Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Showing posts with label namaj. Show all posts
Showing posts with label namaj. Show all posts

Kya Namaj Me Sajda Ke Dauran Apni Juban Me Dua Padh Sakte Hai?

Kya Farz Namaj Me Sajda Ke Dauran Apni Juban me Dua Padh Sakte Hai?

Kya Sajda ya Rukoo Me Qurani Duawayein Nahi Padh Sakte Hai? 
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge. The author’s intention is to educate and inspire through their thoughts and reflections. All rights remain with the original creator.
   Author: الفرقان اسلامک میسج سروس
  Reference: آفیشل ویب سائٹ
Sajde me dua, Namaj Me Dua, Dua ka tarika, Namaj-E-Nabwi, Namaj ki ahamiyat,
Sajda Me Apni Juban Se Dua Mangna.
"سلسلہ سوال و جواب نمبر-389"
سوال : کیا فرض نماز میں سجدہ کے دوران اپنی زبان میں دعا پڑھی جا سکتی ہے؟ اور سنا ہے کہ سجدہ رکوع میں قرآن پڑھنا منع ہے تو کیا سجدہ و رکوع میں قرآنی دعائیں بھی نہیں پڑھ سکتے.؟
*جواب :*
*الحمدللہ..!*
*اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سجدہ کی حالت میں انسان اللہ کے قریب ترین ہوتا ہے اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک موقع بھی ہے یعنی سجدہ ایک ایسی حالت ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول فرماتا ہے،*
 ارشاد نبوی ہے
📚عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال:
أَقْرَبُ ما يَكونُ العَبْدُ مِن رَبِّهِ، وهو ساجِدٌ، فأكْثِرُوا الدُّعاءَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ''بندہ اپنے رب کے قریب ترین اسوقت ہوتا ہے جسوقت وہ سجدے کی حالت میں ہو ، لہذا سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو'' 
(صحیح مسلم، کتاب الصلاة باب ما یقال فی الرکوع و السجود رقم الحدیث :482)
(سنن ابو داؤد -875)

📚ایک دوسری راویت میں ان الفاظ کی زیادتی بھی ہے:
''و اما السجود فاجتھدوا فی الدعاء فقمن ان یستجاب لکم'' 
ترجمہ: ''سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعا کی کوشش کرو عین ممکن ہے کہ تمہاری دعا قبول ہو جائے' (صحیح مسلم -479)

*باقی رہا یہ مسئلہ کہ اپنی زبان میں دعا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تو اس مسئلہ میں اگر نمازی کو عربی میں دعائیں یاد ہیں اور مسنون صحیح دعائیں ہیں تو ان دعاؤں کے پڑھنے کی افضلیت میں سب متفق ہیں لیکن ایک مسلمان جس کو عربی میں کوئی دعا یاد نہیں ایسے شخص کے متعلق علماء کا اختلاف ہے بعض علماء اس کو جائز قرار دیتے ہوئے دلیل یہ دیتے ہیں کہ مذکورہ حدیث مطلق ہے اس میں کوئی قید نہیں کہ عربی میں دعا کرو یا عجمی زبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حد بندی نہیں کی لہذا فرض نماز کے سجدے میں دعا مانگی جاسکتی ہے، چاہے جس زبان میں مانگیں*

*جبکہ دوسری جانب بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ نفل نماز میں جائز ہے فرض میں نہیں کیونکہ یہ ''کلام الناس '' لوگوں کی باتیں ہیں، اور یہ نماز میں جائز نہیں ہیں جیسے کہ مندرجہ ذیل روایت میں ہے*

📚معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باجماعت نماز ادا کررہا تھا کہ ایک شخص نے چھینک لی اور الحمد للہ کہا ، اس پر میں نے جواباً یرحمک اللہ کہہ دیا اس کے رد عمل میں لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھنا شروع کیا ، میں نے(نماز ہی میں لوگوں سے)کہا : کیا بات ہے تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ؟ اب لوگوں نے اپنی رانوں پر مجھے خاموش کروانے کیلئے ہاتھ مارنا شروع کیے میں نے دیکھا کہ لوگ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے نماز مکمل کی(میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں میں نے آپ جیسا استاد اور معلم کہیں نہیں دیکھا اللہ کی قسم نہ آپ نے مجھے مارا اور نہ ہی ڈانٹا اور نہ ہی گالی دی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
''ان ھذہ الصلاة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس انما ھو التسبیح و التکبیر و قراء ة القرآن '' 
یہ نماز ہے اس میں لوگوں سے باتیں کرنا صحیح نہیں ہے یہ نماز تسبیح (سبحان اللہ کہنا ) اور تکبیر (اللہ اکبر کہنا) اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا نام ہے۔
(صحیح مسلم ، کتاب المساجد ، باب تحریم الکلام فی الصلاةو نسخ ماکان من اباحتہ ،
حدیث نمبر -537)
ـــــــــــ&ــــــــــ
العلماء کی فتاویٰ ویبسائٹ پر یہ سوال کیا گیا کہ
📒سوال (3335)
اگر کوئی شخص عربی نہیں جانتا ہے یا اسے صرف فاتحہ ہی آتی ہے تو کیا وہ اپنی زبان میں نماز میں دعائیں مانگ سکتا ہے، اکثر عرب علمائے کرام اس کے جواز کا فتویٰ صادر فرما رہے ہیں۔

جواب از: فضیلۃ العالم ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی حفظہ اللہ 

نہیں!  اپنی زبان میں دعائیں نہیں مانگ سکتا بلکہ وہ قراءت کی جگہ سبحان الله الحمدللہ اللہ اکبر لا الہ الا اللہ پڑھ لے ،
📚سیدنا رفاعہ بن رافع رضى اللہ تعالى عنہ سے مروی مسيئى الصلاۃ يعنى جو شخص صحيح طريقہ سے نماز ادا نہيں كر رہا تھا والى حديث ميں ہےـ بيان كرتے ہيں كہ اسے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

“فإن كان معك قرآن فاقرا وإلا فاحمد الله وكبره وهلله”
” اگر آپ كو كچھ قرآن ياد ہو تو وہ پڑھو، وگرنہ الحمد للہ، اللہ اكبر، اور لا الہ الا اللہ كہو ”
سنن ترمذى حديث نمبر ( 302 )
 امام ترمذى نے اسے حسن كہا ہے، سنن ابو داود حديث نمبر ( 858 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود حديث نمبر (767 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
_______&_________
*لہٰذا صحیح بات یہی لگتی ہے کہ نماز فرض ہو یا نفل، ہے تو نماز ہی، اور نماز میں ہم اپنے رب سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں جسکا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھلایا ہے عربی زبان میں مسنون دعائیں پڑھ کر، اور عام کلام سے منع کیا گیا ہے،لہذا بہتر یہی ہے کے سجدہ و رکوع میں مسنون عربی دعائیں ہی پڑھیں اور عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا نہ کی جائے یہاں تک کہ کوئی صریح نص قرآن و حدیث سے ثابت ہو۔۔ہاں اگر کوئی نیا مسلمان ہوا ہے یا اسکو عربی کی دعائیں یاد نہیں ہو رہی وہ کوشش کرتا رہے ساتھ میں ۔۔ اور جب تک یاد نا ہو جائیں تب تک وہ الحمدللہ ، اللہ اکبر۔۔۔۔ کہہ لے، جیسا کہ اوپر حدیث میں ۔۔۔ہے اور اگر کسی شخص کو یہ الفاظ بھی یاد نا ہوں یا وہ عربی بول نا سکتا ہو تو جب تک وہ سیکھ نہیں لیتا تب تک اپنی مادری زبان میں دعائیں پڑھ لے لیکن یہ اجازت بہت مجبوری میں ہونی چاہیے*
(واللہ اعلم باالصواب )
ـــــــــــــ&ــــــــــــ
*دوسرا حصہ سوال کا تھا کہ سجدہ و رکوع میں قرآنی دعائیں پڑھنا کیسا ہے؟*
تو عرض ہے کہ رکوع اور سجدہ میں قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرنا ممنوع ہے، لیکن اگر اسکی نیت بطورِ دعا  ہے تو سجدہ و رکوع میں قرآنی دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ حدیث کے مطابق، رکوع میں اللہ کی عظمت بیان کرنی چاہیے اور سجدے میں خوب دعا کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت انسان اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے،

جیسا کہ حدیث میں ہے!
📚سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیماری کی حالت میں اپنے دروازے کا) پردہ اٹھایا (اس وقت) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جائے گا۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو، (یہ دعا اس) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے۔“ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے (”مجھے سلیمان نے خبر دی“ کے بجائے) سلیمان سے روایت ہے، کہا۔
(صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث:479) 
( سنن ابو داؤد حدیث نمبر- 876)
(سنن نسائی حدیث نمبر -1046)

📒اس حدیث کی بنا پر ركوع اور سجدہ ميں قرآت كرنے كى كراہت پر علماء كرام كا اتفاق ہے. ديكھيں: المجموع ( 3 / 411 ) 
اور المغنى لابن قدامۃ المقدسى (2 / 181)

📒اس ميں حكمت يہ ہے كہ:
اس ليے كہ نماز كا افضل ترين ركن قيام ہے، اور افضل ترين ذكر قرآن ہے اس ليے افضل كو افضل كے ليے ركھا گيا، اور اس كے علاوہ كسى دوسرے ميں پڑھنے ميں منع كر ديا گيا تا كہ باقى اذكار كے ساتھ اس كى برابرى كا واہمہ نہ ہو. (ماخوذ از: عون المعبود شرع سنن ابو داود

📒اور ايک قول يہ بھى ہے:
اس ليے كہ قرآن مجيد اشرف الكلام ہے، كيونكہ يہ كلام اللہ ہے، اور ركوع و سجود كى حالت بندے كى جانب سے عاجزى و ذل ہے، لہذا ادب يہ ہے كہ ان دونوں حالتوں ميں قرآن مجيد كى تلاوت نہ كى جائے.
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 5 / 338 ).

*سجدہ و رکوع میں قرآنی آیات کو بطور دعا پڑھ سکتے ہیں*
صحیح سند سے یہ بات مسند احمد کے اندر موجود ہے

📚حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ الْعَامِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَرَأَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ، يَرْكَعُ بِهَا وَيَسْجُدُ بِهَا : { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ }. فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا زِلْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ، تَرْكَعُ بِهَا وَتَسْجُدُ بِهَا. قَالَ : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي، فَأَعْطَانِيهَا، وَهِيَ نَائِلَةٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ".
ترجمہ:
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو نماز پڑھی اور صبح تک ایک آئیت تلاوت کرتے رہے اور سجدہ و رکوع میں بھی وہی آئیت (دعا) کے طور پڑھتے رہے ،
(مسند احمد حدیث نمبر-21328)
حكم الحديث: إسناده حسن
لہذا اگر سجدہ و رکوع ميں قرآن كريم ميں وارد شدہ كوئى دعا پڑھى جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے

📚جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:
﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ البقرۃ ( 201 )
اے ہمارے رب ہميں دنيا ميں بھلائى عطا فرما اور آخرت ميں بھى بھلائى عطا فرما، اور ہميں آگ كے عذاب سے محفوظ ركھ.

کیونکہ اس كا مقصد دعا پڑھنا ہے، نہ كہ تلاوت قرآن۔۔۔ تو اس ميں كوئى حرج نہيں،

📚كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى 
(صحيح بخارى حديث نمبر ـ 1 ) 
(صحيح مسلم حديث نمبر - 1907 )

📒 سعودی عرب کی مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے دريافت كيا گيا:
ہميں معلوم ہے كہ سجدہ ميں قرآن مجيد كى قرآت كرنا جائز نہيں، ليكن كچھ آيات دعا پر مشتمل ہيں

مثلا فرمان بارى تعالى ہے:
﴿ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا ﴾
اے ہمارے رب ہميں ہدايت نصيب كرنے كے بعد ہمارے دلوں كو ٹيڑھا نہ كر دينا.

لہذا قرآن مجيد ميں وارد شدہ اس طرح كى دعائيں سجدہ ميں پڑھنے كا حكم كيا ہے ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:
" اگر دعا سمجھ كر پڑھى جائيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، انہيں تلاوت قرآن سمجھ كر نہيں پڑھنا چاہيے" انتہى.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 443 ).

(مآخذ : الاسلام سوال وجواب )
(محدث فورم)
(العلماء ڈاٹ او آر جی)

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!
الفرقان اسلامک میسج سروس
آفیشل واٹس ایپ
+923036501765
آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/
آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

Share:

Kya Eid ki Namaj Aurat Apne Ghar me Sharai Parde ke Sath Padha Sakti Hai? Aurat Ki Imamat Ka Hukm Islam me.

Kya Khawateen Apne Gharo me Eid ki Namaj Ada Kar Sakti hai?

Kya Aurat Eid Ki Namaj Ki Imamat Kar sakti hai Ghar me?

Khawateen Ki imamat, Aurat aur Namaj, Aurat aur Masjid, Aurat Ki imamat, Kya Aurat Namaj padha sakti hai,

      شیخ_ابن_عثیمین سے یہ بھی پوچھا گیا کہ...

"ایک عورت استفسار کرتی ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کیلیے عید کی نماز پڑھنے کا انتظام نہیں ہے، تو میں اپنے گھر میں خواتین کو جمع کر کے عید کی نماز پڑھاتی ہوں، تو اس کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ میرے گھر میں پردے  کا معقول انتظام ہے اور مردوں سے دور بھی ہے"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اس کا حکم یہ ہے کہ بدعت ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں کے ساتھ با جماعت ہوتی ہے، اور خواتین کو عید گاہ جانے کا حکم دیا گیا ہے اس لیے خواتین مردوں کے ساتھ باجماعت عید کی نماز ادا کریں گی، تاہم عید نماز کیلیے مردوں سے پیچھے الگ سے با پردہ جگہ پر نماز ادا  کریں گی۔

جبکہ گھر میں عید نماز ادا کرنا بہت بڑی غلطی ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ سلم  یا صحابہ کرام کے زمانے میں ایسا کہیں نہیں پایا گیا کہ کسی گھر میں خواتین عید کی نماز ادا کریں" انتہی
"فتاوى نور على الدرب" (189 /8)

Share:

Sajda Shukr ke Sharait: Sajda-E-Shukr Kab Kiya Jata hai? Murade Puri Hone ke bad Ki Namaj.

Sajda Shukr kab karna chahiye aur kaise?

Sajda Shukr Kya Hai? Ek Roohani Tarkib.
Islam Mein Shukr Guzari Ka Maqam.
Sajda Shukr Karne Ka Sunnat Tareeqa.
Kab Aur Kaise Kiya Jata Hai Sajda Shukr?
Quran Aur Hadees Mein Sajda Shukr Ka Zikr.
Murade Puri Hone Par Sajda: Ek Amal-e-Shukr.

Sajda Shukr ka tareeqa, Sajda Shukr in Islam, Sajda Shukr ka sunnat tareeqa, Sajda Shukr aur roohani barkat, #SajdaShukr, #ShukrKaSajda, #RoohaniBarkat, #IslamicReminder, #IslamicArticle, #NamazAurShukr, #SpiritualPractice, #SunnatAmal, #IslamicPractice #Namaj

Sajda Shukr ki ahmiyat, Sajda Shukr in Islam, Sajda Shukr ka waqt

السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ۔۔۔۔۔

سجدہ شکر کی شرائط :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

️: مسز انصاری

انسان کی زندگی کی وہ نئی وقوع پزیر نعمتیں جن کے ملنے یا نہ ملنے دونوں کا احتمال ہو ، یا وہ مصیبتیں جو زائل ہوجائیں یعنی کوئی مصیبت اس سے ٹل جائے، تو بندہ اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوکر شکر بجا لاتا ہے، یہ سجدہ شکر کہلاتا ہے ۔ سجدہ شکر ، بندے کا اپنے معزز ترین رب کے سامنے اپنے جسم کے معزز ترین حصے کو قلب و زبان کی حمد و ثناء کے ساتھ زمین پر رکھ دینا سب سے معزز ترین عبادت ہے ۔ اس عبادت کے لیے کیا کچھ اختیار کیا جائے اور کیا کچھ صرفِ نظر کیا جائے درج ذیل میں ملاحظہ فرمائیے

✦ سجدہ شکر کے لیے طہارت شرط نہیں، کیونکہ سجدہ شکر نماز نہیں ہے جبکہ طہارت نماز کی شرط ہے خارج نماز کے لیے طہارت کے لیے شرعئی نص ضروری ہے ،
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  بیت الخلاء سے باہر آئے ، تو کھانا لایا گیا، کچھ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو وضو کی یاد دہانی کروائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (میں نے کوئی نماز پڑھنی ہے کہ میں وضو کروں؟!) مسلم: (374)

چونکہ اچانک ملنے والی خوشخبری میں جو سجدہ شکر کا سبب بنتی ہے انسان موقعہ محل کی مجبوری کے باعث طہارت حاصل نہیں کرسکتا ، سجدہ شکر انسان کی ایک بے اختیاری اور تشکر و امتنان سے لبریز عبادت ہے جو اگر وقت سے مئوخر کر دی جائے تو  سجدہ شکر کی حقیقی روح زائل ہو جانے کا احتمال ہے ۔

✦ سجدہ شکر کے لیے مسجد، ستر پوشی ، جائے نماز، عورت کا حجاب یا قبلہ رخ ہونا شرط نہیں ہے

✦ سجدہ شکر بلا کسی اول و آخر تکبیر کے اور بلا کسی تشہد و سلام کے کیا جاتا ہے ، کیونکہ تکبیرات، تشہد و سلام نماز کے لیے ہے جبکہ سجدہ شکر نماز نہیں ہے ۔

✦ سجدہ شکر میں مخصؤص اذکار وادعیہ کی تخصیص نہیں ہے بلکہ حالتِ سجدہ شکر میں انسان بہ کثرت اللہ کا شکر ادا کرے، چونکہ یہ شکرانے کا سجدہ ہے اس لیے انسان کو اپنے معاملہ سے متعلق حمد و شکر اور اللہ کی رضا کے حصول کے لیے توبہ و استغفار کرنا چاہیے ۔

✦ سجدہ شکر بلا قبلہ رخ کی تخصیص کے سواری پر بھی کیا جاسکتا ہے ۔

✦ اگر بروقت سجدہ شکر نا کر پایا تو بعد میں قضا کے طور پر ادا کرسکتا ہے ۔

✦- اگر انسان حالتِ نماز میں ہو اور اسے کوئی خوشخبری ملے تو وہ حالتِ نماز میں سجدہ شکر نہیں کرے گا، اگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی، بالکل اسی طرح جیسے دو سے زائد سجود سے نماز باطل ہوجائے گی ۔ شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ:
"جس شخص نے نماز میں سجدہ شکر کا حکم جانتے ہوئے  بھی عمداً سجدہ  شکر کیا تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی[ دیکھیے الشرح الممتع على زاد المستقنع " ( 4 / 107 ، 108 ) ]

واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔۔

Share:

Namaj me Sahadat ki ungali Uthana kaisa hai? Rafa Sababa kya hai? Namaj Ki Sunnat Tarika.

Namaj Me Shahadat ki ungali khada karna kaisa hai?

How to Perform Namaz Correctly: A Step-by-Step Guide According to Sunnah.
Rafah Sababa Kya hai Namaj me?
Preparing for Namaz: Wudu and Cleanliness
How to Make Niyyah (Intention) Before Prayer
The Proper Way to Begin Namaz: Takbeer and Qiyam
Ruku, Sujood, and Tashahhud Explained
Differences in Prayer Method for Men and Women
Common Mistakes to Avoid During Namaz
Important Duas and Surahs Recited in Namaz.
#वजू कैसे करें, #नमाज की नियत, #नमाज की दुआ, #नमाज की रकात, #इस्लामी नमाज तरीका, #नमाज की अहमियत.

How to perform Namaz, Namaz steps in English, Islamic prayer guide, Sunnah way of praying.

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته 

📚 مسئلہ رفاع سبابہ :

نماز کے دیگر بہت سے مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی مختلف مکاتب ِفکر مختلف خیالات کے حامل ہیں۔البتہ اہل حدیث کے نزدیک رفع سبابہ مستحب اور سنت ہے۔ ہمارے دلائل ملاحظہ فرمائیں :

👈 1 نافع مولیٰ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے :

کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاۃِ؛ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ، وَأَشَارَ 
بِإِصْبَعِہٖ، وَأَتْبَعَہَا بَصَرَہٗ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :
 ’لَہِيَ أَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنَ الْحَدِیدِ‘، یَعْنِي السَّبَّابَۃَ ۔
’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب دورانِ نماز (تشہد میں)بیٹھتے،تو ہاتھ 
گھٹنوں پررکھتے اوراپنی (شہادت والی)انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔اپنی نظر بھی 
اسی انگلی پر رکھتے۔پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 
تھا : یہ شہادت والی انگلی شیطان پر لوہے سے بھی سخت پڑتی ہے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 119/2، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کا راوی کثیر بن زید اسلمی جمہور ائمہ حدیث کے نزدیک ’’موثق، حسن الحدیث‘‘ ہے۔

👈 2 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی بیان کرتے ہیں :

إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاۃِ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی 
رُکْبَتَیْہِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَہُ الْیُمْنَی الَّتِي تَلِي الْإِبْہَامَ، فَدَعَا بِہَا ۔۔۔ ۔

’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں(تشہد کے لیے)بیٹھتے،تواپنے دونوں 
ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور اپنے دائیں ہاتھ کی انگوٹھے سے متصل 
انگلی کو اٹھا لیتے اور اس کے ساتھ دُعا کرتے۔ ‘‘
(صحیح مسلم : 580)

📚 تشہد میں دائیں ہاتہ کی کیفیات :

ہم پڑھ چکے ہیں کہ احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہادت والی انگلی کو اٹھانے اور اس کے ساتھ اشارہ یا دُعا کرنے کا ذکر ہے۔یہ اشارہ کیسے ہوتا تھا؟ اس کے بارے میں بھی ہم احادیث ِنبویہ ہی سے رہنمائی لیتے ہیں۔مذکورہ اور آئندہ تمام احادیث چونکہ رفع سبّابہ کے بارے میں ہیں،اس لیے ہم انہیں ایک ہی ترتیب میں ذکر کریں گے،البتہ عنوانات بدلتے رہیں گے:

👈 3 سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ یَدْعُو، وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی 
عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہِ 
السَّبَّابَۃِ، وَوَضَعَ إِبْہَامَہٗ عَلٰی إِصْبَعِہِ الْوُسْطٰی ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے، تو اپنے دائیں ہاتھ
 کو دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر۔انگشت ِشہادت سے
 اشارہ فرماتے اور اس دوران اپنے انگوٹھے کو درمیان والی انگلی پر رکھتے۔‘‘
(صحیح مسلم : 13/579)

👈 4 سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :

إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا قَعَدَ فِي التَّشَہُّدِ وَضَعَ یَدَہُ 
الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی، وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی، 
وَعَقَدَ ثَلَاثَۃً وَّخَمْسِینَ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے، تو اپنا دایاں ہاتھ 
دائیں گھٹنے پر رکھتے، جبکہ بائیاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر۔نیز 53کی گرہ بناتے 
اور سبّابہ کے ساتھ اشارہ فرماتے۔‘‘
(صحیح مسلم : 115/580)

عرب لوگ انگلیوں کے ساتھ ایک خاص طریقے سے گنتی کرتے تھے۔اس طریقے میں 53 کے ہندسے پر ہاتھ کی ایک خاص شکل بنتی تھی، جس میں انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے علاوہ باقی تینوں انگلیوں کو بند کرتے ہیں اور شہادت کی انگلی کو کھول کر انگوٹھے کے سرے کو اس کی جڑ میں لگاتے ہیں۔

👈 5 سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

رَأَیْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ حَلَّقَ بِالْإِبْہَامِ وَالْوُسْطٰی، 
وَرَفَعَ الَّتِي تَلِیہِمَا، یَدْعُو بِہَا فِي التَّشَہُّدِ ۔
’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تشہد میں انگوٹھے 
اور درمیان والی انگلی کو ملا کر دائرہ بنایا ہوا تھا اور انگوٹھے کے ساتھ والی 
انگلی مبارک کو اٹھا کر اس کے ساتھ دُعا فرما رہے تھے۔‘‘
(سنن أبي داوٗد : 957، سنن النسائي : 1266، سنن ابن ماجہ : 912، واللفظ لہٗ، وسندہٗ صحیحٌ)

معلوم ہوا کہ تشہد میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی کئی کیفیات رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ یہ تمام صورتیں جائز ہیں،ان میں سے کوئی بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔البتہ ان سب احادیث میں شہادت والی انگلی کے ساتھ اشارے کا ذکر یکساں موجود ہے۔ہم اس کی مزید تفصیل بھی احادیث ہی کی رُو سے ذکر کیے دیتے ہیں:

📚 کیفیت ِ اشارہ :

قارئین کرام احادیث ملاحظہ فرما لیں، ان کی روشنی میں اشارے کی کیفیت اور اس کے تمام مسائل نمبروار درج کر دئیے جائیں گے :

👈 6 سیدنا عباس بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

اِجْتَمَعَ أَبُو حُمَیْدٍ، وَأَبُو أُسَیْدٍ، وَسَہْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، فَذَکَرُوا صَلاَۃَ 
رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَیْدٍ : أَنَا أَعْلَمُکُمْ بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ 
صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلَسَ، یَعْنِي لِلتَّشَہُّدِ، 
فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْیُمْنٰی عَلٰی قِبْلَتِہٖ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی 
رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی، وَکَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِہٖ، یَعْنِي السَّبَّابَۃَ ۔
’’سیدنا ابو حُمَیْد،ابو اُسَیْد،سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہy ایک جگہ جمع ہوئے۔ 
انہوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کےبارے میں بات چیت کی۔سیدنا
ابو حمیدرضی اللہ عنہ کہنے لگے :میں تم سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ 
وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کے لیے 
بیٹھتے،تو اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کے سامنے والے حصے کو 
قبلے کے رُخ کھڑا کرتے۔نیز اپنی دائیں ہتھیلی کو دائیں گھٹنے پر رکھتے ،جبکہ 
بائیں ہتھیلی کو بائیں گھٹنے پراور اپنی سبّابہ انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے۔‘‘
(سنن الترمذي : 293، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ترمذیaنے ’’حسن صحیح‘‘قرار دیا ہے۔

👈 7 سیدنا نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی 
فَخِذِہِ الْیُمْنٰی فِي الصَّلَاۃِ، یُشِیرُ بِأُصْبُعِہٖ ۔
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ صلی اللہ علیہ 
وسلم نماز میں(تشہد کے دوران) اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھے 
ہوئے اپنی (شہادت والی)انگلی کے ساتھ اشارہ فرما رہے تھے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 471/3، سنن ابن ماجہ : 911، سنن النسائي : 1272، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کا راوی مالک بن نمیر خزاعی ’’حسن الحدیث‘‘ہے۔امام ابن حبانa نے اسے(الثقات : 386/5)میں ذکر کیا ہے اور امام ابن خزیمہa(715)نے اس کی بیان کردہ حدیث کی ’’تصحیح‘‘کر کے اس کی توثیق کی ہے۔

👈 8 علی بن عبد الرحمن معاویaبیان کرتے ہیں :

رَآنِي عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ـــــ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصٰی فِي الصَّلَاۃِ ـــــ فَلَمَّا انْصَرَفَ؛ نَہَانِي، فَقَالَ : اصْنَعْ 
کَمَا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ، فَقُلْتُ:وَکَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ 
وَسَلَّمَ یَصْنَعُ ؟ قَالَ : کَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاۃِ وَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی، وَقَبَضَ 
أَصَابِعَہٗ کُلَّہَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہِ الَّتِي تَلِي الْإِبْہَامَ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی ۔
’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے نمازمیں کنکریوں سے کھیلتے 
ہوئے دیکھا۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا،تو انہوں نے مجھے اس کام سے منع کیا 
اور فرمایا : اسی طرح کرو،جس طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے 
تھے۔میں نے عرض کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کیا کرتے تھے؟ 
انہوں نےبتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں(تشہد کیلیے)بیٹھتے،
تو اپنی دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیوں کو بند کر کے انگشت
 ِشہادت کے ساتھ اشارہ فرماتے۔نیز اپنی بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے۔‘‘
(صحیح مسلم : 116/580)

👈 9 سیدنا نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ــــ وَہُوَ قَاعِدٌ فِي الصَّلَاۃِ ـــــ قَدْ وَضَعَ ذِرَاعَہُ 
الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی، رَافِعًا بِأُصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ، قَدْ حَنَاہَا شَیْئًا ـــــ وَہُوَ یَدْعُو ـــــ ۔
’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں (تشہد کے لیے)بیٹھے ہوئے دیکھا۔
آپ نے اپنا دائیاں ہاتھ دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور سبّابہ انگلی کو کچھ خم دے کر 
اٹھایا ہوا تھا۔یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دُعا کر رہے تھے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 471/3، سنن أبي داوٗد : 991، سنن النسائي : 1272، وسندہٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (716)اور امام ابن حبان(1946)H نے ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔

👈 10 سیدنا عبد اللہ بن زُبَیر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے :

کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي التَّشَہُّدِ، وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ 
الْیُمْنٰی، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ، وَلَمْ یُجَاوِزْ بَصَرُہٗ إِشَارَتَہٗ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے، تو اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں 
ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھتے۔سبّابہ انگلی کے ساتھ اشارہ فرماتے 
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اس اشارے سے آگے نہ جاتی تھی۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 3/4، سنن أبي داوٗد : 990، سنن النسائي : 1276، وسندہٗ حسنٌ)
محمد بن عجلان اگرچہ ’’مدلس‘‘ہیں،لیکن مسند احمد میں انہوں نے اپنے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔نیز اس حدیث کی اصل صحیح مسلم (579)میں بھی موجود ہے۔
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ(718)،امام ابو عوانہ(2018) اور امام ابن حبان(1944) S نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔
! سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں اپنا مشاہدہ یوں بیان کرتے ہیں :
* ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی، فَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ وَرُکْبَتِہِ 
الْیُسْرٰی،وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الْـأَیْمَنِ عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی، ثُمَّ قَبَضَ بَیْنَ أَصَابِعِہٖ
أَصَابِعِہٖ، فَحَلَّقَ حَلْقَۃً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہٗ، فَرَأَیْتُہٗ یُحَرِّکُہَا، یَدْعُو بِہَا ۔
’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیا،نیز اپنی 
بائیں ہتھیلی کو بائیں ران اوربائیں گھٹنے پراور اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو 
اپنی دائیں ران پر رکھا ۔ پھر اپنی انگلیوں کو بند کر کے دائرہ بنایا،پھر اپنی 
(شہادت والی) انگلی کو اٹھا لیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
 اسے حرکت دے کر اس کے ساتھ دُعا کر رہے تھے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 318/4، سنن النسائي : 890، 1269، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کو امام ابن جارود(208)، امام ابن خزیمہ (714)اور امام ابن حبان(1860) Sنے ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔
علامہ شمس الحق،عظیم آبادیaاس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
وَفِیہِ تَحْرِیکُہَا أَیْضًا ۔
’’اس حدیث سے شہادت کی انگلی کو حرکت دینا بھی ثابت ہوتا ہے۔‘‘
(عون المعبود شرح سنن أبي داوٗد : 374/1)

👈 @ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :

کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلَاۃِ؛ جَعَلَ قَدَمَہُ الْیُسْرٰی 
بَیْنَ فَخِذِہٖ وَسَاقِہٖ، وَفَرَشَ قَدَمَہُ الْیُمْنٰی، وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی، 
وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہٖ ۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں (تشہد کے لیے)بیٹھتے،تو اپنے بائیں 
پاؤں کو (دائیں)ران اور پنڈلی کے درمیان میں رکھا،جبکہ بائیں پاؤں کو بچھا لیا۔ 
بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا اور اپنی 
(شہادت والی)انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔‘‘
(صحیح مسلم : 112/579)

👈 # سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہٗ، فَرَأَیْتُہٗ یُحَرِّکُہَا، یَدْعُو بِہَا ۔
’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (شہادت والی)انگلی کو اٹھایا۔میں نے دیکھا 
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور اسکے ساتھ دُعا کر رہے تھے۔‘‘
(مسند الإمام أحمد : 318/4، سنن النسائي : 890، 1269، وسندہٗ صحیحٌ)
اس حدیث کو امام ابن جارود(208) ،امام ابن خزیمہ(714) اور امام ابن حبان(860) Sنے ’’صحیح‘‘قرار دیا ہے۔

👈 $ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے :

إِنَّہٗ کَانَ یَضَعُ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ 
الْیُسْرٰی، وَیُشِیرُ بِإِصْبَعِہٖ، وَلَا یُحَرِّکُہَا، وَیَقُولُ : إِنَّہَا مِذَبَّۃُ الشَّیْطَانِ، 
وَیَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُہٗ ۔
’’وہ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں گھٹنے پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھتے 
اور اپنی (شہادت والی)انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے،لیکن حرکت نہیں دیتے تھے، 
نیز بیان کرتے تھے کہ یہ شیطان کو بھگاتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ 
وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔‘‘
(الثقات لابن حبّان : 448/7، العلل للدارقطني : 2899، وسندہٗ حسنٌ)

👈 % نافع تابعیaبیان کرتے ہیں :

کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلّٰی؛ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ، وَقَالَ بِإِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ، یَمُدُّہَا یُشِیرُ بِہَا، 
وَلَا یُحَرِّکُہَا، وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’ھِيَ مُذْعِرَۃُ الشَّیْطَانِ‘ ۔
’’سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز پڑھتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور اپنی سبّابہ انگلی کو کھڑا کر کے اس کے ساتھ اشارہ کرتے، لیکن اسے حرکت نہیں دیتے تھے،نیز فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ انگلی شیطان کو خوفزدہ کرتی ہے۔‘‘
(ذیل تاریخ بغداد لابن النجّار : 220/19، وسندہٗ حسنٌ)
مذکورہ احادیث سے اشارے کی کیفیت یوں ثابت ہوتی ہے:

🔘1 اشارے کے لیے تشہد کا کوئی حصہ خاص نہیں،بلکہ تشہد میں بیٹھتے ہی اشارہ شروع کر دینا چاہیے،جیسا کہ مذکورہ تمام احادیث سے عموماً اور اکثر احادیث سے خصوصاً ثابت ہو رہا ہے،جن میں تشہد میں بیٹھتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ کرنا مذکور ہے۔ لہٰذا ’لَا إِلٰہَ‘ پر انگلی اٹھانا اور ’إِلَّا اللّٰہُ‘ پر گِرا دینا بے بنیاد اور بے دلیل ہے۔

🔘 2 اشارہ کرتے ہوئے انگلی کو تھوڑا سا خم دینا چاہیے،جیسا کہ حدیث نمبر9 سے معلوم ہو رہا ہے۔

🔘3 تشہد میں نظر شہادت والی انگلی کے اشارے ہی پر ہونی چاہیے، جیسا کہ حدیث نمبر0 میں صراحت ہے۔

📚 تحریک ِ سبّابہ :

👈 4 تشہد میں شہادت والی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے وقت اسے حرکت دینی چاہیے یا نہیں؟یہ کافی اہم مسئلہ ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق حرکت دینا بھی درست ہے، جیسا کہ حدیث نمبر! اور # سے ثابت ہے اور اگر حرکت نہ دی جائے،تو بھی جائز ہے، جیسا کہ حدیث نمبر $ اور % میں مذکور ہے۔یعنی یہ دونوں طریقے سنت سے ثابت ہیں، ان میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
امام اندلس،حافظ ابن عبد البرa(463-368ھ) فرماتے ہیں :
إِنَّہُمُ اخْتَلَفُوا فِي تَحْرِیکِ أُصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ؛ فَمِنْہُمْ مَّنْ رَّآی تَحْرِیکَہَا، وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ یَرَہٗ، وَکُلُّ ذٰلِکَ مَرْوِيٌّ فِي الْآثَارِ الصِّحَاحِ الْمُسْنَدَۃِ عَنِ النَّبِيِّ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَجَمِیعُہٗ مُبَاحٌ ۔
’’اہل علم کا سبّابہ انگلی کو حرکت دینے کے بارے میں اختلاف ہوا ہے ۔بعض کا خیال ہے کہ اسے حرکت دینی چاہیے اور بعض اسے حرکت دینے کے قائل نہیں۔ لیکن یہ دونوں طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح اور متصل اسانید کے ساتھ ثابت ہیں،لہٰذا یہ دونوں طریقے جائز ہیں۔‘‘
(الاستذکار : 478/1، تفسیر القرطبي : 361/1)
یہی موقف علامہ صنعانیaکا ہے۔
(سبل السلام شرح بلوغ المرام : 188-187/1)
شارحِ جامع ترمذی،محدث مبارکپوریaفرماتے ہیں :
وَالْحَقُّ مَا قَالَ الرَّافِعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلُ الْـأَمِیرُ ۔
’’حق بات وہی ہے جو رافعی اور محمد بن اسماعیل امیر(صنعانی)Hنے فرمائی ہے۔‘‘
(تحفۃ الأحوذي : 241/1، ط الہندیّۃ)
مولاناغلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

انگلی کو تشہد سے سلام تک ہلانا :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت وائل کی حدیث کے مطابق التحیات شروع کرتے وقت انگلی کو حرکت دینا اور سلام پھرنے تک انگلی کو ہلاتے رہنا ہی صحیح سنت ہے۔‘‘
صرف وائل ہی کی حدیث سےنہیں بلکہ اشارے کے اثبات میں جتنی احادیث آتی ہیں سب سے یہی ثابت ہوتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
شیخ الکل السید نذیر حسین المحدث الدہلوی تصریح فرماتے ہیں:
إن المصلی یستمر إلی الرفع إلی آخر الدعاء بعد التشہد وقد نقل صاحب غایة المقصود فتواہ بتمامه۔ (عون المعبود: ج۱ص۳۸۷)
’’نمازی کو التحیات کے آغاز سے لے کر تشہد کے بعد کی آخری دعا پڑھنے تک اشارہ کرتے رہنا چاہیے۔‘‘
حضرت شیخ الکل کا مفصل فتویٰ حسب ذیل ہے:
واضح ہو کہ اٹھانا سبابہ کا آخر تشہد تک کتب احادیث سے ثابت ہے، جیسا کہ محلی شرح مؤطا میں مرقوم ہے:
ونقل عن بعض أئمه الشافعیه والمالکیه انه یریم رفعا الی اخر التشھد واستدل له بما فی أبی داؤد رفع إصبعه فرأیناہ یحرکھا ویدعو وفیه تحریکھا دائما اذا الدعاء بعد التشھد قال ابن حجر (الھیثمی) ویسن أن یستمر الرفع إِلَى آخِرِ التَّشَهُّدِ كَمَا قَالَهُ بَعْضُ أَئِمَّتِنَا، وَإِنِ اعْتَرَضَهُ جَمْعٌ بِأَنَّ الْأَوْلَى عِنْدَ الْفَرَاغِ إِعَادَتُهَا وقال ابن حجر الھیثمی ایضا انه لیسن رفعھا مع انحنائھا قلیلا مخبر صحیح فیه إلی جھة القبلة۔ (کذا فی المحلی شرح مؤطا لمولانا سلام اللہ الحنفی، فتاوی نذیریہ: ج۱ص۵۰۲،۵۰۳)
شافعی اور مالکی بعض ائمہ سے منقول ہے کہ تشہد کے آخر تک پھر انگلی اٹھائے رکھے۔ اور ابوداؤد کے حدیث سے استدلال کیا ہے ک رسول اللہﷺ نے انگلی کو اٹھایا تو پھرا س کو حرکت دیتے رہے اور دعا کرتے رہے۔ ابن حجر مکی کہتے ہیں کہ مسنون ہے کہ تشہد کے آخر تک انگلی کو اٹھائے رکھے، جیسا کہ ہمارے بعض ائمہ سے منقول ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اٹھانے کےت بعد پھر اس کو نیچا کرے۔ ابن حجریہ بھی کہتے ہیں انگلی اٹھائے تو کچھ جھکا کر (منحنی) قبلہ رخ رکھے۔ نیز یہ فتویٰ التعلیقات السلفیہ میں بھی موجود ہے۔

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
 وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ 
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وٙالسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

Share:

Eid Ul Fitr ke Ahkaam o Masail? Eid ki Namaj kaise Ada Kare?

Eid Ul fitr Ke Mukhtasar Ahkaam o Masail?

Eid ki namaj padhne ka Sunnat tarika?
Eid ul fitr aur Eid ul Azaha Ki namaj kaise padhe?

 عید الفطر کے مختصر احکام ومسائل:


١- عید کی نماز سے قبل فطرہ ادا کرنا۔  (الأعلى ١٤-١٥ وبخاری ١٥٠٣ ومسلم ٩٨٤ وابن ماجه ١٨٢٧)

٢- عید کا چاند دیکھنے کے بعد سے نماز عید تک تکبیرات کا اہتمام کرنا۔ (بقرہ ١٨٥ وبخاری ٩٧١ ومسلم ٨٩٠)

٣- مرد بلند آواز سے اور خواتین آہستہ تکبیر کہیں۔ (بخاری ٩٧١ ومسلم ٨٩٠)

٤- اچھے لباس پہننا۔ (بخاری ٩٤٨ ومسلم ٢٠٦٨)

٥- غسل کرنا۔ (موطا عن ابن عمر، اثر نمبر ٢٢٥)

٦- خوشی کا اظہار کرنا۔ (بخاری ٩٤٩ ومسلم ٨٩٢)

٧- طاق کھجور کھا کر عیدگاہ جانا۔ (بخاری ٩٥٣)

٨- عید کی نماز مصلی (عید گاہ) میں ادا کرنا۔ (بخاری ٩٥٦ ومسلم ٨٨٩)

٩- عید کی نماز بغیر اذان واقامت کے ادا کرنا۔ (بخاری ٩٥٩ و ٩٦٠ ومسلم ٨٨٦ و ٨٨٧)

١٠- عید کی نماز میں امام کا سترہ کا اہتمام کرنا۔ (بخاری ٩٧٢و ٩٧٣ ومسلم ٥٠١)

١١- عید کی نماز دورکعت ہے، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز نہیں ہے۔ (بخاری ٩٦٤ و ٩٨٩ ومسلم ٨٨٦)

١٢- عید کی نماز میں سورت ق اور سورت قمر کی تلاوت کرنا۔ (مسلم ٨٩١)
یا سورت اعلی اور سورت غاشیہ کی تلاوت کرنا۔ (مسلم ٨٧٨)

١٣- عید کی نماز میں بارہ زائد تکبیریں ہیں: پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات زائد تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ زائد تکبیریں ہیں۔ (ابوداؤد ١١٤٩)

١٤- عید کی نماز خطبہ سے پہلے ادا کرنا۔ (بخاری ٩٥٦و ٩٦٢و ٩٦٣ ومسلم ٨٨٨ و ٨٨٩)

١٥- خطبہ عید کے وقت لوگوں کا اپنی صفوں میں بیٹھے رہنا۔ (بخاری ٩٥٦ ومسلم ٨٨٩)

١٦- خطبہ عید سننا واجب نہیں ہے۔ (نسائی ١٥٧١ وابوداود ١١٥٥ وابن ماجة ١٢٩٠)

١٧- خطبہ عید میں پند وموعظت اور تذکیر کا اسلوب اختیار کرنا۔ (بخاری ٩٥٦ ومسلم ٨٨٤ و ٨٨٩)

١٨- خطبہ عید بغیر منبر کے دینا۔ (بخاری ٩٥٦ ومسلم ٨٨٩)

١٩- خواتین اسلام اور معذور عورتوں کا بھی عید گاہ جانا۔ (بخاری ٣٢٤ و ٩٧١ ومسلم ٨٩٠)

٢٠- جس خاتون کے پاس جلباب (نقاب وبرقع) نہ ہو وہ اپنی سہیلی کے جلباب میں جائے یا اس سے عاریتا لے لے۔ (بخاری ٩٨٠ ومسلم ٨٩٠)

٢١- امام کا عورتوں کو خصوصی نصیحت کرنا۔ (بخاری ٩٧٨ ومسلم ٨٨٤ و ٨٨٥)

٢٢- بچوں کو نماز عید کے لیے عیدگاہ لے جانا۔ (بخاری ٩٧٥ ومسلم ٨٨٤)

٢٣- عیدگاہ آتے جاتے وقت راستہ تبدیل کرنا۔ (بخاری ٩٨٦)

٢٤- عیدگاہ پیدل جانا۔ (ترمذی ٥٣٠ وابن ماجہ ١٢٩٥)

٢٥- عید کی مبارکبادی دینا۔ مثلا "تقبل الله منا ومنكم صالح اعمالنا" یا اس جیسے کلمات کہنا۔ (مجموع الفتاوى ٢٤ / ٢٥٣)

منقول۔

Share:

Kya Namaj me Imam ya Muktadi Quran dekh kar ya Mobile Dekh kar Qiraat kar sakte hai ya Sun sakte hai?

Kya Namaj ke Dauran Imam ya Muktadi Quran dekh kar Qiraat kar sakte ya Sun sakte hai?
Kya Namaj ke Dauran Imam Quran dekh kar ya Mobile dekh kar Qiraat kar sakte hai?
Kya Muktadi Namaj ke Dauran Quran Dekh kar ya Mobile Dekh kar Quran Sun sakte hai?
Sawal: Dauran-E-Namaj Imam ke liye Quran se dekh kar Qiraat karna ya Muktadi ke liye Quran se dekh kar Qiraat Sunane ke bare me Sharai hukm kya hai? Kya Dauran e Namaj Musahif ya Mobile wagairah hath me pakad kar Qiraat karne ya Sunane se Namaj Baatil ho jati hai? Namaj me Quran se dekh kar Qiraat karna afjal hai ya Jubani?

“سلسلہ سوال و جواب -334”
سوال- دوران نماز امام کیلئے قرآن سے دیکھ کر قرآت کرنا یا مقتدی کیلئے قرآن سے دیکھ کر قرآت سننے کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟کیا دوران نماز مصحف یا موبائل وغیرہ ہاتھ میں پکڑ کر قرآت کرنے یا سننے سے نماز باطل ہو جاتی ہے؟ نیز نماز میں قرآن سے دیکھ کر قراءت کرنا افضل ہے یا زبانی؟

Published Date: 02-05-2020

جواب:
الحمدللہ:

*اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے ،کچھ علماء ضرورت کے تحت نماز میں قرآن سے دیکھ کر قرآت کرنے اور سننے کی اجازت دیتے ہیں اور کچھ علماء اس سے منع کرتے ہیں اور بعض علماء کے ہاں تو نماز میں قرآن سے دیکھنے پر نماز باطل ہو جاتی ہے،*

*یہاں ہم قرآن و سنت اور سلف کی روشنی میں اس مسئلہ کی مکمل وضاحت کریں گے اور طرفین کے دلائل کا جائزہ بھی لیں گے ان شاءاللہ*

*اگرچہ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے مگر ہمارے علم کے مطابق صحیح بات یہی ہے کہ جب آدمی حافظ قرآن نہ ہو تو بوقت ضرورت نفل نماز میں قرآن کریم یا موبائل وغیرہ ہاتھ میں پکڑ کر قرأت کر سکتا ہے، صحابہ کرام ،تابعین کرام ،ائمہ کرام اور محدثین کرام اس عمل کو جائز سمجھتے تھے،اسی طرح اگر مقتدیوں میں سے امام کا سامع حافظ نہ ہو تو وہ بھی قرآن سے دیکھ کر امام کی قرآت سن سکتا ہے*

دلائل ملاحظہ فرمائیں!

📚 سیدہ عائشہؓ کے بارے میں روایت ہے:
کانت عائشۃ یؤمّھا عندھا ذکوان من المصحف۔
‘‘ سیدہ عائشہؓ کے غلام ذکوانؓ ان کی امامت قرآن مجید سے دیکھ کر کرتے تھے۔’’

(صحیح البخاری، کتاب الاذان/ بَابُ إِمَامَةِ الْعَبْدِ وَالْمَوْلَى، قبل الحدیث -692)
باب: غلام کی اور آزاد کئے ہوئے غلام کی امامت کا بیان)
( مصنف ابن ابی شیبۃ:337،338ص/2ج )
(کتاب المصاحف لابن داوٗد: 797)
(السنن الکبرٰی للبیھقی: 253/2، وسندہٗ صحیحٌ)

📒حافظ نوویؒ (خلاصۃ الاحکام: ۵۵۰/۱) نے اس کی سند کو ‘‘ صحیح’’ اور حافظ ابن حجرؒ (تغلیق التعلیق: 291/2) نے اس روایت کو ‘‘صحیح’’ قرار دیا ہے۔

📒حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’ إِستَدَلَّ بِهٖ عَلٰی جَوَازِ قِرَائَةِ المُصَلِّی مِنَ المُصحَفِ ‘
اس روایت سے استدلال کیا گیا ہے، کہ نمازی مصحف سے دیکھ کر قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے،
(فتح الباری:2 /185)

📒 امام ثابت البنانیؒ بیان کرتے ہیں:
کان أنس یصلّی، وغلامہ یمسک المصحف خلفہ، فإذا تعایا فی آیۃ فتح علیہ۔
‘‘ سیدنا انس بن مالکؓ نماز پڑھتے تھے۔ ان کا غلام ان کے پیچھے قرآن مجید پکڑ کر کھڑا ہو جاتا تھا۔ جب آپ کسی آیت پر رک جاتے تو وہ لقمہ دے دیتا تھا۔’’
(مصنف ابی ابن شیبۃ: 338ص/ج2)
( السنن الکبری للبیھقی: 212/3، وسندہٗ صحیحٌ)

📒 امام ایوب سختیانیؓ فرماتے ہیں:
کان محمّد لا یری بأسا أن یؤمّ الرجل القوم، یقرأفی فی المصٖف۔
‘‘ امام محمد بن سرین تابعیؒ اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے کہ آدمی قوم کو امامت کروائے اور قرأت قرآن مجید سے دیکھ کر کرے۔’’
(مصنف ابن ابی شیبۃ: 338/2، وسندہٗ صحیحٌ)

📒 امام شعبہؒ، امام حکم بن عتیبہ تابعیؒ سے اس امام کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو رمضان المبارک میں قرآن مجید سے دیکھ کر قرآت کرتا ہے۔ آپؒ اس میں رخصت دیتے تھے۔’’
(مصنف ابن ابی شیبۃ: 338/2، وسندۃٗ صحیحٌ)

📒 امام حسن بصری تابعیؒ اور امام محمد بن سیرین تابعیؒ فرماتے ہیں کہ نماز میں قرآن مجید پکڑ کر قرائت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔’’
(مصنف ابن ابی شیبۃ: 338/2، وسندہٗ صحیحٌ)

📒امام عطاء بن ابی رباح تابعیؒ کہتے ہیں کہ حالت نماز میں قرآن مجید سے دیکھ کر قرائت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ:337/2، وسندہٗ صحیحٌ)

📒وقال ابن وهب:
قال ابن شهاب : كان خيارنا يقرءون في المصاحف في رمضان
ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“ابن شہاب رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: ہمارے بہترین ساتھی رمضان میں قرآن مجید سے دیکھ کر پڑھا کرتے تھے
(المدونۃ،ص1ج/224)

📒امام یحیٰی بن سعید الانصاریؒ فرماتے ہیں:لا أری بالقراءۃ من المصحف فی رمضان بأسا۔
میں رمضان المبارک میں قرآن مجید سے دیکھ کر قرائت کرنے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا۔’’
(کتاب المصاحف لابن ابی داوٗد: 805، وسندہٗ صحیحٌ)

📒 محمد بن عبداللہ بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام زہریؒ سے قرآن مجید سے قرأت کر کے امامت کرانے کے بارے میں پوچھا تو آپؒ نے فرمایا:
لم یزل الناس منذ کان الإسلام، یفعلون ذلک۔
‘‘ اسلام کے شروع سے لے کر ہر دور میں مسلمان ایسا کرتے آئے ہیں۔’’
( کتاب المصاحف لابن ابی داوٗد: 806، وسندہٗ حسنٌ)

📒 امام مالکؒ سے ایسے انسان کے بارے میں سوال ہوا، جو رمضان المبارک میں قرآن مجید ہاتھ میں پکڑ کر امامت کراتا ہے۔ آپؒ نے فرمایا:
لابأس بذلک، وإذا ضطرّوا إلی ذلک۔
‘‘ مجبوری ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔’’
(کتاب المصاحف لابن ابی داوٗد: 808، وسندہٗ صحیحٌ)

📒 امام ایوب سختیانیؒ فرماتے ہیں:
کان ابن سیرین یصلّی، والمصحف إلی جنبہ، فإذا تردّد نظر فیہ۔
‘‘ امام محمد سیرینؒ نماز پڑھتے تو قرآن مجید ان کے پہلو میں پڑا ہوتا۔ جب بھولتے تو اس سے دیکھ لیتے۔’’
(مصنف عبد الرزاق: ۴۲۰/۲، ح: 3931، وسندہٗ صحیحٌ)

📒كان محمد ينشر المصحف فيضعه إلى جانبه فإذا شك نظر فيه وهو في صلاة التطوع
محمد بن سیرین رحمہ اللہ مصحف کو کھول کر اپنے پہلو میں رکھ لیتے تو جب انکو شک ہوتا تو اس میں سے دیکھ لیتے اور یہ نفلی نماز کی بات ہے۔
(المصاحف ح 811 , دوسرا نسخہ 691 ) واسناد صحیح

📒وقال النووي: “لو قرأ القرآن من المصحف لم تبطل صلاته سواء كان يحفظه أم لا ، بل يجب عليه ذلك إذا لم يحفظ الفاتحة, ولو قلَّب أوراقه أحيانا في صلاته لم تبطل …… هذا مذهبنا ومذهب مالك وأبي يوسف ومحمد وأحمد ” انتهى من
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اگر کوئی قرآن مجید سے دیکھ کر قراءت کرے تو اسکی نماز باطل نہیں ہوگی، چاہے اسے قرآن مجید یاد ہو یا نہ یاد ہو، بلکہ ایسے شخص کیلئے دیکھ کر تلاوت کرنا واجب ہوگا جسے سورہ فاتحہ یاد نہیں ہے، اس کیلئے اگر اسے بسا اوقات صفحات تبدیل کرنے پڑیں تو اس سے بھی نماز باطل نہیں ہوگی۔۔۔ یہ ہمارا [شافعی] مالک، ابو یوسف، محمد، اور امام احمد کا موقف ہے” انتہی مختصراً
“المجموع” (4/27)

📒وقال سحنون: وقال مالك : لا بأس بأن يؤم الإمام بالناس في المصحف في رمضان وفي النافلة . قال ابن القاسم : وكره ذلك في الفريضة
سحنون [امام مالک رحمہ اللہ کے شاگرد] کہتے ہیں:
“امام مالک کہتے تھے: رمضان اور نفلی عبادات میں لوگوں کی قرآن مجید سے دیکھ کر امامت کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے”
اور امام امالک کے شاگرد ابن قاسم مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“امام مالک فرائض میں ایسے کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے”
( “المدونۃ” 1/224)

📒جاء في ” الموسوعة الفقهية ”
“ذهب الشافعية والحنابلة إلى جواز القراءة من المصحف في الصلاة ، قال الإمام أحمد : لا بأس أن يصلّي بالناس القيام وهو ينظر في المصحف ، قيل له : الفريضة ؟ قال : لم أسمع فيها شيئاً.
وسئل الزّهريّ عن رجل يقرأ في رمضان في المصحف ، فقال : كان خيارنا يقرؤون في المصاحف .
وفي شرح ” روض الطالب ” للشيخ زكريا الأنصاريّ : إذا قرأ في مصحف ، ولو قلَّب أوراقه أحياناً لم تبطل – أي : الصلاة – لأن ذلك يسير أو غير متوال لا يشعر بالإعراض ، والقليل من الفعل الذي يبطل كثيره إذا تعمده بلا حاجة : مكروه .

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:
” شافعى اور حنبلى حضرات كے ہاں نماز ميں قرآن مجيد كو ديكھ كر قرآت كرنى جائز ہے، امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں: امام كے ليے قرآن مجيد كو ديكھ كر لوگوں كو قيام الليل كرانے ميں كوئى حرج نہيں.

امام احمد رحمہ اللہ سے عرض كيا گيا: كيا فرضى نماز ميں بھى ؟
تو امام احمد رحمہ اللہ كا جواب تھا: اس كے متعلق ميں نے كچھ نہيں سنا.

اور امام زہرى رحمہ اللہ سے رمضان المبارك ميں قرآن مجيد سے ديكھ كر نماز پڑھنے والے شخص كے بارہ ميں دريافت كيا گيا تو انہوں نے جواب ديا:
ہم سے بہتر لوگ قرآن مجيد كو ديكھ كر قرآت كيا كرتے تھے.

اور شيخ زكريا انصارى كى كتاب شرح ” روض الطالب ” ميں درج ہے:
اگر قرآن مجيد كو ديكھ كر قرآت كرے چاہے اس كے ليے بعض اوقات قرآن مجيد كے اوراق الٹے تو نماز باطل نہيں ہوگى كيونكہ يہ قليل اور غير مسلسل عمل ہے جس سے اعراض كا شعور نہيں ہوتا، اور اس كثير عمل كا جس سے نماز باطل ہو جاتى ہے عمدا قليل عمل كرنا مكروہ ہے.
(الموسوعة الفقهية ” 33 / 57 ، 58 )

*ان تمام آثار اور سلف صالحین کے اقوال و عمل سے یہ ثابت ہوا کہ اگر کسی کو قرآن یاد نا ہو تو نفل نماز میں قرآن مجید مصحف یا موبائل وغیرہ سے دیکھ کر امام یا تنہا نمازی کیلئے پڑھنے اور امام کے پیچھے سامع کیلے دیکھ کر سننے میں کوئی حرج نہیں اور نا ہی ایسا کرنے سے نماز فاسد ہو گی،اس صورت میں نماز کو فاسد کہنے والوں کا قول خود فاسد ہے*

📒سعودی عرب کے مفتیٔ اعظم، فقیہ العصر، شیخ عبد العزیز ابن بازؒ نے بھی فتح الباری (۱۸۵/۲) کی تحقیق میں اس کو بوقت ضرورت جائز قرار دیا ہے

ان سے سوال کیا گیا کہ،
كيا نماز تراويح يا چاند اور سورج گرہن كى نماز ميں قرآن مجيد سے ديكھ كر قرآت كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

جواب :
الحمد للہ:

قيام رمضان ميں قرآن مجيد ديكھ كر قرآت كرنے ميں كوئى حرج نہيں، جيسا كہ اس ميں مقتديوں كو پورا قرآن سننے كا موقع مل جاتا ہے، اور اس ليے بھى كہ كتاب و سنت كے دلائل بھى نماز ميں قرآن مجيد كى قرآت كى مشروعيت پر دلالت كرتے ہيں، اور يہ عام ہے قرآت چاہے زبانى كى جائے يا پھر قرآن مجيد سے ديكھ كر.
اور پھر عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے ثابت ہے كہ انہوں نے اپنے غلام ذكوان كو حكم رمضان كا قيام كروانے كا حكم ديا، اور وہ قرآن مجيد ديكھ كر قرآت كيا كرتے تھے.
اسے امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے اپنى صحيح ميں معلق اور بالجزم ذكر كيا ہے.
واللہ اعلم .
(ماخذ: ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ الشيخ ابن باز ( 2 )

*لیکن واضح رہے کہ یہ بوقت ضرورت ہے کہ جب کسی کو قرآن زبانی یاد نا ہو،اگر زبانی یاد ہو تو افضل یہی ہے کہ نماز میں زبانی قرآت کرنی چاہیے اور جو سامع ہے وہ بھی زبانی قرآت سنے،*

📒سعودی مفتی شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ :
کیا قرآن کریم مصحف کو دیکھ کر پڑھنا افضل ہے یا کہ حفظ سے ؟

جواب ،
الحمد للہ

نماز کے بغیرمصحف کو دیکھ کرپڑھنا افضل ہے کیونکہ اس میں غلطی کا امکان کم اورحفظ کے زیادہ قریب ہے لیکن اگر قرآن کودیکھے بغیر اپنے حفظ سے پڑھنا اس کے خشوع کو زيادہ کرتا ہو تو یہ زيادہ بہتر ہے ۔اور نماز میں افضل یہ ہے کہ وہ اپنے حفظ سے پڑھے اس لیے کہ مصحف دیکھ کر پڑھنے سے اس کو کئ کام کرنے پڑيں گے جو کہ اس کے خشوع میں خلل انداز ہونے کا باعث بنیں گے مثلا مصحف اٹھانا اور بار بار صفحہ پلٹنا ،اور دیکھنا اور اسے جیب میں ڈالنا اور اسی طرح قیام کی حالت میں وہ ایک ھاتھ بھی دوسرے پر باندھ نہیں سکتا ۔اور ہو سکتا ہے کہ اگر وہ مصحف کو اپنی بغل میں رکھے تو رکوع اور سجود میں کہنیوں کو اپنے جسم دور بھی نہیں کرسکتا ، اسی بنا پر ہم نے نماز کی حالت میں حفظ کیا ہوا قرآن کریم پڑھنے کو راجح کہا ہے اور دیکھنے پر ترجیح دی ہے ۔
اوراسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض مقتدی امام کے پیچھے قرآن مجید لے کر کھڑے ہوتے ہيں تو یہ کام ان کے لائق نہیں کیونکہ اس میں وہی امور پاۓ جاتے ہیں جو کہ ہم نے ابھی اوپر ذکر کیے ہیں ، اور پھر اس لیے بھی کہ ان کو اس کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ان کو امام کی متابعت کرنی چاہۓ ۔
جی ہاں اگر یہ فرض کیا جاۓ کہ امام کا حفظ صحیح نہیں اور امام نے کسی ایک مقتدی کو کہا ہو کہ تم مصحف سے دیکھ کر سنو اور غلطیاں نکالو تو اس میں کو‏ئ حرج والی بات نہیں،
(ماخذ: شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے فتاوی سے ، دیکھیں کتاب : فتاوی اسلامیۃ ( 4 / 8 )

((( ایک ضروری نوٹ )))

*کیونکہ نماز میں مصحف یا موبائل وغیرہ سے دیکھ کر قرآن پڑھنے سے غیر ضروری حرکات لازم ہوتی ہیں جن کیوجہ سے نماز کا خشوع و خضوع کم ہوتا ہے اس لیے بہتر و افضل یہی ہے کہ امام بھی زبانی قرآت کرے اور سامع بھی زبانی قرآن سنے،لیکن جب کہیں ضرورت ہو کہ جسے قرآن یاد نا ہو تو امام و تنہا نمازی کیلئے قرآن سے دیکھ کر پڑھنا اور سامع کیلئے قرآن سے دیکھ کر سننا جائز ہے،لیکن ضرورت کے تحت بھی ایسے شخص کو چاہیے کہ مصحف یا موبائل سے پڑھتے ہوئے کم سے کم غیر ضروری حرکات کرے اور اپنے ساتھ کوئی ٹیبل وغیرہ رکھ لے تا کہ قرآن پڑھ کر ہاتھ میں رکھنے یا بغل میں دبانے کی بجائے ٹیبل وغیرہ پر رکھ دے یا جیب میں ڈال لے تا کہ سجدہ و رکوع درست طریقہ سے کر سکے، اور یاد رہے کہ مقتدیوں میں سے ایک شخص ہی قرآن سے دیکھ کر سنے ، آجکل ہمارے ہاں امام کے پیچھے ہر دوسرا شخص قرآن سننے کیلئے مصحف یا موبائل لے کر کھڑا ہو جاتا ہے یہ درست نہیں،صرف ایک شخص جسکو امام سامع بنائے اسی کو قرآن سے دیکھ کر سننا چاہیے تا کہ بوقت ضرورت امام کو لقمہ دے سکے*

_________&_________

*یاد رہے جس طرح کچھ صحابہ و تابعین کرام سے سے دوران نماز مصحف سے دیکھ کر قراءت کرنے کی رخصت منقول ہے اسی طرح بعض سلف سے اس کی کراہت بھی ملتی ہے،*

📚 سیدنا ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے ہمیں قرآن کریم ہاتھ میں پکڑ کر امامت کرانے سے منع فرمایا۔’’
(کتاب المصاحف: ۷۷۲)

🚫تبصرہ:
اس کی سند سخت ترین ‘‘ ضعیف’’ ہے، کیونکہ:
1۔ اس کی سند میں نہشل بن سعید راوی ‘‘ متروک’’ اور ‘‘کذاب’’ ہے۔
(تقریب التھذیب: ۷۱۹۷، میزان الاعتدال: ۲۷۵/۴)

2- اس کے راوی ضحاک بن مزاحم کا سیدنا ابن عباسؓ سے سماع نہیں ہے۔
( تفسیر ابن کثیر: ۲۳۶/۵، التلخیص الحبیر لابن حجر: ۲۱/۱، العجاب فی بیان الاسباب لابن حجر: ص۱۰۴)

📚عن سويد بن حنظلة رضي الله عنه « أنه مر بقوم يؤمهم رجل في المصحف فكره ذلك في رمضان ونحا المصحف »
سيدنا سويد بن حنظله رضي الله عنه ایک قوم کے پاس سے گزرے جنکو ایک شخص مصحف سے دیکھ کر امامت کروا رہا تھا تو آپ نے اسے نا پسند فرمایا اور مصحف کو دور کر دیا , یہ رمضان کا واقعہ ہے
(أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف (7301 – ط. عوّامة = 7224 ط. الرشد)،
(وابن أبي داود في المصاحف (786، 787 ط. البشائر الإسلامية
( وسنده صحيح )

3- عن مجاهد « أنه كان يكره أن يتشبهوا بأهل الكتاب يعني أن يؤمهم في المصحف »
مجاہد رحمہ اللہ مصحف سے امامت کروانے کو اہل کتاب سے مشابہت کی بناء پر ناپسند فرماتےتھے ۔
(المصاحف 778 ,)
( ابن أبي شيبه 2/124 ,)
( مصنف عبد الرزاق 2/419 )

📒تبصرہ-
یہ روایت حسن ہے اسکی ابن ابی شیبہ اور المصاحف والی سند میں لیث بن ابی سلیم متکلم فیہ ہے لیکن مصنف والی سند میں منصور بن المعتمر نے اسکی متابعت کر رکھی ہے جوکہ ثقہ ہے

اسی طرح کے اقوال حسن بصری , ابراہیم نخعی , حماد بن سلمہ , قتادہ بن دعامہ اور سعیدبن المسیب رحمہم اللہ وغیرہ سے بھی منقول ہیں ۔
(دیکھیے : المصاحف 789 ,)
( ابن أبي شيبة 2/124 , دوسرا نسخه 2/338 , وسنده حسن)
( مصنف ابن ابي شيبه 3/339)
( المصاحف 781, وسندہ صحیح ,)
( المصاحف 782 وسندہ صحیح)

*اسکے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سمیت سلف صالحین اور آئمہ کرام کی کثیر جماعت سے ضرورت کے تحت قرآن سے دیکھ کر قرآت کرنا جائز ہے،*

رہی بات ان آثار کی جن میں کراہت کا ذکر ہے تو ان آثار کو ہم محمول کریں گے ان لوگوں پر جو قرآن یاد ہوتے ہوئے بھی اوپر سے دیکھ کر پڑھیں جیسا کہ،

📚امام حسن بصری اور سعید بن المسیب سے اکیلے میں مصحف سے دیکھ کر قراءت کرنے کے بارہ میں مروی ہے :
: عن سعيد والحسن « أنهما قالا : في الصلاة في رمضان : تردد ما معك من القرآن ولا تقرأ في المصحف إذا كان معك ما تقرأ به في ليلته »
رمضان کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ جو قرآن آپکو یا د ہے اسے بار بار دھراتے رہو, اور مصحف سے دیکھ کر نہ پڑھو جبتک تمہیں اسقدر یاد ہو کہ تم ایک رات کا قیام کرسکو۔
(المصاحف 775 , 776 , )
(ابن أبي شيبة 2/339 اسکی سند صحیح ہے۔

*یعنی بات وہی ہے کہ بہتر ہے کہ قرآن زبانی پڑھا جائے مگر جسکو یاد نہیں وہ اوپر سے دیکھ کر پڑھ لے جیسا کہ اوپر کے آثار سے یہ بات ملتی ہے،*

*یاد رہے جب سلف میں اختلاف ہو اور جواز اور کراہت کے اقوال موجود ہوں تو کسی ایک قول پر شدت اختیار کرنا درست نہیں،چونکہ یہ حلال حرام کا مسئلہ نہیں ہے اس لیے جو ضرورت کے تحت دیکھ کر نماز میں قرآت کریں وہ کر سکتے ہیں جو نہیں کرنا چاہتے وہ نا کریں مگر کسی پر فتویٰ نا لگائیں*

_________________&_________

*جو لوگ کہتے ہیں کہ ہاتھ میں قرآن کریم پکڑ کر نماز میں قرأت کرنے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے،اب انکے دلائل کا مختصر جائزہ لیتے ہیں*

نماز میں مصحف یا موبائل وغیرہ کو ہاتھ میں پکڑ کر ان سے قرآن پڑھنے پر نماز کو فاسد کہنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ

📚نماز میں ہاتھوں کو باندھنے کا حکم ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ
“کان الناس یؤمرون أن یضع الرجل الیدالیمنیٰ علی ذراعہ الیسریٰ فی الصلوٰۃ” لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع پر رکھے۔ (صحیح بخاری کتاب الأذان باب وضع الیمنى على الیسری فی الصلاۃ-740)

📒استدلال-
اور نماز میں مصحف یا موبائل وغیرہ سے دیکھ کر قرآن پڑھتے وقت ہاتھ ٹھیک سے نہیں باندھ سکتے،

📚دوسری دلیل کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے منع کیا گیا ہے،
جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے نماز کے دوران جھانکنے کے بارہ میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ اچکنا ہے شیطان بندے کی نماز سے اسے اچکتا ہے۔
(صحیح بخاری کتاب الاذان باب الالتفات فی الصلاۃ-751)

📒استدلال-
حدیث میں نمازی کو وقتا فوقتا ادھر ادھر جھانکنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ قرآن سے دیکھ کر قراءت کرنیوالا تو مسلسل قرآن کی جانب دیکھ رہا ہوتا ہے،

(اس حدیث کو بیان کرنے والی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں، اگر اس حدیث سے نماز میں قرآن سے دیکھ کر قرآت کی ممانعت ثابت ہوتی تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے غلام ذکوان کو قرآن سے دیکھ کر قرآت کرنے کی اجازت نا دیتی خاص کر جب وہ خود انکے پیچھے نماز پڑھتی تھیں،)

*اوپر ذکر کردہ دونوں احادیث اور ان جیسے دیگر دلائل کی بنا بعض علماء قرآن سے دیکھ کر قرآت کرنیوالوں کی نماز کو فاسد کہتے ہیں،حالانکہ انکا یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ احادیث میں ضرورت کے تحت حرکت کرنا جائز ہے،*

جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کا بیان
باب: باب: اس بارے میں کہ نماز میں اگر کوئی اپنی گردن پر کسی بچی کو اٹھا لے تو کیا حکم ہے؟
ابوقتادہ انصاری (رض) سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ امامہ بنت زینب کو (بعض اوقات) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے۔ دوسری روایت میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے
(صحیح بخاری حدیث -516)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ںوقت ضرورت بچے کو گود میں اٹھا کر یا کندھے پر بٹھا کر نماز پڑھنی درست ہے۔

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: نماز میں کوئی کام کرنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی (نماز کی جگہ) پر واپس لوٹ گئے
(سنن ابو داؤد حدیث -922)
حدیث حسن

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: نماز میں کوئی کام کرنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا: سانپ کو اور بچھو کو،
(سنن ابوداؤد حدیث -921)
کیونکہ یہ دونوں سخت موذی جانور ہیں اور اگر نماز کے تمام ہونے کا انتظار کیا جائے گا تو ان کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے نماز کے اندر ہی ان کو مارنا درست ہوا، اگرچہ چلنے اور عمل کثیر کی حاجت پڑے پھر بھی نماز فاسد نہ ہو گی، اور پھر مارنے کے بعد نماز وہیں سے شروع کر دے جہاں تک پڑھی تھی،

*اوپر ذکر کردہ ان احادیث اور ان ابواب میں ذکر کردہ ان جیسی باقی تمام حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں ضرورت کے واسطے چلنا یا دروازہ کھولنا یا لاٹھی اٹھا کر سانپ بچھو مارنا، یا بچے کو گود میں اٹھا لینا پھر بٹھا دینا، اشارہ سے سلام کا جواب دینا، ضرورت کے وقت کھنکار دینا مثلاً باہر کوئی پکارے اور یہ گھر کے اندر نماز میں ہو تو کھنکار دے، قیام اور رکوع منبر پر کرنا، اور سجدہ کے لئے نیچے اترنا، پھر منبر پر چلے جانا، بچے کو کندھے پر اٹھا لینا، رکوع اور سجدہ کے وقت اس کو زمین پر بٹھا دینا پھر قیام کے وقت لے لینا، بھولے سے بات کرنا، اور امام بھول جائے تو اس کو بتانا یعنی لقمہ دینا، کوئی نمازی کے سامنے سے گزرتا ہو تو ہاتھ سے اس کو ہٹانا یا ہاتھ سے اس کو ضرب لگانا جائز ہے اور ان سے نماز فاسد نہیں ہوتی*

*جب ضرورت کے تحت ان تمام اعمال سے نماز فاسد نہیں ہوتی جن میں مصحف اٹھانے کی نسبت عمل و حرکت کثیر ہوتی ہے تو پھر ضرورت کے تحت مصحف یا موبائل وغیرہ کو پکڑ کر قرآن پڑھنے سے نماز فاسد کیسے ہو سکتی ہے؟*

*خلاصہ یہ ہوا کہ جسکو قرآن یاد نا ہو تو اسکے لیے بوقت ضرورت مصحف یا موبائل وغیرہ پکڑ کر نفل نماز جیسے تراویح وغیرہ میں قرآن پڑھنا اور امام کے پیچھے ایک آدھ مقتدی کیلے قرآن سے دیکھ کر قرآت سننا جائز ہے،*

اللہ تعالیٰ صحیح معنوں میں ہمیں دین اسلام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں آمین،

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!


📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS