find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Apni Betiyo ko Ghar ka kam karna bhi sikhaye.

Apni Betiyo ki Parwarish kaise karein ?

Aaj ki Ladkiyaan apna ghar khud barbad kar rahi hai kaise?

*भौतिकवादी युग में लोगो ने मुहब्बत को भी क्रेडिट और डेबिट कार्ड में तौल कर रख दिया है*

खुद को लिबरल का वाहवाही लूटने वाले पाखंडी बनकर शादी नही करे वरना यह नुकसान हो सकता है।

आज की मुस्लिम लड़कियां क्यों गैर मुस्लिमो के साथ भाग कर शादी कर रही है, क्या उनके घरवाले बे गैरत बन गए है?

जब ब्रिटिश प्रधान मंत्री टोनी ब्लेयर की बीवी और बेटी ने सरेआम नकाब पहनी थी और दूसरी यूरोपीय औरतों।से भी ऐसा करने को कही थी।

اپنی بیٹیوں کی پرورش کیسے کریں؟

بیٹیوں کو گھر داری ضرور  سکھائیں.

اپنی بیٹی کو آپ جیسی چاہیں جدید تعلیم دلوائیں مگر ان کو گھر کے کام ضرور سکھائیے انہیں سر چڑھا کر ناکارہ مت بننے دیں.

محبت کریں

بیٹیوں کے احساسات کا خیال کریں

ان کو اچھائی برائی میں فرق سیکھا کر ضرورت کے مطابق آزادی بھی دیں مگر ساتھ ہی ساتھ انہیں یاد دلاتی رہیں کے ان کے ہاتھوں میں آپ کی عزت ہے.

ماسیوں کی عادت نہ ڈالیں.

اسے چھوٹی عمر سے گھریلو سرگرمیوں میں شامل کریں تاکہ انہیں بڑے ہو کر اور سسرال جا کر کام کرنا ظلم نہ لگے.
اپنی بیٹی کو کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی نہ بنائیے.

جس طرح ایک مرد جو کمانے سے جی چرائے اور اپنی بیوی بچوں کی ذمہ داری نہ اٹھائے، وہ عوامی زبان میں ہڈ حرام کہلاتا ہے۔ کاہل کہلاتا ہے۔

بالکل اسی طرح وہ عورت جو گھر کے کاموں سے جی چرائے جسے گھر سنبھالنا نہ آئے وہ بھی اس نکمے مرد کی طرح ہڈ حرام کہلانے کی مستحق ہوتی ہے ۔

بیٹیوں کی شادی سے پہلے ان کے منہ میں لگی چوسنی چھڑوا دیں.

سسرال والے آپ کی بیٹی کو بہو بنانے آئینگے، اسے گود لینے نہیں

کم از کم اتنا کام لڑکی کو ضرور سیکھا کر بھیجیں کہ وہاں کا کام دیکھ کر یہ حیرانی نہ ہو کہ اچھا گھر میں یہ سب بھی ہوتا ہے ؟

اپنی بیٹیوں کو ایک مکمل ذمہ دار عورت بنائیے.

انہیں بتائیے کہ حضرت فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا جو کہ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں، وہ بھی اپنے گھریلو کام خود کیا کرتی تھیں، اس لیے گھر کے کام کرنے میں تمھاری کوئی تذلیل نہیں ہوگی.

اشد ضرورت اور دکھ بیماری کے وقت ملازموں کی مدد ضرور لی جا سکتی ہے مگر خود کو ان کا عادی بنا لینا کاہلی اور سستی کے سوا اور کچھ نہیں.

آپ کی بیٹی کی گود میں آپ کی اور اس کے نصیب میں لکھے ہوئے مرد کی پوری نسل پروان چڑھے گی. ایک آرام پسند اور سست عورت پوری نسل کو نکمہ بنانے کی طاقت رکھتی ہے.

ہمارے ارد گرد ایسے کئی سلجھے ہوئے اور پڑھے لکھے خاندان موجود ہیں کہ جن کے گھر کے ماحول اور نسل کو ایک نکمی عورت نے آ کر تباہ کیا.

خدارا اپنی بیٹیوں کو ناکارہ مت بنائیں۔

------------------------------

یہ تحریر صرف اصلاح کے لیے ہے، اسے کوئی ذاتی طور پر نہ لیں۔
اگر آپ مزید تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔  سوال و جواب

بلاگ پر جانے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Aashiyana-E-Haqeeqat

Share:

Jab Shauhar ne Apni Biwi ke Nakab Utarwane ke Faisle Se inkar kar diya.

Jab ek Shauhar ne Apni Biwi ka Nakab Utarwane ke Court ke hukm ko Manane se inkar kar diya.

EK Gairat mand Shauhar ka Waqya

#Muslim #Nakab #Nikah #Parda #Hijab #Mominat

ایک غیرت مند شوہر نے جب اپنی پردہ نشیں بیوی کے نقاب اتروانے پر عدالت میں خود کو مجرم ثابت کر لیا۔

غیرت مند شوہر ____!!

ایک قاضی صاحب مسندِ قضا پر بیٹھ کر لوگوں کے مسائل حل فرما رہے تھے ۔

تو میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا ۔
اتنے میں ان کے پاس ایک ایسا ایمان افروز مقدمہ پیش ہوا جس نے وہاں موجود تمام لوگوں کے ایمان کو تازہ کر دیا ۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک نقاب پوش خاتون حاضر ہوئی جس کے سرپرست کا دعویٰ تھا کہ اس عورت کا نکاح کے وقت پانچ سو دینار مہر مقرر ہوا تھا مگر اس کا شوہر مہر کی رقم ادا نہیں کر رہا اور جب شوہر کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ مہر کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے ۔

قاضی صاحب نے مدعی سے کہا کہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے گواہ پیش کرو جو اس بات کی گواہی دیں کہ واقعی اس مرد نے نکاح کے وقت پانچ سو دینار مہر مقرر کیا تھا ۔

پس جب گواہ عدالت میں حاضر ہوئے اور عورت کو کہا گیا کہ وہ بھی کھڑی ہو جائے اور اپنا نقاب اتار دے تا کہ گواہ اسے پہچان کر اس کے حق میں گواہی دے سکیں کیونکہ جب گواہ مُدَّعِی (دعوی کرنے والا) یا مُدَّعٰی عَلَیْہ (جس پر کسی حق کا دعویٰ کیا جائے ) کی موجودگی میں گواہی دے تو اس پر لازم ہے کہ ان کی طرف اشارہ کر کے واضح طور پر گواہی دے ، وہ عورت حیا والی تھی اس لیے بے نقاب ہونے میں پس و پیش سے کام لینے لگی ۔

اس کے شوہر نے جب دور سے یہ سب کچھ دیکھا تو پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟

اسے بتایا گیا کہ یہ گواہ ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس نقاب کے پیچھے واقعی تمہاری زوجہ ہی ہے تا کہ پہچان کر اس کے حق میں گواہی دے سکیں۔

یہ سن کر غیرتمند شوہر پکار اُٹھا : ’’ انہیں روک دو، میں قاضی صاحب کے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ جو دعویٰ میری زوجہ نے مجھ پر کیا ہے وہ مجھ پر لازم ہے ، میں پانچ سو دینار ادا کرنے کو تیار ہوں ، خدارا! میری زوجہ کا چہرہ کسی نامحرم پر ظاہر نہ کیا جائے ۔ ‘‘

چنانچہ، گواہوں کو روک دیا گیا اور عورت کو واپس بھیج دیا گیا اور جب اسے یہ بتایا گیا کہ اس کے شوہر نے مہر کی ادائیگی کا اقرار کر لیا ہے تو وہ بڑی حیران ہوئی، پھر جب اسے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ اس کا شوہر اس قدر غیرتمند ہے کہ اس نے محض اپنی بیوی کی حیا کی لاج رکھتے ہوئے اور اسکے بے پردہ ہو جانے کے خوف سے مہر کی ادائیگی کا اقرار کیا ہے تو شوہر کی غیرت تاثیر کا تیر بن کر اس کے دل میں کچھ ایسی پیوست ہوئی کہ اس کے دل کی دنیا ہی بدل گئی اور وہ یوں گویا ہوئی : سب گواہ ہو جاؤ! میں نے اپنا مہر معاف کر دیا اب میں دنیا میں اس کا مطالبہ کروں گی نہ آخرت میں ، یہ مہر میرے غیرتمند شوہر کو مُبَارَک ہو ۔

[عیون الحکایات، الحکایۃ السادسۃ بعد الثلاثمائۃ
ص/ 275
]

Share:

Modern Culture Ke nam par Shadi karke apni Zindagi azab nahi banaye.

Kis tarah ki ladkiyon se Shadi karna chahiye?

Kaisi ladkiyo se Shadi kare?
Parde wali ladkiyo se Shadi kare taki aapki Zindagi ko wah khushgawar bana degi.


  اپنی زندگی عذاب مت بناؤ 
آپکی بیوی آپکی جنت

پردے والی لڑکیوں سے نکاح کرو، شرم و حیا والی لڑکیوں سے نکاح کرو غریب لڑکیوں سے نکاح کرو۔

یہ خواتین تمہاری گھر کو جنت بنا دیں گی، ایسی عورت ایک مرد کے لیے دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔
ایسی عورتیں دنیا کی سب سے حسین و جمیل ہے
کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان کی دولت ہے اور شرم و حیاء موجود ہے۔

ایسی لڑکیوں کی نا خواہشات زیادہ ہوتی ہیں اور نا ہی یہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتی ہیں،

انکی مکمل زندگی انکے والدین سے شروع ہوتی یے اور اپنے سسرال یعنی اپنے گھر میں ختم ہوتی ہے۔

کسی پینٹ شرٹ والی کی طرف نا چلے جانا کہ وہ بہت خوبصورت ہے، کسی بے پردہ عورت سے نکاح نا کر لینا کہ اسکی طرف دل کھنچا چلا جاتا یے،

کسی بدتمیز لڑکی کی طرف نا چلے جانا کہ زندگی خوبصورت گذرے گی، کسی بداخلاق لڑکی کی طرف مت چلے جانا کہ تم زندگی کو خوشگوار سمجھنے لگو۔
یہ پینٹ شرٹ اور ماڈرن لڑکیاں کسی کو انسان ہی نہیں سمجھتی ہے، یہ خود کو دنیا کی سب سے جدید خدا سمجھتی ہے۔
ان کے اندر ایمان کی دولت نہیں ، ان کے لیے اخلاق و کردار سب کچھ قدامت پسند اور پرانی باتیں ہے۔

ان لڑکیوں کے اندر خدا کا خوف نہیں ہوتا یہ تمہاری نافرمان قرار پایئں گی، یہ لڑکیاں اپنے والدین کی عزت نہیں کرتی تمہارے والدین اور تمہاری عزت کو پیروں میں رکھے گی۔
ایسی لڑکیاں خود کو سب سے پہلے رکھتی ہے، یہ کبھی اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتی ہے اور نہ کبھی دوسروں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھتی ہے۔ اس لیے یہ تمہاری باتوں کا خیال کیسے رکھے گی ؟

انکے نزدیک شرم و حیاء صرف کتابی باتیں ہیں،
انکے نزدیک ادب و اخلاق پرانی باتیں ہیں،

ان کے نزدیک عورت کی آزادی سب سے زیادہ اہم ہے، یہ پردے کو جہالت سمجھتی ہیں،
پردہ والی خواتین کو غریب اور حقارت بھری نظروں سے دیکھتی ہیں یہ اسلامی احکامات کا مذاق اڑاتی ہیں.
ان کے سامنے  شریعت کی کوئی اہمیت نہیں ہے، یہ خود کو سب سے زیادہ ماڈرن اور  لبرل کہلانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

یہ بواۓ فرنڈ گرل فرنڈ کلچر کو درست مانتی ہیں، انکا کتابوں سے علمی گفتگو سے بزرگوں کی محفلوں سے دل گھبراتا ہے، کالج کینٹین، ریسٹورنٹ اور پارکس وغیرہ انکی پسندیدہ جگہیں ہیں،

ان سے نکاح کرکے زندگی خراب نا کرلینا،
ازدواجی سکون برباد نا کر لینا،

غریب لڑکیوں کی طرف آؤ،  ایمان والی لڑکیوں کی طرف آؤ، یہ شاید زیادہ شہرت اور دولت والی نہیں ہونگی لیکن ازدواجی زندگی میں اپنے خاوند کو وہ مقام و مرتبہ ضرور دیگی جتنا کے اُسکا حق ہے۔

یہ شاید عمدہ فرنیچر نہیں لاسکتی، لیکن یہ حیا اور شرم لیکر آۓ گی،

یہ ادب و آداب لیکر آۓ گی، یہ خوب سیرت و اخلاق لیکر آۓ گی، یہ تمہیں گھر میں بادشاہ بنا کر رکھے گی، یہ تمہیں دل و جان سے محبت کرے گی۔ اور خود ملکہ بن کر رہے گی۔

تمہارے حقوق ادا کرے گی، یہ تمہاری ایک تکلیف پر آنسو بہا دے گی، تمہیں بے قرار دیکھ کر وہ بے قرار ہوجائے گی۔ یہ تمہارے تھوڑے دیۓ پر راضی ہو جاۓ گی، تمہاری لائی ہوئی چیزوں میں نقص نا نکالے گی اور اپنے خاوند کی مجبوری کو سمجھ سکے گی۔

تمہاری عزت کو اپنی عزت سمجھے گی، تمہارے والدین کو اپنے والدین سمجھے گی، تمہاری اولاد کی اعلی پرورش کرے گی انہیں حسن اخلاق سکھاۓ گی۔

یہی عورتیں اللہ کی طرف سے نعمت ہیں، مگر افسوس کہ ایسی لڑکیوں کو آج لوگ سب سے زیادہ حقیر سمجھتے ہیں، یہ غریبی کی وجہ سے گھروں میں کنواری بیٹھی ہیں، یہ غریب مزدور کی بیٹیاں دنیا کی سب سے خوب سیرت اور اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ کردار والی ہے۔

ان سے نکاح کرو گھر کو جنت بناؤ۔۔۔۔۔۔!!!!

جہیز کی لالچ میں اپنی زندگی برباد مت کر لینا۔
ماڈرن کلچر کے نام پر کبھی رسوا مت ہونا
اور نہ ہی دکھاوے اور جھوٹے وہواہو کی وجہ سے لبرلو کی غلامی کرنا۔

*‏عورت جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے. ویسے ویسے فحاشی اور بے حیائی پھیل رہی ہے. گھر کا مرد ظالم بنتا جا رہا ہے اور باہر کا مرد ہمدرد بنتا جا رہا ہے..!!

Share:

Adult Sites Par Muslim Ladkiyon ke Videos ka Demand kyu Badh gayi hai?

Kis tarah Porn Sites Par Muslim Ladkiyon ki Videos ki Demand achanak Badh gayi hai?

teenager me kadam rakhne wale Baccho ke walidain Yah Tahrir jarur Padhein.
Adult Sites par Muslim Ladkiyon ki Videos ki maang kyu Badh gayi hai?

بلوغت میں قدم رکھنے والے بچوں کے والدین یہ تحریر ضرور پڑھیں۔

بالغ ویب سائٹس پر مسلم لڑکیوں کی فحش اور ننگی تصویریں، ویڈیوز کی مانگ کیوں یکایک بڑھ گئی ہے؟


نوٹ: یہ پوسٹ صرف بالغوں کے لیے ہے۔  نوجوان بچوں کے والدین لازمی پڑھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ایک دوست جو کے پیشے سے موبائل انجینئر ہے۔   بتا رہے تھے کہ میرے ایک دوست کی  نئے اور پرانے موبائل کی خرید و فروخت کی دکان ہے۔

ایک دن اس دوست کے پاس اس کی دکان میں بیٹھا تھا کہ ایک ماڈرن سی خوش شکل لڑکی اپنی ماں کے ساتھ موبائل لینے آئی۔

ایک مناسب قیمت  بتا کر پوچھا کہ اس میں اچھا موبائل کونسا ہے جس کا کیمرہ ، میموری اور سپیڈ اچھی ہو؟

میرے دوست نے پوچھا کہ پہلے آپ کونسا موبائل استعمال کر رہی تھیں اور تبدیل کرنے کی وجہ؟

مزید یہ کہ آپ کا استعمال کیا ہے تاکہ اس لحاظ سے آپ کو بہتر موبائل بتا سکوں؟

اس نے  پرانا موبائل دکھاتے ہوئے کہا  کہ سیمسنگ کا یہ موبائل ہے یہ بہت ہینک کرتا ہے جس سے میری ضروریات پوری نہیں ہوتی اس لیے کوئی نیا لینا ہے۔
مزید کہا کہ آنلائن ایگزام ہو رہے یونیورسٹی کہ تو اچھی سپیڈ والا چاہیے۔

میرے دوست نے سیمسنگ اور چائنیز کمپنی کے دو تین موبائل دکھائے جس میں اسے سیمسنگ کا ہی ایک موبائل پسند آگیا۔

پیسے دینے لگی تو دوست نے پوچھا کہ پرانا بیچنا ہے؟

اس نے کہا کہ نہیں ابھی تو نہیں بیچنا۔

میرے دوست نے کہا کہ اگر بیچنا ہے  تو میں اس کا اٹھارہ ہزار دیتا ہوں۔

اٹھارہ ہزار کا  سن کر وہ لڑکی اور اس کی ماں اور میں بھی حیران ہو گیا کیونکہ وہ موبائل دس ہزار کا بھی نہیں تھا۔

سب کو حیران ہوتے دیکھ کر دوست کہنے لگا کہ میں نے آٹھ کہنا تھا لیکن غلطی سے اٹھارہ کہہ دیا ہے۔

لیکن میں اپنی زبان پر قائم ہوں۔ ابھی بیچنا ہے تو اٹھارہ مائنس کر کے باقی پیسے دے دیں۔

لڑکی کی ماں فوراً سے راضی ہو کر کہنے لگی کہ دے دو کیونکہ اتنے پیسے تو کوئی نہیں دیگا۔

وہ لڑکی کہنے لگی، نہیں اس میں میرا سارا ڈیٹا ہے۔

ابھی پہلے نئے فون میں ٹرانسفر کرونگی پھر بیچوں گی۔

میرے دوست نے کہا کہ ابھی دو منٹ لگے گا۔
دونوں سیمسنگ کے ہیں، ابھی بیک اپ کر کے اس نئے میں کر دیتا ہوں۔

اس کے بعد آپ اس پرانے کو ری سیٹ فیکٹری سیٹنگ کر دینگی اس پرانے سے سب کچھ اڑ جائے گا۔

ابھی اٹھارہ دے رہا ہوں۔ بعد میں آٹھ ہی دونگا۔

تھوڑے سے پس و پیش کے بعد ماں کی طرف سے  اصرار کی وجہ سے لڑکی مان گئی۔

دوست نے اسی وقت بیک اپ کر کے نئے موبائل میں کر دیا ۔

ان کے جانے کے بعد میں نے دوست سے پوچھا کہ یہ کیا کیا تو نے؟
اتنا مہنگا لے لیا۔ اتنا گھاٹے کا سودا کیوں کیا تو نے؟

وہ شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا، تو ابھی بچہ ہے۔
تجھے کچھ بھی نہیں پتہ۔  اس میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ سوچ بھی نہیں سکتا۔
تو چائے پی ابھی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔

تب تک دوست اس موبائل کو ڈیٹا ریکوری پر لگا چکا تھا۔

کہنے لگا کہ ہم تو دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں۔

پھر اچھے کیمرے  اور اچھی سپیڈ والے موبائل کی ڈیمانڈ، پرانا موبائل بیچنے پر اس کا اتنا ہچکچانا۔
ان ساری چیزوں کی وجہ سے میں نے ایک جوا کھیلا ہے۔ لگ گیا تو لاکھوں آئیں گے، نہ لگا تو پانچ دس ہزار کا نقصان بس۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا  تو چائے پینے لگا۔

اس سے گپ شپ کے دوران وہ مسلسل اس کے ڈیٹا ریکوری میں لگا رہا۔

جب میں نے جانے کے لیے اجازت چاہی تو اس نے کہا ... کہاں جا رہے ہو بس دیکھتے جاؤ کہ میں نے اتنے پیسے کس لیے بھرے ہیں۔

پھر اس نے اس لڑکی کی ایسی ایسی  ویڈیوز اور تصاویر  دکھائیں کہ میں حیران ہو گیا۔
اسے کہا کہ یار اس کی عزت نہ اچھالو۔ وہ کہتا جس نے اپنی عزت کا خود خیال نہ کیا ہو اس کی عزت کا پاس میں کیوں کروں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اور  دوست سے بات ہوئی جو استعمال شدہ موبائل فون کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے۔

میں نے پوچھا کہ اس کام میں اتنی بچت کیسے ہے جبکہ ایک دن میں  دو چار موبائل سے زیادہ کی تو خرید و فروخت نہیں ہو پاتی ہے؟

تھوڑی بہت رد وکد کے بعد اس نے بتایا کہ جب بھی کوئی موبائل ہمارے پاس بکنے یا ٹھیک ہونے  کے لیے آتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ موبائل کس کے زیر استعمال رہا ہے۔

اس پر خاص نظر یہ رکھی جاتی ہے کہ اگر موبائل کالج یا یونیورسٹی کے کسی شاطر اور ہینڈسم لڑکے یا خوبصورت لڑکی کے زیر استعمال رہا ہو تو کسی بھی صورت میں اسے خرید لیا جاتا ہے (اس کے الفاظ کو مہذب الفاظ میں لکھا ہے ) یا ٹھیک ہونے کے لیے آیا ہو تو کل کا وقت دیا جاتا ہے۔

پھر ایسے موبائل کو سب سے پہلے ڈیٹا ریکوری پر لگایا جاتا ہے۔

اب کوئی بھی موبائل ایسا نہیں ہوتا جس میں قابل اعتراض تصاویر نہ ہوں۔

دوسری تصاویر کے تقابل سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز اس کی اپنی ہیں یا انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔

اپنی ہوں تو ویڈیوز اور تصاویر کی تعداد، کوالٹی  وغیرہ کے لحاظ سے بیچا جاتا ہے۔ جہاں سے یہ مختلف بالغ ویب سائٹس کو فروخت ہوتی ہیں۔

مزید اس نے بتایا کہ جب بھی آپ موبائل ٹھیک کروانے جائیں تو چاہے چھوٹا سا بھی مسئلہ ہو یہی کہا جاتا کہ کل  ٹھیک ہو گا۔

وجہ یہ ہوتی کہ جب کوئی موبائل بیچنے آتا تو اکثر سب کو اڑا کر  سیٹنگ کر کے لاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیٹا  ریکوری تھوڑی مشکل ہوتی ہے مگر جو ٹھیک کروانے لائے تو اس کا تو فوراً سے سب کچھ سامنے آ جاتا ہے۔ پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موبائل کس کے زیر استعمال ہے۔

وہاں سے یہ اکثر ہاتھ لگتا ہے۔

اس دوست کے بقول شاید ہی کوئی موبائل والا ہو جو یہ نہ کرتا ہو ورنہ ہر دکاندار  مہنگے مہنگے ڈیٹا ریکوری سافٹ وئیر خرید کر رکھتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سب کا حل کیا ہے؟

پہلی بات تو یہ کہ جب بھی کوئی موبائل لیں تو اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں اور پھر اسے لمبے عرصے تک استعمال کریں اور کبھی نہ بیچیں۔

بیچنا ناگزیر ہو تو پھر کم سے کم چار پانچ مرتبہ اس کو مختلف غیر ضروری فائلز سے بھریں اور ری سیٹ کر کے سب کچھ اڑائیں۔

پانچ دفعہ ایسے کرنے سے بہت کم ایسا چانس ہوگا کہ کچھ ملے اور اگر کچھ ریکور ہو بھی گیا تو دوسری فائلز اتنی زیادہ ہونگی کہ ان میں سے اصل کو ڈھونڈنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو گا۔

کبھی موبائل ٹھیک کروانا پڑے تو پاس کھڑے ہو کر کروائیں اور جو کہے کہ کل لے جانا اسے ہرگز نہ دیں۔

کہے کہ کوئی پرزہ منگوانا پڑے گا تو  اسے کچھ ایڈوانس رقم دے کر کہیں کہ منگوا لیں میں کل آ جاؤں گا۔ 

لیکن اس سے بھی زیادہ اچھا یہ ہے کہ ایسا کچھ بنائیں ہی نہ اور موبائل کو پاک صاف رکھیں
(اگرچہ یہ آج کل کے دور میں بہت ہی مشکل ہے کہ کوئی اس پر عمل پیرا ہو)۔

اور آخری اور سب سے اہم گزارش نوجوانوں کے والدین سے ہے۔
آپ کی اولاد چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہی جوان ہوجاتی ہے۔
اور جوان ہوتے ہی جنسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا بیٹا یا میری بیٹی تو بہت شریف ہے تو یہ غلط استدلال ہے۔ کیونکہ جب ایک ضرورت ہے تو اسے جائز طریقے سے پورا کرنے کا انتظام نہیں کریں گے تو وہ غلط طریقے سے ہی پورا ہو گا۔
  گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا تعلق بہت عام ہے اب اور اس تعلق میں موبائل کے ذریعے ویڈیوز اور تصاویر کا تبادلہ بھی کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے۔

اپنے بچوں کی بالغ ہوتے ہی شادی کر دیں اور وہاں جہاں وہ چاہیں۔

ذات برادری کے بکھیڑوں سے اب نکل آئیں۔ ورنہ آپ کی یہ فضول ضد آپ کی اولاد کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر دیتی ہے۔
اگر کسی بھی وجہ سے رخصتی ممکن نہیں ہے تو پھر بھی نکاح لازمی کر دیں اور وہ بھی خود ان کی پسند سے۔
شئیر لازمی کریں تاکہ بہت سارے لوگوں کا بھلا ہو جائے۔
--------------------------------

‏عورت جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے. ویسے ویسے فحاشی اور بے حیائی پھیل رہی ہے. گھر کا مرد ظالم بنتا جا رہا ہے اور باہر کا مرد ہمدرد بنتا جا رہا ہے......!!

یہ سب کچھ ہو رہا یے. اور زیادہ ہو رہا ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو کامل ایمان پر موت عطاء فرمائے آمین۔

Share:

Jab British PM Tony Blair Ki Biwi ne Islam Qubool kar ke Hijab Pehana.

Aaj Fahashi ko rokna dahshatgard se bhi jyada bada Challange hai?

British PM Tony Blair ki biwi ne Islam qubool karke Hijab pehana.

जब ब्रिटिश प्रधान मंत्री टोनी ब्लेयर की बीवी और बेटी ने पूरे मजलिस में हिजाब पहना था और दूसरी औरतों से भी ऐसा करने को कहा था।

جب برطانوی وزیر اعظم کی بیوی نے اسلام قبول کر کے پورے مجلس میں حجاب کیا۔

بے حیائی تو دہشتگرد سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟
مُسلمِ لڑکیاں جس طرح سے مغربی لباس کو اپنا رہی ہے، اس سے لگتا ہے کے یہ اس قوم کے لیے سب سے بڑا زہر ہے جو مسلم نوجوانوں کو اپنے طرف مائیل کر رہی ہے۔ دہشتگرد سے بھی زیادہ خطرناک۔

   "حـجــــاب"

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی بیگم کی سگی بہن لارن بوتھ کی ویڈیوز قارئین نے دیکھی ہوں گی۔

ایک تقریب میں ان کی دونوں معصوم بیٹیاں ان کے ساتھ کھڑی ہیں اور وہ حاضرین کو بتارہی ہیں کہ "جب کافی مطالعے کے بعد میں اسلام کی طرف راغب ہوئی تو میں نے اپنی بیٹیوں کو بتایا کہ اب میں مسلمان ہونے جارہی ہوں، اس پر انھوں نے مجھ سے کچھ سوال پوچھے.

ایک سوال تھا،


"Mom! will you open your chest to the public ?"

(ماما کیا آپ مسلمان ہونے کے بعد بھی سینہ نمایاں کرکے لوگوں میں پھریں گی؟)

میں نے کہا

"Oh no I will cover my whole body"

اس پر انھوں نے بڑے زور سے پُر مسرت نعرہ لگایا.
"۔ پھر وہ سامعین سے مخاطب ہوئیں "میرا حجاب میرے مسلمان ہونے کا سمبل ہے، یہ میرے لیے شرف اور افتخار کا باعث ہے۔
مجھے حجاب سے اس لیے محبت ہے کہ میرے اﷲ سبحانۂ تعالیٰ کی خوشی اور خوشنودی اِسمیں ہے"۔

دو سال پہلے وہ پاکستان تشریف لائیں تو ان سے ملاقات بھی ہوئی، ایک محفل میں وہ پاکستانی خواتین کو بار بار کہتی رہیں کہ
" پاکستانی لڑکیوں کو بتائیں کہ عریاں اور ٹرانسپیرنٹ لباس پہننا یا ٹائٹس پہن کر خود کو نمایاں کرنا ماڈرن ازم نہیں، بے حیائی ہے۔

انھیں بتائیں کہ شیطان کا پہلا حملہ عورت کے لباس پر ہوتا ہے۔ مسلم  خواتین کو اپنی تہذیب اور اپنے کلچر پر فخر کرنا چاہیے، مغرب، اسلامی معاشروں سے حیاء کا سرمایہ چھین کر مسلمان لڑکیوں کو بے حیا بنانا چاہتا ہے، وہ مسلمانوں کی حمیت ختم کرنے کے لیے حیاء کے قلعے کو مسمار کر دینا چاہتا ہے"۔

جاپانی نو مسلمہ خولہ لکاتا حجاب کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں،
" میرا حجاب میرے لیے اپنے آپ کو اﷲ کے سپرد کرنے کی یاد دہانی ہے۔ حجاب پہن کر مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں اﷲ کے زیادہ قریب ہوگئی ہوں۔ جس طرح پولیس اور فوج کا سپاہی وردی میں اپنے پیشے کے تقاضوں کا خیال رکھتا ہے اسی طرح حجاب بھی مجھ سے کچھ تقاضے کرتا ہے۔ اسلام عورتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غیر مردوں سے اپنا جسم پوشیدہ رکھیں۔ اس کی حکمت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے۔ نیم عریاں یا ہیجان انگیز لباس کا مطلب ہوتا ہے اگر آپ کو میری ضرورت ہے تو میں تیار ہوں، جب کہ حجاب واضح طور پر بتاتا ہے "میں آپ کے لیے ممنوع ہوں۔"

میرے لیے بڑی بہن کی طرح محترم لاہور کالج فارویمن کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ متین صاحبہ (اﷲ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائیں) سے اس موضوع پر بات ہوتی رہتی تھی۔

ایک مرتبہ کہنے لگیں، "مجھ سے کچھ طالبات حیاء کے بارے میں جب کہتی ہیں، "میڈم! حیاء تو دل میں یا آنکھوں میں ہوتی ہے، اس کا لباس سے کیا تعلق ہے" تو میں انھیں بتاتی ہوں "بیٹا! کچھ لوگ بیہودہ لباس کے دفاع میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔

حیاء کا لباس سے گہرا تعلق ہے۔
جو لڑکی اپنے جسم کے فیچرز اور اُبھار ڈھانپتی ہے وہ باحیاء ہے اور اگر کوئی لڑکی اپنے فیچرز اور خدوخال سرِ عام دکھانے میں شرم محسوس نہیں کرتی تو وہ بے حیائی ہے"۔

انھوں نے بتایا کہ "میری ایک بیٹی ڈاکٹر ہے۔
ایک دن اس نے مجھے خود کہا کہ امّی میں پورے بازوؤں والی قمیض پہن کر اسپتال جایا کروں گی کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتی کہ وارڈ میں مریض میرے ننگے بازو دیکھتے رہیں "۔

ڈاکٹر صاحبہ نے مزید کہا،  " نئی نسل کو بے حیائی سے بچانا ہمارا بہت بڑا چیلنج ہے۔ دہشت گردی سے بھی بڑا! اس کے لیے ماؤں اور ٹیچرز کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا، انھیں چاہیے کہ بے حیائی کے خلاف ڈٹ جائیں اور پوری جرأت سے اس کے خلاف نفرت کا اظہار کریں۔ انھوں نے اپنے فرائض سے کوتاہی برتی تو وہ مجرم ٹھہریں گی۔`

نوٹ : اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے ۔

---------------------

‏ڈگری تو ایسی ہونی چائیے جو آپکو باوقار اور باحیاء با حجاب بنا دے
ناکہ ایسی جو آپکا حجاب تو ایک طرف آپکے سر سے دوپٹہ بھی اتروا دے.

اسلام کی شہزادیوں سے گذارش ہے کہ اس تحریر کو دوسروں تک زیادہ سے زیادہ بھیجیں اور صدقۃ جاریہ میں حصہ لیں۔

آخری لباس

دنیا کے لیے خوبصورت ، مہنگے ، اور برانڈڈ لباس بنواتے ہوئے اپنے اس آخری لباس کو فراموش نہ کر دیجیگا۔
معلوم نہیں دنیا کے جو لباس ہم تیار کروارہے ہیں وہ پہننا نصیب ہو یا نہیں۔ لیکن یہ وہ لباس ہے جو یقینا پہننا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے بہترین اختتام کی دعا کیجیے!

Share:

Waisi Ladkiyaan jo Na Mehram ke Muhabbat me padi hui hai.

Muslim Behano se request khud ko dusro ke Mukable mamooli na samjhen.

#Muslim Girls, #Islamic Parda, #Muslim women's, #Hijab #Parda #NaMehram #Nikah

گفتگو ہی بتا دیتی ہے کہ تربیت کی گئی ہے یا فقط پالا گیا ہے.

اے بنت حوا

*خود کو اس کتاب کی طرح نہ بناؤ جسے ہر کوئی جب دل چاہا وقت گزارنے کے لئے پڑھتا ہے جو ہر کسی کو آسانی سے میسر ہو اور جسے پڑھنے کے بعد انسان بھٹک جائے*

  بلکہ

*خود کو اس کتاب کی طرح بناؤ جو لحاف میں لپٹی ہوتی ہے باپردہ جسے ہاتھ لگانے سے پہلے انسان خود کو پاک کرتا ہے.
*جسے پڑھ کر انسان سیدھی راہ پر چلتا ہے*.. ... . . . ✍️

ابھی دنیا میں وہ خمر کشیدہ ہی نہیں کی گئی جس کا نشہ ‘ آدھی رات کو کسی نامحرم سے موبائل پہ بات کرنے سے زیادہ ہو۔

‏غیرمحرم کی محبت بھی اک بیماری ہے
اِس بیماری میں گرفتار قوم ساری ہے
سر ہے سجدے میں مگر دل ہے موبائل کی طرف
کوئی پیارا ہے کسی کا تو کوئی پیاری ہے

جھوٹ کو سچ کے تصور کی روشنی دے کر
رسمی جملوں سے محبت کی اداکاری ہے
دل میں سختی ہے عبادت میں دل نہیں لگتا
راہِ جنت نہیں یہ راہِ بیقراری ہے

‏دیکھ کر پھر ڈیلیٹ کرنے کی باتیں ہونگی
پیار کی آڑ میں دراصل یہ بد کاری ہے
جرم کو خیر کا خوش رنگ سا عنواں دینا
نفس و شیطان کی عیاری و مکاری ہے

مبتلائے عذابِ عشقِ مجازی ہونا
بے سکونو!   یہی اسلام سے غداری ہے
ظاہراً ہنستے ہیں خوشحال نظر آتے ہیں
دل کی دنیا میں مگر روز عزاداری  ہے

غیر محرم سے نگاہوں کو ہٹا کر دیکھو
جان لو!  شعبہءِ ایمان حیا داری ہے
آج موقع ہے گناہوں سے کنارہ کر لو
رب مہربان ہے توبہ ہی سمجھداری ہے
۔

Share:

Jab Ek Padhi likhi Ladki ki Shadi uske Marji ke khilaf Jahil ladke se kar di gayi.

Jab Ek Padhi likhi Ladki ki Shadi ek Anpadh aur Jahil se ho gayi.

Shahjadi jo ke ek Heigh Educated ladki hai , Jiska Khawab tha ek khub padhe likhe aur Amir Zade ladke se Shadi karne ka lekin Uski Shadi Umar nam ke ek uneducated ladke se ho gayi.

Umar Ab meri Zindagi hai
Aur Mai Umar ki Shahjadi

میری شادی ایک ان پڑھ سے ہوئی تھی.

جبکہ میں پڑھی لکھی ہوں

میرا نام شہزادی ہے سچ بتاوں تو میرا خواب تھا ایک پڑھا لکھا اچھا کمانے والا لڑکا

لیکن کچھ مجبوریوں میں عمر سے شادی کر دی گئی۔

مجھے عمر سے بدبو آتی تھی

ان کا کام  اتنا  اچھا نہ تھا

خیر میں اللہ کے سامنے رو کر دعا مانگتی  تھی یا اللہ

یا تو عمر کو مار دے یا پھر اس سے جان چھڑوا دو میری کسی طرح۔

وہ جاہل سا بولنے کا بھی نہیں پتا

میں ہر بات پہ عمر کو بے عزت کر دیتی

تنقید کرتی عمر پہ، غصہ کرتی

عمر مجھے پیار سے سمجھاتا

کبھی چپ ہو جاتا

کبھی غصہ ہو کر گھر سے  باہر چلا جاتا

میں ایک بار جھگڑ کر امی ابو کے پاس چلی گئی اور ضد کی کے بس طلاق لینی ہے عمر سے۔

امی ابو نے بہت سمجھایا کے بیٹی لڑکا اچھا ہے ، نہ کرو ایسا

بس بیچارہ پڑھا لکھا نہیں ہے۔

باقی کیا کبھی اس نے تم پہ ہاتھ اٹھا یا یا گالی دی ہو۔

لیکن میں بس طلاق لینا چاہتی تھی۔

میں نے جھوٹ بولا کے وہ خرچہ نہیں دیتا مجھے۔

امی ابو نے عمر کو بلوا لیا۔

وہ میرے سامنے بیٹھا تھا

امی ابو کہنے لگے عمر کیوں بھای تم شہزادی کو خرچہ کیوں نہیں دیتے۔

عمر بابا سے مخاطب ہو کر بولا......

انکل جی جو کما کر لاتا ہوں سب اخراجات نکال کر جو بچتا یے شہزادی کے ہاتھ پہ رکھ دیتا ہوں۔

میرے چاچا  تایا سب موجود تھے وہاں۔

میں بولی  مجھے 30 ہزار روپے ہر مہینے چاہئے بس

اس شرط پہ ہی جاوں گی میں عمر کے ساتھ۔

عمر خاموش ہو گیا

سر جھکائے بیٹھا تھا

چاچا بولے  ہاں عمر دے سکتے ہو خرچہ 30 ہزار۔

کچھ لمحے خاموش رہا پھر میری طرف دیکھنے لگا

لمبی سانس لی اور بولا ٹھیک ہے میں شہزادی کو 30 ہزار روپے دوں گا الگ سے ہر مہینے۔

میں نے دل ہی دل میں  گالی دینا شروع کر دی
" کمینے دیکھنا جینا حرام کر دوں گی تمہارا "

میں عمر کے ساتھ چلی گئی۔

اب بجلی ، پانی ، گیس  کا بل ، راشن کھانا سب اخراجات بھی تھے۔

عمر سے جب بھی پوچھا کیا کام کرتے ہو تو کہتا گورنمنٹ آفس میں کام کرتا ہوں۔

اس کے علاوہ نہ میں کبھی پوچھا نہ اس نے بتایا۔

خیر عمر مجھے ہر مہینے 30 ہزار روپے دیتا لیکن مجھے اب بھی اس کے لیے میرے دل میں نفرت ہی تھی اور میں اسے بہت ہی بُرا انسان، کام چور اور دیہاتی جاہل سمجھتی تھی۔

ایک دن میں نے کہا مجھے آئی فون لیکر دو

میں بس تنگ کرنا چاہتی تھی کے عمر مجھے طلاق دے دے۔

عمر مسکرانے لگا

میرے پاوں پکڑے اور بولا شہزادی دے دوں گا پریشان  نہ ہو۔

تم بس مجھے چھوڑ کر جانے کی بات نہ کیا کرو

جو کہو گی کروں گا۔

میں کبھی کھانے میں مرچ ڈال دیتی تو کبھی زیادہ نمک، میں نے کئی بار خانے میں زہر بھی ڈالنے کی سوچی........ کیونکہ میں اس سے نفرت کرتی تھی اسلئے کے وہ تعلیم یافتہ اور دولت مند نہیں تھا۔

وہ تھکا ہارا کام سے آتا کھانا کھا کر بے ہوشی کی طرح سو جاتا۔

نہ جانے کون سا کام کرتا تھا کے اتنا تھک جاتا تھا۔

میں جتنی نفرت کرتی تھی اس جاہل سے ، وہ اتنی محبت کرتا تھا۔

میں ایک دن اپنی دوست کے ساتھ کار میں شاپنگ کرنے جا رہی تھی شہر کے سب مہنگے اور بڑے مال میں۔

جب ہم ایک بس اڈے کے پاس سے گزرے تو

میری زندگی نے جو لمحہ دیکھا

میں بے جان ہو گئی

وہ عمر جسے میں بہت نفرت کرتی تھی

جس کو میں جاہل ان پڑھ کہتی  تھی

جس کو کبھی میں نے پیار سے کھانا تک نہ دیا تھا بلکہ میں اس کے مر جانے کے لیے دعا کرتی تھی.... اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور میرے دل میں اس ان پڑھ کے لیے ذرا سی بھی ہمدردی نہیں تھی۔

جس کا کبھی حال نہ پوچھا تھا۔

جسے میں انسان ہی نہیں سمجھتی تھی۔

جسے میں قبول ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

وہ عمر سر پہ بوجھ اٹھائے کسی کا سامان بس پہ چڑھا رہا تھا۔

ٹانگیں کانپ رہی تھی

پرانے سے کپڑے پہنے

پسینے سے شرابور .....

پیر میں ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی .....

کاش میں مر کیوں نہ گئی تھی

وہ میرے لیئے کیا کچھ کر رہا تھا

اتنے میں ایک شخص بولا اوئے چل یہ سامان اٹھا اور دوسری بس کے چھت پہ لوڈ کر۔

عمر کو شاید بھوک لگی تھی

ہاتھ میں روٹی پکڑی رول کیا ہوا

ساتھ روٹی کھا رہا تھا ساتھ سامان اٹھا رہا تھا

میں قربان جاوں

میرا عمر میرے لیئے کس  درد سے گزر رہا تھا۔

میں آنسو لیئے دیکھتی رہی

کام ختم ہوا

وہاں سائیڈ پہ ایک دکان کے سامنے زمین پہ بیٹھ گیا

کتنی بے بسی تھکن تھی عمر میں

سارا دن وہاں درد سہنا اور رات کو میرے غصے کو خاموش سن کر رہ جانا۔

وہ حادثہ تھا یا اللہ کی مرضی بس میرا دل بدل گیا۔

میں بن بتائے کچھ خریدے  گھر واپس لوٹ گئی۔

بہت روئی تھی بہت  زیادہ

عمر کو پلاو پسند تھا میں نے پلاو بنایا

عمر گھر آیا

میں اسے کھانا نہیں دیتی تھی خود گرم کر کے کھاتا تھا

گھر آیا

مجھ سے سلام کیا کچن  میں گیا۔

پلاو دیکھ کر بولا شہزادی آج تو آپ نے کمال کر دیا

ایک سال بعد پلاو  کھانے لگا ہوں۔

کھانا پلیٹ میں ڈال کر میرے پاس بیٹھ گئے کھانا کھانے لگے میں عمر کی طرف دیکھے  جا رہی تھی۔

عمر کتنا درد سہتا  ہے اور بتاتا بھی نہیں

میں کتنی اذیت دیتی ہوں کوئی شکوہ نہیں۔

عمر پہ آج مجھے بہت پیار آ رہا تھا

دل چاہ رہا تھا سینے سے لپٹ جاوں

عمر نے کھانا کھایا

پھر جیب سے پیسے نکالے کہنے لگا یہ لو شہزادی 30 ہزار

میں چیخ چیخ کر رونے لگی عمر کے پاوں چوم لیئے۔

عمر مجھے کچھ بھی نہیں چاہئے

مجھے یہ پیسے  نہیں چاہئے

عمر حیران تھا مجھے کیا ہو گیا ہے۔

عمر نے میرا ہاتھ تھاما اور بولا

اگر یہ پیسے کم ہیں تو اور لا دوں گا مجھے چھوڑ کر نہ جانا

کہنے لگے شہزادی بہت بھولی ہو تم
پاگل تم بچھڑنے کے بعد کہاں بھٹکو  گی؟ خدا جانے۔

بہت پیار کرتا ہوں نا تم سے اس لیے تم کو خود سے دور نہیں کر سکتا۔

میں عمر کے سینے سے لگ گئی آج مجھے

نہ کوئی آئی فون چاہئے تھا نہ کوئی بڑا گھر , گاڑی

مجھے اب دنیا کی کوئی خبر نہ تھی میری دنیا عمر بن چکا تھا

ہم عورتیں کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیتی ہیں جب کھلا نہیں سکتے تھے تو شادی کیوں کی؟

بات بات پہ جھگڑا اور طعنے شروع کر دیتی ہیں۔۔۔۔

کبھی اہنے شوہر کا وہ چہرہ دیکھنا جسے میں نے عمر کا دیکھا تھا۔

خدا کی قسم  ہم ایک سانس نہ لے سکیں اس ماحول میں یہاں مرد اپنی فیملی کے لیئے خود کو قربان کر دیتا ہے۔

جتنے شوہر کماتا ہے اس پہ خوش رہو۔

پیسہ بھی سب کچھ نہیں ہوتا۔

خدا کی قسم مجھے بڑی گاڑیوں اور اے سی والے محل میں وہ سکون نہیں ملا جو سکون  عمر کی بانہوں  میں آتا ہے۔

جو سکون عمر کا سر دبانے میں آتا ہے ۔جو سکون

عمر کی پسند کے کھانے بنانے میں آتا ہے۔

ہمسفر کی بے بسی کو سمجھو تو سہی

دیکھ تو سہی

آپ کبھی جھگڑا نہیں کریں گی

عمر اب میری زندگی ہے

اور میں عمر کی شہزادی۔

Share:

Muslim Ladkiyaan Gair Muslimon ke Sath Bhag kar Kyu Shadi kar rahi hai? Part 02

Musalman ladkiyaan Gair Muslimon ke Sath bhag kar Kyu Shadi kar rahi hai?

Muslim Ladkiyaan Gair Muslimon ke Sath Bhag kar Kyu Shadi kar rahi hai? 02

Muslim Ladkiyaan Gair Muslimon ke Sath Bhag kar Kyu Shadi kar rahi hai? Part 01

"Mera Jism Meri Marji" Fitrat ke khilaf. 

‏عورت جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے. ویسے ویسے فحاشی اور بے حیائی پھیل رہی ہے. گھر کا مرد ظالم بنتا جا رہا ہے اور باہر کا مرد ہمدرد بنتا جا رہا ہے......!!

" مسلم لڑکیاں اور فتنہ ارتداد " 02
                                              
  ایک مسلم لڑکی کی کہانی جس نے غیر مسلم لڑکے کے ساتھ بھاگ کر شادی کر لی اور وہ ہندو مذہب کے اصولوں پر چلنے لگی، لیکن بعد میں فی اس ہندو لڑکے نے اسے چھوڑ دیا اور دوسری لڑکی سے جو اسکے جات برادری کی تھی اس سے شادی کر لی۔

عملیات ,دعا تعویذ کے نام پر ہونے والے  فراڈ  اور فرضی اور جعلی باباؤں کی حقیقت کے بارے میں جاننے اور  "باباازم  " کے نام سے لکھی جانے والی قسط کے لیے مواد اکٹھا کرنے کی غرض سے ضلع مہراج گنج کے کچھ جگہوں کا دورہ ہوا جہاں یہ بھی دیکھا گیا کہ مسلم لڑکی  غیر مسلم لڑکا سے ناجائز تعلق رکھتی تھی۔
دونوں شادی کرنا چاہتے تھے لیکن مسلم لڑکی کے گھر والے راضی نہیں تھے تو مسلم لڑکی اپنے عاشق کے ساتھ غیر مسلم ڈھونگی تانترک کے پاس آئی تھی۔

وہ کفریہ و شرکیہ کلمات پر مشتمل کچھ منتر پڑھنے کے لیے دونوں کو دیا اور بدلے میں پانچ ہزار روپئے لیا  !

پھر خبر ملی کہ کچھ دنوں کے بعد دونوں بھاگ کر گجرات چلے گئے جہاں کورٹ میرج کر لیے اب مسلم لڑکی مرتدہ ہوگئی تھی۔

جو کبھی ایک وقت کی نماز نہیں پڑھتی تھی اور  نو ,دس بجے تک سوتی تھی اب صبح سویرے اٹھ کر نہا دھوکر پوجا پاٹھ کے لیے مندر جانے لگی , اور سب کچھ کام کرنے کے لیے جو ہندو مذہب میں کیا جاتا ہے تاکہ اس کا شوہر اور اس کے گھر والے راضی رہیں۔

لیکن یہ رشتہ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکا, لڑکا اور اس کے گھر والے جہیز کا مطالبہ کرنے لگے اور آئے دن مارپیٹ کرنے لگے , لڑکی کا پوجا پاٹھ کام نہ آ سکا اور ایک دن لڑکے نے دوسری شادی کرلی اور اس کو گھر سے باہر نکال دیا یہ پولیس اسٹیشن گئی لیکن وہاں اس کی شکایت پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

مجبورا یہ اپنے میکے  چلی آئی کسی طرح مائیکے والے اپنے گھر رکھنے کے لیے راضی ہوئے پھر ایک ادھیڑ عمر کے شرابی مسلم سے شادی کر دیئے۔
جہاں اب یہ لڑکی جوانی میں کی گئی اپنی غلطیوں کی سزا بھگت رہی ہے!

یہ صرف ایک لڑکی نہیں ہے جو فتنہ ارتداد کا شکار ہوئی اور اپنی عزت و آبرو لٹا چکی ہے اور اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر  نہ بنا سکی اور سب کچھ برباد کرچکی اور اپنے خاندان کی پیشانی پر بدنما داغ بن چکی ہے بلکہ کئی ہزار مسلم لڑکیاں اس خطرناک فتنے کا شکار ہوئیں اب بھی ہو رہی ہیں ۔

‏ڈگری تو ایسی ہونی چائیے جو آپکو باوقار اور باحیاء با حجاب بنا دے
ناکہ ایسی جو آپکا حجاب تو ایک طرف آپکے سر سے دوپٹہ بھی اتروا دے.

ؔمحمد عباس الازہری

Share:

Muslim Ladkiyaan Gair Muslimon ke Sath Bhag kar Kyu Shadi kar rahi hai? Part 01

Muslim Ladkiyaan Gair Muslimon ke Sath bhag kar Shadi kyu kar Rahi hai?

Muslim Behano ke nam ek Khas Paigham.

Muslim Ladkiyaan Gair Muslimon ke Sath Bhag kar Kyu Shadi kar rahi hai? Part 02

"My body My Choice" ka nara Qudrat ke khilaf. 

" مسلم لڑکیاں اور فتنہ ارتداد " 01


                                            آج کل ماڈرن اور اعلیٰ تعلیم کے نام پر مسلم گھرانے کی لڑکیاں کس طرح غیر مسلموں کے ساتھ بھاگ کر شادی کر رہی ہے؟
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں یہ لڑکیاں ہندو لڑکوں کے ساتھ بھاگ کر اپنی جسم کی آگ کو ٹھنڈا کر رہی ہے؟
کچھ لوگ کہینگے کے دینی تعلیم کی کمی کی وجہ سے تو یہ کمی آئی کیسے؟
کیا مسلم معاشرے میں سب کی غیرت ختم ہو چکی ہے، مسلم بھائیوں کے لیے کیا یہ شرم کا مقام نہیں ہے؟
کیا مسلم گھرانے کے مدد حضرات سب بے غیرت بن چکے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ان لوگوں نے اپنی بہن اور بیٹیوں کی تربیت کیسے کی ہے؟
کیا انہوں نے اپنی بہن ، بیٹیوں کو ٹیلیویژن ، فلمی ڈرامے اور سیریلز سے ٹریننگ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ اس کی نقل کر کے حقیقی زندگی میں  اس پر عمل کریں؟
                                            آج کل ماڈرن اور اعلیٰ تعلیم کے نام پر مسلم گھرانے کی لڑکیاں کس طرح غیر مسلموں کے ساتھ بھاگ کر شادی کر رہی ہے؟

آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں یہ لڑکیاں ہندو لڑکوں کے ساتھ بھاگ کر اپنی جسم کی آگ کو ٹھنڈا کر رہی ہے؟
کچھ لوگ کہینگے کے دینی تعلیم کی کمی کی وجہ سے تو یہ کمی آئی کیسے؟
کیا مسلم معاشرے میں سب کی غیرت ختم ہو چکی ہے، مسلم بھائیوں کے لیے کیا یہ شرم کا مقام نہیں ہے؟
کیا مسلم گھرانے کے مدد حضرات سب بے غیرت بن چکے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ان لوگوں نے اپنی بہن اور بیٹیوں کی تربیت کیسے کی ہے؟
کیا انہوں نے اپنی بہن ، بیٹیوں کو ٹیلیویژن ، فلمی ڈرامے اور سیریلز سے ٹریننگ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ اس کی نقل کر کے حقیقی زندگی میں  اس پر عمل کریں؟

"مقاصدِ شریعت " دین و مذہب,  جان و مال, عزت و آبرو اور کی حفاظت و صیانت کا نام ہے لیکن موجودہ دور میں  عربی و فارسی کے علاوہ فلمی اداکار اور اداکارہ کے نام پر  اپنے بچے اور بچیوں کا نام رکھنا, صرف جمعہ, عید یا پنچ وقتہ نماز ادا کرنے اور میلاد  وغیرہ کو اسلام کا نام دینا یہی زیادہ تر  انڈین مسلم سمجھتے ہیں۔

  جس کے نتیجے میں  جدید تعلیم کے نام پر مسلم گھرانے اپنی لڑکیوں کو آزاد روش اختیار پر کوئی اعتراض نہیں کرتے ہیں ,گاؤں دیہات میں جوان لڑکے  بلا روک ٹوک مسلم گھروں میں آتے رہتے ہیں اور شہروں میں کلاس میٹ , بوائے فرینڈ, سہلی کا بھائی وغیرہ کے نام پر گھر سے باہر گھومنے , پارٹی میں شریک ہونے پر کوئی روک نہیں لگاتے ہیں اور  ہر لڑکی کے ہاتھ میں موبائل نے جو کمی رہ گئی تھی اس نے پورا کر دیا!

روزآنہ خبریں آ رہی ہیں کہ فلاں جگہ فلاں مسلم لڑکی فلاں غیر مسلم لڑکے کو لے کر بھاگ گئی , مندر میں شادی کر لی !

عام طور پر لوگوں کی یہ سوچ بنی ہوئی تھی کہ دین , اسلام و شریعت نہ جاننے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، لیکن جب کچھ عالمات اور معلمات غیر مسلم کے ساتھ بھاگی ہیں اور مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی ہیں اور اس کو کورٹ میں پیش کر کے میریج کا رجسٹریشن کرایا ہے تب سے پتہ چلا کہ "فتنہ ارتداد " کے سیلاب میں چاہے جدید تعلیم یافتہ لڑکیاں ہوں یا دین کی تعلیم حاصل کرنے پر ردائے عالمیت و فضلیت کرنے والی لڑکیاں ہوں ,چاہے ان کا فیملی بیک گراؤنڈ مذہبی ہو یا موڈرن ہو۔

جو بھی اس فتنہ کے چنگل میں پھنس رہی ہیں وہ اپنی عزت و آبرو کو گنوانے کے ساتھ ساتھ مرتدہ ہو رہی ہیں اور شادی کے کچھ دنوں کے بعد "یوز اینڈ تھرو" والی کنڈوم بن جا رہی ہیں۔

اس کے بعد نہ ان کو ان کے گھر والے قبول کرتے ہیں اور میرے علم کے مطابق نہ ہی کوئی ایسی مسلم تنظمیم ہے جو ان کو سہارا دے , اس کے سامنے دو راستے بچتے ہیں یا تو طوائف خانے کا رخ کر لیں  ( جیسا کہ بہت ساری مسلم لڑکیاں کر رہی ہیں ) یا تو پیٹ پالنے کے لیے بلا تفریق مذہب و ملت اپنے آپ کو کسی  ہوس کے پجاری کے حوالے کر دے اس طرح ان کی زندگی جہنم بنتی جا رہی ہے.

اتنے بڑے فتنے کو روکنے کے لیے  قوم و ملت کے ٹھیکدار , نام نہاد دانشور , اعلی تعلیم یافتہ حضرات کوئی دلچسپی نہیں دیکھا رہے ہیں بلکہ خاموش تماشی بنے ہوئے ہیں یا اخباری بیانات کو کافی سمجھتے ہیں !!!
جاری ۔۔۔
✍محمد عباس الازہری

Share:

B. S. E. B. 10th Urdu Darakhshan Questions Answers Chapter 33.

B S E B 10th urdu Darakhashan Sawal o Jawab Chapter 33.

Bihar Matrice Urdu Darakhshan Sawal o Jawab chapter 33 Last.

BSEB #10th #Urdu #GuessPaper #UrduGuide #BiharBoard #SawalkaJawab #اردو #مختصر_سوالات

BSEB 10th Urdu Darakhshan chapter 28.

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 27.

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 26.

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 25.

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 01.

BSEB 10th Urdu Darakhshan chapter 29.

BSEB 10th Urdu Darakhshan chapter 11.

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 18.

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 17.

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 31

          گیت

جس طرح غزل اردو شاعری کی بہت ہی مقبول صنف ہے، اسی طرح ہندی کی شعری اصناف گیت کی صنف قدیم زمانے سے مقبول ہے۔

اردو زبان نے جہاں عربی اور فارسی کے اثرات قبول کرتے ہوئے فارسی اور دوسری زبانوں کی صنفوں کو اردو زبان میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے اُسی طرح شروع ہی سے یہ ہندی کے اثرات قبول کرتی رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کے اردو میں گیت نگاری کی روایت نہ صرف قائم ہو چکی ہے بلکہ یہ ارتقاء پذیر بھی ہے۔

گیت ہندی شاعری کی بہت ہی قدیم اور محبوب صنف ہے اور اردو میں ہندی مزاج کی نمائندگی کرنے والی یہ صنف بہت پہلے سے رائج ہے۔ قلی قطب شاہ سے لے کر آج تک کئی شاعروں کے یہاں اس کے نمونے ملتے ہیں۔

یہ دراصل دیہات کے عوام کی معصوم اور پاک دھڑکنوں کی ترجمانی ہے۔ کھیت کھلیان پر جاتے وقت مزدور کسان گنگناتے ہوئے اپنے دلوں کو تازگی بخشنے کے لیے ، شادی بیاہ میں رسموں کی ادائیگی کے وقت لڑکیوں کی رخصتی کے موقع پر جو نغمے گائے جاتے ہیں، وہ گیت ہے۔
اس لیے گیت جذبات کی سچی عکاسی کرتا ہے اور اُن میں نغمگی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

گیت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہندی کے نرم و نازک اور سبک رو الفاظ کا ہی استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
جس سے گیت میں کافی مٹھاس پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی حلاوت دل چھو لیتی ہے۔
بناوٹ کے اعتبار سے گیت کی ایک خاص اور سر سناخت ہے۔ وھدے حاضر میں اس صنف کو بخوبی برتنے والے شاعروں میں سلام مچھلی شہری ، بیکل اُستحاہی ، اجمل سلطان پوری، زبیر رضوی اور وسیم بریلوی کے نام قابل ذکر ہے نہیں بلکہ قابل فخر ہے۔

سلام مچھلی شہری 33۔   گیت

معروضی سوالات Objective Questions

(1) سلام مچھلی شہری کس صنف شاعری کے شاعر ہیں؟
جواب - گیت

(2) جمنا ندی ہمارے ملک کے کس صوبے سے زیادہ گزرتی ہے؟
جواب - اُتر پردیش

(3) تاج محل کس مغل بادشاہ نے تعمیر کرائی تھی ؟
جواب - شاہ جہاں

مختصر سوالات

(1) سلام مچھلی شہری کی زندگی پر پانچ جملے لکھیے۔
جواب -

(2) مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تاج محل کیوں تعمیر کی ؟
جواب - مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی محبوبہ بیوی کے یادگار میں تاج محل کی کروائی۔

(3) گیت لکھنے والے چار مسلم شاعروں کے نام بتائے۔
جواب -

(4) اس نظم میں شاعر نے کس کو بنسی بجاتے ہوئے پیش کیا ہے ؟
جواب - گھنشیام کو

(5) اشائیں فنا ہو کر کیا بہاتی ہیں ؟
جواب - امیدیں فنا ہوکر بھی محبوب کو امید اور وصل کا امرت رس نوش کرواتی ہے۔

(6) سلام مچھلی شہری کا اصل نام کیا تھا؟
جواب - عبد السلام

(7) اُن کی پیدائش کہاں ہوئی؟
جواب - اُتر پردیش کے مچھلی شہر کے جونپور قصبے میں۔

(8) اُن کی پیدائش کب ہوئی؟
جواب - 1 جولائی 1921 کو۔

(9) اُن کے والد کا نام کیا تھا؟
جواب - عبد الرزاق

(10) اُن کے دادا کا نام کیا تھا؟
جواب - محمد اسمٰعیل

(11) اُن کے انقلابی نظم مجموعے کا نام کیا تھا؟
جواب - میرے نغمے

(12) اُنہونے نے کس عمر میں شاعری شروع کی ؟
جواب - چودہ سال کی عمر میں

(13) اُن کی پہلی نظم کب شائع ہوئی؟
جواب - 1935 کے آس پاس اُن کی پہلی نظم ' نیرنگ خیالی  ' شائع ہوئی.

(14) اُن کا انتقال کب ہوا ؟
جواب - 1973 میں لاہور میں سلام مچھلی شہری کا انتقال ہو گیا۔

ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کا کردار۔

----------------------------------------

اگر آپ مزید تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔  سوال و جواب
بلاگ پر جانے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Aashiyana-E-Haqeeqat

Share:

B. S. E. B. 10th Urdu Darakhshan Questions Answers Chapter 32.

 BSEB 10th Urdu Darakhshan Questions Answers Chapter 32.

Bihar Matrice Darakshan Urdu Sawal o Jawab Chapter 32.

BSEB #10th #Urdu #GuessPaper #UrduGuide #BiharBoard #SawalkaJawab #اردو #مختصر_سوالات

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 31

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 28

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 27

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 25

BSEB 10th Urdu Darakhshan Chapter 01

      ظفر گورکھپوری 32۔  دوہے

                        دوہا

دوہا ہندی زبان کی ایک قدیم صنف سخن ہے۔ قدیم فارسی رباعی کی طرح دوہے کہ موضوعات بھی عام طور سے پند و نصائح اور مذہب اور اخلاق سے جڑے نکتے ہی تھے۔  دوہے کی زبان بھی بہت عام فہم اور سہل ہوتی تھی۔ جسے ہاٹ بازار، گلی کوچوں میں چلنے پھرنے والا ہر ادنیٰ و اعلیٰ آدمی سمجھ سکے۔
حال کے دنوں میں اردو دوہوں میں موضوعات نے بہت وسعت اور تنوع اختیار کر لیا ہے۔ اس میں ہر طرح کے موضوعات شامل کیے جا رہے ہیں۔
دوہے میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ ہر مصرعے میں ایک وقفہ ہوتا ہے یعنی ہر مصرعے میں دو چرن  ہوتے ہے۔
وقفے سے پہلے کا حصہ سم چرن اور بعد کا حصہ وشم چرن کہلاتا ہے۔
سم چرن میں تیرہ اور وشم چرن میں گیارہ ماترائیں ہوتی ہے۔ عام طور پر دوہے میں ردیف نہیں ہوتی لیکن ہو تو عیب نہیں بلکہ ایک حسن اضافی ہے۔

مختصر ترین سوالات

(1) ظفر گورکھپوری کی پیدائش کب ہوئی؟
جواب - 5 میء 1935

(2) ظفر گورکھپوری کی پیدائش کس ریاست میں ہوئی؟
جواب - اُتر پردیش ریاست کے گورکھپور واقع بانس گاؤں تحصیل کے بيدولی بابو گاؤں میں ہوئی۔

(3) ظفر گورکھپوری کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیات کیا ہے؟
جواب - کلاسیکل شاعری اور جدید شاعری کے ساتھ کیے گئے اُن کے تجربے کا خوبصورت میلان۔

(4) بچوں کے لیے ظفر گورکھپوری کے کون سے دو مجموعے شائع ہوئے ہیں؟
جواب - ناچ ری گڑیاں اور  سچائیاں

(5) ظفر گورکھپوری نے کن کن ملکوں کا دورہ کیا ؟
جواب - ریاست ہائے متحدہ امریکہ
             متحدہ عرب امارات
            سعودی عرب

(6) ظفر گورکھپوری کے مجموعے کا نام لکھیے۔
جواب - ظفر گورکھپوری کی شاعری کے اب تک سات مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔
        تیشہ
        وادی سنگ
       گوکھرو کے پھول
      چراغ چشم تر
      آرپار کا منظر
       زمین کے قریب
      ہلکی تھندی ہوا

مختصر سوالات

(1) ظفر گورکھپوری کا کون سا دوہا آپ کو سب سے زیادہ اچھا لگا اور کیوں؟
جواب - جاکر بیٹھے چار پل، کن پیڑوں کے پاس
          ظفر ہمارے بھاگ میں‌ شہروں کا بن باس

(2) پانچویں دوہے میں ' شہروں کے بن باس ' سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب - پانچویں دوہے میں شاعر نے شہر کی بھیڑ بھاڑ ، چینخ و پکار اور بے چینی ظاہر کی ہے۔
جہاں چین سے چار پل بھی نصیب نہیں ہوتا ہے۔ جو اطمینان اور سکون کسی شانت جگہ پر کسی پير کے سائے تلے ملتا ہے وہ کہیں اور کہاں؟
شہر میں جینا تو بن باس جیسا ہوتا ہے۔

(3) پیڑ  پر کلہاڑی گرنے سے شاعر کس طرح لہولہان ہوا؟
جواب - جب کوئی پیر پر کلہاڑی چلائے تو لگے کے میں ہی لہولہان ہو رہا ہوں ۔ شاعر اس طرح لہولہان ہوا ہے اس دوہے میں۔

(4) بچوں کے ٹیوی زیادہ دیکھنے پر شاعر کیوں دکھی ہے؟
جواب - شاعر اس لیے دکھی ہے کے ٹیوی دیکھنے کی وجہ سے بچے کتابیں پڑھنے پر کام وقت دیتے ہیں، جس سے کتابیں یونہی پری رہتی ہے اور انہیں کوئی پڑھنے والا نہیں ہوتا۔

(5) کمپیوٹر سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے؟
جواب - کمپیوٹر سے سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ اس نے آدمی کی سوچنے اور غور و فکر کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔ انسان اپنے ذہن کا استعمال کم سے کم کرتے جا رہا ہے۔ اس وجہ سے آدمی اس مشین کا غلام بن گیا ہے۔

------------------------------------

اگر آپ مزید تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔  سوال و جواب
بلاگ پر جانے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Aashiyana-E-Haqeeqat

Share:

B. S. E. B. 10th Urdu Darakhshan Questions Answers Chapter 31.

B S E B 10th urdu Darakhashan Sawal o Jawab Chapter 31.

Bihar Matrice Urdu Darakhshan Questions Answers Chapter 31.

BSEB #10th #Urdu #GuessPaper #UrduGuide #BiharBoard #SawalkaJawab #اردو #مختصر_سوالات

مختصر گفتگو  Objective Questions

      عرفان صدیقی۔ 31

(1) عرفان صدیقی کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
جواب - 8 جنوری 1939 بدایوں

(2) عرفان صدیقی کا تعلق کس خاندان سے تھا؟
جواب - شیخ صدیقی

(3) عرفان صدیقی نے میٹرک کا امتحان کب پاس کیا؟
جواب - 1953

(4) مولوی اکرام احمد شاد صدیقی اپنے عہدے کے سر سیّد سمجھے جاتے تھے؟ یہ عرفان صدیقی کے کون تھے؟
جواب - دادا

(5) عرفان صدیقی نے ماس کمیونیکیشن (Mass communication) میں ڈپلوما کہاں سے حاصل کیا؟
جواب - دہلی سے۔

مختصر ترین سوالات

(1) عرفان صدیقی کا انتقال کس بیماری سے ہوا؟
جواب - برین ٹیومر سے

(2) عرفان صدیقی کا انتقال کب اور کہاں ہوا؟
جواب - 16 مارچ 2004 کو لکھنؤ میں۔

(3) عرفان صدیقی کے مجموعے کس نام سے یکجا طور پر شائع ہوئے؟
جواب - دریا

(4) عرفان صدیقی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد کہاں سکونت پذیر ہوئے؟
جواب - لکھنؤ میں

(5) عرفان صدیقی نے کالی داس  کے ڈراما ' مالو یکا اگنی مترم ' کا ترجمہ کس نام سے کیا؟
جواب - مالیکا اور اگنی متر

(6) عرفان صدیقی کا اصل نام کیا تھا؟
جواب - عرفان احمد صدیقی

(7) اُن کی پیدائش کہاں اور کب ہوئی؟
جواب - 8 جنوری 1939 کو بدایوں میں

(8) اُن کے والد کا نام کیا تھا؟
جواب - مولوی سلمان احمد صدیقی

(9) اُن کے والد کا انتقال کب ہوا؟
جواب - 1981

(10) اُن کے والد کا پیشہ کیا تھا؟
جواب - پیشہ سے وکیل تھے اور اردو کے ادیب اور شاعر بھی۔

(11) عرفان صدیقی کے بھائی کا نام کیا تھا؟
جواب - نیاز صدیقی

(12) اُن کے دادا کا نام کیا تھا؟
جواب - مولوی اکرام احمد شاد صدیقی


(13) عرفان صدیقی کہاں تک تعلیم حاصل کی؟
جواب - 1953 میں میٹرک، 1955 میں انٹر، 1957 میں بی اے، 1959 میں ایم اے کیا۔ دہلی سے ماس کمیونیکیشن میں ڈپلوما کیا۔


(14) عرفان صدیقی کیسے شاعر تھے؟
جواب - عرفان صدیقی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔


طویل سوالات Long Questions

(1) عرفان صدیقی کی غزل گوئی کی خصوصیات بیان کیجئے۔
جواب - عرفان صدیقی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ اُن کے غزلوں کے معطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کے اُنہونے پرانے اور نئے شاعروں کے بھی اثرات قبول کیے اور اُن کی غزلوں کو ایک نیا رنگ اور نیا آہنگ عطا کر دیا، اور یہی وجہ ہے کے اپنے معاصرین میں منفرد غزل گو تسلیم کیے جاتے ہیں۔


(5) عرفان صدیقی کے حالاتِ زندگی بیان کیجئے۔
جواب - اُن کا اصل نام عرفان احمد صدیقی تھا۔ اُن کی پیدائش 8 جنوری 1939 کو بدایوں میں ہوئی۔ وہ شیخ صدیقی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے دادا اپنے وقت کے سر سیّد سمجھے جاتے تھے۔ اُن کی وفات 16 مارچ 2004 کو برین ٹیومر کے وجہ سے ہوئی۔

------------------------------

اگر آپ مزید تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔  سوال و جواب
بلاگ پر جانے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Aashiyana-E-Haqeeqat

Share:

India ki Aazadi aur Kanoon banane me Musalmano ka kirdar.

Hindusta ki Aazadi me Musalmano ka kirdar.

Indian Constitution ( संविधान ) banane me Musalmano ne ahem kirdar ada kiya tha.

आज जब मुल्क की असल पहचान मिटाकर इसे हिंदू राष्ट्र बनाने की कोशिशें जोड़ो पर है ऐसे वक्त में मुसलमानों को यह जानने जरूरी है के इस मुल्क की आजादी में मुसलमानों ने भी अपनी जानो की कुरबानिया दी और जब जरूरत पड़ा यहां की मिट्टी को मुसलमानों ने अपने खून से सींचा है।

मौलाना हसरत मोहानी और दीगर उलेमाओ ने हिंदुस्तान की आजादी और आइन ( संविधान ) तैयार करने में अपना अहम किरदार अदा किया।

अगर मुलाना हसरत मोहानी नही होते तो शायद मुसलमानों को वह हक़ कभी हासिल नहीं होता जो आज इस मुल्क के सभी अकलियतो (minorities) को वह दर्जा हासिल है।

यहां 35 मुसलमान आलिमों का नाम है जिन्होंने हिंदुस्तान की तहरीक ए आजादी और दस्तूर साजी में अहम किरदार अदा किया मगर उन लोगो का आज कही नाम वा निशां नही है बल्कि मुसलमानों का एक बहुत बड़ा तबका ही उनलोगो को भुला दिया।

#भारतीय सविधान #गणतंत्र दिवस
#26 जनवरी  #हिंदुस्तान की आजादी


ہندوستان کی دستور سازی میں مسلمانوں کا حصہ!

مفتی محمد صادق حسین قاسمی_

All India Muslim Personal law Board

---------------------------------------------

           یومِ جمہوریہ جو ہمارے ملک کا ایک تاریخی اور یادگار دن ہے، یہ اس لئے منایا جاتا ہے کہ اسی تاریخ کو ہمارے ملک کا قانون نافذ ہوا، اور ہمار ملک ایک جمہوری ملک قرار پایا۔

جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں اور مختلف قبیلہ و خاندان والوں کو مذہبی آزادی کے ساتھ اس ملک میں رہنے اور جینے کا حق ملا۔

ہمارا ملک 15اگست 1947کو آزاد ہوا۔ آزادی کے پندرہ دن بعد 29 اگست1947کو طے کیا گیا کہ آزاد ہندوستان کا اپنا آئین بنایاجائے ،جس میں اس ملک کے تمام باشندوں کے حقوق کا تحفظ بھی ہو اور ان کی خوش حال اور پرامن زندگی کی ضمانت بھی، اس مقصد کے لئے دستورساز اسمبلی نے سات افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ،جس کے صدر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر تھے۔

اس کمیٹی نے دو سال گیارہ مہینے اٹھارہ دن یعنی تین سال کی مسلسل محنت کے بعد ملک کا آئین تیار کیا ، جسے ملک کی پارلیمنٹ نے منظور کرکے نافذ کر دیا، اس آئین کی رو سے ہمارا ملک جمہوریہ ہند کہلایا۔( آزادی سے جمہوریت تک:۱۰۹)

دستور سازی کے لئے محنت و کوشش کرنے والوں میں مسلمان اور علماء کرام بھی شامل تھے ، جس طرح ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے کے لئے مسلمانوں کا اور علماء کا اہم کردار رہا ہے ،اسی طرح اس ملک کو امن و محبت کا گہوارہ بنانے اور جمہوری اقدار پر تعمیر کرنے میں اہم کوششیں رہی ہیں۔ اگر دستورسازی کے موقع پر علماء کرام نے دور اندیشی سے کام نہ لیا ہوتا اور ملک کو جمہوری انداز میں تشکیل پانے پر زور نہ دیا ہوتا تو اس ملک کا امن و سکون غارت ہوجاتا اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر برادران وطن کو بھی مذہبی تنگ نظری و تعصب پسندی کا نشانہ بننا پڑتا، اور حقوق و اختیار سے محروم ہو کر مجبور و لاچار کی طرح رہنا پڑتا ، لیکن ان لوگوں کی قربانیوں اور ملت کے تئیں ان کی بے لوث فکرمندیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارا ملک ایک جمہوری ملک کہلاتا ہے.

جہاں ہر مذہب والا اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ رہ رہا ہے۔ اور جہاں ہونے والے ظلم کے خلاف ،نا انصافیوں کے خلا ف، آئینی اختیارات کے خلاف ہونے والے فیصلوں پر صدائے احتجاج بلند کرنے کا حق حاصل ہے ، اس ملک کی تعمیر و ترقی ، اس کی سالمیت ، امن و محبت ، تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لئے تگ ودو کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس طرح منصوبہ بندی کے ساتھ تحریکِ آزادی کے مجاہدین میں مسلمانوں کے ناموں کو نکال دیا گیا اور گنے چنے چند نام رہ گئے ہیں اور کتابوں ،نصابوں اور تعلیم گاہوں سے لے کر جلسوں ، اجتماعوں اور قومی تقریبوں تک مسلمانوں کے تذکروں کو حذف کر دیا گیا ،اسی طرح دستور سازی میں مسلمانوں نے کس طرح اپنے علم ، صلاحیت ، فکر اور محنت کو لگایا ہے اس کو بھی تاریخ کے صفحات سے بالکل الگ کر دیا گیا۔ بلکہ ہم مسلمانوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں یہ بالکل بھی نہیں معلوم کہ مسلمانوں نے بھی دستور سازی میں حصہ لیا اور اس کے لئے کوششیں کیں۔

مسلم ممبران دستور سازی کی تلاش کے دوران ایک نہایت تحقیقی مواد دستیاب ہوا ،جسے محترم رمیض احمد تقی نے غیر معمولی تحقیق سے جمع کیا اور تقریبا ۳۵ مسلم ممبران کے نام شمار کروائیں ، جسے جاننا چاہیے ۔

چناںچہ ہم یہاں ان کی اس تحقیق کو پیش کرتے ہیں، وہ اپنے مضمون میں رقم طراز ہیں:میں نے اپنی تلاش و تتبع کے بعد اس مختصر مقالے میں 35 مسلم ارکانِ قانون ساز مجلس کے اسمائے گرامی کو ذکر کرنے کا التزام کیا ہے:
(1) مولانا ابوالکلام آزاد (11 نومبر 1888۔ 22 فروری 1958) ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم

(2) عبدالقادر محمد شیخ

(3) ابوالقاسم خان (5 اپریل 1905۔ 31 مارچ 1991) جو A.K خان سے زیادہ مشہور تھے، آپ بنگالی وکیل، صنعت کار اور سیاستدان تھے۔

(4) عبدالحمید

(5) عبدالحلیم غزنوی (1876۔1953)آپ ایک سیاستداں، تعلیمی اور ثقافتی امور کے سرپرست اور زمینداربھی تھے۔

(6) سید عبدالرؤف

(7) چوہدری عابد حسین

(8) شیخ محمد عبداللہ (دسمبر 1905۔8 ستمبر 1982)

(9) سید امجد علی (1907۔ 5 مارچ 1997)

(10) آصف علی (11مئی 1888۔ 1 اپریل1953) آپ پیشے سے ایک وکیل تھے، آپ پہلی بار ہندوستان کی طرف سے امریکہ کے سفیر مقرر ہوئے اور کئی سال تک اڑیسہ (اوڈیشہ) کے گورنر بھی رہے۔

(11) بشیر حسین زیدی (1898۔ 29 مارچ 1992) عام لوگوں میں آپ B.H. زیدی سے زیادہ معروف تھے۔

(12) بی پوکر) (B.Pocker صاحب بہادر (1890۔1965) آپ وکیل اور سیاستداں تھے۔

(13) بیگم عزیز رسول (1908۔2001) سیاستداں اور قانون ساز اسمبلی میں واحد مسلم خاتون۔

(14) حیدر حسین

(15) مولانا حسرت موہانی(معروف شاعر، مجاہدِ آزادی، اردوے معلی کے بانی مدیر)

(16)حسین امام

(17) جسیم الدین احمد

(18) کے ٹی ایم احمد ابراہیم

(19) قاضی سید کریم الدین۔ ایم اے، ایل ایل بی (19 جولائی 1899۔14 نومبر 1977)

(20) کے اے محمد

(21) لطیف الرحمن

(22) محمد اسماعیل صاحب (1896۔1972) انڈین یونین مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوستانی سیاستداں تھے، راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں کے رکن تھے، کیرل ان کا آبائی وطن تھا جہاں آپ کو’’قائدِ ملت‘‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔

(23) محبوب علی بیگ صاحب بہادر (ہندوستانی قانون ساز اسمبلی کے ممتاز رکن، جنہوں نے اقلیتوں کے مسائل کی نمائندگی میں ایک اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر آزادیِ مذہب کے حوالے سے آپ نے کئی ترمیمات اور اضافے کیے)۔

(24) محمد اسماعیل خان

(25)(مولانا) محمد حفظ الرحمن(سیوہاروی)

(26) محمد طاہر

(27) شیخ محمد عبداللہ) 5 دسمبر 8۔1905ستمبر (1982 سیاستداں اور صوب جموں و کشمیر سے آئین ساز اسمبلی کے ممتاز رکن تھے۔

(28) مرزا محمد افضل بیگ

(29) مولانا محمد سعید مسعودی

(30)نذیر الدین احمد

(31) رفیع احمد قدوائی (18فروری 1894۔ 24 اکتوبر 1954)معروف مجاہدِآزادی، کانگریسی لیڈر اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر مواصلات)

(32) راغب احسن

(33) سید جعفر امام

(34) سر سید محمدسعد اللہ (21 مئی 1885۔ 8 جنوری 1955) آسام کے پہلے وزیر اعلی۔

(35)تجمل حسین۔ ( ازمضمون:قانون ساز مجلس اور مسلم ممبران)

یہ ان عظیم لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی طرف سے قانون سازی میں ترجمانی کی اور بعض تو وہ ہیں جنہوں نے بھرپور انداز میں ملک کو جمہوری بنانے اور مسلمانوں کے حقوق و تحفظات کے لئے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ۔

مولانا حسرت موہانی ؒ جو اس کے ایک اہم رکن تھے اور جنہوں نے دستور سازی میں قابل قدر جدوجہد کی ہے اور بڑھ چڑھ کر مناسب و مفید دفعات کے لئے آخر وقت تک لگے رہے۔

مولانا حسرت موہانی ؒ نے دستور ساز اسمبلی میں عائلی قوانین جو مسلمانوں کی نسبت تھے ،کے تحفظ کے لئے بھی موثر انداز میں اظہار کیا۔
چناںچہ انہوں نے دستورسازی کے موقع پر تمام مذاہب کے پرسنل لا اور بالخصوص مسلمانوں کے پرسنل لا میں مداخلت کے سلسلہ میں کہا تھا کہ’’میں یہ بتا دینا چا ہاہوں گا کہ کوئی سیاسی پارٹی یا فرقہ پرست پارٹی کو کسی بھی گروپ کے پرسنل لا میں کسی قسم کی مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ یہ خصوصا مسلمانوں کی نسبت کہتا ہوں کہ ان کے پرسنل لا کے تین بنیادی اصول ہیں جو مذہب زبان اور کلچر ہیں ۔جن کو انسانوں نے نہیں بنایا ہے ۔ان کا پرسنل لا طلاق ،شادی ،اور وراثت کا قانون قرآن حکیم سے لیا گیا ہے اور اس کا ترجمہ اس میں درج ہے ،اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ مسلمانوں کے پرسنل لا میں مداخلت کر سکتے ہیں تو میں کہوں گا اس کا انجام بے حد نقصان دہ ہوگا۔ میں اس ایوان میں آواز لگا کر کہہ رہا ہوں کہ وہ مصیبت میں پھنس جائے گا، مسلمان کسی صورت میں اپنے پرسنل لا میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے اور اگر کسی کو ایسا کہنے کی ہمت ہو تو اعلان کرے۔۔۔۔درمیان میں کچھ ارکان نے تقریر کے دوران مداخلت کرنے کی کوشش کی ،جس پر مولانا حسرت موہانی نے علی الاعلان اظہار کیا کہ:ان کو قائل رہنا چاہیے کہ میں اس ایوان کے فلور پر اعلان کرتا ہوں کہ مسلمانانِ ہند کبھی بھی اپنے پرسنل لا میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے ،اور ان کو مسلمانوں کے عزائم کی آہنی دیوار کا روزانہ مقابلہ کرنا پڑے گا۔‘‘
( حسرت موہانی اور انقلابِ آزادی:۵۲۱)

مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ؒ جو قانون ساز مجلس کے رکن تھے اور جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی تھے ، مجاہدِ ملت نے بھی دستور سازی میں بڑی قابلِ قدر کوششیں کی ہیں ۔

چناںچہ قاضی محمد عدیل عباسی ایڈووکیٹ لکھتے ہیں کہ: ’’سب سے بڑا احسان جو انہوں نے ملتِ اسلامیہ پر کیا وہ دستور ہند کا موجود ہ ڈھانچہ ہے۔اس وقت مولانا دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے اور کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ اقلیتوں کو جو حقوق دئیے گئے ہیں ،ان کی ترتیب و تدوین میں مولانا حفظ الرحمن کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ آج یہی دستور کی دفعات ہیں، جو مسلمانوں کو ہندوستان میں سربلند رکھتی ہیں اور اگر ان میں حقوق حاصل کرنے کی طاقت پیدا ہو جائے یعنی وہ احساس کمتری سے نکل آویں تو ان کا مستقبل تابناک ہو سکتا ہے۔‘‘

( مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ایک سیاسی مطالعہ :۹۱)

جناب محمد سلیمان صابر صاحب لکھتے ہیں کہ :’’آئین ساز اسمبلی کی ممبری کو عام لوگ ایک بڑا اعزاز کہہ سکتے ہیں۔لیکن حضرت مولانا نے کسی اعزاز کی خاطر نہیں بلکہ اس لئے آئین یا قانون ساز اسمبلی کی ممبری قبول کی کہ وہ شروع ہی سے ایک قومی رکن رہے تھے۔ برطانوی دور میں ملک کو آزاد کرانے کا اہم مقصد سامنے تھا اور حصول آزادی کے بعد سب سے اہم کام یہ تھا کہ ملک کو ایسا جمہوری آئین دیا جائے جو بلاتخصیص مذہب کسی باشندے کو کسی دوسرے پر فوقیت یا برتری حاصل نہ ہو۔بلکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں۔ یہ حضرت مولانا جیسے وسیع النظر ممبروں ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ملک کو ایک سیکولر آئین دیا گیا۔

( مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ایک سیاسی مطالعہ :۱۱۷)

یہ دو حضرات کی فکر و کوشش کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ، مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کی شخصیت اور ان کی خدمات تو روشن ہیں۔

ان مشہور شخصیات کے علاوہ دیگر حضرات کے کارناموں کو اجاگر کرنے اور تاریخ کے صفحات سے ان کی خدمات کو کھنگال کر قوم و ملت کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اس ملک کو جمہوری بنانے میں مسلمانوں کا اہم رول رہا ہے اور مسلمان صرف اپنے لئے ہی نہیں بلکہ تمام بھارتیوں کے لئے یہ کوشش کرتے آئے ہیں۔آج یومِ جمہوریہ کے یاد گار موقع پر ان تمام محسنوں کے ناموں کو اور ان کے کردار کو فراموش کر دیا گیا اور تمام اپنے اور پرائے لاعلمی اور نا واقفیت کے ساتھ یہ تاریخی دن گزار دیتے ہیں۔

ضرورت ہے کہ ملک کی سالمیت ،گنگا جمنی تہذیب کی بقا ،آپسی خلوص و محبت، امن وامان کے تحفظ کے لئے جمہوری انداز میں تعمیر کرنے کے لئے فکر و صلاحیت لگانے والوں کو بھی یاد کیا جائے اور باضابطہ ان کے تذکرے کئے جائیں اور بتایا جائے کہ کس طرح کی پیہم کوششوں کے نتیجہ میں یہ ملک جمہوری قرار پایا ورنہ یہاں کی دیگر اقلیتوں کو غلامانہ زندگی بسرکرنا پڑتا۔ کیوں کہ اگر آج ہم نے اس سلسلہ میں غفلت کی اور لاپرواہی کاثبوت دیا تو پھر آنے والے دور میں تو کوئی بھی اس سلسلہ میں دلچسپی لینے والا نہیں ہوگا۔

        آج اس ملک کی جمہوریت اور سالمیت خطرہ میں ہے اور ملک کو ہندو  راشٹر بنانے اور خاص رنگ میں رنگنے کی پھر کوششیں زوروں پر ہیں ایسے پُرخطر حالات میں تمام امن پسند ،جمہوریت کے پاسبانوں کو اس ملک کی جمہوری بقاکے لئے ایک نئی جدوجہد کرنے کی سخت ضرورت ہے ورنہ ہمارا یہ پیارا ملک نفرت کی آگ میں جھلس جائے گا اور فرقہ پرستی کی لہر تباہ و برباد کردے گی ۔

ہمار ا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں
ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

*بور سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS