Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Showing posts with label Sahaba. Show all posts
Showing posts with label Sahaba. Show all posts

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 40. Last

Bahrain Me ir'tadaad aur Uska Sad-E-Baab.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-40 last.
Bahrain Apostasy Crisis: How Caliph Abu Bakr (RA) Preserved Islamic Unity.
The Apostasy in Bahrain and Its Suppression under the Caliphate of Abu Bakr (RA).
The apostasy in Bahrain tested the unity of Islam after Prophet Muhammad ﷺ. Caliph Abu Bakr (RA) acted firmly, crushed the rebellion, and restored stability — proving his leadership preserved faith and order in the early Muslim community.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Islamic history, Muslim Rulers, Islamic governance, Seerat-E-Sahaba, Khilafat-E-Siddique,

When Bahrain Turned Away from Islam — Abu Bakr’s Leadership Restored Faith and Order.

    تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (40) Last.
بحرین میں ارتداد اور اس کا سد باب:

جس مہینے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اسی مہینے منذر بن ساوی کا بھی انتقال ہوا اور عرب کے دوسرے علاقوں کی طرح بحرین والے بھی سب کے سب مرتد ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی حضرت علاء حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین سے نکلنا پڑا، لیکن جارود بن معلی عبدی بدستور اسلام پر قائم رہے، انہوں نے اپنی قوم بنو عبدالقیس سے ارتداد کا سبب پوچھا۔ انہوں نے کہا:

" اگر محمد نبی ؐ ہوتے تو کبھی وفات نہ  پاتے۔"

جارود نے پوچھا:
تم جانتے ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی اللہ اپنے انبیاء کو مبعوث فرماتا رہا، وہ سب کے سب کہاں گئے؟
انہوں نے جواب دیا: فوت ہو گئے۔
جارود نے کہا:

"جس طرح دیگر انبیاء فوت ہو گئے اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی فوت ہو گئے، اگر دوسرے انبیاء کے فوت ہونے سے ان کی نبوت میں کوئی فرق نہیں پڑا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے سے آپ کی نبوت کس طرح زائل ہو سکتی ہے؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔"

جارود کی باتوں کا ان کی قوم پر بہت اثر ہوا اور وہ لوگ دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔

بنو عبدالقیس گو اسلام لے آئے، لیکن بحرین کے دوسرے قبائل حطم بن ضبیعہ کے زیر سرکردگی بدستور حالت ارتداد پر قائم رہے اور انہوں نے بادشاہی کو دوبارہ آل منذر میں منتقل کر کے منذر بن نعمان کو اپنا بادشاہ بنا لیا، سب سے پہلے انہوں نے جارود اور قبیلہ بنی عبدالقیس کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کوشش میں یکسر ناکامی ہوئی، اس پر حطم بن ضبیعہ نے طاقت کے زور سے انہیں زیر کرنا چاہا، اس نے قطیف اور ہجر میں مقیم غیر ملکی تاجروں اور ان لوگوں کو جنہوں نے اس سے قبل اسلام قبول نہ کیا تھا، اپنے ساتھ ملا لیا اور قصبہ جراثی کے قریب جارود اور ان کے ساتھیوں کا محاصرہ کر لیا، یہ محاصرہ نہایت سخت تھا، بھوک اور پیاس کی وجہ سے بنو عبدالقیس جاں بہ لب ہو چکے تھے، لیکن انہوں نے انتہائی ثابت قدمی دکھائی اور دوبارہ ارتداد اختیار کرنا قبول نہ کیا۔

بحرین سے ارتداد کی خبریں موصول ہونے پر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علاء بن حضرمی کو مرتدین کے مقابلے کے لیے روانہ فرمایا، دریں اثناء حضرت خالدؓ بن ولید، مسیلمہ اور ان کے پیروؤں کو عقرباء میں عبرتناک شکست دے چکے تھے، اس لیے جب حضرت علاء رضی اللہ عنہ یمامہ سے گزرے تو بنی حنفیہ کی ایک کثیر جمعیت ثمامہ بن آثال اور قیس بن عاصم منقری کے زیر سرکردگی ان کے ساتھ ہو لی، اہل یمن اور بعض دیگر قبائل کے لوگ بھی کثیر تعداد میں ان کے لشکر میں شامل تھے جنہیں یقین تھا کہ مسلمان آخر سارے عرب پر قابض ہو جائیں گے، کیونکہ ہر زمانے میں یہی ہوتا رہا ہے کہ لوگ قوت و طاقت ہی کے آگے سر جھکاتے ہیں۔

   مرتدین بحرین کی شکست:
حضرت علاء بن حضرمی لشکر لے کر بحرین پہنچے اور حطم کے قریب خیمہ زن ہوئے، وہاں سے انہوں نے جارود کو جو بنی عبدالقیس کے ساتھ قلعہ بند تھے، پیغام بھیجا کہ اسلامی لشکر آ پہنچا اس لیے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں، خود انہوں نے لڑائی کی تیاریاں شروع کر دیں، محاذ جنگ اور دشمنوں کا جائزہ لینے سے انہیں معلوم ہوا کہ مرتدین اس قدر بھاری تعداد میں ان کے مقابلے کے لیے موجود ہیں کہ بے سوچے سمجھے ان پر حملہ کرنا مناسب نہ ہو گا، انہوں نے اپنے لشکر کے ارد گرد خندق کھدوائی اور اس کے پیچھے لشکر لے کر پڑاؤ ڈال دیا، کبھی کبھی وہ خندق عبور کر کے مرتدین پر حملہ کرتے اور تھوڑی دیر کی لڑائی کے بعد پھر خندق کے پیچھے ہٹ آتے، اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا، کسی فریق کو معلوم نہ تھا کہ لڑائی کا انجام کیا ہو گا، آخر ایک رات مسلمانوں کو مرتدین پر بھرپور حملہ کرنے کا موقع مل ہی گیا جس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے دشمن کو تہس نہس کر ڈالا۔

واقعہ اس طرح ہوا کہ ایک ر ات لشکر گاہ مشرکین کی طرف سے سخت شور و غل کی آوازیں آنے لگیں، علاء بن حضرمی نے اپنے جاسوسوں کو خبر لانے کے لیے دشمنوں کے کیمپ میں روانہ کیا، انہوں نے آ کر خبر دی کہ مشرکین کا لشکر شراب میں دھت ہے اور واہی تباہی بک رہا ہے، علاء نے موقع غنیمت جان کر فوج کو ہمراہ لیا اور خندق عبور کر کے دشمن کے لشکر میں داخل ہوتے ہی اسے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا، دشمن نے کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر بے تحاشا بھاگنا شروع کر دیا، سینکڑوں لوگ بھاگنے کی کوشش کرتے ہوئے خندق میں گر پڑے، ہزاروں لوگوں کو قیدی بنا لیا گیا، اسی ہنگامے کے دوران میں قیس بن عاصم نے حطم کو زمین پر گرا ہوا پایا، اس نے جھٹ تلوار نکال کر آن کی آن میں اس کا کام تمام کر دیا، عنیف بن منذر الغرور کو مسلمانوں نے زندہ گرفتار کر لیا، جب وہ علاء کے سامنے پیش کیا گیا تو علاء نے کہا: 
" تمہیں تھے جنہوں نے ان لوگوں کو  دھوکا دیا تھا؟"

غرور نے کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر اسلام قبول کر لیا اور کہا: میں دھوکا دینے والا نہیں، البتہ اپنی طاقت پر ناز ضرور تھا۔
یہ سن کر علاء نے اسے معاف کر دیا۔

جو لوگ قتل اور قید ہونے سے بچ گئے تھے انہوں نے کشتیوں میں سوار ہو کر جزیرہ دارین میں پناہ لی، علاء نے فی الحال ان سے تعرض نہ کیا، بلکہ اپنی توجہ بحرین کے دوسرے علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے پر مبذول کی، جب سارے علاقے میں امن قائم ہو گیا، قبائل نے اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کر لی اور علاء کے لشکر میں بھی معتدبہ اضافہ ہوگیا تو دارین کی طرف متوجہ ہوئے، ایک روایت میں مذکور ہے کہ علاء نے اس موقع پر جنگ نہیں کی اور یہ جزیرہ بہ دستور اسلامی سلطنت سے الگ تھلگ رہا اور حضرت عمرؓ بن خطاب کے زمانے میں اس کی فتح عمل میں آئی، اب اگر انہیں خطرہ تھا تو بعض ان بدوی قبائل کی طرف سے جن کا پیشہ ہی لوٹ مار اور غارت گری تھا، یا ایرانیوں کی فریب کاریوں کا جن کے اثر و نفوذ کو مسلمانوں کی پیش قدمی کے نتیجے میں سخت دھچکا لگا تھا، پھر بھی وہ اس طرف سے بڑی حد تک مطمئن تھے، کیونکہ پہلے ہی بحرین کے متعدد قبائل نے سچے دل سے ان کی اطاعت قبول کر کے اپنے آپ کو مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا، ان لوگوں میں پیش پیش عتیبہ بن نہاس اور مثنیٰ بن حارثہ شیبانی تھے، ان لوگوں کی کوششوں سے شکست خوردہ قبائل اور فسادی عنصر کا دوبارہ سر اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔

مثنیٰ بن حارثہ نے ایرانی فریب کاریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے باقاعدہ جدوجہد شروع کی اور اس غرض کے لیے خلیج فارس کے ساحل کے ساتھ  ساتھ  پیش قدمی کر کے دریائے فرات کے دہانے تک پہنچ گئے، مثنیٰ کا عراق کی سرحد پر پہنچ کر دشمنان اسلام کی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا اور اس علاقے میں تبلیغ اسلام کی جدوجہد کرنا عراق کی فتح کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 39.

Junubi (South) Qabayel Ka Israar-E-Bagawat.

Rebellion of Southern Tribes During the Caliphate of Abu Bakr (RA)
When the Southern Tribes Defied Islam — Abu Bakr’s Courage Changed History.
During the caliphate of Abu Bakr (RA), Islam faced one of its most dangerous challenges — the rebellion of the southern tribes. These tribes refused to pay zakat and rejected the authority of the central caliphate, threatening the unity of the Muslim community. With unwavering faith and determination, Abu Bakr (RA) confronted this crisis head-on. His decisive leadership not only crushed the rebellion but also preserved the integrity of the Islamic state. This episode highlights how the foundations of the Rashidun Caliphate were built on courage, justice, and wisdom rather than mere power.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Southern Tribes Revolt, Khilafat-E-Siddique, Islamic history, Muslim Web,
Southern Tribes Revolt.
   تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (39)
   جنوبی قبائل کا اصرار بغاوت:
شمالی عرب کے منکرین زکوٰۃ اور مرتد قبائل حضرت خالدؓ بن ولید کی فوج کشی کے نتیجے میں خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کر کے دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے، ان قبائل کی حدود عرب کے شمال مشرقی حصے سے شروع ہو کر انتہائی مشرق میں خلیج فارس تک اور وہاں سے نیچے اتر کر مکہ کے جنوب مشرق تک پھیلی ہوئی تھیں، حالانکہ جب حضرت ابوبکرؓ نے زمام خلافت سنبھالی تھی تو ان کا دائرہ اقتدار مدینہ، مکہ اور طائف کے درمیان ایک چھوٹے سے مثلث نما خطے تک محدود تھا۔

جنوبی علاقے کے قبائل نے شمالی علاقے کے واقعات سے متعلق نصیحت حاصل نہ کی اور بدستور حضرت ابوبکرؓ کے خلاف بغاوت پر آمادہ اور ارتداد پر جمے رہے، اسی سبب سے جنوبی قبائل اور مسلمانوں کے درمیان مدت دراز تک جدال و قتال کا سلسلہ جاری رہا۔

جنوبی علاقہ جو نصف عرب پر مشتمل ہے، خلیج فارس سے یمن کے شمال میں بحیرہ احمر تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں بحرین، عمان، مہرہ، حضر موت، کندہ اور یمن کے صوبے واقع ہیں، مشرقی علاقوں سے مغربی علاقوں تک اور مغربی علاقوں سے مشرقی علاقوں تک آنے جانے کے لیے مذکورہ بالا تمام صوبوں سے گزرنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ تمام صوبے خلیج فارس، خلیج عدن اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر واقع ہیں اور یمن کے سوا باقی تمام کی چوڑائی بہت کم ہے، اتنی کم کہ ان کی حدود اور ساحل بحر کا فاصلہ چند میل کا ہے، عرب کا سارا جنوبی علاقہ جو ان صوبوں کو گھیرے ہوئے ہے، ایک خوفناک لق ودق صحرا پر مشتمل ہے جسے عبور کرنا کسی صورت ممکن نہیں، اس صحرا کو دیکھ کر آج بھی اسی طرح دہشت طاری ہوجاتی ہے جس طرح پہلے زمانوں میں ہوتی تھی، اسے ربع الخالی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

  جنوبی عرب میں ایرانی اثر ونفوذ:
ان صوبوں کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالنے سے صاف پتا چل جاتا ہے کہ ان میں ایرانی اثر و نفوذ بہت آسانی سے راہ پا سکتا تھا، شمالی اور جنوبی علاقوں کے مابین آمدورفت کا سلسلہ بے حد دشوار تھا، کیونکہ درمیان کے ہولناک اور ویران صحرا کو قطع کرنا مشکل بلکہ ناممکن تھا، حجاز سے عمان وبحرین تک پہنچنے اور عمان و بحرین سے حجاز تک جانے کے لیے طول وطویل ساحلی علاقہ اختیار کرنا پڑتا تھا، اس لحاظ سے بحرین، عمان، حضر موت اور یمن کے مشرقی وجنوبی صوبے حجاز کے شمالی علاقے سے تقریباً کٹ کر رہ گئے تھے، اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر ایرانی شہنشاہوں نے ان علاقوں پر توجہ مبذول کی اور یہاں اپنا اقتدار قائم کر لیا۔

ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ یمن ’’ بدھان‘‘ کے اسلام قبول کرنے تک ایرانی عمل داری میں شامل رہا، ’’ بدھان‘‘ ابتداء میں کسریٰ کی جانب سے اس علاقے کا عامل تھا، اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدستور یہاں کا حاکم مقرر کیے رکھا، بحرین اور عمان بھی ایرانی عمل داری میں شامل تھے اور کثیر التعداد ایرانیوں نے بحرین اور عمان میں سکونت اختیار کرکے انہیں اپنا وطن بنا لیا تھا، اس وجہ سے ایرانی اقتدار میں مزید اضافہ ہو گیاتھا، جب کبھی سلطنت ایران کو عربوں کی جانب سے بغاوت کا خطرہ ہوتا اور عرب ان کے اثر واقتدار کو زائل کرنے کی کوشش کرتے تو وہ ان ایرانی نژاد لوگوں سے کام لے کر اس بغاوت کو فرو کر دیتی اور آزادی کی جدوجہد کو ناکام بنا دیتی، 
 یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عرب کے جن علاقوں کو سب سے آخر میں اسلام لانے کی توفیق ملی وہ عمان اور بحرین کے علاقے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انہوں نے سب سے اول ارتداد اختیار کیا، مگر جب سخت جنگوں کے بعد فتنۂ ارتداد پاش پاش ہو گیا اور اہل عرب دوبارہ ایک دینی اور سیاسی وحدت پر جمع ہو گئے تو یہی لوگ تھے جو مجبور ہو کر سب سے آخر میں اسلام لائے۔

ان علاقوں میں جنگ ہائے ارتداد کے زمانہ وقوع کے متعلق مؤرخین میں خاصا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں یہ جنگیں11ھ میں وقوع پزیر ہوئیں اور بعض کہتے ہیں 12ھ میں، پھر بھی یہ اختلاف کوئی اہمیت نہیں رکھتا، کیونکہ بہرحال یہ امر مسلم ہے کہ یہ جنگیں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے اوائل سے شروع ہوئیں اور اس وقت تک ختم نہ ہوئیں جب تک سارے عرب نے کاملاً ان کی اطاعت قبول نہ کرلی، ابتدا شمالی عرب سے ہوئی اور وہاں کے مرتدین کا قَلع قمع ہونے کے بعد جنگوں کا رخ جنوبی علاقے کی طرف پھر گیا۔

جغرافیائی محل و قوع کے پیش نظر مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ جنوبی علاقے میں سرگرمیوں کی ابتداء وہ یا تو بحرین سے کرتے اور عمان، مہرہ، حضرموت کے علاقوں کو زیر کرتے ہوئے یمن تک پہنچ جاتے یا اپنی کارروائیاں یمن سے شروع کرتے اور حضرموت مہرہ اور عمان کے لوگوں کی سرکوبی کرتے ہوئے ان کارروائیوں کا اختتام بحرین پر کرتے۔ تمام حالات کے پیش نظر مسلمانوں نے بحرین سے جنگی کارروائی کا آغاز کرنا مناسب خیال کیا، کیونکہ اول تو  بحرین یمامہ سے بالکل نزدیک تھا اور یمامہ میں عقرباء کے مقام پر وہ ابھی ابھی بنی حنفیہ کے مقابلے میں عظیم الشان فتح حاصل کر چکے تھے، جس کی وجہ سے ان کی دھاک تمام قبائل عرب میں بیٹھ چکی تھی، دوسرے یمن کے مقابلے میں یہاں سے کارروائی کا آغاز کرنا نسبتاً سہل بھی تھا، اگر یہاں کامیابی حاصل ہو جاتی تو اس کا اثر دوسرے قبائل پر پڑنا لازم تھا۔

9ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصد علاء بن حضرمی کو ان کے پاس بھیجا تو ان کا حاکم اسلام لے آیا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بدستور بحرین کا حاکم مقرر کیے رکھا، اسلام لانے کے بعد اس نے اپنی قوم کو بھی دین حق کی دعوت دینی شروع کی اور جارود بن معلی کو دینی تربیت حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا، جارود نے مدینہ پہنچ کر اسلامی تعلیمات اور احکام سے واقفیت حاصل کی اور اپنی قوم میں واپس جا کر لوگوں کو دین کی تبلیغ کرنے اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے کا کام شروع کر دیا۔
=======> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 38.

Military Leadership of Hazrat Khalid bin Walid (RA).

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-38/40.
Hazrat Khalid bin Walid (RA) – The Invincible Commander of Islam.
The Strategy and Bravery of “The Sword of Allah"
Hazrat Khalid bin Walid (RA) – Legendary Commander, Conqueror of Persia and Rome.
From desert sands to empires’ downfall — Khalid bin Walid (RA) rewrote history with his sword.
Hazrat Khalid bin Walid (RA), known as The Sword of Allah, was one of the greatest military commanders in Islamic history. His unmatched strategies and fearless leadership led to decisive victories against Persia, Rome, and Iraq etc, making him a symbol of courage and tactical brilliance.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Sword of Allah, Islamic military commander, Conqueror of Persia, Rome, Iraq, Islamic history heroes, Battle strategies of Khalid bin Walid
The Sword of Allah: How Khalid bin Walid (RA) Crushed Persia, Rome & Iraq in Record Time.
   تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (38)
    حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری:

حضرت خالدؓ بن ولید کو حضرت ابوبکرؓ نے جس لشکر کی کمان سپرد کی تھی وہ تمام لشکروں سے زیادہ مضبوط تھا اور اس میں مہاجرین و انصار کے منتخب آدمی جمع تھے، جن کا انتخاب خود حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ آئندہ اقساط میں آپ پڑھیں گے کہ ان لوگوں نے جنگ ہائے ارتداد میں بے نظیر کارنامے انجام دئیے اور عراق و شام کی جنگوں میں تو انہوں نے وہ معرکے سر کیے جنہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

ان فوجوں کی کامیابی کا راز حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں مضمر تھا، حضرت خالد کو جو جنگی مہارت حاصل تھی اس کا حال کسی سے پوشیدہ نہیں، سکندر اعظم، چنگیز خاں، جولیس سیزر ہنی بال اور نپولین کی شخصیتیں (عسکری لحاظ سے) خواہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ نظر آتی ہوں، لیکن حق یہ ہے کہ حضرت خالدؓ کی شخصیت کے آگے وہ سب ہیچ ہیں، وہ اسلام کے بطل جلیل تھے اور ہر قسم کے خطرات و خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دشمنوں کی صفوں میں دلیرانہ گھس جانا ان کا خاص شیوہ تھا، فنون جنگ سے گہری واقفیت میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا، دشمن کا ہر چال اور اس کا ہر منصوبہ ان کی نگاہ میں ہوتا تھا اور مخالف کی کوئی حرکت ان سے چھپی نہ رہ سکتی تھی، تمام مسلمانوں کو ان کی صلاحیتوں کا علم تھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنگ موتہ میں مسلمانوں کی قلیل التعداد فوج کو ہزارہا رومیوں کے نرغے سے نکال لانے کی بنا پر سیف اللہ کا خطاب مرحمت فرمایا تھا، زندگی بھر انہوں نے کبھی شکست نہیں کھائی، ہمیشہ فتح یاب ہی ہوتے رہے اور اسی حالت میں وفات پائی۔

اسلام لانے سے قبل بھی حضرت خالد کا شمار قریش کے چوٹی کے بہادروں میں ہوتا تھا، جنگ احد اور خندق میں وہ کفار کے دوش بہ دوش مسلمانوں سے لڑے، سرتاپا فوجی ہونے کی وجہ سے ان کی طبیعت میں خشونت، تندی اور تیزی آ گئی تھی، دشمن کو سامنے دیکھ کر ان سے مطلق صبر نہ ہو سکتا اور چاہتے تھے کہ جس قدر جلد ممکن ہو اس پر ٹوٹ پڑیں، اللہ کا فضل ہمیشہ ان کے شامل حال رہا، ورنہ ممکن تھا کہ اپنی جلد بازی کے باعث انہیں بھاری نقصان سے دو چار ہونا پڑتا، دشمن بڑی سے بڑی تعداد اور کثیر اسلحہ کے باوجود کبھی انہیں مرعوب نہ کر سکتا تھا، صلح حدیبیہ سے اگلے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے لیے مکہ تشریف لے گئے تو حضرت خالد مسلمانوں سے حد درجہ نفرت کے باعث مکہ چھوڑ کر ہی چلے گئے، لیکن اچانک اللہ نے ان کے دل پر پڑے ہوئے تاریک پردے ہٹا دئیے اور انہیں حق و صداقت سے آگاہی عطا فرمائی،
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ واپس تشریف لے جانے کے بعد خالد مکہ واپس آ گئے اور ایک روز انہوں نے قریش کے مجمع میں اعلانیہ کہہ دیا کہ اب ہر ذی عقل انسان پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ جادوگر ہیں نہ شاعر، ان کا کلام یقینا اللہ کی طرف سے ہے، اب قریش کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع اختیار کئے بغیر چارہ نہیں۔

حضرت خالدؓ کی زبان سے یہ کلمات سن کر قریش کو سخت حیرت ہوئی، ان کے وہم میں بھی یہ بات نہ آ سکتی تھی کہ خالد کا میلان اسلام کی جانب ہو سکتا ہے، عکرمہ بن ابوجہل اور خالد کے مابین بحث بھی ہوئی، لیکن خلاف معمول اس نے تیزی اختیار نہ کی، ابو سفیان اس اجتماع میں موجود نہ تھا، جب اسے اس واقعے کا علم ہوا تو اس نے انہیں بلا کر پوچھا: کیا تمہارے اسلام لانے کی خبر سچ ہے؟ حضرت خالدؓ نے جواب دیا۔ ہاں! میں اسلام لے آیا ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر یقین رکھتا ہوں۔ یہ سن کر ابوسفیان کو بہت غصہ آیا اور اس نے کہا لات اور عزیٰ کی قسم! اگر یہی بات ہے تو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تم ہی سے نپٹ لیتا ہوں، حضرت خالدؓ نے جواب دیا: اسلام بہرحال سچا ہے خواہ کوئی شخص اس بات کو کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کرے۔

اسلام لانے کے بعد خالد مدینہ چلے آئے، اپنی جنگی قابلیت کی وجہ سے مسلمانوں میں خاص قدر و منزلت حاصل کر لی اور اس امر کے باوجود کہ ان کی ساری عمر اسلام کی مخالفت میں گزری تھی، ہر شخص انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھنے لگا، اس عزت و توقیر میں گراں قدر اضافہ اس وقت ہوا جب جنگ موتہ کے بعد انہیں دربار نبوی سے سیف اللہ کا خطاب مرحمت ہوا، بعد میں انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اس خطاب کا پورا پورا مستحق ثابت کیا، عراق اور شام کی فتوحات انہیں کے ذریعے سے ہوئیں، فارس اور روم کی عظیم الشان سلطنتیں جو اس زمانے میں روئے زمین کی مالک تھیں، انہیں کے ہاتھوں نابود ہوئیں، ان ہی اوصاف کی بدولت انہیں مرتدین کے مقابلے میں سب سے بڑے لشکر کی سپہ سالاری نصیب ہوئی۔
========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 37.

Muslema Kazzab Ka Qatl aur Khalid Bin Walid R.Z.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-37/40.
Who Was Musaylimah the Liar?
Legacy: Lessons from His Fall.
How Musaylimah Was Finally Defeated?
The Shocking End of Musaylimah the Liar – A Turning Point.
Discover the dramatic downfall of Musaylimah al‑Kazzab, the self‑proclaimed prophet who challenged Islam’s foundations. His death at the Battle of Yamama not only ended his rebellion but also marked one of the bloodiest and most decisive moments in Islamic history. Find out how his defeat shaped the future of the Muslim community and why his story still fascinates readers today?
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Battle of Yamama, Khalid ibn al‑Walid victory, Early Islamic battles, Death of Musaylimah,
Islamic history turning points.
    تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (37)
  مسیلمہ کذاب کا قتل:

حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کی جوش دلانے والی آوازیں سنیں تو انہیں بھی یقین ہو گیا کہ بنی حنفیہ کی سخت مدافعت کے باوجو انجام کار فتح انہیں کے حصے میں آئے گی، لیکن وہ چاہتے تھے کہ فتح کا حصول حتیٰ الامکان جلد ہو جائے، اس لیے بہت غور سے ایک بار میدان کا جائزہ لیا، انہوں نے دیکھا کہ بنو حنفیہ مسیلمہ کے گرد کٹ کٹ کر گر رہے ہیں اور مسیلمہ کی حفاظت میں موت کی بھی پروا نہیں کرتے، یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ فتح کے جلد از جلد حصول کا طریق یہ ہے کہ کسی طرح مسیلمہ کو قتل کر دیا جائے،

 چنانچہ وہ اپنے آدمی لے کر آگے بڑھے اور مسیلمہ کے آدمیوں کے گرد گھیرا ڈال لیا، اس کے بعد کوشش کی کہ کسی طرح مسیلمہ ان کے سامنے آ جائے تاکہ اس کا کام تمام کیا جا سکے، لیکن قبل اس کے کہ مسیلمہ ان کے سامنے آتا، اس کے آدمیوں نے بڑھ چڑھ کر حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ پر حملے کرنے شروع کیے، حضرت خالدؓ تو ان کے بس میں کیا آتے البتہ جو شخص ان کے مقابلے میں آتا زندہ واپس نہ جاتا، اس طرح بے شمار آدمی قتل ہو گئے۔

   مسیلمہ کا تردد و اضطراب:
جب مسیلمہ نے دیکھا کہ اس کے حامیوں کی تعداد بہ سرعت کم ہوتی جا رہی ہے تو اس نے کود کر حضرت خالدؓ کے مقابلے پر آنے کا ارادہ کیا، لیکن اس خیال سے رک گیا کہ اگر وہ بھی حضرت خالدؓ کے مقابلے کے لیے نکلا تو لامحالہ مارا جائے گا، اب اس کے تردد و اضطراب کی انتہا نہ رہی، اس کے جاں نثار کٹ کٹ کر گر رہے تھے اور اسے خود بھی اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی، وہ اس اضطراب کی حالت میں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے، یکایک حضرت خالدؓ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس کے محافظین پر ایک بھرپور حملہ کر کے تلوار کے جوہر دکھانے شروع کیے، یہ دیکھ کر مسیلمہ کے ساتھیوں نے اس سے پکار کر پوچھا: آپ کے وہ وعدے جو اپنی فتح کے متعلق آپ نے ہم سے کیے تھے، کہاں گئے؟ اس وقت مسیلمہ کے حوصلے ختم ہو چکے اور اس نے میدان جنگ سے بھاگنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا، چنانچہ اس نے پیٹھ پھیرتے ہوئے جواب دیا:

" اپنے حسب و نسب کی خاطر لڑتے رہو۔"

لیکن اب وہ کیا لڑتے جب ان کا سردار انہیں مسلمانوں کی تلواروں کے سپرد کر کے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کر چکا تھا، بنی حنفیہ کے ایک سردار محکم بن طفیل نے جب لوگوں کو بھاگتے اور مسلمانوں کو ان کا پیچھا کرتے دیکھا تو پکار پکار کر کہنے لگا: "اے بنو حنفیہ! باغ میں داخل ہو جاؤ۔ "

یہ باغ جسے حدیقۃ الرحمن کہا جاتا تھا میدان جنگ سے قریب ہی تھا اور مسیلمہ کی ملکیت میں تھا، یہ بہت طویل و عریض تھا اور قلعے کی طرح اس کے چاروں بلند دیواریں کھڑی تھیں، محکم بن طفیل کی آواز سن کر لوگوں نے اس باغ کی طرف بھاگنا شروع کیا، (جس میں مسیلمہ پہلے ہی داخل ہو چکا تھا) لیکن محکم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مسلمانوں کو بنی حنفیہ کے تعاقب سے روکنے کے لیے میدان جنگ ہی میں رہ گیا تھا، اس نے بہت بہادری سے مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور آخر عبدالرحمن بن ابی بکرؓ کے ایک تیر سے جو اس کے سینے میں لگا اس کا کام تمام ہو گیا۔

مسیلمہ اور اس کی قوم باغ میں پناہ گزین ہو چکی تھی، مسلمانوں کے لیے باغ کا محاصرہ کر لینے اور کامل فتح کے حصول تک وہاں سے نہ ٹلنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، باغ کے چاروں طرف مسلمانوں نے پڑاؤ ڈال دیا اور کسی ایسی کمزور جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں سے باغ میں گھس کر اس کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو سکیں، لیکن انتہائی تلاش کے باوجود انہیں ایسی کوئی جگہ نہ ملی، آخر براء بن مالک نے کہا:

’’مسلمانو! اب صرف یہ راستہ ہے کہ تم مجھے اٹھا کر باغ میں پھینک دو۔ میں اندر جا کر دروازہ کھول دوں گا۔‘‘

لیکن مسلمان یہ کس طرح گوارا کر سکتے تھے کہ ان کا ایک بلند مرتبت ساتھی ہزاروں دشمنوں میں گھر کر اپنی جان گنوا دے، انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، لیکن براء نے اصرار کرنا شروع کیا اور کہا:

’’میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے باغ کے اندر پھینک دو۔‘‘

آخر مجبور ہو کر مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھا دیا، دیوار پر چڑھ کر جب براء نے دشمن کی زبردست جمعیت کی جانب نظر دوڑائی تو ایک لمحے کے لیے ٹھٹکے، لیکن پھر اللہ کا نام لے کر باغ کے دروازے کے سامنے کود پڑے اور دشمنوں سے دو دو ہاتھ کرتے، دائیں بائیں لوگوں کو قتل کرتے دروازے کی طرف بڑھنے لگے، آخر بیسیوں آدمیوں کے قتل کے بعد وہ دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور آگے بڑھ کر بڑی پھرتی سے اسے کھول دیا، مسلمان باہر دروازہ کھلنے کے منتظر تھے ہی، جونہی دروازہ کھلا وہ باغ میں داخل ہو گئے اور تلواریں سونت کر دشمنوں کو بے دریغ قتل کرنے لگے، بنو حنفیہ مسلمانوں کے سامنے سے بھاگنے لگے لیکن باغ سے باہر وہ کس طرح نکل سکتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں  آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ صرف حضرت براء رضی اللہ عنہ نے نہیں بلکہ اور بھی کئی مسلمانوں نے دیواریں پھاند کر دروازے کا رخ کیا تھا، چونکہ حضرت براء نے دروازے کے بالکل قریب دیوار پھاندی تھی، اس لیے دروازے پر سب سے پہلے وہی پہنچے اور لڑتے بھڑتے دروازہ کھول دیا، بنو حنفیہ نے ان مٹھی بھر مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی، لیکن دیوار پر جو مسلمان متعین تھے انہوں نے تیر مار مار کر انہیں مسلمانوں سے دور رکھا۔

مسلمانوں نے اگرچہ باغ میں گھس کر بنو حنفیہ کو بے دریغ قتل کرنا شروع کر دیا تھا، مگر بنو حنفیہ نے بھی بڑی بہادری سے ان کا مقابلہ کیا، لیکن مسلمانوں کے سامنے ان کی پیش نہ گئی، طرفین کے کثیر آدمی اس معرکے میں قتل ہوئے، لیکن بنی حنفیہ کے مقتولوں کی تعداد مسلمانوں سے بیسیوں گنا تھی، حبشی غلام وحشی، جس نے جنگ احد میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ کو شہید کیا تھا اور جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوگیا تھا، اس موقع پر موجود تھا، اس نے مسیلمہ کو باغ میں دیکھا اور اپنا چھوٹا سا نیزہ ترک کر مسیلمہ کے مارا جو سیدھا اسے جا کر لگا، اسی وقت ایک انصاری نے بھی مسیلمہ پر تلوارکا وار کیا، حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:

’’اللہ ہی جانتا ہے کہ ہم میں سے کس نے اسے قتل کیا، لیکن مسیلمہ اگر مرنے کے بعد زندہ ہوتا تو ہمیشہ ہی یہ کہتا کہ اسے اس سیاہ فام غلام نے قتل کیا ہے۔‘‘

جب بنو حنفیہ نے مسیلمہ کی موت کی خبر سنی تو ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ مسلمانوں نے انہیں بے تحاشا قتل کرنا شروع کیا، عرب میں اس وقت تک جتنی جنگیں ہوئی تھیں، یمامہ سے بڑھ کر کسی بھی جنگ میں اتنی خونریزی نہ ہوئی تھی، اس لیے حدیقتہ الرحمٰن کا نام حدیقتہ الموت پڑ گیا اور آج تک تاریخ کی کتابوں میں یہی نام چلا آتا ہے۔

  بنی حنفیہ کے مقتولین کی تعداد:
روایات سے پتا چلتا ہے کہ حدیقتہ الموت کی لڑائی میں سات ہزار بنی حنفیہ قتل ہوئے تھے، میدان جنگ میں بھی ان کے مقتولین کی تعداد سات ہزار تھی، اس کے بعد جب حضرت خالدبن ولید ؓ نے اپنے دستوں کو مفرورین کے تعاقب میں روانہ کیا تو بھی سات ہزار آدمی قتل ہوئے۔

  مسلمان شہداء کی تعداد:
اس جنگ میں جہاں بنی حنفیہ کے مقتولین کی تعداد پچھلی تمام جنگوں سے زیادہ تھی وہاں مسلمان شہداء کی تعداد بھی پچھلی تمام جنگوں کو مات کر گئی تھی، اس جنگ میں مسلمان شہداء کی تعداد بارہ سو تھی، تین سو ستر مہاجرین، تین سو انصار اور باقی دیگر قبائل کے لوگ، ان شہداء میں تین سو ستھر صحابہ کبار اور قرآن کے حافظ بھی تھے جن کا مقام اور درجہ مسلمانوں میں بے حد بلند تھا، اگرچہ ان حافظوں کی شہادت سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا، لیکن بعض اوقات ایک نقصان دہ چیز بھی آخر فائدے کا موجب بن جاتی ہے، چنانچہ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس ڈر سے کہ کہیں آئندہ جنگوں میں بقیہ حافظوں سے بھی مسلمانوں کو ہاتھ نہ دھونے پڑیں، قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیا اور اس طرح پہلی مرتبہ قرآن کریم ایک جلد میں مدون کیا گیا۔

  مسلمانوں کا حزن و الم:
مسلمانوں کی بھاری تعداد کے شہید ہو جانے سے ان کے رشتہ داروں کو جس صدمے سے دو چار ہونا پڑا تھا اس کی تلافی صرف یہ چیز کر سکتی تھی کہ گو مسلمانوں کو کئی قیمتی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، پھر بھی فتح کا شرف انہیں کے حصے میں آیا۔ حضرت عمرؓ بن خطاب کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ میں بہادری کے عظیم کارنامے انجام دینے کے بعد مدینہ واپس آئے تو ان کے والد نے کہا:

’’ جب تمہارے چچا زید شہید ہو گئے تھے تو تم واپس کیوں آ گئے اور کیوں نہ اپنا چہرہ مجھ سے چھپا لیا؟ ‘‘

صرف حضرت عمرؓ ہی کا یہ حال نہ تھا، بلکہ مکہ اور مدینہ کے سینکڑوں گھرانے اپنے بہادروں اور سپوتوں کی شہادت پر خون کے آنسو بہا رہے تھے۔
==========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 36.

Hazrat Khalid bin Walid vs Musaylimah – Truth vs Lies.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-36/40.
When the Sword of Allah struck down falsehood.
How Khalid bin Walid (RA) Crushed Musaylimah the Liar – Untold Secrets of Yamama.
The Legendary Clash: Khalid bin Walid vs Musaylimah – The Battle That Changed History.
Epic Showdown: The Sword of Allah vs Musaylimah – A Turning Point in Islamic History.
The Battle of Yamama was a decisive conflict in early Islamic history where Hazrat Khalid bin Walid (RA), famously known as The Sword of Allah, led the Muslim army against Musaylimah the Liar, a false prophet who misled thousands. This battle not only showcased Khalid’s unmatched military genius but also secured the unity of the Muslim Ummah after the passing of Prophet Muhammad (ﷺ). The victory at Yamama became a cornerstone in preserving the faith and the Qur’an, as many companions who had memorized it were martyred during the fight.

Discover the epic Battle of Yamama where Hazrat Khalid bin Walid (RA), the fearless commander known as The Sword of Allah, defeated Musaylimah the Liar. This historic clash preserved the unity of Islam, safeguarded the Qur’an, and remains one of the most legendary battles in Islamic history. Learn how Khalid’s strategy, bravery, and faith changed the course of history forever.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Seerat E Sahaba, Hayat-E-Sahaba, Islamic History, Muslema ke Khilaf Jung. Yamama,
The battle that safeguarded Islam’s future. 
    تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (36)
 حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور مسیلمہ میں جنگ:

مسیلمہ نے اپنا لشکر یمامہ کی ایک جانب عقرباء میں جمع کیا تھا اور سارا مال اسباب لشکر کے پیچھے رکھا تھا، اس کا لشکر بعض روایات کے مطابق چالیس ہزار اور بعض دوسری روایتوں کے رو سے ستر ہزار تھا، ایسے عظیم الشان لشکر کا ذکر عربوں نے اس سے پہلے بہت ہی کم سنا تھا۔

حضرت خالدبن ولید ؓ اسی روز مسیلمہ کی فوج کے مقابلے میں آ گئے، دونوں لشکر میدان جنگ میں کھڑے آخری اعلان کے منتظر تھے، ہر ایک کو یقین تھا کہ فتح مندی و کامرانی اسی کے حصے میں آئے گی اور وہ دوسرے لشکر کو تباہ و برباد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنگ یمامہ کا دن اپنی نوعیت کے لحاظ سے اسلام میں ایک منفرد دن ہے، کیونکہ اس روز اسلام اور نبوت کاذبہ کا آخری مقابلہ ہونے والا تھا۔

مسیلمہ کی طرف یمن، عمان، مہرہ، بحرین، حضرموت اور عرب کی جنوبی جانب، مکہ اور طائف سے خلیج عدن تک کے تمام علاقوں کے لوگوں کی نظریں جمی ہوئی تھیں، ایرانی بھی بڑی بے صبری سے اس جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے، مسیلمہ کا لشکر اس پر کامل ایمان رکھتا تھا اور اس کی راہ میں کٹ مرنے کے لیے تیار تھا، علاوہ بریں حجاز اور عرب کے جنوبی علاقوں کی دیرینہ دشمنی بھی مسلمانوں کے خلاف اپنی ہیئت کے لحاظ سے کچھ کم طاقت ور نہ تھی، اس کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ تھے جو بلا شبہ اپنے زمانے کے سالار اعظم تھے، لشکر میں کلام اللہ کے حافظوں اور قاریوں کی بھی کمی نہ تھی، یہ تمام لوگ اس جذبے سے میدان جنگ میں آئے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اس کے دین کی مدافعت مومن کا فرض اولین ہے اور علم و بصیرت رکھنے والے کے لیے تو یہ فرض عین ہے، اس جذبے نے ان کے ولولوں اور امنگوں کو بہت بڑھا دیا تھا اور وہ تعداد میں مرتدین سے بہت کم ہونے کے باوجود عزم و ہمت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے۔

آغازِ جنگ میں مسلمان بنی حنفیہ کے مقابلے میں ثابت قدم نہ رہ سکے اور پیچھے ہٹنے لگے، مسلمانوں نے پیچھے ہٹنے کے باوجود پہلے ہی ہلے میں بنی حنفیہ کے سینکڑوں آدمیوں کو قتل کر ڈالا تھا، ان قتل ہونے والوں میں سب سے پہلا شخص نہار الرجال تھا، جو بنی حنفیہ کے مقدمہ پر مقرر تھا، اسے حضرت عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن خطاب نے قتل کیا تھا، اس کے قتل سے فتنہ مسیلمہ کے سب سے بڑے سرغنے کا خاتمہ ہو گیا۔

 حضرت خالدبن ولید ؓ کی حکمت عملی:

لشکر اسلام کے پیچھے ہٹنے کے باوجود حضرت خالدؓ کے عزم و ثبات میں مطلق کمی نہ آئی اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی شکست کاخیال پیدا نہ ہوا، انہوں نے یہ بات بھانپ لی تھی کہ لشکر کے پیچھے ہٹنے کا سبب فخر و مباہات کا وہ جذبہ تھا جو مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں پیدا ہو گیا تھا اور جس کے باعث ان میں کمزوری راہ پا گئی تھی، یہ خیال آتے ہی انہوں نے پکار کر اپنے لشکر سے کہا:

"اے لوگو! علیحدہ علیحدہ ہو جاؤ اور اسی حالت میں دشمن سے لڑو، تاکہ ہم دیکھ سکیں کس قبیلے نے لڑائی میں بہادری کا سب سے اچھا مظاہرہ کیا۔"

 مجاہدین اسلام کا عزم و ثبات:

حضرت خالدؓ کے اس حکم کا خاطر خواہ اثر ہوا اور ہر قبیلے نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے دشمن کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا، آخر مسلمانوں کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ انہوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے فخر و مباہات اور تعلی کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ نامناسب تھا، چنانچہ انصار کے ایک سردار ثابت بن قیس نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: " اے مسلمانو! تم نے بہت بری مثال قائم کی ہے۔ "
پھر اہل یمامہ کی طرف اشارہ کر کے کہا:
اے اللہ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں
اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے میں اس سے بھی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں،
اس کے بعد وہ تلوار سونت کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور بڑی بہادری سے لڑنے لگے، وہ لڑتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:
" میری تلوار کا مزہ چکھو، میں تمہیں صبر و استقلال کا حقیقی نمونہ دکھاؤں گا۔"

وہ اسی طرح بے جگری سے لڑتے رہے، ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں زخم نہ لگے ہوں، آخر اسی طرح لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ حضرت براء بن مالک ان صنادید عرب میں سے تھے جو پیٹھ دکھانا جانتے ہی نہ تھے، جب انہوں نے مسلمانوں کو بھاگتے دیکھا تو وہ تیزی سے کود کر ان کے سامنے آ گئے اور کہا: "اے مسلمانو! میں براء بن مالک ہوں، میری پیروی کرو۔" مسلمان ان کی بہادری اور شجاعت سے خوب واقف تھے، ان کی ایک جماعت براء کے ساتھ ہولی، وہ اسے لے کر دشمن کے مقابلے میں آ گئے اور اس بہادری سے لڑے کہ دشمن کو پیچھے ہٹتے ہی بن پڑی، عین لڑائی کے دوران میں یہ اتفاق ہوا کہ سخت آندھی آ گئی اور ریت اڑ اڑ کر مسلمانوں کے چہروں پر پڑنے لگی، چند لوگوں نے اس پریشانی کا ذکر زیدؓ بن خطاب سے کیا اور پوچھا کہ اب کیا کریں۔ 
انہوں نے جواب میں کہا: واللہ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کروں گا، جب تک دشمن کو شکست نہ دے لوں، یا اللہ مجھے شہادت عطا نہ فرمائے، اے لوگو! آندھی سے بچاؤ کی خاطر اپنی نظریں نیچی کر لو اور ثابت قدم رہ کر لڑو، یہ کہہ کر تلوار سونت لی اور دشمن کی صفوں میں گھس کر بے جگری سے لڑنے لگے، ان کا دستہ بھی ان کے پیچھے ثابت قدمی سے لڑ رہا تھا، آخر ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ پورے ہو گئے اور انہوں نے اسی طرح لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کیا۔

حضرت ابو حذیفہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے:
"اے اہل قرآن! اپنے افعال کے ذریعے سے قرآن کو عزت بخشو، پھر خود بھی دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے، ان کی شہادت کے بعد جھنڈا ان کے غلام سالم نے اٹھایا اور کہا: اگر آج ثابت قدم نہ رہوں تو میں بدترین حامل قرآن ہوں گا، چنانچہ وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔

ان آوازوں نے جو ایمان و یقین سے بھرپور قلوب سے نکل رہی تھیں، مسلمانوں کے لشکر میں بہادری کی ایک نئی روح پھونک دی، زندگی ان کی نظروں میں حقیر بن کر رہ گئی اور شہادت کی تمنا ہر دل میں چٹکیاں لینے لگی، چنانچہ وہ بے جگری سے لڑے اور تھوڑی دیر میں مسیلمہ کے لشکر کو اس کی پہلی جگہ پر لا کھڑا کیا۔

جہاں مسلمان دین حق کی حفاظت اور حصول جنت کی خاطر لڑ رہے تھے، وہاں مسیلمہ کا لشکر اپنے وطن، حسب و نسب اور ایسے کمزور عقیدے کی خاطر لڑ رہا تھا جو ان کے نزدیک وطن اور حسب و نسب سے بھی بہت کم درجے کا تھا، اسی لیے مسلمانوں نے بنو حنفیہ سے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور انتہائی بے جگری سے لڑے۔
======> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 35.

Muslema ke Khilaf Hazrat Khalid bin Walid Razi Allahu Anahu Ki Fauj.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-35/40.
Yamama: Where courage met destiny.
Khalid bin Walid vs Musaylimah.
Sword of Allah Islamic battles.
Khalid bin Walid Battle of Yamama.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Seerat-E-Sahaba, Caliphate, Islamic History, Jhoothe Nabiyo ki Shadi,
Islamic History.
    تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (35)
جنگ یمامہ:
 مسیلمہ کے خلاف حضرت خالد بن ولید ؓ کی چڑھائی:

بطاح سے حضرت خالدؓ بن ولید اپنے لشکر اور حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی بھیجی ہوئی کمک لے کر بنی حنفیہ کے متنبی مسیلمہ بن حبیب سے جنگ کرنے کے لیے یمامہ روانہ ہوئے، جو کمک حضرت ابوبکرؓ نے بھیجی تھی وہ تعداد اور قوت میں حضرت خالدؓ کے اصل لشکر سے کم نہ تھی، اس میں ان مہاجرین اور انصار کے علاوہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کفار سے لڑائیاں کی تھیں، ان قبائل کے لوگ بھی شامل تھے جن کا شمار عرب کے طاقتور اور جنگجو قبیلوں میں ہوتا تھا، انصار ثابت بن قیس اور براء بن مالک کے زیر سرکردگی تھے اور مہاجرین ابو حذیفہ بن عتبہ اور زید بن خطاب کے ماتحت۔ دوسرے قبائل میں سے ہر قبیلے کا سردار علیحدہ تھا جسے حضرت ابوبکرؓ نے اس کی حسن کارکردگی کے باعث اس عہدے پر مقرر فرمایا تھا، وہ جانتے تھے کہ جنگ کے وقت چالیس ہزار بنو حنفیہ مسیلمہ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوں گے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس لئے اس وقت مدینہ کی جانب سے بھی بہترین آدمیوں کو جو قیادت اور جنگ کا کامل تجربہ رکھتے ہوں، محاذ جنگ پر نہ بھیجا گیا تو ان مرتدین کا مقابلہ بے حد دشوار ہو جائے گا۔

ان لوگوں میں جنہیں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالدؓ کی امداد کے لیے روانہ کیا تھا، قرآن مجید کے حافظوں اور قاریوں کی بھی بھاری تعداد شامل تھی، اسی طرح ایک خاص دستہ ان صحابہ کا تھا جنہوں نے جنگ بدرمیں حصہ لیا تھا، ایسا کرنا حضرت ابوبکرؓ کی اس پالیسی کے خلاف تھا جو انہوں نے اہل بدر کے متعلق وضع کی تھی، وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں جنگوں میں اہل بدر کو استعمال نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ اپنے نیک اعمال کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر ہو جائیں، لیکن اس موقع پر نازک صورتحال کے پیش نظر انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اہل بدر اور دوسرے صحابہ کو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی جنگوں میں حصہ لیا تھا، حضرت خالدؓ کی مدد کے لیے روانہ فرمایا، کیونکہ یمامہ میں مسیلمہ کو خوب فروغ ہو چلا تھا اور وہ آسانی سے زیر ہونے والا نہ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ یمامہ میں مسلمانوں کی کامیابی حضرت خالدؓ کا معمولی کارنامہ نہیں، یمامہ کی حالت دوسرے قبائل سے بالکل مختلف تھی، مدینہ کے قریبی قبائل میں سے جنہوں نے حضرت ابوبکرؓ کے خلیفہ بننے کے بعد مدینہ کا محاصرہ کرنا چاہا تھا، کوئی شخص نبوت کا مدعی نہ تھا اور زکوٰۃ کے معافی کے سوا انہیں اور کوئی خواہش نہ تھی۔ مزید برآں عدی بن حاتم اپنے قبیلے کو طلیحہ اسدی کی امداد سے باز رکھنے میں کامیاب ہو گئے تھے جس سے اس کے لشکر میں ابتری پھیل گئی اور وہ جم کر مسلمانوں کا مقابلہ نہ کر سکا، اس کے لشکر کے مفرورین ام زمل کے پاس جا کر اکٹھے ہوئے، لیکن ایک ہزیمت خوردہ فوج سے مقابلے کی توقع عبث تھی، اس لیے ام زمل کو بھی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

رہ گئے بنوتمیم تو ان میں خود تفرقہ پڑا ہوا تھا، مسلمانوں سے کیامقابلہ کر سکتے تھے؟ سجاح کے عزم اور ہمت کو مالک بن نویرہ نے متزلزل کر دیا اور اس نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا، مالک بن نویرہ مسلمانوں سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ وہ حضرت خالدؓ کے مقابلے میں آنے کی جرأت ہی نہ کر سکا۔

ان لوگوں کے بالمقابل مسیلمہ اور یمامہ میں اس کے پیروؤں کو اصلاً اس بات ہی سے انکار تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ قریش کی طرح نبوت و رسالت پر ان کا بھی حق ہے، انہیں بھی عرب میں وہی درجہ حاصل ہے جو قریش کا ہے، ان کا لشکر قریش کے لشکر سے کئی گنا بڑا ہے، اس کے علاوہ ان میں کامل اتحاد پایا جاتا ہے، آپس کی مخالفت اور شکر رنجی بالکل مفقود ہے، عقیدے اور قبیلے کا اختلاف ان میں بالکل نہیں، ان وجوہ کی بنا پر وہ اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کی فوجوں سے بڑی کامیاب ٹکر لے سکتے ہیں۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کی ہزیمت:
حضرت ابوبکرؓ کی نظر میں یہ تمام باتیں پہلے ہی سے موجود تھیں، اس لیے انہوں نے پوری کوشش کی کہ یمامہ کی جانب جو لشکر بھیجے جائیں وہ طاقتور ہوں، مرتدین سے لڑنے کے لیے انہوں نے گیارہ لشکر تیار کیے تھے اور ہر لشکر کو علیحدہ علیحدہ قبیلے کی طرف بھیجا تھا، لیکن مسیلمہ کے بارے میں ایسا نہ ہوا، بلکہ اس کی جانب انہوں نے حضرت عکرمہ بن ابوجہل کو بھیجا اور ان کے پیچھے پیچھے حضرت شرحبیل بن حسنہ کو ایک لشکر دے کر ان کی مدد کے لیے روانہ فرمایا، حضرت عکرمہ یمامہ کی جانب بڑھتے چلے گئے اور شرحبیل کے پہنچنے کا انتظار نہ کیا، وہ چاہتے تھے کہ مسیلمہ پر فتح یاب ہونے کا فخر تنہا انہیں کے حصے میں آئے، حضرت عکرمہ ایک تجربہ کار ماہر جنگ اور دشمن کو خاطر میں نہ لانے والے شہسوار تھے، ان کی فوج میں بڑے بڑے بہادر شامل تھے جو پچھلی جنگوں میں لوگوں پر اپنے کارناموں کی دھاک بٹھا چکے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ مسیلمہ کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور بنو حنفیہ نے انہیں شکست دے کر پیچھے ہٹا دیا، حضرت عکرمہ نے اپنی ہزیمت کا سارا حال حضرت ابوبکرؓ کو لکھ بھیجا جسے پڑھ کر ان کے غصے کی انتہا نہ رہی، انہوں نے حضرت عکرمہ کو لکھا:

" اے ابن ام عکرمہ! (عکرمہ کی ماں کے بیٹے) میں تمہاری صورت دیکھنے کا مطلق روادار نہیں، تم واپس آ کر لوگوں میں بد دلی پھیلانے کا باعث نہ ہو، بلکہ حذیفہ اور عرفجہ کے پاس جا کر اہل عمان اور مہرہ سے لڑو، اس کے بعد یمن اور حضرموت جا کر مہاجر بن ابی امیہ سے مل جاؤ اور ان کے دوش بہ دوش مرتدین سے جنگ میں حصہ لو۔"

اس خط میں جو غیظ و غضب پنہاں ہے اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ام عکرمہ کا خطاب ہی اس غیظ و غضب کی صحیح کیفیت ظاہر کر رہا ہے۔

مسیلمہ کی قوت و طاقت بڑھ جانے اور اس کے مقابلے میں حضرت عکرمہ کے شکست کھانے کے باعث حضرت ابوبکرؓ کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ حضرت خالدؓ بن ولید کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کریں، چنانچہ انہوں نے شرحبیل بن حسنہ کو لکھا کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں، جب تک حضرت خالدؓ ان کے پاس نہ پہنچ جائیں، مسیلمہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد (شرحبیل) عمرو بن عاص کے پاس چلے جائیں اور شمالی حصے میں قضاعہ کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کریں۔

حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کی شکست:
ابھی حضرت خالدؓ یمامہ کے راستے ہی پر تھے کہ مسیلمہ کی فوجوں نے شرحبیل کی فوج سے ٹکرلی اور اسے پیچھے ہٹا دیا، بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ شرحبیل نے بھی وہی کیا جو اس سے پہلے عکرمہ کر چکے تھے یعنی وہ مسیلمہ پر فتح یابی کا فخر خود حاصل کرنے کے شوق میں آگے بڑھے، لیکن انہیں بھی شکست کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا، پھر بھی میرے خیال میں واقعہ اس طرح نہیں بلکہ خود یمامہ کے لشکر نے اس خیال سے کہ کہیں شرحبیل حضرت خالدؓ سے مل کر انہیں نقصان نہ پہنچائیں، اگے بڑھ کر لشکر پر حملہ کر دیا اور شکست دے کر اسے پیچھے ہٹا دیا، دونوں میں سے کوئی بات ہوئی ہو مگر واقعہ یہی ہوا کہ شرحبیل اپنا لشکر لے کر پیچھے ہٹ گئے۔

اب حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکروں کے ہمراہ یمامہ کی جانب بڑھنا شروع کیا، مسیلمہ کو بھی ان کی نقل و حرکت کی تمام خبریں پہنچ رہی تھیں۔
=========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 34.

Shuza Aur Muslema jaise Do Jhuthe nabiyo Ki Shadi.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-34/40.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Islamic Tarikh, Nabuwat ke daawedar, Jhuthe Nabi, Jhuthe Nabiyo Ki Shadi,
Islamic History.
     تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (34)
سجاح اور مسیلمہ کی شادی:

اس واقعے کے بعد اہل جزیرہ کی فوج کے سردار ایک جگہ جمع ہوئے اور انہوں نے سجاح سے کہا:

"اب آپ ہمیں کیا حکم دیتی ہیں؟
 مالک اور وکیع نے اپنی قوم سے صلح کرلی ہے، نہ وہ ہمیں مدد دینے کے لیے تیار ہیں اور نہ اس بات پر رضا مند کہ ہم ان کی سر زمین سے گزر سکیں، ان لوگوں سے بھی ہم نے یہ معاہدہ کیا ہے اور مدینہ جانے کے لیے ہماری راہ مسدود ہو گئی ہے۔ اب بتائیے ہم کیا کریں۔"
سجاح نے جواب دیا: اگر مدینہ جانے کی راہ مسدود ہو گئی ہے تو بھی فکر کی کوئی بات نہیں، تم یمامہ چلو۔ انہوں نے کہا: اہل یمامہ شان و شوکت میں ہم سے بڑھے ہوئے ہیں اور مسیلمہ کی طاقت و قوت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔

ایک روایت یہ بھی آتی ہے کہ جب اس کے لشکر کے سرداروں نے سجاح سے آئندہ اقدام کے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا:

"علیکم بالیمامہ، ود فواد فیف الحماہم، فانھا غزوۃ صرامہ، لا یلحقکم بعدھا ندامہ"

(یمامہ چلو، کبوتر کی طرح تیزی سے ان پر جھپٹو، وہاں ایک زبردست جنگ پیش آئے گی جس کے بعد تمہیں پھر کبھی ندامت نہ اٹھانی پڑے گی۔)

یہ مسجع و مقفی عبارت سننے کے بعد، جسے اس کے لشکر والے وحی خیال کرتے تھے، انہیں اس کا حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس نے کس مقصد کے لیے یمامہ کا قصد کیا جب خود اسے اپنی قوم بنو تمیم میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے بعد مدینہ کی جانب کوچ کرتے ہوئے اوس بن خزیمہ کے ہاتھوں اسے شکست اٹھانی پڑی تھی، کیا اس کے لشکر میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو ان ناکامیوں کو دیکھنے کے بعد اسے یمامہ نہ جانے کا مشورہ دیتا؟ یا یہ خیال کیا جائے کہ اس کی وفات پر ان لوگوں کو اس درجہ یقین تھا کہ وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اس کی باتوں کو وحی خیال کرتے اور نہایت فرماں برداری سے اس کی اطاعت اور اس کے احکام کی تعمیل میں کوئی دقیقہ سعی و فروگزاشت نہ کرتے تھے؟

سچ تو یہ ہے کہ سجاح کا سارا قصہ ہی عجائب و غرائب کا مجموعہ ہے، مؤرخین ذکر کرتے ہیں کہ جب وہ اپنے لشکر کے ہمراہ یمامہ پہنچی تو مسیلمہ کو بڑا فکر پیدا ہوا، اس نے سوچا اگر وہ سجاح کی فوجوں سے جنگ میں مشغول ہو گیا تو اس کی طاقت کمزور ہو جائے گی، اسلامی لشکر اس پر دھاوا بول دے گا اور ارد گرد کے قبائل بھی اس کی اطاعت کا دم بھرنے سے انکار کر دیں گے، یہ سوچ کر اس نے سجاح سے مصالحت کرنے کی ٹھانی، پہلے اسے تحفے تحائف بھیجے، پھر کہلا بھیجا کہ وہ خود اس سے ملنا چاہتا ہے، سجاح اپنا لشکر لیے پانی کے ایک چشمے پر مقیم تھی، اس نے مسیلمہ کو باریابی کی اجازت دے دی، یہ مسیلمہ بنی حنیفہ کے چالیس آدمیوں کے ہمراہ اس کے پاس آیا، کیمپ میں پہنچ کر خلوت میں اس سے تملق آمیز گفتگو کی اور کہا کہ عرب کی آدھی زمین کے مالک قریش ہیں اور آدھی زمین کی مالک تم ہو، اس کے بعد مسیلمہ نے کچھ مسجع و مقفی عبارتیں سجاح کو سنائیں جن سے وہ بہت متاثر ہوئی، سجاح نے بھی جواب میں اسے اسی قسم کی بعض عبارتیں سنائیں، یہ ملاقات خاصی دیر تک جاری رہی، مسیلمہ نے اپنی خوش کلامی اور چال بازی سے سجاح کا دل موہ لیا اور سجاح کو اقرار کرتے ہی بن پڑی کہ مسیلمہ اس سے ہر طرح فائق ہے۔

سجاح کو پوری طرح اپنے قبضے میں لینے اور ہم نوا بنانے کے لیے مسیلمہ نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم دونوں اپنی نبوتوں کو یکجا کرلیں اور باہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں، سجاح نے جو پہلے ہی اس کی خوش کلامی اور محبت آمیز باتوں سے مسحور ہو چکی تھی، نہایت خوشی سے یہ مشورہ قبول کر لیا اور مسیلمہ کے ساتھ اس کے کیمپ میں چلی گئی، تین روز تک وہاں رہی، اس کے بعد اپنے لشکر میں واپس آئی اور ساتھیوں سے ذکر کیا کہ اس نے مسیلمہ کو حق پر پایا ہے اس لیے اس سے شادی کر لی ہے۔ 

   سجاح کا مہر:
لوگوں نے اس سے پوچھا آپ نے کچھ مہر بھی مقرر کیا؟
 اس نے کہا مہر تو مقرر نہیں کیا، انہوں نے مشورہ دیا آپ واپس جائیے اور مہر مقرر کر آئیے، کیونکہ آپ جیسی شخصیت کے لیے مہر لیے بغیر شادی کرنا زیبا نہیں، چنانچہ وہ مسیلمہ کے پاس واپس گئی اور اسے اپنی آمد کے مقصد سے آگاہ کیا، مسیلمہ نے اس کی خاطر عشاء اور فجر کی نمازوں میں تخفیف کردی، مہر کے بارے میں یہ تصفیہ ہوا کہ مسیلمہ یمامہ کی زمینوں کے لگان کی نصف آمدنی سجاح کو بھیجا کرے گا، سجاح نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ آئندہ سال کی نصف آمدنی میں سے اس کا حصہ پہلے ہی ادا کر دے، 
اس پر مسیلمہ نے نصف سال کی آمدنی کا اسے دے دیا جسے لے کر وہ جزیرہ واپس چلی گئی، بقیہ نصف سال کی آمدنی کے حصول کے لیے اس نے اپنے کچھ آدمیوں کو بنو حنفیہ ہی میں چھوڑ دیا، وہ ابھی وہیں مقیم تھے کہ اسلامی لشکر آ پہنچا اور مسیلمہ سے جنگ کر کے اس کاکام تمام کر دیا، سجاح بدستور بنوتغلب میں مقیم رہی یہاں تک کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قحط والے سال (عام المجاعہ) اسے اس کی قوم کے ساتھ بنو تمیم میں   بھیج دیا جہاں وہ وفات تک مسلمان ہونے کی حالت میں مقیم رہی۔

یہ ہے سجاح کا قصہ اور جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں بہت ہی عجیب قصہ ہے، وہ جزیرہ سے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کے مقابلے کو روانہ ہوتی ہے، لیکن مالک بن نویرہ سے بات چیت کے بعد اس کی رائے بدل جاتی ہے اور وہ مدینہ پر ہلہ بولنے کے بجائے یمامہ کا رخ کرتی ہے، وہاں مسیلمہ سے اس کی ملاقات ہوتی ہے اور ان دونوں کی شادی ہو جاتی ہے، شادی کے فوراً بعد وہ اپنے قبیلے میں لوٹ آتی ہے اور بقیہ ساری عمر اس طرح بسر کرتی ہے جیسے کبھی وہ اپنے قبیلے سے باہر نکلی ہی نہ تھی اور اپنے پہلے خاوند کے سوا کسی سے شادی کی ہی نہ تھی۔

مسیلمہ کا معاملہ بھی سجاح کے معاملے سے کم تر نہیں، اگر سجاح سے اس کی شادی کا قصہ درست ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسیلمہ اول درجے کا سیاست دان اور لوگوں کے دلی جذبات بھانپ لینے والا شخص تھا، اس نے چاہا کہ وہ اس طرح سجاح سے چھٹکارا حاصل کرے، تاکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بھیجی ہوئی افواج کا مقابلہ دل جمعی سے کیا جا سکے، اس نے سجاح کو میٹھی میٹھی اور چکنی چپڑی باتوں سے رام کر لیا اور چال بازی سے کام لے کر اسے اس کے قبیلے میں واپس بھیج دیا۔

مالک بن نویرہ اور مسیلمہ کے ساتھ سجاح کے تعلقات جس قسم کے رہے ان پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ سجاح ایک ہوشیار کاہنہ، مسجع مقفی عبارتیں بنانے میں ماہر، بہت نرم طبیعت اور نسوانی خصوصیات کی پوری طرح حامل تھی، ادھر مسیلمہ بھی ایک ہوشیار سیاست دان تھا، وہ خوبصورت نہ تھا لیکن میٹھی میٹھی باتوں سے لوگوں کے دل موہ لیتا تھا، عورتوں سے اسے بہت کم رغبت تھی اور عورت کا حسن و جمال اس پر مطلق اثر نہ کرتا تھا، اسی وجہ سے اس نے اپنی شریعت میں یہ بات رکھ دی تھی کہ جس شخص کے بیٹا پیدا ہو اس کے لیے اس وقت تک اپنی بیوی کے پاس جانا ناجائز ہے جب تک وہ بیٹا زندہ ہے، اگر بیٹا مر جائے تو دوسرے بیٹے کے حصول کے لیے بیوی کے پاس جا سکتا ہے، لیکن جس کا بیٹا موجود ہو اس کے لیے عورتیں حرام ہیں۔
======> جاری ہے ۔۔۔
 ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ.
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 33.

Shuza Aur Maalik Bin Nuwaira: Banu Aamir Aur Uske Miskeen.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-33/40.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Seerat-e-sahaba, Hayat-E-Sahaba, Islamic history, Muslim web,
Islamic History.
 تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (33)
 سجاح اور مالک  بن نویرہ:
بنو عامر اور ان کے مسکن:

عرب کے جنوبی حصے میں بنی تمیم کے قبائل بنی عامر کے قریب ہی آباد تھے، یہ قبائل مدینہ سے جانب شرق خلیج فارس تک پھیلتے چلے گئے تھے اور شمال مشرق میں ان کی حدود دریائے فرات کے دہانے تک تھیں، بنو تمیم کو عہد جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں قبائل عرب کے درمیان خاص مقام حاصل تھا، یہاں کے لوگ شجاعت اور سخاوت میں مشہور تھے اور شاعری اور فصاحت و بلاغت میں بھی یہ دوسرے قبائل سے کسی طرح کم نہ تھے، چنانچہ اب ایک تاریخ اور ادب کی کتابوں میں اس قبیلے کی شاخوں بنی حنظلہ، دارم، بنی مالک اور بنی یربوع کے کارناموں کا ذکر محفوظ چلا آتا ہے۔

چونکہ یہ قبائل دریائے فرات اور خلیج فارس تک آباد تھے، اس لیے ایرانیوں سے بھی ان کا تعلق تھا، یہ لوگ زیادہ قبر پرست تھے اگرچہ ان میں سے بہت سے عیسائی بھی ہو گئے تھے، دوسرے قبائل کی طرح یہ بھی مسلمانوں کی بالا دستی قبول کرنے کو تیار نہ تھے، اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محصلین کو ان قبائل سے جزیہ وصول کرنے کی غرض سے بھیجا تو سب سے پہلے بنو تمیم نے جزیہ دینے سے انکار کیا اور بنو العنبر تو تلواریں اور نیزے لے کر محصل کا استقبال کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عینیہ بن حصن کو ان کی طرف بھیجا جنہوں نے ان قبائل کو بزور مطیع کیا اور کئی لوگوں کو گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لے آئے، 
اس پر ان کا ایک وفد مدینہ آیا اور مسجد نبوی میں داخل ہوا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے، ان لوگوں نے با آواز بلند اپنی شرافت، عزت اور حسب و نسب کا واسطہ دے کر اور جنگ حنین کے واقعات کا ذکر کر کے اپنے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آوازیں سن کر باہر تشریف لے آئے، انہوں نے کہا ہم آپ سے فخر و مباہات میں مقابلہ کرنے کے لیے آئے ہیں، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کا خطیب ان کے خطیب سے زیادہ فصیح و بلیغ، مسلمانوں کا شاعر ان کے شاعر سے زیادہ سحر بیان اور مسلمانوں کی گفتگو ان کی گفتگو سے زیادہ شیریں ہے تو یہ لوگ اسلام لے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قیدی رہا کر دئیے اور یہ انہیں اپنے ہمراہ لے کر خوشی خوشی واپس چلے گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی تمیم کی مختلف شاخوں کے لیے مختلف امیر مقرر فرمائے تھے، ان میں مالک بن نویرہ بھی تھا جو بنی یربوع کا سردار تھا، جب ان عُمال نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر وفات سنی تو ان میں اختلاف پیدا ہوا کہ آیا حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں زکوٰۃ بھیجی جائے یا خاموشی اختیار کی جائے، اس اختلاف نے یہاں تک شدت اختیار کی کہ آپس ہی میں سخت لڑائی ہونے لگی، ایک فریق مدینہ کا تسلط قبول کرنے کو تیار تھا، لیکن دوسرے فریق کو اس سے انکار تھا اور وہ حضرت ابوبکرؓ کو زکوٰۃ بھیجنے پر آمادہ نہ تھا، مالک بن نویرہ مؤخر الذکر فریق سے تعلق رکھتا تھا۔

ابھی ان اعمال میں یہ اختلاف برپا ہی تھا کہ سجاح بنت حارث عراق کے علاقے الجزیرہ سے اپنے قبیلے تغلب کے ہمراہ پہنچی، تغلب کے علاوہ اس کے ساتھ ربیعہ، نمر، ایاد اور شیبان کے لوگوں پر مشتمل ایک لشکر بھی تھا، سجاح اصل میں بنی تمیم کی شاخ بنو یر بوع سے تعلق رکھتی تھی، لیکن اس کی ننھیال عراق کے قبیلہ تغلب میں تھی، اس کی شادی بھی بنو تغلب ہی میں ہوئی تھی اور یہ وہیں رہتی تھی، یہ بڑی ذکی اور فہیم عورت تھی اور اسے کہانت کا دعویٰ بھی تھا، لوگوں کی قیادت اور رہبری کا فن اسے خوب آتا تھا، جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر وفات ملی تو اس نے نواحی قبائل کا دورہ کیا اور انہیں مدینہ پر ہلہ بولنے کے لیے آمادہ کرنے لگی۔

   سجاح کے آنے کی غرض:
بعض مؤرخین کہتے ہیں اور اپنے خیال میں وہ درست کہتے ہیں کہ سجاح کسی ذاتی لالچ اور کہانت کا کاروبار وسیع کرنے کے لیے شمالی عراق سے سر زمین عرب میں وارد نہ ہوئی تھی، بلکہ اصل میں وہ عراق کے ایرانی عمال کی انگیخت پر یہاں آئی تھی تاکہ فتنہ و فساد پھیلا سکے اور اس شورش سے فائدہ اٹھا کر اہل ایران اپنے روبہ انحطاط اقتدار کو سنبھالا دے سکیں۔ جو یمن میں دربار ایران کے مقرر کردہ ایک عامل بدبان کے اسلام لانے کے بعد سے گرنا شروع ہوگیا تھا۔

مذکورہ بالا مؤرخین اپنی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ سجاح واحد عورت تھی جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اس جیسی ہوشیار اور ذکی و فہیم عورتیں ہی اکثر اوقات جاسوسی اور لوگوں کو ورغلانے اور پھسلانے کے کام پر مامور کی جاتی ہیں، چنانچہ اس کے ساتھ بھی یہی ہوا، یہ عرب میں اس وقت تک ٹھہری رہی جب تک اس کی کوششوں سے فتنہ و فساد اور بغاوت کی آگ پورے زور سے نہ بھڑک اٹھی، جب ا س کا مقصد پورا ہو گیا تو یہ عراق واپس چلی آئی اور بقیہ عمر سکون و اطمینان سے بسر کی۔

ایرانیوں کی سرشت کو دیکھتے ہوئے کوئی تعجب نہیں کہ انہوں نے اسے بلاد عرب میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کے لیے آلہ کار بنایا ہو اور یہ خیال کیا ہو، بجائے اس سے کہ عرب پر چڑھائی کرنے کے لیے ایرانی فوج روانہ کی جائے، اس ہوشیار عورت کے ذریعے سے خود عربوں کو ایک دوسرے سے بھڑا کر ان کی طاقت ختم کر دی جائے، تاکہ کسی محنت و مشقت کے بغیر جزیرہ نما پر دوبارہ تسلط بٹھا سکیں۔

   بنی تمیم کا طرز عمل:
سجاح ان عوامل سے متاثر ہو کر جزیرہ عرب میں داخل ہوئی، یہ طبعی امر تھا کہ وہ سب سے پہلے اپنی قوم بنو تمیم میں پہنچی، بنی تمیم کا اس وقت جو حال تھا وہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، ایک گروہ زکوٰۃ ادا کرنے اور خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے پر آمادہ تھا، لیکن دوسرا فریق اس کی سخت مخالفت کر رہا تھا۔ ایک تیسرا فریق تھا جس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

اس اختلاف نے اتنی شدت اختیار کی کہ بنو تمیم نے آپس ہی میں لڑنا اور جدال و قتال کرنا شروع کر دیا، اسی اثناء میں ان قبائل نے سجاح کے آنے کی خبر سنی اور انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ سجاح مدینہ پہنچ کر حضرت ابوبکرؓ کی فوجوں سے جنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، پھر تو اس اختلاف نے مزید وسعت اختیار کر لی۔

سجاح اس ارادے سے بڑھی چلی آ رہی تھی کہ وہ اپنے عظیم الشان لشکر کے ہمراہ اچانک بنو تمیم میں پہنچ جائے گی اور اپنی نبوت کا اعلان کر کے انہیں اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دے گی، سارا قبیلہ بالاتفاق اس کے ساتھ ہو جائے گا اور عینیہ کی طرح بنو تمیم بھی اس کے متعلق یہ کہنا شروع کردیں گے کہ بنو یربوع کی نبیہ، قریش کے نبی سے بہتر ہے، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور سجاح زندہ ہے، اس کے بعد وہ بنو تمیم کو ہمراہ لے کر مدینہ کی طرف کوچ کرے گی اور حضرت ابوبکرؓ کے لشکر سے مقابلے کے بعد فتح یاب ہو کر مدینہ پر قابض ہو جائے گی۔

سجاح اور مالک بن نویرہ:
سجاح اپنے لشکر کے ہمراہ بنو یربوع کی حدود پر پہنچ کر ٹھہر گئی اور قبیلے کے سردار مالک بن نویرہ کو بلا کر مصالحت کرنے اور مدینہ پر حملہ کرنے کی غرض سے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی، مالک نے صلح کی دعوت تو قبول کر لی، لیکن اس نے مدینہ پر چڑھائی کے ارادے سے باز رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مدینہ پہنچ کر حضرت ابوبکرؓ کی فوجوں کا مقابلہ کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اپنے قبیلے کے مخالف عنصر کا صفایا کر دیا جائے۔ سجاح کو بھی یہ بات پسند آئی اور اس نے کہا:

"جو تمہاری مرضی۔ میں تو بنی یربوع کی ایک عورت ہوں، جو تم کہو گے وہی کروں گی۔ "

سجاح نے مالک کے علاوہ بنو تمیم کے دوسرے سرداروں کو بھی مصالحت کی دعوت دی، لیکن وکیع کے سوا کسی نے یہ دعوت قبول نہ کی، اس پر سجاح نے مالک، وکیع اور اپنے لشکر کے ہمراہ دوسرے سرداروں پر دھاوا بول دیا، گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں جانبین کے کثیر التعداد آدمی قتل ہوئے اور ایک ہی قبیلے کے لوگوں نے ایک دوسرے کو گرفتار کر لیا، لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد مالک اور وکیع نے یہ محسوس کیا کہ انہوں نے اس عورت کی اتباع کر کے سخت غلطی کی ہے، اس پر انہوں نے دوسرے سرداروں سے مصالحت کر لی اور ایک دوسرے کے قیدی واپس کر دئیے۔ اس طرح قبیلہ تمیم میں امن قائم ہو گیا۔

   سجاح کی شکست:
اب یہاں سجاح کی دال گلنی مشکل تھی، اس نے بنو تمیم سے بوریا بستر اٹھایا اور مدینہ کی جانب کوچ کر دیا، نباج کی بستی پر پہنچ کر اوس بن خزیمہ سے اس کی مڈ بھیڑ ہوئی جس میں سجاح نے شکست کھائی اور اوس بن خزیمہ نے اس شرط پر اسے واپس جانے دیا کہ اس امر کا پختہ اقرار کرے، وہ کبھی مدینہ کی جانب پیش قدمی نہ کرے گی۔
========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 32.

Umm-E-Zamal Ka Khurooz aur Abu Bakr Siddique Razi Allahu Anahu.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Siddique Razi Allahu Anahu. Part-32.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Hayat-E-Sahaba, Islamic history, Muslim Web, Hazra Abu bakr razi allahu anahu,
Islamic History.
  تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (32)
        امِ زمل کا خروج:
جب لوگوں میں یہ خبریں مشہور ہوئیں کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ بالعموم ایسے لوگوں کے متعلق عفو و در گزر سے کام لے رہے ہیں جو مرتد ہونے کے بعد اسلام لے آتے ہیں تو ان قبائل کا جوش و خروش ٹھنڈا ہو گیا، جنہوں نے طلیحہ کی مدد کی تھی اور وہ بھی رفتہ رفتہ اسلام میں داخل ہو گئے، لیکن غطفان، طئی، سلیم اور ہوازن کے بعض لوگ جنہوں نے بزاخہ میں حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں شکست کھائی تھی،
 بھاگ کر ام زمل سلمیٰ بنت مالک کے پاس پہنچے اور وعدہ کیا کہ اس کے ساتھ مسلمانوں سے جنگ کریں گے اور جانیں قربان کر دیں گے، لیکن پیچھے نہ ہٹیں گے، لاریب یہ مفرورین اتنے آتش زیر پا تھے کہ مسلمانوں کے خلاف ان کا جوش و خروش نہ ان کی عبرت ناک شکست ٹھنڈا کر سکی اور نہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا عفو و در گزر ان پر کچھ اثر کر سکا اور وہ ایک بار پھر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے جمع ہو گئے، 

اگر مسلمانوں سے ان کی نفرت اور ان کے خلاف سخت غیظ و غضب کا جذبہ ان کے دلوں میں موجزن نہ ہوتا تو طلیحہ کے بزدلانہ فرار اور اس کے کذب و افتراء کا حال ظاہر ہو جانے کے بعد وہ ضرور حضرت خالدؓ کی اطاعت قبول کر لیتے، ام زمل بھی مسلمانوں سے خار کھائے بیٹھی تھی اور اس کے دل پر ایک ایسا چرکا لگا ہوا تھا جو مرور زمانہ کے باوجود مندمل نہ ہو سکا تھا، اس لئے طبعی امر تھا کہ بزاخہ کا شکست خوردہ لشکر ام زمل کے پاس جمع ہوتا اور اپنے مقتولین کا انتقام لینے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرتا۔

ام زمل ام قرفہ کی بیٹی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دی گئی تھی، یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بنی فزارہ کی جانب گئے، وادی القریٰ میں ان کا سامنا بنی فزارہ کے چند لوگوں سے ہوا، انہوں نے زید کے ساتھیوں کو قتل کر دیا اور خود انہیں گہرا زخم پہنچایا، وہ اسی حالت میں مدینہ پہنچے.
 ان کے زخم مندمل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر کے ہمراہ دوبارہ بنی فزارہ کی جانب روانہ فرمایا، اس مرتبہ زید کے لشکر کو کامیابی ہوئی، بنی فزارہ کے اکثر آدمی قتل یا مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے، ان قیدیوں میں ام قرفہ فاطمہ بنت بدر بھی تھی، چونکہ اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر انہیں مقابلے کے لیے تیار کیا تھا، اس لیے اس جرم کی پاداش میں اسے قتل کر دیا گیا اور اس کی بیٹی ام زمل کو لونڈی بنا لیا گیا، یہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حصے میں آئی لیکن انہوں نے اسے آزاد کر دیا.

 کچھ عرصے تک تو یہ حضرت عائشہؓ ہی کے پاس رہی پھر اپنے قبیلے میں واپس چلی آئی، والدہ کے قتل نے اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکا دی تھی، چنانچہ وہ اس انتظار میں رہی کہ موقع ملنے پر مسلمانوں سے اس قتل کا بدلہ لے، فتنہ ارتداد نے اس کے لیے یہ موقع جلد بہم پہنچا دیا اور وہ بزاخہ کے ہزیمت خوردہ لشکر کو ساتھ لے کر مسلمانوں کے بالمقابل میدان میں نکل آئی۔

اس کی والدہ ام قرفہ اپنی قوم میں بڑی عزت اور شان کی مالک تھی، وہ عینیہ بن حصن کی چچی اور مالک بن حذیفہ کی بیوی تھی، اس کے بیٹوں کا شمار بھی بنی فزارہ کے معزز ترین افراد میں ہوتا تھا، اس کے پاس ایک جنگی اونٹ تھا جس پر سوار ہو کر وہ دوسرے قبائل سے لڑنے کےلیے اپنی قوم کے آگے چلا کرتی تھی، اس کے مرنے کے بعد یہ اونٹ ام زمل کے حصے میں آیا۔

عزت و افتخار میں ام زمل بھی اپنی والدہ کی ہم پلہ تھی اور اس کا مرتبہ اپنی قوم میں وہی تھا جو اس کی والدہ کا تھا، جب حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت خالدؓ کے مقابلے میں شکست کھانے والے مفرورین ام زمل کے گرد جمع ہوئے تو اس نے ان کی ہمت بندھا کر انہیں ایک بار پھر حضرت خالدؓ کی فوج سے ٹکر لینے کے لیے تیار کرنا شروع کیا، رفتہ رفتہ اور لوگ بھی اس کے گرد جمع ہوتے گئے اور اس کی قوت و طاقت میں بے حد اضافہ ہو گیا، جب حضرت خالدؓ کو اس کا پتا چلا تو وہ بزاخہ سے اس لشکر کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوئے۔

دونوں فوجیں میدان جنگ میں آمنے سامنے ہوئیں اور لڑائی شروع ہو گئی، ام زمل اونٹ پر سوار اشتعال انگیز تقریروں سے برابر فوج کو جوش دلا رہی تھی، مرتدین بھی بڑی بہادری سے جان توڑ کر لڑ رہے تھے، ام زمل کے اونٹ کے گرد سو اونٹ اور تھے جن پر بڑے بڑے بہادر سوار تھے اور وہ بڑی پامردی سے ام زمل کی حفاظت کر رہے تھے۔ مسلمان شہسواروں نے ام زمل کے پاس پہنچنے کی سر توڑ کوشش کی، لیکن اس کے محافظوں نے ہر بار انہیں پیچھے ہٹا دیا،
 پورے سو آدمیوں کو قتل کرنے کے بعد مسلمان ام زمل کے اونٹ کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو سکے، وہاں پہنچتے ہی انہوں نے اونٹ کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور ام زمل کو نیچے گرا کر قتل کر ڈالا، اس کے ساتھیوں نے جب اس کے اونٹ کو گرتے اور اسے قتل ہوتے دیکھا تو ان کی ہمت نے جواب دے دیا اور بد حواس ہو کر بے تحاشا میدان جنگ میں  بھاگنے لگے، اس طرح اس فتنے کی آگ ٹھنڈی ہو گئی اور جزیرہ نمائے عرب کے شمال مشرقی حصے میں ارتداد کا خاتمہ ہو گیا۔

جنوبی حصے کے مرتدین:
حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے جس اولو العزمی سے شمال مشرقی عرب کی بغاوتوں کو فرو کیا تھا، اس کا تقاضا یہ تھا کہ باقی حصے اس سے عبرت حاصل کرتے اور اسلامی حکومت کی مخالفت سے باز آ جاتے، انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے لشکر انتہائی نامساعد حالات میں بھی دار الخلافہ سے سینکڑوں میل دور جانے اور دشمن کو زیر کرنے میں دریغ نہیں کرتے ہیں، انہیں حضرت خالدؓ بن ولید کی فتح یابی اور طلیحہ کے انجام کی بھی تمام خبریں معلوم ہو چکی تھیں، لیکن ان سب امور کے باوجود انہوں نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

شمالی حصے سے فراغت حاصل کرنے کے بعد حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے جنوبی حصے پر توجہ مبذول کی جہاں کے لوگ بدستور حالت ارتداد پر قائم تھے اور کسی طرح بھی اسلام قبول کرنے کو تیار نہ تھے، ان لوگوں سے عہدہ برآ ہونے اور انہیں راہ راست پر لانے کے لیے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کو بزاخہ سے بطاح اور وہاں سے یمامہ جانے کا حکم دیا۔
=======> جاری ہے ۔۔۔
ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ.
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 31.

Murtad Qaidiyo Ko Hazrat Abu bakr Razi Allahu Anahu Ki Ma'afi.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-31
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Hayat-E-Sahaba, Islamic history, Muslim web, Islamic warriors, Islamic rulers,
Islamic History.
  تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (31)
مرتد قیدیوں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معافی:

حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے برعکس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان قیدیوں پر سختی نہ کی جو میدان جنگ سے پابجولاں مدینہ پہنچے تھے، عینیہ بن حصن مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا اور طلیحہ کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں سے جنگ کر چکا تھا، وہ قرہ بن ہبیرہ کے ساتھ قید ہو کر مدینہ آیا اس کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے، مدینہ کے لڑکے اسے کھجور کی شاخوں سے مارتے اور کہتے تھے:

" اے اللہ کے دشمن! تو ہی ایمان لانے کے بعد کافر ہو گیا تھا؟"
عینیہ جواب دیتا: "میں تو کبھی اللہ پر ایمان نہیں لایا۔"
لیکن اس کے باوجود حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی جاں بخشی کر دی اور اسے کچھ نہ کہا، بعض روایتوں کے مطابق اس نے نہایت گستاخی کا اظہار کیا جس کی بنیاد پر قتل کردیاگیا۔

  قرہ بن ہبیرہ:
قرہ بن ہبیرہ بنو عامر سے تعلق رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمرو بن عاص عمان سے مدینہ آتے ہوئے راستے میں اس کے پاس ٹھہرے تھے، اس وقت بنو عامر ارتداد کے لیے پر تول رہے تھے، جب عمروؓ بن عاص نے وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو قرہ نے علیحدہ میں ان سے مل کر کہا:

" عرب تمہیں تاوان (زکوٰۃ) دینے پر ہرگز راضی نہ ہوں گے، اگر تم ان کے اموال انہیں کے پاس رہنے دو اور ان پر زکوٰۃ عائد نہ کرو تو وہ تمہاری باتیں ماننے اور اطاعت قبول کرنے پر رضا مند ہو جائیں گے، لیکن اگر تم نے انکار کیا تو پھر وہ ضرور تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔"

یہ سن کر عمرو بن عاص نے جواب دیا: اے قرہ! کیا تو کافر ہو گیا ہے اور ہمیں عربوں کا خوف دلاتا ہے؟ جب قرہ اسیر ہو کر مدینہ آیا اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو اس نے کہا:

" اے خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو مسلمان ہوں اور میرے اسلام پر عمرو بن عاص گواہ ہیں، وہ مدینہ آتے ہوئے ہمارے قبیلے میں سے گزرے تھے، میں نے انہیں اپنے پاس ٹھہرایا تھا اور بڑی خاطر تواضع کی تھی۔"

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عمروؓ بن عاص کو بلایا اور ان سے قرہ کی باتوں کی تصدیق چاہی، عمرو بن عاص نے سارا واقعہ بیان کرنا شروع کیا، جب وہ زکوٰۃ کی بات پر پہنچے تو قرہ کہنے لگا: عمروؓ بن عاص اس بات کو جانے دو۔ عمروؓ بن عاص نے کہا: کیوں؟ واللہ! میں تو سارا حال بیان کروں گا۔ جب وہ بات ختم کر چکے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مسکرائے اور قرہ کی جان بخشی کر دی۔

  علقمہ بن علاثہ:
عفو و در گزر کی یہ پالیسی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے کمزوری کی آئینہ دار نہ تھی، بلکہ اس سے صرف وہ جوش و خروش اس انداز سے سرد کرنا مقصود تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، لیکن جہاں معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تک پہنچتا، وہاں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کسی قسم کی نرمی ہرگز گوارا نہ کر سکتے تھے، اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے چند مثالیں کافی ہوں گی۔

بنی کلب کے ایک شخص علقمہ بن علاثہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا، لیکن آپ کی زندگی ہی میں مرتد ہو گیا اور شام چلا گیا، آپ کی وفات کے بعد وہ اپنے قبیلے میں واپس آیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے لگا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے خبر پا کر قعقاع بن عمرو کو اس کے مقابلے کے لیے بھیجا، لیکن مقابلے کی نوبت آنے سے پیشتر ہی عقلمہ فرار ہو گیا، اس کی بیوی، بیٹیاں اور دوسرے ساتھی اسلام لے آئے اور اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، بعد میں علقمہ بھی تائب ہو کر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے اس کی توبہ قبول کر لی اور جان بخشی کر دی، کیونکہ اس نے نہ مسلمانوں سے جنگ کی تھی اور نہ کسی مسلمان کو قتل کیا تھا۔

   فجاۂ ایاس:
لیکن اس کے مقابل انہوں نے فجاۂ ایاس بن عبد یا لیل کے عذرات قبول نہ کیے اور نہ اس کی جان بخشی ہی کی، یہ شخص حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کی کہ آپ مجھے کچھ ہتھیار دیجئے، میں جس مرتد قبیلے سے آپ چاہیں گے لڑنے کے لیے تیار ہوں، انہوں نے اسے ہتھیار دے کر ایک قبیلے سے لڑنے کا حکم دیا، لیکن فجاۂ نے وہ ہتھیار قبیلہ سلیم، عامر اور ہوازن کے مسلمانوں اور مرتدین دونوں کے خلاف استعمال کیے اور کئی مسلمانوں کو قتل کردیا، اس پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے طریفہ بن حاجز کو ایک دستے کے ہمراہ فجاۂ کی جانب بھیجا، لڑائی میں فجاۂ گرفتار ہوا اور طریفہ اسے اپنے ہمراہ مدینہ لے آئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے جلا دینے کا حکم دیا، اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر فجاۂ مسلمانوں کو قتل نہ کرتا تو اسے اتنی ہولناک سزا نہ دی جاتی جس پر بعد میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو افسوس بھی ہوا۔ 
ابو شجرہ: اسی ضمن میں ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ کا واقعہ بیان کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ واقعہ عینیہ، قرہ اور علقمہ کے واقعات سے بڑی حد تک مشابہت رکھتا ہے، ابو شجرہ، مشہور شاعرہ خنسا کا بیٹا تھا جس نے اپنے بھائی صخر کی یاد میں بڑے دل دوز مرثیے کہے ہیں، ابو شجرہ اپنی والدہ کی طرح شاعر تھا، وہ مرتدین سے مل گیا اور ایسے شعر کہنے لگا جن میں اپنے ساتھیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جاتا تھا اور ان سے لڑنے کی ترغیب دی جاتی تھی، چنانچہ منجملہ اور اشعار کے اس کا ایک شعر یہ بھی تھا:

فرویت رمحی من کتیبۃ خالد
وانی لارجو بعدھا ان اعمرا

''میں نے اپنا نیزہ خالدؓ کے لشکر کے خون سے سیراب کر دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی میں اسی طرح کرتا رہوں گا۔''

لیکن جب اس نے دیکھا کہ حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے خلاف ترغیب و تحریض بار آور ثابت نہیں ہوئی اور لوگ برابر اسلام قبول کررہے ہیں تو وہ بھی اسلام لے آیا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی بھی جان بخشی کر دی اور اسے معاف کر دیا۔

حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں ایک دفعہ ابو شجرہ ان کے پاس آیا، وہ اس وقت زکوٰۃ کا مال غرباء میں تقسیم کر رہے تھے، ابو شجرہ نے کہا: امیر المومنین! مجھے بھی کچھ دیجئے کیونکہ میں حاجت مند ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: تو کون ہے؟ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ ابو شجرہ ہے تو فرمایا:
اے اللہ کے دشمن! کیا تو وہی نہیں جس نے کہا تھا:

فرویت رمحی من کتیبۃ خالد
وانی لارجو بعدھا ان اعمرا

اس کے بعد انہوں نے اسے درے مارنے کا حکم دیا، مگر وہ بھاگ کر اونٹنی پر سوار ہو کر اپنی قوم بنو سلیم میں آ گیا۔
======> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 30.

Dusre Muratad Qabayel Se Istashaal.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-30.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
Khilafat-E-Siddique, Islamic history, Muslim web, Seerat-E-Sahaba, Sahaba Story,
Islamic History.
    تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (30)
      دوسرے مرتد قبائل کا استیصال:

حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے چشمہ بزاخہ پر کامل ایک مہینہ قیام فرمایا، اس دوران میں وہ ان بقیہ قبائل کی سرکوبی میں مصروف رہے جو ابھی تک ارتداد اور سرکشی پر قائم تھے اور ام زمل سے مل کر مسلمانوں کے مقابلے کی تیاریاں کر رہے تھے، انہوں نے ایسے لوگوں کو چن چن کر قتل کرا دیا جن کے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے آلودہ تھے اور مرتدین کے متعدد سر بر آوردہ اشخاص کو جو اسلامی فوجوں کے مقابلے کو نکلے تھے، گرفتار کر کے مدینہ بھجوا دیا، ان لوگوں میں سے مشہور شخص یہ تھے: قرہ بن ہبیرہ، فجائۃ السلمی، ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ السلمی وغیرہ۔ یہ لوگ اس وقت تک حالت اسیری میں رہے جب تک حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق فیصلہ نہ سنا دیا۔

  بقیہ مرتد قبائل:
ام زمل اور طلیحہ کے لشکر کے مفرورین کا حال بیان کرنے سے قبل اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ ان لوگوں کا کیا بنا جو طلیحہ کی قوم، بنی اسد کی طرح دوبارہ اسلام میں داخل نہ ہوئے؟ کیا ان کی عقل یہ تقاضا نہ کرتی تھی کہ جب طلیحہ کا کذب ان پر ظاہر ہو گیا تھا تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آتے؟
 بات یہ ہے کہ اگرچہ سارے عرب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجبوراً سر تسلیم خم کرنا پڑا، لیکن در حقیقت وہ لوگ صدق دل سے آپ پر ایمان نہ لائے تھے، ان میں بہت سے لوگوں کو بتوں کی عبادت فضول معلوم ہوئی تو وہ ان کی پرستش چھوڑ کر اللہ کی عبادت کرنے لگے، لیکن اس عبادت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر جو دوسرے فرائض عائد کر دئیے وہ ان کے لیے بڑے تکلیف دہ تھے اور ان کی آزاد طبائع ان فرائض کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھیں، اسی لیے انہوں نے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا، جب حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ زمانہ آیا تو ان لوگوں نے ادائے زکوٰۃ سے انکار کر دیا، کیونکہ مال کی محبت ان کے دلوں میں ہر چیز سے زیادہ رچی ہوئی تھی، اسی طرح وہ نماز اور دوسرے فرائض اسلام سے بھی نجات حاصل کرنا چاہتے تھے، طلیحہ، مسیلمہ اور دوسرے مدعیان نبوت کی پیروی انہوں نے اسی لیے اختیار کی تھی کہ اپنی گردنوں سے وہ طوق اتار کر پھینک سکیں جو فرائض اور ارکان اسلام کی شکل میں ان کی گردنوں میں ڈال دیا گیا تھا، چنانچہ طلیحہ کے فرار ہونے کے بعد بھی وہ اپنے آپ کو اسلامی حکومت کی اطاعت کرنے پر آمادہ نہ کر سکے اور دوسری جگہ جا کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے دوبارہ جنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی، کیونکہ ان کا خیال تھا وہ بالآخر ضرور فتح یاب ہوں گے اور حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کو مجبور کر سکیں گے کہ فرائض اسلام کی بجا آوری میں ان پر اتنی سختی نہ کریں جتنی وہ اب کر رہے ہیں۔

لڑائی کے لیے دوبارہ تیار ہو جانے کا ایک سبب اور بھی تھا اور اس کا تعلق بدوؤں کی نفسیات سے ہے، ان قبائل اور مہاجرین و انصار کے درمیان پرانے جھگڑے چلے آ رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غلبہ پا لیا تو انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور آپ کے احکام کی بجا آوری پر بظاہر رضا مند ہو گئے، لیکن یہ سب کچھ انہوں نے بحالت مجبوری، اپنی مرضی کے خلاف محض اس لیے کیا کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہو چکے تھے، جونہی انہیں کچھ مہلت اور آزادی ملی وہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک لمحہ بھی سوچ بچار میں ضائع نہ کیا، انہیں جنگ خندق کا واقعہ یاد تھا جب قریب تھا کہ مدینہ اپنے دروازے کفار کے لیے کھول دیتا، اگر ایک سخت آندھی کافروں کے تمام منصوبے تہ و بالا کر کے نہ رکھ دیتی۔

بظاہر مسلمان ہونے کے بعد یہ لوگ چپکے ہو رہے اور دیکھتے رہے کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، پھر کیا تھا یہ لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے سارے ملک میں فساد برپا کر دیا، جب تک اسلامی فوجیں ان کی سرکوبی کے لیے پہنچیں انہوں نے اس وقفے سے فائدہ اٹھا کر اپنی جمعیت کو مضبوط تر کر لیا، ان کا خیال تھاکہ قسمت ضرور ان کا ساتھ دے گی اور وہ دوبارہ اس آزادی و خود مختاری سے بہرہ ور ہو سکیں گے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محروم ہو چکے تھے، اگر تمام قبائل اپنے اس موقف پر مضبوطی سے قائم رہتے تو یقینا حضرت خالدؓ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ آسانی سے مرتدین پر فتح نہ پا سکتے، لیکن عدی بن حاتم کی کوششوں سے قبیلہ طئی کی دونوں شاخیں طلیحہ سے الگ ہو کر مسلمانوں سے مل گئیں، یہ دیکھ کر طلیحہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، یہی گھبراہٹ اور پریشانی اس کی شکست اور فرار کا موجب بنی۔ طلیحہ کے فرار ہونے کے بعد عینیہ بھی اپنے قبیلے میں جا کر بیٹھ رہا، اس دوران میں بنو عامر جو طلیحہ کے طرف داروں میں سے تھے اور بزاخہ سے کچھ فاصلے پر آباد تھے، اس انتظار میں رہے کہ دیکھیں کس فریق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے؟ 

جب حضرت خالدؓ نے بنو اسد اور قیس کو شکست فاش دے دی تو بنو عامر نے باہم مشورہ کر کے طے کیا کہ اب ان کے لیے مسلمان ہو جانا ہی بہتر رہے گا، چنانچہ وہ بھی اسد، غطفان اور طئی کی طرح حضرت خالدؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔

 قا تلوں پر حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کی سختی:

حضرت خالدؓ نے غطفان، ہوازن، سلیم اور طئی کے لوگوں کی جان بخشی اس شرط پر کی تھی کہ وہ ان کو ان کے حوالے کر دیں، جنہوں نے ان غریب مسلمانوں کو قتل کیا تھا جو بزمانہ ارتداد ان کے چنگل میں پھنس گئے تھے، چنانچہ جب یہ لوگ ان کے سامنے پیش کیے گئے تو انہوں نے دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے ان کے سرداروں کے سوا باقی سب کو قتل کر دیا، اس کے بعد قرہ بن ہبیرہ، عینیہ بن حصن اور دوسرے سرداروں کو بیڑیاں پہنا کر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کر دیا اور ساتھ ہی حسب ذیل مضمون کا ایک خط بھی ارسال کیا:

"بنو عامر ارتداد کے بعد اسلام لے آئے، لیکن میں نے ان کی جان بخشی اس وقت تک نہ کی جب تک انہوں نے ان لوگوں کو میرے حوالے نہ کر دیا جنہوں نے غریب و بے کس مسلمانوں پر سخت ظلم ڈھائے تھے، میں نے ایسے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ہے، اس خط کے ساتھ قرہ بن ہبیرہ اور اس کے ساتھیوں کو روانہ کر رہا ہوں۔"

 حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی روش پر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خوشنودی:

حضرت خالدؓ نے جن لوگوں کو قتلِ مسلماناں کی پاداش میں تلوار کے گھاٹ اتار دیا تھا، ان کی طرف سے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں قطعاً رحم پیدا نہ ہوا بلکہ انہوں نے ان دشمنان اسلام اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا کا قرار واقعی مستحق سمجھا اور حضرت خالدؓ کو جواب میں لکھا:

"اللہ تمہیں اپنے انعام سے بہرہ ور کرتا رہے، میری یہ نصیحت ہے کہ تم اپنے معاملات میں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور ہمیشہ تقویٰ کی راہ پر چلو، کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے اور اس کے بندوں پر احسان کرتے ہیں، اللہ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر کام کرو اور کبھی سستی نہ برتو، ہر شخص کو جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو، قابو پانے کے بعد قتل کر دو، دوسرے لوگوں کے متعلق بھی جنہوں نے اللہ سے دشمنی اور سرکشی اختیار کر کے اس کے احکام کی خلاف ورزی کی، اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ ان کا قتل کر دینا مناسب ہے تو تمہیں ایسا کرنے کا اختیا رہے۔"

حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ خط حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے مرتدین کو مرعوب کرنے کی پالیسی پر اور زور شور سے عمل شروع کر دیا، چنانچہ ایک مہینے تک وہ بزاخہ کے چشمے پر مقیم رہ کر مرتدین کا قافیہ تنگ کرتے رہے۔
========> جاری ہے ۔۔۔
Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS