپؐ کے حکم پر اُنہیں رجم کر دیا گیا۔''
◐ ہمارے معزز بھائی آپکے سوالات کے جوابات ایکدوسرے سے اتنے مربوط ہیں کہ انہیں الگ نمبر نہیں دیے جاسکتے ۔ لہٰذا ہم امیر کرتے ہیں کہ ہمارا جواب آپکے تمام سوالات کی طرف سے آپکو مطمئین کرے گا۔
زانی اور زانیہ جب مرتکبِ زنا ہو جائیں اور ان کا معاملہ حاکمِ وقت یا قاضی تک نہ پہنچے اور وہ توبہ صادقین کر لیں تو اب انکا معاملہ انکے اور اللہ کے بیچ ہے ۔ اس صورت میں حد شرعئی نافذ نہیں ہوگی
بے زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے کسی انسان سے اگر یہ گناہ سر زد ہو جائے تو وہ اس پر شرمندہ ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لیتا ہے تو قرآن میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے بارے میں فرماتا ہے :
وَ الَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ
اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لَا یَزۡنُوۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ یَلۡقَ اَثَامًا ﴿ۙسورةالفرقان / ۶۸﴾
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ
اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾
''★اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ ہی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرتا ہے وہ اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ قیامت کے دن اس کے لئے عذاب دوگنا کیا جائے گا اور وہ اس میں ذلیل ہو کر رہے گا ★مگر جن لوگوں نے ایسے گناہوں سے توبہ کر لی اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا اور اللہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے''۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ آدمی اگر زنا سے توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں اور جب اس نے توبہ کر لی اور اس کا معاملہ حاکم تک نہ پہنچا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے دنیا میں اس پر حد لازم نہیں ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث ہے عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ سے بعض محرمات سے اجتناب کے لئے بیعت لی۔ ان میں ایک زنا بھی تھا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جس نے بیعت پوری کی اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو ان میں سے کسی چیز میں مبتلا ہو گیا اور اسے اس کی سزا دی گئی تو وہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گی اور اگر وہ کسی گناہ کو پہنچا تو اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا پس وہ اللہ کی طرف ہے۔ اگر چاہے اسے عذاب دے دے اور اگر چاہے تو اسے بخش دے'' (بخاری مع الفتح ۷/۲۶۰،۱۲/۷۵ یہ حدیث ترمذی ، نسائی اور دارمی میں بھی موجود ہے)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی سے زنا وغیرہ سرزد ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اس کے اقرار اور اصرار کے بغیر دنیا میں اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی ۔ اس سے بڑھ کر اگر کسی کو کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی ایسی چیز معلوم ہوتی ہے جس سے اس پر حد لازم آتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آپس میں معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:
''آپس میں حدود معاف کرو جو مجھ تک پہنچ گئی وہ واجب ہو گئی''
(صحیح سنن ابی دائود البانی ج۳٣، ص۸۲۸، صحیح سنن نسائی ج۳،ص۸۷۷۸)
مفہومِ حدیث یہ ہے کہ اگرمعاملہ امام، حاکم یا قاضی تک نہیں پہنچا تو حد واجب نہیں ہوتی جب تک وہ حاکم تک نہیں پہنچتی اس کا معاملہ اس کے ساتھ ہے ۔
تفسیر ابنِ کثیر میں عبداللہ بن عباس سے صحیح سند سے مروی ہے۔ ایک شخص نے پوچھا :
'' میں ایک عورت سے حرام کا ارتکاب کرتارہاہوں مجھے اللہ نے اس فعل سے توبہ کی توفیق دی۔ میں نے توبہ کر لی میں نے اس عورت سے شادی کا ارادہ کر لیا تو لوگوں نے کہا زانی مرد صرف زانیہ عورت اور مشرقہ عورت سے نکاح کر سکتاہے۔ ابنِ عباس نے کہا یہ اس بارے میں نہیں ہے تو اس سے نکاح کر لے اگر اس کا گناہ ہوا تو وہ مجھ پر ہے۔''
(تفسیر ابن کثیر عربی،ج ۳' ص۲۲۴)
مفہومِ حدیث یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت جنہوں نے بدکاری کا فعل کیا ہے اگر توبہ کر لیتے ہیں تو بغیر شرعی حد کے ان کا نکاح ہو سکتاہے کیونکہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نہیں کہا کہ پہلے حد لگوائو پھر نکاح کرو۔
◐ یہاں ایک اور مسئلہ واضح کیا جانا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مرجوع کی صورت میں توبہ کے بعد کیا مرد و عورت آپس میں شادی کر سکتے ہیں ؟ اس سلسلے میں الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا🔽
کیازانی کی اس زانیہ سے شادی' جس سے اس نے زنا کیا ہو'انکے گناہوں
کا کفارہ شمار ہوگی؟ کیا شادی کر لینے سے حد معاف ہو جائے گی؟
زانی کے زانیہ سے شادی کفارہ شمار نہیں ہوگی کیونکہ زنا کا کفارہ دو ہی باتیں ہیں تو اس پر حد قائم کی جائے' جبکہ بات حاکم وقت کے پاس پہنچ گئی ہو یا وہ اس جرم (زنا) سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے اپنے عمل کی اصلاح کرے اور فتنہ و فحاشی کے مقامات سے دور رہے۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے تو اس زانی مرد و عورت کی آپس میں شادی حرام ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الزّانى لا يَنكِحُ إِلّا زانِيَةً أَو مُشرِ‌كَةً وَالزّانِيَةُ لا يَنكِحُها إِلّا زانٍ أَو مُشرِ‌كٌ ۚ وَحُرِّ‌مَ ذ‌ٰلِكَ عَلَى المُؤمِنينَ ﴿٣﴾... سورة النور
''بدکار مرد سوائے زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی (پاک باز عورت) سے نکاح نہیں کر سکتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے''۔
ہاں البتہ اگر وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی جناب میں خالص توبہ کر لیں' جو کچھ ہوا' اس پر ندامت کا اظہار کریں اور نیک عمل کریں تو پھر آپس میں شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں' جس طرح دوسرے مرد کیلئے اس عورت سے شادی کرنا جائز ہوگا اسی طرح اس کیلئے بھی اس صورت میں جائز ہوگا۔ زنا کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گی۔ یہ اپنے باپ کی طرف منسوب نہیں ہوتی کیونکہ نبی ﷺ کے حسب ذیل ارشاد کے عموم کا یہی تقاضا ہے:
«الولد للفراش وللهاهر الحجر» (صحيح البخاري)
''بچہ صاحب بستر کیلئے اور زانی کیلئے پتھر ہے''۔

''عاہر'' کے معنی زانی کے ہیں اور حدیث کے معنی یہ ہیں کہ یہ بچہ اسکا نہیں ہوگا خواہ وہ توبہ کے بعد اس عورت سے شادی بھی کرلےکیونکہ شادی سے پہلے زنا کے پانی سے پیدا ہونیوالا بچہ اسکا نہیں ہوگااور نہ وہ اسکاوارث ہوگا خواہ وہ دعویٰ ہی کیوں نہ کرے کہ وہ اسکا بیٹا ہے کیونکہ یہ اس کا شرعی بیٹا نہیں ہے۔
فتاویٰ اسلامیہ
جلد : 3 / صفحہ : 404
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّــــــلاَم عَلَيــْـــــكُم وَرَحْمَـــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه
Share:

Kya Insan, janwaro ya Maushiqi (Songs) ki Tasweer wale Print Kapde Pahanana haram hai?

Aeise Kapde (T-Shirt,Paint,Jeans, Shirt etc) Pahanane ke bare me kya Hukm hai Jis par Mushiqi ya isse judi koi Tasweer ho.

Kisi janwar, Celebraties, Actors,Cricketer ke tasweer wali Print Kapde pahanana kais hai?

Tasveer Print Wale Kapdon Ko Stylish view in Isalm

سوال : ایسے کپڑوں کو پہننے کا کیا حکم ہے جن پر موسیقی (گانے بجانے) اور اس سے متعلق چیزوں کی تصاویر یا علامتیں بنی ہوں؟

اس کے جواب میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ (١٤٢١ھ) نے فرمایا :
"ہر وہ کپڑا جس پر کسی حرام چیز کی علامت یا نشانی ہو، اسے پہننا حرام ہے، لہذا جن کپڑوں پر جاندار کی تصویریں بنی ہوں وہ حرام ہیں، اسی طرح وہ کپڑے جن پر موسیقی (گانے بجانے) کے آلات (مثلاً باجے، طبلے، گٹار وغیرہ) یا لہو و لعب کی چیزوں کی تصاویر ہوں، وہ بھی حرام ہیں، جیسا کہ ہم سنتے ہیں کہ بعض ٹی شرٹس پر انتہائی بری اور فحش عبارتیں لکھی ہوتی ہیں، تو یہ بھی حرام ہیں اور انہیں پہننا جائز نہیں". [فتاوى اللقاء الشهري، لقاء رقم(٤٥)]

حرام کی طرف لے جانے والے تمام ذرائع و اسباب اور ان کی تشہیر و ترویج سے بھی اجتناب ضروری ہے، ایک مسلمان کو اپنے لباس و پوشاک کے انتخاب میں بھی اللہ کی رضا اور شریعت کی پابندی کو مقدم رکھنا چاہیے، نیز ایسی تمام علامات، تصاویر یا اشکال سے بچنا چاہیے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی بھی حرام کام یا چیز کی نمائندگی کرتی ہوں، خواہ وہ موسیقی ہو، فحش نگاری ہو یا کوئی اور منکر و ناشائستہ عمل.
ان چیزوں کے اجتناب سے ایک مسلمان نہ صرف اپنے ظاہر و باطن کو پاکیزہ رکھتا ہے، بلکہ گمراہ کن منکرات کی اشاعت و ترویج میں شریک ہونے سے بھی بچ جاتا ہے.

ام محمد خوشنما مصلح الدين
جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ

Share:

Kya Allah Zalimo Se Be Khaber Hai?

KYA ALLAH ZAALIMON SE BE KHABAR HAI❓
By : Abu Zaid Zameer Hafiz ullah​
_______
Insaani taareekh ka har safha zulm o sitam ki taweel dastaan ka ek baab hai. Taqatwar ka kamzoron par zulm karna rang o nasal ki hudood o quyood ka paband nahin, aur na hi zaman o makan ke badalney se is mein koi farq waqe huwa hai. Har zamaney mein taqat ke nashey mein choor insaan kamzoron ka istehsaal karta aaya hai.

Zulm o sitam ke is tasalsul ne bohot so ko bagawat ke raastey par rawaan kar diya toh kitnon ko mayoosi aur aajizi ki zehni kothri mein band kar diya. Baaz ko gham o gussa ne sirey se Khaliq hi ka inkaar karne par majboor kar diya. Unhon ne kaha agar is dunya ka koi Khaliq O Maalik hota toh ismein ye zulm aur bigaad na hota. Unhon ne bigaad ke wujood ko Khaliq ke adam e wujood ki daleel bana liya.

Lekin kya waaqi duniya mein zaalim ka dan-danaatey phirna kamzoron ke liye mayoosi ka elaan hai? 
Kya mazlomon ke liye koi insaaf nahi? 
Kya koi nahi jo iqtedaar ke qilon men mehfooz in zaalimon ko insaaf ki adalat mein khada kar ke unke khilaaf adl ka nifaz karey aur mazloomon ko unka haqq dilakar unke zakhmon par marham rakkhey aur unke dilon ko taskeen de? 

Kyun nahi, yaqeenan ek din aaney wala hai jismein har mahroom apna chheena huwa haqq paye ga. Har mazloom apna badla paye ga. Ye woh din hoga jis din quwwat aur taaqat zaalim ka saath chhod kar mazloom ke saath ho jayegi. Ye Qiyamat ka din hoga. Isi din ke bare mein Allah Ta’ala ne farmaya:

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَٰرُ
مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌ

“Aur kahin ye na samajh lena ki zaalim jo kuch kar rahe hain Allah us se ghaafil hai. Wo toh unhein us din ke liye dheel de raha hai, jis din nigahein phati ki phati rah jayengi. Sar uthaaye wo daude chale ja rahe honge, unki nighaein un tak wapas na lautengi, aur un ke seeney (ghabrahat se) khali khali ho rahe hoonge. “
[Ibrahim 14: 42 -43]

Jinhein dunya insaaf nahin de saki unhein aakhirat unka insaaf zaroor dilayegi
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

Share:

Momeen Jab koi Gunah Karta Hai Tab Allah Uske Sil pe Kala Nukta Dal deta Hai.

Momeen Jab Koi Gunaah karta Hai Tab Uske Dil pe Ek Kala Nukta Dal diya jata hai.
🍂🍃ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ🍂🍃

🌺حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْالْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:  إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، فَإِنْ زَادَ زَادَتْ، فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14 .

🌺Nabi kareem ﷺ ne farmaya: jab momin koi gunah karta hai to is ke dil mein aik siyah nuqta ( kala daag ) lag jata hai, agar woh tauba kare, baaz aa jaye aur maghfirat talab kare toh is ka dil saaf kar diya jata hai, aur agar woh ( gunah mein ) barhta chala jaye to phir woh dhabba bhi barhta jata hai, yeh wohi zang hai jis ka zikar Allah taala ne apni kitaab (Quran) mein kiya hai : _hargiz nahi balkay un ke buray aamaal ne un ke dilon par zang pakar liya hai jo woh karte hain._ [surat-ul-Mutafifeen 83:14].

🌺نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن) میں کیا ہے: _«كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں_ ( سورة المطففين: 14 ) ۔

🌺Allah's Apostle ﷺ said, “When the believer commits sin, a black spot appears on his heart. If he repents and gives up that sin and seeks forgiveness, his heart will be polished. But if (the sin) increases, (the black spot) increases. That is the stain that Allah mentions in His Book: _“No! Rather, the stain has covered their hearts of that which they were earning.”_ [surat-ul-Mutafifeen 83:14]

sunan ibne majah: jild 6, kitab Az-zuhd 37, hadith no. 4244 Grade sahih

Share:

Ghamand Aur Takabbur Karne wale Logo Pe Hone Wala Azab.

Mutakabbir (Ghamand karne wale) logo ko hone wala azab
------
✦ Rasool-Allah SalAllahu Alaihi Wasallam  ne farmya Qayamat ke din Mutakabbir (Ghamand karne wale) logo ko  maidan e mahshar mein choti choti chiteeyon ki manind logo ki surton mai laya jayega innhen har jagah zillat dhanpe rehegi ,phir wo Jahannam ke ek aise qaid khane ki taraf hanke jayenge jiska naam Bulas hai, usme innhen bhadakti huyee aag ubalegi, wo usme jahannamiyo ke zakhmo ke peep peeyenge jisko teenat Al Khabal kahte hain,yani sadi hui badbudar kichad
Jamia Tirmizi, Jild 2, 381-Hasan
------
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا  قیامت کے دن متکبر (گھمنڈ کرنے والے) لوگوں کو میدان حشر میں چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کے مانند لوگوں کی صورتوں میں لایا جائے گا، انہیں ہر جگہ ذلت ڈھانپے رہے گی، پھر وہ جہنم کے ایک ایسے قید خانے کی طرف ہنکائے جائیں گے جس کا نام «بولس» ہے۔ اس میں انہیں بھڑکتی ہوئی آگ ابالے گی، وہ اس میں جہنمیوں کے زخموں کی پیپ پئیں گے جسے «طينة الخبال» کہتے ہیں، یعنی سڑی ہوئی بدبودار کیچڑ
جامہ ترمیزی ، جلد ٢، حدیث ٣٨١-حسن 
-----
✦ ✦ Rasool-Allah Sallallahu Alaihi Wasallam said  The proud will be gathered on the Day of Judgement resembling tiny particles (Like an ant) in the image of men. They will be covered with humiliation everywhere, they will be dragged into a prison in Hell called Bulas, submerged in the Fire of Fires, drinking the drippings of the people of the Fire, filled with derangement."
Jamia Tirmizi, Book 11, 2492-Hasan
Aye imaan waalo Allah ki itaat karo aur uske Rasool ki itaat karo aur apne Amalo ko Baatil na karo
Share:

Kutte Palne ki Haqeeqat, (kutta Palna Kya Jayez Hai?).

Kya Kutta Ghar Me Rakh Sakte Hai Apni Hifajat ke Liye?

ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ
        السَّلاَمُ عَلَيكُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ    
Hadith : uske sawab mein se har roz 2 Qirat (bahut zyada) sawab kam kar diya jata hai
Ibn Umar Radi Allahu Anhu se rivayat hai ki Rasool-Allah Sal-Allahu Alaihi wasallam ne farmaya jisne shikari kutte ya janwaro ki hifazat karne ke alawa koi aur kutta pala to uske sawab mein se har roz 2 Qirat (bahut zyada) sawab kam kar diya jata hai
Sahih Bukhari, Jild 6, 5481
Hadith : Allah subnahau ko lagne wali sabse napasandeeda baat
-----------------
Abdullah bin masood Radi Allahu Anhu se rivayat hai ki Rasool-Allah Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya Allah subhanhu ko sabse napasandeeda (buri) baat ye lagti hai ki koi shakhs kisi se kahe ki Allah se daro aur wo kahne lage tu apni fikar kar.
Al SilSila As Sahiha, 2809
Al Baihiqi,601-Sahih
      ☆▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬☆
Aye imaan waalo Allah ki itaat karo aur uske Rasool ki itaat karo aur apne Amalo ko Baatil na karo
Jo Bhi Hadis Aapko Kam Samjh Me Aaye Aap Kisi  Hadis Talibe Aaalim Se Rabta Kare 
JazakAllah  Khaira Kaseera
   ☆▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬☆
Share karey … Sawab ka Haqdaar baney… In Shaa Allah Ta’ala
Share:

Durood Na Padhne ki Sza.

Durood Na Padhne Ki Saza  

Tehreer: Shaikh Ghulam Mustafa Zaheer Amanpuri Hafizahullah
 
1- Sayyeduna Hussain Bin Ali Razi Allahu Anhuma bayan karte hain ki Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya: اَلْبَخِیلُ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ؛ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيَّ
"Jis shaksh ke pass mera zikr kiya jaye aur wo mujh par durood na bheje to wo bakheel hai."
*(Musnad-ul-Imam Ahmad: 1/201, Sunan Tirmizi: 3546, Fazl-us-Salah Alan-Nabi-lil-Imam Ismail al Qazi:32, Al Mustadrak Ala Sahihain: 1/549, Wa Sanaduhu Hasan)*
Is hadees ko Imam Tirmizi Rahmatullah Alaihi (3546) ne Hasan Sahih Gareeb, Imam Ibn e Hibbaan Rahmatullah Alaihi (909) ne Sahih aur Imam Hakim Rahmatullah Alaihi ne Sahih ul Isnad kaha hai. Hafiz Zahabi Rahmatullah Alaihi ne bhi ise Sahih Qarar diya hai. Hafiz Ibn e Hajar Rahmatullah Alaihi farmate hain:
وَلاَ یَقْصُرُ عَنْ دَرَجَۃِ الْحَسَنِ
Yeh hadees Hasan darja se kam nahi.
*(Fatah ul Bari :11/186)*
2- Sayyeduna Abu Huraira Razi Allahu Anhu ka bayaan hai ki Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya:
رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ؛ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيَّ
Us aadmi ki naak khaak aalood ho jiske saamne mera tazkira ho lekin wo mujh par Durood na padhe.
*(Musnad-ul-Imam Ahmad: 2/254, Sunan Tirmizi: 3545, Fazl-ul-Salah AlanNabi Lil Qazi Ismael: 16, Wasanaduhu Hasan)*
Is hadees ko Imam Tirmizi Rahmatullah Alaihi ne Hasan Gareeb aur Imam Ibn e Hibban Rahmatullah Alaihi (908) ne Sahih kaha hai.
3- Sayyeduna Abu Huraira Razi Allahu Anhu bayan karte hain:
صَعِدَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہٗ عَلٰی مِرْقَاۃٍ قَالَ : ’آمِینَ‘، ثُمَّ صَعِدَ، فَقَالَ : ’آمِینَ‘، ثُمَّ صَعِدَ، فَقَالَ : ’آمِینَ‘، فَقَالَ : ’أَتَانِي جِبْرِیلُ، فَقَالَ : مَنْ أَدْرَکَ شَہْرَ رَمَضَانَ؛ فَمَاتَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَہٗ؛ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ، قُلْتُ : آمِینَ، قَالَ : وَمَنْ أَدْرَکَ أَبَوَیْہِ أَوْ أَحَدَہُمَا، فَمَاتَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَہٗ؛ فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ، قُلْتُ : آمِینَ، قَالَ : وَمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، فَأَبْعَدَہُ اللّٰہُ، قُلْتُ : آمین
Rasool e Akram Sallallahu Alaihi Wasallam mimbar par jalwa afroz hue, jab pehli seedhi par paao mubarak rakha to Ameen kaha, phir (doosri seedhi par) chadhe to dobara Ameen kaha, phir (teesri seedhi par) chadhe to phir Ameen kaha, phir irshad farmaya: mere pass jibrail aaye the aur (jab main pehli seedhi par chadha to) unhone kaha: jo shaksh ramazan ka maheena paye aur phir is haalat mein mar jaye ki (ramazan ki ibadat ki wajah se) us ki magfirat na ho sake to Allah ta'ala use apni rehmat se door kar de, maine Ameen kaha. (Jab main doosri seedhi par chadha to) Unhone kaha: Jo shaksh apne ma baap dono ko ya kisi ek ko paye, phir is halat mein mar jaye ki (unki khidmat ki bina par) uski magfirat na ho sake, to use bhi Allah ta'ala apni rehmat se door kar de, maine Ameen kaha. (Jab main teesri seedhi par chadha to) unhone kaha: Jis shaksh ke pass Aap ka zikr ho aur wo Aap par durood na padhe, use bhi Allah ta'ala apni rehmat se door kar de, is par bhi maine Ameen kaha.
*(Mo’jam ul Awsat Lit Tabrani: 8131, Musnad Abu Ya’la: 5922, Wasanaduhu Hasan)
Ek Rewayat ke alfaz ye hain:
إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَقِيَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ : ’آمِینَ، آمِینَ، آمِینَ‘، فَقِیلَ لَہٗ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَا کُنْتَ تَصْنَعُ ہٰذَا، فَقَالَ : ’قَالَ لِي جِبْرِیلُ : أَرْغَمَ اللّٰہُ أَنْفَ عَبْدٍ ـــ أَوْ بَعُدَ ـــ دَخَلَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَہٗ، فَقُلْتُ : آمِینَ، ثُمَّ قَالَ : رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ ــــ أَوْ بَعُدَ ــــ أَدْرَکَ وَالِدَیْہِ أَوْ أَحَدَہُمَا لَمْ یُدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، فَقُلْتُ : آمِینَ، ثُمَّ قَالَ : رَغِمَ أَنْفُ عَبْدٍ ــــ أَوْ بَعُدَ ــــ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، فَقُلْتُ : آمِینَ
"Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam mimbar par chadhe to teen dafa Ameen kaha, pucha gaya ki Allah ke Rasool! Aap pehle to aisa nahi karte the. Aap Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya: Mujhe Jibreel Alaihissalam ne kaha: Allah ta'ala us shaksh ko zaleel kare jo ramazan mein maujood ho lekin uski magfirat na ho sake, maine Ameen kaha, Phir Jibreel Alaihissalam ne kaha: wo shaks bhi zaleel ho, jo apne maa baap dono ko ya unme se kisi ek ko paye, lekin unki khidmat use jannat mein dakhil na kare, maine Ameen kaha. Phir Jibreel Alaihissalam ne kaha: wo shakhs bhi zaleel ho jaye jiske pass Aapka zikr ho, lekin wo Aap par durood na padhe, maine is par bhi Ameen kaha."
*(Sahih Ibn e Khuzaima:1888, Wasanaduhu Hasan)
4- Sayyeduna Ka'ab bin Ujrah Razi Allahu Anhu bayan karte hain ki Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’احْضُرُوا الْمِنْبَرَ‘، فَحَضَرْنَا، فَلَمَّا ارْتَقٰی دَرَجَۃً قَالَ : ’آمِینَ‘، فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرَجَۃَ الثَّانِیَۃَ قَالَ : ’آمِینَ‘، فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرَجَۃَ الثَّالِثَۃَ قَالَ : ’آمِینَ‘، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، لَقَدْ سَمِعْنَا مِنْکَ الْیَوْمَ شَیْئًا مَّا کُنَّا نَسْمَعُہٗ، قَالَ : ’إِنَّ جِبْرِیلَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَرَضَ لِي، فَقَالَ : بُعْدًا لِّمَنْ أَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَہٗ، قُلْتُ : آمِینَ، فَلَمَّا رَقِیتُ الثَّانِیَۃَ قَالَ : بُعْدًا لِّمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، قُلْتُ : آمِینَ، فَلَمَّا رَقِیتُ الثَّالِثَۃَ قَالَ : بُعْدًا لِّمَنْ أَدْرَکَ أَبَوَاہُ الْکِبَرَ عِنْدَہٗ أَوْ أَحَدُہُمَا فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ، قُلْتُ : آمِینَ
"Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya: Mimbar lao, hum mimbar laye to Aap Sallahu Alaihi Wasallam pehli seedhi par chadhe aur Ameen kaha, Jab doosri seedhi par chadhe to Ameen kaha, Jab teesri seedhi par chadhe to phir Ameen kaha, Jab Aap Sallallahu Alaihi Wasallam neeche tashreef laaye to humne arz kiya: Allah ke Rasool! Aaj humne Aapse aisi cheez suni hai, jo pehle nahi sunte the. Aap Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya: Jibreel Alaihissalam mere pass aaye aur farmaya: Us shaksh ke liye halakat ho, jo ramazan ko paye, lekin uski maghfirat na ho sake, maine Ameen keh diya. Jab main doosri seedhi par chadha to Jibreel Alaihissalam ne kaha: Wo shaksh bhi halaak ho, jiske pass Aapka tazkirah ho lekin wo Aap par durood na padhe, maine Ameen kaha. Jab main teesri seedhi par chadha to Jibreel Alaihissalam ne kaha: Wo shaksh bhi halaak ho, jiske pass uske waldain ya dono mein se koi ek budha ho aur wo uske jannat mein daakhle ka sabab na ban sake, maine phir Ameen keh diya. "
*(Al Mustadrak Ala Sahihain lil Hakim: 4/153, Wasanaduhu Hasan)*
Imam Hakim Rahmatullah Alaihi ne is Hadees ko Sahih ul Isnad aur Hafiz Zahabi ne Sahih kaha hai.
*Tambeeh:*
Sayyeduna Hussain Bin Ali Razi Allahu Anhuma se mansoob hai ki Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya:
مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ، فَخَطِیَٔ الصَّلَاۃَ عَلَيَّ؛ خَطِیَٔ طَرِیقَ الْجَنَّۃِ
"Jis shaksh ke pass mera zikr kiya jaye, lekin mujh par durood na padhe, wo jannat ke raaste se bhatak gaya."
*(Az Zurriyatut Tahira lil Dulabi, safa no: 88, Mo’jam Al Kabeer Lit Tabrani: 3/128)
*Iski Sanad Zaeef hai, isme Muhammad bin Basheer kundi rawi ghair siqa hai.
{ *Note:* Yeh Mazmoon Maahnama Assunnah, Shumara No: 80-86 se liya gaya hai}
Please Share with Our Muslims Brother and Sister.
Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS