find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Witr Ki Namaz Ke Baad Teen Martaba Subhan Al Mulqul Qudoos Kahna Mustahab Hai

Witr Ki Namaz Ke Baad Teen Martaba Subhan Al Mulqul Qudoos Kahna Mustahab Hai

Witr Ki Namaz Ke Baad Teen Martaba Subhan Al Mulqul Qudoos Kahna Mustahab Hai
السَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
وتروں کے بعد تین مرتبہ "سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ"  کہنا مستحب ہے"
Witr Ki Namaz Ke Baad Teen Martaba Subhan Al Mulqul Qudoos Kahna Mustahab Hai
Witr Ki Namaz Ke Baad Teen Martaba Subhan Al Mulqul Qudoos

ابی بن کعب رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اورَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اورَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھا کرتے تھے اورجب سلام پھیرتے تو بلند آواز میں مندرجہ ذیل کلمات کہتے :
: ( سبحان الملك القدوس ، سبحان الملك القدوس ، سبحان الملك القدوس )
پاک ہے بادشاہ بہت پاکیزگي والا ، پاک ہے بادشاہ بہت پاکیزگي والا ، پاک ہے بادشاہ بہت پاکیزگی والا ۔
مسند احمد حدیث نمبر ( 14929 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1430 ) سنن نسائي حدیث نمبر ( 1699 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن نسائي ( 1653 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اس روایت کو أبوداود طیالسی نے " المسند " (1/441)  میں اسی طرح ابن جعد  نے اپنی " المسند " (1/86)  میں اور ابن ابی شیبہ  نے " المصنف " (2/93) اور امام احمد  نے  اپنی " مسند " (24/72) میں  اور دیگر محدثین نے بھی روایت کیا ہے، اس حدیث کی بہت سی اسانید ہیں اور ان اسانید کو کئی محدثین اور محققین  مثلاً: ابن ملقن، البانی، شیخ مقبل الوادعی، مسند احمد کے طبعہ رسالہ کے محققین  اور دیگر اہل علم نے صحیح قرار دیا ہے۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
Share:

Ehtalam Aur Janaabat Me Roze Ke Ahkaamat Aur Masail

Ehtalam Aur Janaabat Me Roze Ke Ahkaamat, Janabat Me Gusul Kab Kiya Jaye, Janabat Ki Halat Me Der Se Jaga Aur Sehri Ka Kam Waqt Hai, Ramzan Me Din Ke Waqt Ehtalam Ho Gaya To Kya Karen, Bahalat Roza Ehtalam, Bekhabri Me Roze Ki Halat Me Ehtalam Ho Jaye to Kya Kare, Masjid Me Soya Jab Bedar Hua ToEhtalam Ho Gaya, Roze Me Ehtalam Ke Masail

Ehtalam Aur Janaabat Me Roze Ke Ahkaamat, Janabat Me Gusul Kab Kiya Jaye, Janabat Ki Halat Me Der Se Jaga Aur Sehri Ka Kam Waqt Hai, Ramzan Me Din Ke Waqt Ehtalam Ho Gaya To Kya Karen, Bahalat Roza Ehtalam, Bekhabri Me Roze Ki Halat Me Ehtalam Ho Jaye to Kya Kare, Masjid Me Soya Jab Bedar Hua ToEhtalam Ho Gaya, Roze Me Ehtalam Ke Masail

Ehtalam Aur Janaabat Me Roze Ke Ahkaamat, Janabat Me Gusul Kab Kiya Jaye, Janabat Ki Halat Me Der Se Jaga Aur Sehri Ka Kam Waqt Hai, Ramzan Me Din Ke Waqt Ehtalam Ho Gaya To Kya Karen, Bahalat Roza Ehtalam, Bekhabri Me Roze Ki Halat Me Ehtalam Ho Jaye to Kya Kare, Masjid Me Soya Jab Bedar Hua ToEhtalam Ho Gaya, Roze Me Ehtalam Ke Masail
Ehtalam Aur Janaabat Me Roze Ke Ahkaamat
بِسْــــــــــمِ اِللَّهِ الرَّ حْمَـــنِ الرَّ حِيِــــمِ
السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
 
 ▓ حالت جنابت میں روزے کے احکامات :
۔┄┅═══════════════┅┄
حدثنا عبد الله بن مسلمة، ‏‏‏‏‏‏عن مالك، ‏‏‏‏‏‏عن سمي مولى ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام بن المغيرة، ‏‏‏‏‏‏انه سمع ابا بكر بن عبد الرحمن، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كنت انا وابي حين دخلنا على عائشةوام سلمة. ح وحدثنا ابو اليمان، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا شعيب، ‏‏‏‏‏‏عن الزهري، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، ‏‏‏‏‏‏ان اباه عبد الرحمن اخبر مروان، ‏‏‏‏‏‏ان عائشة، ‏‏‏‏‏‏وام سلمةاخبرتاه:‏‏‏‏ "ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر وهو جنب من اهله، ‏‏‏‏‏‏ثم يغتسل ويصوم"، ‏‏‏‏‏‏وقال مروان لعبد الرحمن بن الحارث:‏‏‏‏ اقسم بالله، ‏‏‏‏‏‏لتقرعن بها ابا هريرة، ‏‏‏‏‏‏ومروان يومئذ على المدينة، ‏‏‏‏‏‏فقال ابو بكر:‏‏‏‏ فكره ذلك عبد الرحمن، ‏‏‏‏‏‏ثم قدر لنا ان نجتمع بذي الحليفة، ‏‏‏‏‏‏وكانت لابي هريرة هنالك ارض، ‏‏‏‏‏‏فقال عبد الرحمن، ‏‏‏‏‏‏لابي هريرة:‏‏‏‏ إني ذاكر لك امرا، ‏‏‏‏‏‏ولولا مروان اقسم علي فيه لم اذكره لك، ‏‏‏‏‏‏فذكر قول عائشة وام سلمة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ كذلك حدثني الفضل بن عباس وهن اعلم، ‏‏‏‏‏‏وقال همام، ‏‏‏‏‏‏وابن عبد الله بن عمر، ‏‏‏‏‏‏عن ابي هريرة، ‏‏‏‏‏‏كان النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ يامر بالفطر، ‏‏‏‏‏‏والاول اسند.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام بن مغیرہ کے غلام سمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان نے خبر دی اور انہیں عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ (بعض مرتبہ) فجر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل کے ساتھ جنبی ہوتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے تھے، اور مروان بن حکم نے عبدالرحمٰن بن حارث سے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تم یہ حدیث صاف صاف سنا دو۔ (کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتوی اس کے خلاف تھا)ان دنوں مروان، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، ابوبکر نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ اتفاق سے ہم سب ایک مرتبہ ذو الحلیفہ میں جمع ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہاں کوئی زمین تھی، عبدالرحمٰن نے ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہوں گا اور اگر مروان نے اس کی مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کے سامنے اسے نہ چھیڑتا۔ پھر انہوں نے عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ذکر کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا (میں کیا کروں) کہا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی تھی (اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں) کہ ہمیں ہمام اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کو جو صبح کے وقت جنبی ہونے کی حالت میں اٹھا ہو افطار کا حکم دیتے تھے لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔
بَابُ الصَّائِمِ يُصْبِحُ جُنُبًا:
باب: روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 1925 - 1925
فضیلةالشیخ محمدصالح المنجدحفظہ اللہ اس مفہوم پر فرماتے ہیں
اگر كوئي شخص احتلام يا جماع سے جنبي ہو جبكہ جماع اذان فجر سے كيا قبل گيا ہواورصبح ہوجائے تواس پر كچھ لازم نہيں آتا اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:
( عائشہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتي ہيں كہ: نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم رمضان المبارك ميں بعض اوقات احتلام كےبغير جنبي ہوتے توفجرہوجاتي تو رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم غسل كركے روزہ ركھ ليتے تھے )
صحيح بخاري ( 1926 ) صحيح مسلم ( 1109 ) .
طہارت  روزے کیلئے شرط نہیں ہےحالانکہ  نماز صحیح ہونے کیلئے  طہارت  شرط ہے، اور اس پر تمام علمائے کرام کا اجماع ہے، جیسے کہ ابن المنذر نے الاجماع(1) اور نووی نے شرح مسلم: (3/102) میں نقل کیا ہے۔کیونکہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
 "آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر  کا وقت اپنی اہلیہ کیساتھ  ہم بستری کی وجہ سے جنابت کی حالت میں ہو جاتا تھا، آپ پھر بھی روزہ رکھتے تھے"
 بخاری: (1926) مسلم:(1109)
اور مسلم کے الفاظ ہیں کہ: "۔۔۔آپ احتلام کی وجہ سے جنبی نہیں ہوتے تھے"
اگر یہ معاملہ جماع کی وجہ سے جنبی ہونے کے بارے میں ہے تو احتلام کے بارے میں یہی حکم بالاولی ہونا چاہیے؛ کیونکہ جماع انسان اپنی مرضی سے کرتا ہے، لیکن احتلام میں کسی کو اختیار نہیں ہے۔
نیز علمائے کرام کا جنابت کی حالت میں روزہ صحیح ہونے سے متعلق  اجماع ہے ، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں:
"پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی شخص کو  رات کے وقت احتلام ہوگیا ، اور فجر سے پہلے غسل کا موقع ملنے کے باوجود غسل نہ کیا ، اور صبح کی نماز کا وقت جنابت کی حالت میں  ہوا ، یا پھر دن میں  احتلام ہو گیا تو اس کا روزہ صحیح ہے" انتہی
"المجموع" (6/308)
اور اگر کسی نے تیمّم سے لاعلمی پر نمازیں ادا کر لیں تو اس پر نمازوں کا اعادہ نہیں ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے "مجموع الفتاوی" (23/37) میں اسی موقف کی بھر پوری تائید کی ہے، چنانچہ رقمطراز ہیں:
"اور اگر کسی کو وجوب کا علم ہی نہیں تھا، چنانچہ جس وقت سے اس کو علم ہوا ہے اس کے بعد والی نمازیں  اسی کے مطابق ادا کرے گا، البتہ سابقہ نمازوں کا اعادہ لازمی نہیں ہے، جیسے کہ صحیحین میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے "مسیء الصلاۃ" دیہاتی سے فرمایا تھا: "جاؤ جا کر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی" آخر کار اس دیہاتی نے کہا: "قسم ہے اس ذات کی جس نے آپکو حق دیکر مبعوث فرمایا، مجھے اس سے اچھی نماز نہیں آتی، آپ مجھے ایسی نماز سکھا دیں جس سے میری نماز مکمل ہو" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز سکھائی" اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موجودہ نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا ہے، سابقہ نمازوں کے اعادہ کا حکم نہیں دیا، حالانکہ اس دیہاتی کا بیان تھا: " مجھے اس سے اچھی نماز نہیں آتی "
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت عمار رضی اللہ عنہما کو نماز کی قضا دینے کا حکم نہیں دیا، جس واقعہ میں  عمر رضی اللہ عنہ نے نماز  نہ پڑھی جبکہ عمار  چوپائے کی طرح  زمین میں لوٹ پوٹ ہوئے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ذر رضی اللہ عنہ  کو جنابت کی حالت میں چھوڑی ہوئی نمازوں  کا حکم نہیں دیا، اسی طرح استحاضہ کو بھی  چھوڑی ہوئی نمازوں  کا حکم نہیں دیا، حالانکہ مستحاضہ خاتون کا یہ کہنا تھا کہ: "مجھے اتنا سخت استحاضہ ہوتا ہے کہ میں نماز روزہ نہیں کر سکتی" اسی طرح آپ نے ان لوگوں کو بھی دوبارہ روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیا جو رمضان میں اس وقت کھاتے پیتے رہے جب تک سفید رسی سیاہ رسی سے عیاں نہیں ہوگئی۔
◆ علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی سے سوال کیا گیا کہ کیا اس شخص کا روزہ درست ہے جس نے جنبی ہونے کی حالت میں صبح کی ؟
تو فتاوی جات کمیٹی کا جواب تھا
انسان کے لئے جائز ہے کہ وہ جنبی ہونے کی حالت میں روزے کی نیت کرے، اور پھر وہ اس کے بعد جنابت کا غسل کر لے، اس لئے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی بعض اوقات حالتِ جنابت میں فجر ہوجاتی تھی، تو آپ روزہ رکھتے پھر غسل فرماتے۔
◆ جنبی مرد و عورت کو سورج طلوع ہونے سےپہلے پہلے غسل کرکے نماز ادا کرنا چاہیے ۔خصوصًا مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جلد غسل کرے تاکہ نمازِ فجر با جماعت ادا کرسکے۔
جب عورت فجر سے پہلے پہلے پاک ہو جائے تو اس کے لیے روزہ رکھنا لازم ہے۔طلوع فجر کے بعد تک غسل کو مئوخر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن تاخیر اسقدر نہیں ہونی چاہیے کہ سورج طلوع ہو جائے بلکہ طلوع آفتاب سے پہلے پہلے غسل کر کے نماز پڑھنا واجب ہے ۔
۔|
سماحة الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ
فتاویٰ اسلامیہ
جلد دوم
◆ آنکھ دیر سے کھلی۔ ابھی غسل جنابت کرنا ہے، سحری کا وقت تھوڑا ہے، کیا کرے ؟
ابن ماجہ میں حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوئے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلاتے تو آپ اٹھتے اور غسل کرتے پھر نماز پڑھاتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی ضرورت سے اگر وقت غسل کا قبل سحری نہیں ملتا تو باوضو ہو کر سحری کھا لے اور پھر بعد صبح صادق غسل کر کے نماز پڑھ لے روزہ میں کوئی خرابی نہیں آتی۔
۔|
(عبد اللہ امر تسری روپڑی)
(فتاویٰ اہل حدیث ج ۲ ص ۵۶۶)
فتاویٰ علمائے حدیث/جلد 06 /ص 118
◆رمضان میں رات کو بیوی سے ہمبستری کی، سحری کا وقت ختم ہو رہا ہے کیا کرے گا ؟
اس صورت میں نہائے بغیر سحری کھائی جا سکتی ہے۔کیونکہ سحری کھانے کے لئے طہارت شرط نہیں ہے۔ ابو بکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد، عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمان کہ «اَشھَدُ عَلَی رَسُولِ اللّٰہ صَلی اللَّہ علیه و علی آله وسلم اِن کانَ لَیُصبِحُ جُنَباً مِن جِمَاعٍ غَیرِ اِحتَلَام ثُمَّ یَصُومُهُ » میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم احتلام کے سبب سے نہیں بلکہ جماع کے سبب سے حالت جنابت میں صبح کرتے اور غسل کیے بغیر روزہ رکھتے»،
پھر ہم دونوں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے اور انہوں نے بھی یہی بات کی۔ صحیح البخاری ، حدیث نمبرۛ ١۹۳١
عائشہ رضی اللہ عنہا کے اِس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جنابت کی حالت میں روزہ رکھ لیتے تھے اور یقینی بات ہے کہ نمازِ فجر سے پہلے غُسل فرما لیتے تھے ۔
دیکھیے : فتاویٰ  ثنائیہ جلد 1
 جنابت کی حا لت میں روزہ رکھا جا سکتا ہے حدیث میں ہے   کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بحا لت  جنا بت  روزہ  رکھ لیتے  تھے  ۔(صحیح مسلم :کتا ب الصوم )
اگر چہ  سید  نا ابو ہریرہ  رضی ا للہ تعالیٰ عنہ  کا فتوی  تھا  کہ جنبی  آدمی  غسل  کیے  بغیر  روزہ نہ رکھے  لیکن  ان کے سا منے  جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا عمل آیا تو انہوں  نے فو راً اپنے فتوی سے رجو ع کر لیا ۔(صحیح مسلم :کتا ب الصوم)
سید ہ عا ئشہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا  کا بیا ن ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جنبی ہو تے  پھر  آپ نہائے بغیر  روزہ رکھ لیتے  سحری  کھا نے  کے بعد  غسل  کر کے  نماز  فجر  ادا کرتے ۔(صحیح مسلم )
 اسی طرح احتلا م سے بھی روزہ خرا ب نہیں ہو تا  اذان  فجر  سے قبل  صحبت  کر نے  سے روزہ  نہیں ٹو ٹتا ہا ں  اگر  اذان  کے بعد  ہم بستری  کرتا  رہا  تو پھر  روزہ  ٹو ٹ جا ئے  گا  اسے  کفا رہ  بھی  دینا  ہو گا  اور  اس  رو ز ہ کی قضا  بھی ضروری ہے ۔
دیکھیے : فتاویٰ اصحاب الحدیث/ج1/ص207
▓ احتلام کے احکامات :
 فضیلةالشیخ محمدصالح المنجدحفظہ اللہ فرماتے ہیں
اللہ سبحانہ وتعالى نے انسان ميں شہوت كا مادہ ركھا ہے، اور اپنے بندوں كو حكم ديا ہے كہ اگر ان ميں نكاح كى استطاعت ہے تو وہ اس طاقت كو صحيح طرح استعمال كريں، تا كہ دنياوى مصلحت پورى ہو اور خاندان بن سكيں، اور معاشرہ كو تقويت حاصل ہو، اور اللہ تعالى كى سنت كے مطابق دنيا كى آبادى ہو.
پھر اللہ تعالى نے جو بندوں ميں يہ طاقت ( شہوت ) جمع كى ہے وہ زيادہ ہوتو اسے نكالنے كے ليے احتلام كے ذريعہ خارج كيا ہے، اور يہ دونوں جنسوں يعنى مرد و عورت ميں قوت خارج كرنے كا سبب ہے، جس ميں انسان كا اپنا كوئى دخل نہيں، بلكہ يہ بشرى اور انسانى طبعيت كا تقاضا ہے، اس پر انسان كا مواخذہ نہيں كيا جائيگا، اس كى دليل يہ ہے كہ:
1 - على رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" تين اشخاص سے قلم اٹھا ليا گيا ہے، سوئے ہوئے شخص سے حتى كہ وہ بيدار ہو جائے، اور بچے سے حتى كہ وہ بالغ ہو جائے، اور مجنون اور پاگل سے حتى كہ وہ عقلمند ہو جائے "
* سنن ترمذى حديث نمبر ( 1343 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3032 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 3378 ).
* حديث ترمذى كے علاوہ باقى سنن ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے.
* حديث كو امام ترمذى نے اور امام نووى نے شرح مسلم ( 8 / 14 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.
اور سوئے ہوئے شخص كو كوئى پتہ نہيں ہوتا كہ وہ كيا كر رہا ہے، چنانچہ وہ بھى مرفوع القلم ميں شامل ہوتا ہے، اور خواب نيند ميں آتى ہے اس ليے خواب ان اشياء ميں شامل ہو گى جو معاف ہيں.
2 - بلكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے احتلام كو تو بلوغت كى علامت قرار ديا ہے، اسى ليے فرمان بارى تعالى ہے:
* ﴿ اور جب تم ميں سے بچے بلوغت كو پہنچ جائيں تو وہ اجازت طلب كريں .. ﴾النور ( 59 ).
*  اس ليے اگر احتلام حرام ہوتا تو اللہ تعالى اسے بلوغت كى علامت قرار نہ ديتا.
3 - زينب بنت ام سلمہ بيان كرتى ہيں كہ ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا نے فرمايا:
" ام سليم رضى اللہ تعالى عنہا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس تشريف لائيں اور عرض كيا:
اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى حق بيان كرنے سے نہيں شرماتا،
چنانچہ كيا اگر عورت كو احتلام ہو تو وہ بھى غسل كرے گى ؟ تو رسول كريم صلى اللہ
عليہ وسلم نے فرمايا: "ہاں جب وہ پانى ديكھے، تو ام سلمہ رضى اللہ تعالى نے اپنا چہرہ
ڈھانپ ليا اور كہنے لگى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا عورت كو بھى
احتلام ہوتا ہے ؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:ہاں، تيرے ہاتھ خاك آلودہ
ہوں، تو پھر اس كى بچہ اس كى مشابہت كيسے اختيار كرتا ہے ؟ "
* صحيح بخارى حديث نمبر ( 130 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 313 ).
4 - عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايسے شخص كے متعلق دريافت كيا گيا جو اپنا لباس گيلا پائے اور اسے احتلام ہونا ياد نہ ہو ۔ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا كہ وہ غسل كرے.اور ايك ايسے شخص كے متعلق دريافت كيا گيا جسے احتلام تو ہوا ہو ليكن وہ لباس گيلا نہ پائے ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اس پر غسل نہيں ہے.ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگيں: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا اگر عورت ايسا ديكھے تو اس پر بھى غسل ہے ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ہاں، عورتيں بھى مردوں كى طرح ہى ہيں "
سنن ترمذى حديث نمبر ( 113 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 236 ).
عجلونى رحمہ اللہ كہتے ہيں كہ:
ابن قطان رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے طريق سے ضعيف ہے، اور انس رضى اللہ تعالى عنہ كے طريق سے صحيح ہے.
ديكھيں: كشف الخفاء ( 1 / 248 ).
 خلاصہ يہ ہوا كہ : احتلام ايك طبعى چيز ہے، اور اس سے چھٹكارا اور خلاصى ممكن نہيں ۔
▓  احتلام اور روزہ :
◆ رمضان میں دن کے وقت روزہ دار کو احتلام ہو جائے تو کیا کرے :
احتلام روزہ کو باطل نہیں کرتا کیونکہ یہ بات روزہ دار کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ البتہ اس صورت میں اس پر غسل واجب ہے، جبکہ منی لگی ہوئی دیکھ لے۔
اگر اسے نماز فجر کے بعد احتلام ہو اور وہ ظہر کی نماز کے وقت تک غسل کو موخر کر لے تو بھی کوئی حرج نہیں … اسی طرح اگر وہ رات کو اپنی بیوی سے صحبت کرے اور طلوع فجر کے بعد غسل کرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ چنانچہ نبیﷺ سے ثابت ہے کہ آپ جماع سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر نہاتے اور روزہ رکھتے۔
حیض اور نفاس والی عورتوں کی بھی یہی صورت ہے۔ اگر وہ رات کو پاک ہو جائیں اور طلوع فجر کے بعد نہائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اور ان کا روزہ صحیح ہوگا… لیکن انہیں اور اسی طرح جنبی کو بھی یہ جائز نہیں کہ وہ طلوع آفتاب یا نماز فجر کو موخر کرے۔ بلکہ ان سب پر واجب ہے کہ نہانے میں جلدی کریں تاکہ طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کو اپنے وقت پر ادا کر سکیں ۔
اور مرد پر لازم ہے کہ جنابت کے غسل سے جلد فارغ ہو تاکہ فجر کی نماز باجماعت ادا کر سکے۔ اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
دیکھیے : فتاوی بن باز رحمہ اللہ/جلد1/صفحہ 125-مقالات وفتاویٰ ابن باز/صفحہ284
احتلام سے روزہ باطل نہیں ہوتا کیونکہ احتلام انسان کے اختیار میں نہیں اور حالت نیند میں انسان مرفوع القلم ہواکرتا ہے۔ یہاں اس امر کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری ہے جو آج کل بہت سے لوگ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ رمضان کی راتوں میں وہ بیدار رہتے ہیں اور بیدار بھی ایسے کام کی وجہ سے رہتے ہیں، جسکا کوئی نفع ونقصان نہیں ہوتا ، پھر سارا دن گہری نیند سوئے رہتے ہیں ، یہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ روزے کو اطاعت، ذکر قراءت قرآن اور دیگر ایسے امور کا ذریعہ بنانا چاہیے، جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا تقرب حاصل ہو۔
فتاویٰ ارکان اسلام/روزےکےمسائل/صفحہ390
◆ دن کو سویا اور احتلام ہو گیا۔ اب روزہ گیا یا رہا :
روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اسے پورا کرنا چاہیے۔
(اخبار اہل حدیث سوہدرہ جلد ۶ شمارہ ۲۱۔ ۲۹ رمضان المبارک ۱۳۷۳ھ)
توضیح:
اس لیے روزہ نہیں ٹوٹا کہ انسان نیند کی حالت میں مکلف نہیں۔ ہاں احتلام کی وجہ سے غسل واجب ہے۔
دیکھیے : فتاویٰ علمائے حدیث/جلد 06 ص 440
◆  بحالت روزہ احتلام ہوجائے تو کیا روزہ ٹوٹ گیا ؟
احتلام سے روزہ خراب نہیں ہوتا کیونکہ احتلام انسان  کا غیر ارادی فعل ہے، اس کے علاوہ بحالت نیند مرفوع ا لقلم ہوتا ہے ، اس لئے روزہ کی حالت  میں اگر کسی کو احتلام ہوجائے تو  اس کا روزہ صحیح ہے ۔اس سے روزہ ٹوٹنے کی صراحت قرآن وہ حدیث میں بیان نہیں ہوئی،البتہ ایک چیز کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ رمضان  المبارک کی راتیں فضول باتوں میں گزارتے ہیں،پھر سارادن گہری نیند سوئے رہتے ہیں ،اسی گہری نیند میں پراگندہ  خیالات کی وجہ سے احتلام ہوجاتا ہے ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ روزے کو تلاوت قرآن ،ذکر الہٰی اور دیگر ایسے امور کا ذریعہ بنایا جائے ،جس سے اللہ تعالی ٰ خوش ہو۔رات کے وقت گپیں لگاتے رہنا اور دن کو روزہ رکھ کر سوئے رہنا دانشمندی نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنے سے روزے کا مقصد پورا ہوتا ہے۔
دیکھیے : فتاویٰ اصحاب الحدیث/جلد:2/صفحہ :230
◆ اگر کسی شخص کو بے خبری میں روزے کی حالت میں احتلام ہوگیاتو اس کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ایک آدمی سحری کھا کر اور فجر کی نماز پڑھ کر سوگیا۔ مگر جب بیدار ہوا’اس پر غسل فرض ہوچکا تھا۔ ایسی حالت میں اس کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ہاں اگر اس نے جان بوجھ کر کوئی ایسا عمل کیا جس کی وجہ سے احتلام ہوا تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔
دیکھیے : فتاویٰ صراط مستقیم/ص301
◆ مسجد میں سو گیا۔ جب بیدار ہوا تو معلوم ہوا احتلام ہوگیا۔ کیا روزہ پر اثر انداز ہوگا :
احتلام سے روزہ فاسد نہیں ہوتا کیونکہ یہ بندے کے بس کی بات نہیں۔ لیکن جب منی نکلے تو اس پر غسل جنابت لازم ہے۔ کیونکہ نبیﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جب احتلام والا پانی یعنی منی دیکھے تو اس پر غسل واجب ہے۔
اور یہ جو آپ نے بلا غسل نماز ادا کی۔ یہ آپ سے غلطی ہوئی ہے اور بہت بری بات ہے۔ اب آپ پر لازم ہے کہ اس نماز کو دہرائیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف توبہ بھی کریں۔
اور جو پتھر آپ کے سر پر لگا، جس سے خون بہہ نکلا، تو اس سے آپ کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔
اور جو قے آپ کے اندر سے نکلی۔ اس میں بھی آپ کا کچھ اختیار نہ تھا، لہٰذا آپ کا روزہ باطل نہیں ہوا۔ کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:
((مَن ذَرَعَه القَیئُ؛ فلَا قَضائَ علیه، ومَنِ اسْتَقَائَ؛ فعلیه القضَاء))
’’جسے بے اختیار قے آئی،اس پر روزہ کی قضاء نہیں اور جس نے عمداً قے کی، اس پر قضاء ہے۔‘‘
اس حدیث کو احمد اور اہل سنن نے اسناد صحیح کے ساتھ روایت کیا۔
دیکھیے : فتاویٰ دارالسلام/ جلد 1
◆ روزے کیلیے اٹھا تو احتلام تھا،وقت بھی کم ہے تو پہلے نہاناچاہئے یا کھانا کھانا چاہئے۔؟
احتلام کی حالت میں کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔چاہئے کہ پہلے  روزہ رکھ لے اور بعد میں نہا لے ،کیونکہ روزہ رکھنے کے لئے پاکیزگی کی شرط نہیں ہے۔ ابو بکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ
" میں اور میرے والد، عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے،
  تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ اَشھَدُ عَلَی رَسُولِ اللّٰہ
  صَلی اللَّہ علیه و علی آله وسلم اِن کانَ لَیُصبِحُ جُنَباً مِن جِمَاعٍ غَیرِ
  اِحتَلَام ثُمَّ یَصُومُهُ »
  میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم
  احتلام کے سبب سے نہیں بلکہ جماع کے سبب سے حالت جنابت
  میں صبح کرتے اور غسل کیے بغیر روزہ رکھتے»،
  پھر ہم دونوں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے اور
  انہوں نے بھی یہی بات کی۔
 صحیح البخاری ، حدیث نمبرۛ ١۹۳١
عائشہ رضی اللہ عنہا کے اِس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جنابت کی حالت میں روزہ رکھ لیتے تھے اور یقینی بات ہے کہ نمازِ فجر سے پہلے غُسل فرما لیتے تھے ۔
فتوی کمیٹی
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
 وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وٙالسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه


Share:

Roza Ke Fazail Wa Masail,Ramzan Ka Chaand Aur Dua

Roza Ke Fazail Wa Masail, Ramzan Ke Chaand Dekhne Ka Waqt, Ramzan Ka Chaand Dekhne Ke Liye Gawahi, Ramzan Ka Chaand Dekhne Ki Dua

Roza Ke Fazail Wa Masail, Ramzan Ke Chaand Dekhne Ka Waqt, Ramzan Ka Chand Dekhne Ke Liye Gawahi, Ramzan Ka Chand Dekhne Ki Dua


بِسْــــــــــمِ اِللَّهِ الرَّ حْمَـــنِ الرَّ حِيِــــم
السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
Roza Ke Fazail Wa Masail, Ramzan Ke Chaand Dekhne Ka Waqt, Ramzan Ka Chaand Dekhne Ke Liye Gawahi, Ramzan Ka Chaand Dekhne Ki Dua
Roza Ke Fazail Wa Masail,Ramzan Ka Chaand Aur Dua

▓ روزوں کی فرضیت
ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض میں سے ایک فریضہ ہے جو دین اسلام سے بدیہی اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔
رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بارے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دلائل کے علاوہ اجماع بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٨٣﴾ أَيّامًا مَعدود‌ٰتٍ فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذينَ يُطيقونَهُ فِديَةٌ طَعامُ مِسكينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيرًا فَهُوَ خَيرٌ لَهُ وَأَن تَصوموا خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿١٨٤﴾ شَهرُ رَمَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُرءانُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنـٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُرقانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ فَليَصُمهُ وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿١٨٥﴾... سورة البقرة
"اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو (183) گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وه اسی کے لئے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو (184) ماه رمضان وه ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والاہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ کا اراده تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو "
البقرۃ:2/183۔185
واضح رہے کہ آیت مذکورہ (كُتِبَ) کے معنی ہیں"فرض کیا گیا ۔"اور اللہ تعالیٰ کے فرمان(فَلْيَصُمْهُ)میں روزہ رکھنے کا حکم آیا ہے جو فرض ہونے پر دلالت کرتا ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے:"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:"اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان میں ماہ رمضان المبارک کا روزہ رکھنا بھی ذکر فرمایا ہے:
صحیح البخاری الایمان باب دعاؤ کم ایمانکم حدیث 8 وصحیح مسلم الایمان باب ارکان الاسلام ودعائمہ العظام حدیث :16۔
الغرض رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت اور فضیلت میں بہت سی مشہور اور صحیح احادیث وارد ہیں علاوہ ازیں تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں اور ان کا منکر کافر ہے۔
روزے کی مشروعیت میں حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے نفس انسانی کو ردی خیالات اور ذیل اخلاق سے پاک کیا جائے اور اس کا تزکیہ اور تطہیر ہو۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جس کے حصول سے انسانی بدن کے وہ رخنے تنگ ہو جاتے ہیں جن کے ذریعے سے شیطان انسان کے جسم میں سرایت کرتا ہے کیونکہ۔
"إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَىَ الدَّم"
"شیطان خون کی طرح انسان کے رگ وپے میں چلتا ہے۔"
صحیح البخاری الاعتکاف باب ھل یدر المعتکف عن نفسہ ؟ حدیث 2039
جب کوئی شخص خوب کھاپی لیتا ہے تو اس کا نفس خواہشات کی پیروی میں آگے بڑھنا چاہتا ہے جس سے انسان کی قوت ارادی کمزور پڑجاتی ہے عبادات میں رغبت کم ہو جاتی ہے جبکہ روزہ اس کے برعکس کیفیت پیدا کرتا ہے۔
روزہ دنیا کے حصول کی تمنا اور اس کی فاسد خواہشات کو کم کرتا ہے آخرت کی طرف رغبت پیدا کرتا ہےمساکین کے ساتھ ہمدردی اور ان کے دکھ درد کا احساس دلاتا ہے کیونکہ روزے دار روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس کی تکالیف کا ذائقہ خود چکھتا ہے یاد رہے عربی زبان میں روزے کوصوم کہتے ہیں جس کے شرعی معنی میں "نیت کر کے کھانے پینے اور اجماع وغیرہ سے رکنا۔" نیز بے حیائی اور نافرمانی کی باتوں اور کاموں سے رکنا اس میں شامل ہے۔
دیکھیے : قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل/روزوں کے مسائل / جلد :01 /صفحہ : 315
شیخ صالح بن فوزان عبداللہ آل فوزان ؒ نے لکھا ہے :
’’ ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کی ابتداء اس وقت سے ہے جب ماہِ رمضان داخل ہونے کا علم حاصل ہوجائے۔ اور یہ علم تین ذرائع سے حاصل ہوتا ہے ۔ 1۔ رؤیت ہلال رمضان ۔ 2۔ رؤیت پر شرعی شہادت اور اس کی اطلاع کا حاصل ہونا۔ 3۔ تیسویں شعبان کی رات چاند نظر نہ آنے پر شعبان کی تعداد مکمل کرلینا۔ ‘‘
الملخص الفقہی:1/262۔263
▓ احادیث نبوی سے استدلال :
 ①۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ انے فرمایا:
لاتَصُوْمُوْا حَتَّی تَرَوْا اَلْہِلَالَ وَ لَا تُفْطِرُوْ حَتّٰی تَرَوْہُ، فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوْا لَہُ‘‘ ہَذَا لَفْظُ الْبُخَارِی وَ فِی لَفْظِ لَہٗ ’’فَأَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِیْنَ۔
بخاری: 1808، مسلم :1080
یعنی جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ چھوڑو اور اگر بادل کی وجہ سے چاند نہ دیکھ سکو تو اس کا اندازہ لگالو۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: تیس (30) دن کی گنتی پوری کرلو۔
ابن منظور نے غَمَّ الہلالُ غمًّا کا معنی یہ بیان کیا ہے: سَتَرَہُ الغَیْمُ وغیرُہ فَلَمْ یُرَ
لسان العرب ، ج12ص443
 یعنی چاند نظر نہ آنے کا سبب مطلع کاابر آلود ہونا ہی نہیں، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی اور سبب سے مطلع صاف ہونے کے باوجود چاند نظر نہ آئے۔
② ۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اِنَّا اُمَّۃٌ اُمِّیَّۃٌ لاَ نَکْتُبُ وَ لاَ نَحْسِبُ، الشَّھْرُ ھٰکَذَا وَ ھٰکَذَا یَعْنِی مَرَّۃً تِسْعًا وَّ عِشْرِیْنَ وَ مَرَّۃً ثَلاَثِیْنَ۔
بخاری، 1814، مسلم1080
بے شک ہم ان پڑھ امت ہیں، نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ مہینہ
اتنا اور اتنا ہے۔ یعنی کبھی 29 دن کا ہوتا ہے اور کبھی 30 دن کا۔
③ ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
صُوْمُوْا لِرُوؤیَتِہِ وَاَفْطِرُوْالِرُوؤیَتِہ فَاِنْ غَبِیَ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوْا عِدَّۃَ شَعْبَانَ ثَلاَثِیْنَ‘‘
 و فی روایۃ لمسلم ’’فاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَصُوْمُوْا ثَلاَثِیْنَ یَوْمًا۔
(رمضان کا ) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور (شوال کا )چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو اگر تم پر بادل چھاجائے (اور چاند نظر نہ آئے ) تو شعبان کے 30 دنوں کی گنتی پوری کرو ۔
(بخاری ومسلم)
 یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسلم کی روایت ہے کہ:
اگر تم پر بادل چھا جائے تو 30 دنوں کے روزے رکھو۔
④ ۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا:
الفِطْرُ یَوْمَ یُفْطِرُ النَّاسُ وَالأَضْحٰی یَوْمَ یُضَحِّی النَّاسُ۔
جامع الترمذی :802، صححہ الالبانی
عیدالفطر اس روز ہے جب لوگ روزے مکمل کرتے ہیں اور عید الاضحی اس روز ہے جب لوگ قربانیاں کرتے ہیں۔
⑤ ۔ حضرت کریب سے مروی ہے کہ حضرت ام الفضل نے انہیں ملک شام حضرت امیر معاویہ کے پاس بھیجا۔ میں ملک شام پہنچا اور ان کی حاجت پوری کی ۔ ابھی میں وہیں تھا کہ رمضان کا چاند نظر آگیا، میں نے چاند کو جمعہ کی رات میں دیکھا اور مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ آیا حضرت ابن عباسؓ نے مجھ سے پوچھا :تم نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی رات۔ پھر انھوں نے فرمایا: کیا تم نے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں میرے علاوہ اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا اور حضرت معاویہؓ نے بھی چاند دیکھا اور روزہ رکھا۔ پھر انھوں نے فرمایا: ہم نے تو ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے، پس ہم 30 دن پورا کریں گے۔ یا ہم اس کو دیکھ لیں، میں نے عرض کیا: کیا معاویہؓ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ فرمایا: نہیں، نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیاہے۔
مسلم87.1، ابوداؤد 2832 ، ترمذی 293، نسائی:4/131۔ مسند احمد:2790
مولانا حافظ کلیم اللہ عمری مدنی​
سیدناعبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”  تم روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور افطار نہ کروحتیٰ کہ چاند دیکھ لو
اگرتم پر مطلع ابرآلود ہو تو گنتی پوری کر لو “
(بخاری ،کتاب الصوم(١٩٠٦) ۔مسلم ، کتاب باب وجوب صوم (١٠٨٠)  )
سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا
”  چاند دیکھ کر روزہ رکھواور اسے دیکھ کر افطار کرو اور اگر تم پر مطلع
     ابر آلود ہو تو شعبان کی گنتی کے تیس دن پورے کرلو “
(بخاری ،کتاب الصوم ،١٩٠٩ ۔ مسلم ،کتاب الصوم ،١٠٨١ )
یعنی شعبان کی انتیس تاریخ کو چاند دیکھو اگر نظر آجائے تو دوسرے دن روزہ رکھو اور اگر نظرنہ آئے یا مطلع ابرآلود ہو تو سیدنا عمّار بن یاسرؓ سے روایت ہے کہ
”  جس شخص نے اس دن( یعنی شک کے دن) کا روزہ رکھا اس نے یقینًا
     ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی کی “
(ابن ماجہ کتاب الصیام ،١٦٤٠ ۔ابوداؤد کتاب الصیام ،٢٣٣٤
  ترمذی ،٦٨٦ ، نسائی ،٢١٩٠ ۔دارمی،١٦٨٢)
▓◆ روزوں کے آداب :
روزے کے آداب میں سے ایک اہم ادب یہ ہے کہ احکام بجا لا کر اور ممنوع احکامات سے اجتناب کر کے اللہ عزوجل کے تقویٰ کو لازمی طورپر اختیار کیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يـأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٨٣﴾... سورة البقرة
’’اے مومنو! تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔‘‘
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
«مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلّٰهِ حَاجَةٌ فِی أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ» صحيح البخاری، الصيام، باب من لم يدع قول الزور والعمل به فی الصوم، ح: ۱۹۰۳۔
’’جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل کرنے کو ترک نہ کرے، تو اللہ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘
ایک روایت میں جھوٹی بات ترک کرنے کے ساتھ جہالت کی باتیں ترک کرنے کا ذکر بھی ہے۔
٭        روزے کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ کثرت کے ساتھ صدقہ، نیکی اور لوگوں کے ساتھ احسان کیا جائے
            خصوصاً رمضان میں۔ یوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے لیکن رمضان میں جب جبرئیل آپ کے ساتھ قرآن مجید کے دور کے لیے آتے تو آپ مجسم جو دو سخا ہوتے تھے۔
٭        روزے کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ جھوٹ، گالی گلوچ، دغا وخیانت، حرام نظر اور حرام چیزوں کے ساتھ دل بہلانے سے اجتناب کیا جائے اور ان تمام محرمات کو بھی ترک کر دیا جائے جن سے اجتناب روزہ دار کے لیے واجب ہے۔
٭        روزے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ سحری کھائی جائے اور تاخیر کے ساتھ کھائی جائے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے:
«تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِی السَّحُورِ بَرَکَةً» صحيح البخاری، الصوم، باب برکة السحور، ح:۱۹۲۳وصحيح مسلم، الصيام، باب فضل السحور،ح:۱۰۹۵۔
’’سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔‘‘
٭        روزے کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ تر کھجور کے ساتھ روزہ افطار کیا جائے۔ تر کھجور میسر نہ ہو تو خشک کھجور کے ساتھ اور اگر خشک کھجور بھی موجود نہ ہو تو پھر پانی کے ساتھ افطار کر لیا جائے۔ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی یا جب ظن غالب ہو کہ سورج غروب ہوگیا ہے، تو فوراً روزہ افطار کر لینا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے:
«لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ» صحيح البخاری، الصوم، باب تعجيل الافطار، ح:۱۹۵۷وصحيح مسلم، الصيام، باب فضل السحور،ح:۱۰۹۸۔
’’لوگ ہمیشہ خیریت کے ساتھ رہیں گے جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔‘‘
دیکھیے : فتاویٰ ارکان اسلام/روزےکےمسائل/صفحہ394
▓ چاند دیکھنے کے معتبر اوقات  
چاند دیکھنے کےمعتبر اوقات کو دوامور میں تقسیم کیا جاسکتا ہے
● پہلا امر
انتیس شعبان کوسورج غروب ہونے سےپہلے چاند دیکھا جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ،یعنی اس سے نا تو روزے رکھنا واجب ہوتا ہےاور نا ہی روزہ چھوڑنا۔کیونکہ اگر اس کا اعتبار کر لیا جائےتومہینے کے اٹھائیس دنوں کا ہونا لازم آتا ہے۔حالانکہ یہ ہو نہیں سکتا۔
● دوسرا امر
جب چاند انتیس تاریخ کو سورج غروب ہونے کے بعددیکھا جائے تو علماء کا اتفاق ہے کہ یہ رؤیت معتبر ہوگی۔اور اسکی دلیل سفیان بن سلمہؓ کی روایت ہے۔کہتے ہیں
“  ہم مقام خانقین میں تھے کہ عمر بن خطابؓ کا خط موصول ہوا۔اس میں لکھا تھا
کہ ”چاند چھوٹا بڑا ہو سکتا ہے، جب تم دن کے وقت چاند دیکھو تو تم شام ہونے
سے پہلے افطار نہ کرو۔ہاں اگر دو مسلمان گواہی دے دیں کہ انہوں نے گزشتہ
رات چاند دیکھا تھا تو پھر افطار جائز ہے۔“
(صحیح ; سنن الدارقطنی ، بیہقی ،التلخیص ٨١٤/٢ )
◆ شک کے روزہ کی ممانعت:
بخاری، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی میں ہے:
((عن صلۃ قال کناً عند عمار فی الیوم الذی یشک فیہ فاق بشاۃ فتنحیٰ بعض القوم فقال عمّار من صام ھذا الیوم فقد عصیٰ ابا القاسم ﷺ))
’’صلہ سے روایت کہ ہم عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ شک کے روزہ (یعنی یہ معلوم نہ تھا کہ ۳۰ شعبان ہے یا یکم رمضان ہے) ایک بکری کا گوشت آیا۔ بعض لوگوں نے کھانے سے پرہیز کیا۔ عمامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس نے اس روز روزہ رکھا۔ اس نے ابو القاسم محمد ﷺ کی نافرمانی کی۔‘‘
 (یعنی ۲۹ شعبان کو) جب کہ ابر وغیرہ ہو۔ اور یہ معلوم نہ ہو سکے کہ آج چاند ہوا ہے۔ یا نہیں۔ تو دوسرے روز روزہ نہ رکھنا چاہیے۔ بلکہ اس کو ۳۰ شعبان سمجھنا چاہیے۔
◆ اگر ۲۹ شعبان کو ابر ہو:
بخاری، ابو داؤد، اور نسائی میں ہے:
((عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ یقول قال النبی ﷺ صوموا الرؤیتہٖ وافطر والرؤیتہٖ فان غمّ علیکم فاکملوا عدۃ شعبان ثلاثین۔))
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو۔ اور چاند دیکھ کر روزہ بند کر دو۔ لیکن اگر ۲۹ شعبان کو ابر ہو۔ تو شعبان کے ٣٠ دن پورے کرو۔‘‘
بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، موطاً امام مالک،د ارمی اور منتقیٰ میں ہے۔
((عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان رسول اللہ ﷺ ذکر رمضان فقال لا تصوموا حتی تروا الھلال واحرتی تودہ فان غم علیکم فاقدر روا لہٗ))
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر فرمایا کہ جب رمضان کا چاند نہ دیکھ لو۔ روزہ مت رکھو۔ اور جب تک شوال کا چاند نہ دیکھ لو۔ روزہ مت موقوف کرو۔ پس اگر تم پر آبر آ جائے تو ( ٣٠ روز کی گنتی پوری کرنے کے لیے) حساب کر لو۔‘‘
◆ ہر شہر کی رویٔت اپنی اپنی ہے:
مسلم، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی میں ہے۔ کریب سے روایت ہے کہ ام الفضل بنت الحارث نے ان کو شام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ کریب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں شام میں پہنچا۔ اور ام الفضل کا کام پورا کیا۔ اور پھر رمضان کا چاند ہو گا۔ اور میں وہیں تھا۔ ہم نے چاند جمعہ کی رات کو (ملک) شام میں دیکھا تھا۔ اور جب رمضان کے آکر میں مدینہ شریف آیا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے چاند کا حال پوچھا۔ اور کہا کہ تم نے کب چاند دیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا۔ا بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ تم نے چاند اپنی آنکھ سے دیکھا۔ میں نے کہا: ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا۔ میں نے روزے رکھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ ابن عباس نے کہا کہ ہم نے تو چاند ہفتہ کی رات دیکھا۔ ہم اسی دن سے روزہ رکھ رہے ہیں اور رکھتے جائیں گے۔ جب تک کہ ٣٠ روزے پورے نہ ہو جائیں۔ یا شوال کا چاند دکھائی دے۔ میں نے کہا تم معاویہ کی رویٔت اور ان کے روزہ پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ اس نے کہا: نہیں۔ کیونکہ ہم کو رسول اکرم ﷺ نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ (یعنی اپنی رویت پر عمل کرنے کا)۔
 ▓ رمضان کا چانددیکھنے کےلیےایک فردکی گواہی کافی ہے 
واضح رہے کہ رؤیت ھلال کے لیے عادل و قابل اعتماد ایک شخص ہی کی گواہی کافی ہے۔سیدناابن عمرؓ بیان کرتےہیں کہ
✵” لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
 کو خبر دی کہ میں نے اسےدیکھ لیا ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود
بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔“
(ابوداؤد کتاب الصوم ،٢٣٣٤٢۔دارمی کتاب الصیام،٢٣٤٤۔دارقطنی،١٥٦/٢
بیہقی ٢١٢/٤ ۔ابن حبان ،٨٧١ ۔حاکم ،٤٢٣/١ )
✵ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، منتقیٰ اور ابن جارود میں ہے:
((عن ابن عباس قال قال جاء اعرابی النبی ﷺ فقال انی رأیت الھلال فقال اتشھد ان لا الٰہ الا اللہ اتشھد ان محمد رسول اللہ قال نعم قال یا بلال اذن فی الناس ان یصوموا غدا۔))
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک گنوار آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہنے لگا کہ میں نے چاند دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے رسول ہیں۔ وہ بولا کہ ہاں! آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دو۔ کہ کل روزہ رکھیں۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کےچاند کی رؤیت کے بارے میں ایک مسلمان عادل شخص کی گواہی کافی ہے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرؓ کی گواہی پر خود بھی روزہ رکھا اورلوگوں کوبھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔اس مسئلہ کی تائید ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے۔سیدنا عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے  ہیں کہ ایک دیہاتی  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا
” میں نے رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے۔تو آپؐ نے فرمایا ! کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے
سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے کہا جی ہاں ،پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
 کیا تمگواہی دیتے ہوکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا جی
 ہاں،آپؐ نےفرمایا! لوگوں میں اعلان کردوکہ وہ کل روزہ رکھیں “
(ابوداؤد ،کتاب الصیام ،٢٣٤٠ ۔بیہقی ٤١٤/٤١ )
▓  چاند دیکھنے کی دعا  
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تو کہتے
          اَللہُ اَکۡبَرُ اَللَّھُمَّ اَھۡلِہُ عَلَیۡنَابِالۡاَمۡنِ وَالۡاِیۡمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالۡاِسۡلاَمِ
               وَالتَّوۡ فِیۡقِ لِمَا تُحِبُّ رَبَّنَا وَتَرۡ ضٰی رَبَّنَا وَرَبُّکَ اللہُ
”  اللہ سب سے بڑا ہے ۔اے اللہ! تو اسے ہم پر امن ایمان سلامتی اور اسلام
   کے ساتھ طلوع کر اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ کہ جس سے تو محبت کرتا
   ہے ۔اے ہمارے رب ! اورجسے تو  پسند فرماتا ہے (اے چاند) ہمارا اور تیرا
   رب اللہ ہے ۔“
(سنن دارمی ،کتاب الصوم : باب ما یفال عندرویت الھلال، ٤٤٢١ یہ روایت کثرت
شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحہ )
حصن المسلم: ص 130ـ131​
تحقیق ⇩
​حدثنا محمد بن بشار حدثنا أبو عامر العقدي حدثنا سليمان بن سفيان المديني حدثني بلال بن يحيى بن طلحة بن عبيد الله عن أبيه عن جده طلحة بن عبيد الله : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا رأى الهلال قال اللهم أهله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله
قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب
قال الشيخ الألباني : صحيح
جامع الترمذى: كتاب الدعوات، باب: باب 51 ما يقول عند رؤية الهلال[/qh]
قال الألباني في " السلسلة الصحيحة " 4 / 430 :
رواه الترمذي ( 2 / 256 ) و الحاكم ( 4 / 285 ) و أحمد ( 1 / 162 ) و أبو يعلى
( 1 / 191 ) و عنه ابن السني في " عمل اليوم و الليلة " ( 635 ) و الدارمي
( 2/ 4 ) و العقيلي ( 182 ) و ابن أبي عاصم في " السنة " ( 376 ) و الضياء في "
المختارة " ( 1 / 279 ) عن سليمان بن سفيان قال : حدثني بلال بن يحيى بن طلحة
ابن عبيد الله عن أبيه عن جده مرفوعا . و قال الترمذي : " حسن غريب " ،
و قال العقيلي في سليمان هذا " لا يتابع عليه " ، و روى عن ابن معين أنه ليس
بثقة . ثم قال العقيلي : " و في الدعاء لرؤية الهلال أحاديث كأن هذا من أصلحها
إسنادا ، كلها لينة الأسانيد " .
قلت : و سليمان بن سفيان ضعيف ، و قد تقدم و مثله بلال بن يحيى بن طلحة و لعله
من أجل ذلك سكت عليه الحاكم ثم الذهبي ، و لم يصححاه . لكن الحديث حسن لغيره بل
هو صحيح لكثرة شواهده التي أشار إليها العقيلي ، لكنها شواهد في الجملة و إنما
يشهد له شهادة تامة حديث ابن عمر قال ... فذكره ، إلا أنه زاد : " و التوفيق
لما تحب و ترضى " . أخرجه الدارمي ( 2 / 3 - 4 ) و ابن حبان ( 2374 )
و الطبراني في " المعجم الكبير " ( 13330 ) عن عبد الرحمن بن عثمان بن إبراهيم
حدثني أبي عن أبيه و عمه عنه . قال الهيثمي : ( 10 / 139 ) : " و عثمان بن
إبراهيم الحاطبي فيه ضعف ، و بقية رجاله ثقات " . كذا قال : و عبد الرحمن بن
عثمان قال الذهبي : " مقل ، ضعفه أبو حاتم الرازي " . و أما ابن حبان فذكره في
" الثقات " ! و له طريق أخرى بلفظ آخر عن ابن عمر ، و هو مخرج في " الضعيفة "
( 3503 ) . و له شاهد آخر مختصر من حديث حدير السلمي مرفوعا به دون قوله : " ربي
و ربك الله " ، و زاد : " و السكينة و العافية و الرزق الحسن " . و هو مخرج
هناك ( 3504 )
سلسلة الأحاديث الصحيحة: باب 1816، ج 4/ ص 315
* فتاویٰ ارکان اسلام/روزےکےمسائل/صفحہ394
* فضیلة الشیخ ابوالحسن مبشّراحمدربّآنی حفظ اللہ
(احکام الصیام )
* سلیمان بن محمد بن سلیمان العصیان حفظ اللہ
( احکام ومسائلِ رمضان )
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
 وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وٙالسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه


Share:

Roza Farz Hone Ke Sharayet, Kis Par Ramzan Ke Roze Farz Hain

Roza Farz Hone Ke Sharayet, Kis Par Ramzan Ke Roze Farz Hain

Roza Farz Hone Ke Sharayet, Kis Par Ramzan Ke Roze Farz Hain

بِسْـــــــــــــــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
 Roza Farz Hone Ke Sharayet, Kis Par Ramzan Ke Roze Farz Hain, Ramzan Ka Byan, Ramzan Ke Masail, Ramzan Me Periods, Ramzan Me Ehtalam, Ramzan Aur Aurton Ke Masail, Pregnet Aurat Roza Rahegi Ya Nahi, Ramzan Urdu  Sawal Jawab, Roman Islamic Urdu Post
 Roza Farz Hone Ke Sharayet, Kis Par Ramzan Ke Roze Farz Hain

▓ آدمی پررمضان کے روزے فرض ہونے کی شرائط
روزہ ہر اس شخص پر فرض ہے جس میں مندرجہ ذیل تین شرائط ہوں: (۱) مسلمان ہو۔ (۲) مکلف ہو۔(۳) روزہ رکھنے کی قدرت رکھتا ہو۔
کافر پر روزہ اس لئے فرض نہیںہے کہ اس کے کفر کی وجہ سے اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ،اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰہُ ہَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا۝۲۳ ](الفرقان:۲۳)
ترجمہ:’’اور انہوں نے جو اعمال کیے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردیا‘‘
البتہ اگر کافر شخص ، رمضان کے مہینہ میں توبہ کرکے اسلام قبول کرلیتا ہے تواس پر بقیہ دنوں کے روزے فرض ہونگے،اور اس مہینہ کے بحالتِ کفر گزرے ہوئے روزوں کی قضاء لازم نہیں ہوگی۔
اسی طرح روزہ ، مکلف پر فرض ہے ، چنانچہ وہ شخص جو جنون یا دیوانگی کے عارضہ میں مبتلا ہے پر روزہ فرض نہیں،ایک تو اس لئے کہ اس کی نیت نہیں ، دوسرا اس لئے کہ رسول اﷲ نے اسے اپنی ایک حدیث میں مرفوع القلم قرار دیا ہے:’’وعن المجنون حتی یفیق‘‘
بچے پر بھی روزہ فرض نہیں ہے؛کیونکہ رسول اﷲ نے بچے کو بھی مرفوع القلم قرار دیا ہے:’’وعن الصبی حتی یحتلم‘‘ البتہ اگر بچہ سنِ تمییز وشعور کو پہنچتا ہے تو اس کا روزہ صحیح قرار پائے گا ،اور نفل ہوگا، بچے کے والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو روزہ رکھوایا کریں ، صحابۂ کرام اپنے چھوٹے بچوں کو روزہ رکھوایا کرتے تھے۔
مریض اور مسافر پر اَداء ً روزہ فرض نہیں ہے، لیکن جب مرض یا سفر کا عذر ختم ہوجائے گا تو روزہ رکھیں گے، اور چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کریں گے،اﷲپاک کا فرمان ہے:
[فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ ](البقرۃ:۱۸۴)
ترجمہ:’’ہاں جو بیمار ہویا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی چاہئے‘‘
واضح ہوکہ روزہ کی فرضیت کا حکم، مقیم ، مسافر، صحت مند ، مریض ، حائضہ ،نفاس والی عورت ، ان دونوں سے پاک عورت اور بے ہوش سب کو شامل ہے ، روزہ کی فرضیت ان سب کے ذمہ قائم ہے، اور یہ سب روزہ کی فرضیت کے مخاطَب ہیں، ان سب کو اپنے ذمہ روزہ کے وجوب کا عقیدہ رکھنا چاہئے ،البتہ یہ سب فرضیتِ روزہ کے باعتبارِ اداء یا قضاء مختلف حکم رکھتے ہیں :
کچھ تو وہ ہیں جن پر رمضان کے مہینہ میں روزہ فرض ہوتا ہے،ان میں صحت مند، مقیم اور حیض ونفاس سے پاک عورت ، شامل ہیں۔
کچھ وہ ہیں جو صرف روزہ کی قضاء پر مکلف ومامور ہوں ان میں حیض اور نفاس والی عورتیںشامل ہیں۔نیز وہ مریض بھی جو بوجہِ مرض رمضان میں روزہ کی قدرت نہیں رکھتے لیکن بعد میں مرض کے زائل ہونے پر روزہ قضاء کرسکتے ہیں۔
اور کچھ وہ لوگ ہیں جنہیں روزہ رکھنے یا چھوڑنے ،دونوں میں سے کسی ایک چیز کا اختیار دیا گیا ہے، ان میں مسافراور وہ مریض شامل ہے جو بلا خوفِ ہلاکت روزہ رکھ سکتا ہے۔
حیض ونفاس والی عورت کیلئے روزہ کی قضاء کی دلیل رسول اﷲ کا یہ فرمان ہے:’’وتمکث إحداکن اللیالی لاتصلی وتفطر فی رمضان ‘‘ (صحیح مسلم(۸۰) مسند احمد(۵۳۲۱)
یعنی:’’ تم عورتیں کئی دن ، نماز نہیں پڑھتیں اور رمضان میں بھی افطار کرتی ہو ‘‘
(دنوں سے مراد ،حیض ونفاس کے دن ہیں)نیز عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا فرماتی ہیں:’’کنا نحیض علی عھد ا لنبی ﷺ فنؤمر بقضاء الصوم ولانؤمر بقضاء الصلاۃ‘‘
(صحیح مسلم(۳۳۵) جامع ترمذی(۷۸۷) مسند احمد(۲۵۴۲۰)
ترجمہـ:’’ ہمیں نبی کے دور میں جب حیض آتا تو روزے کی قضاء کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا‘‘
شیخِ کبیر یعنی بہت ہی زیادہ بوڑھے کیلئے ترکِ صوم اور صوم کی جگہ فدیہ کی رخصت وارد ہے، اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے:
[ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَہٗ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ۝۰ۭ ] ترجمہ:’’اور اس کی (ناقابلِ برداشت مشقت سے )طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں‘‘(البقرۃ:۱۸۴)
اگر کسی شخص نے کسی عذر کی بناء پر روزہ نہ رکھا ہو،پھر روزہ کے دوران دن ہی میں وہ عذر ختم ہوگیا ہو تو وہ شخص بقیہ دن امساک کرے گا یعنی کچھ بھی نہیں کھائے پیئے گا اور اس روزہ کی قضاء واجب ہوگی۔اس کی مثال، اس مسافر سے دی جاسکتی ہے جو سفر کے عذر کی بناء پر روزہ نہیں رکھتا، پھر اسی دن واپس لوٹ بھی آتا ہے، تو وہ بقیہ دن کھانے پینے سے پرہیز کرے گا اور اس روزہ کی قضاء دے گا۔یہی حکم حیض اور نفاس والی عورت کا ہے ،اگر وہ دن میں حیض یا نفاس سے پاک ہوجاتی ہیں ،اسی طرح اگر دن کے وقت کافر اسلام قبول کرلے ، یا مجنون ہوش میں آجائے ، یا بچہ بالغ ہوجائے، تو یہ سب بقیہ دن کا امساک کریں گے اور اس دن کے روزہ کی قضاء کریں گے۔
【 الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ】
یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ آدمی پر روزہ فرض ہونے کی چھ شرطیں ہیں
◆  پہلی شرط  : اسلام 
اسلام کی ضد کفر ہے۔لہٰذا کافر پرروزہ لازم نہیں ہے۔یعنی ہم کافرکوروزےکاپابندنہیں بنائیں گے۔کیونکہ وہ لائقِ عبادات نہیں ہے۔اگروہ روزہ رکھ بھی لے توبھی اسکاروزہ مقبول نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
وَ قَدِمۡنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنۡ عَمَلٍ فَجَعَلۡنٰہُ  ہَبَآءً  مَّنۡثُوۡرًا  ﴿۲۳﴾  (سورة الفرقان )
اورانہوں نے جوجواعمال کیے تھے ہم نےان کی طرف بڑھ کرانہیں پراگندہ ذروں کی طرح کر دیا ۔ 
نیز فرمایا
وَ مَا مَنَعَہُمۡ  اَنۡ تُقۡبَلَ مِنۡہُمۡ نَفَقٰتُہُمۡ   اِلَّاۤ   اَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ بِرَسُوۡلِہٖ  ﴿۵۴﴾
کوئی سبب انکےخرچ کی قبولیت کےنہ ہونےکااس کےسوانہیں کہ یہ اللہ اوراس کےرسول کےمنکر ہیں۔
اسی طرح اگر آدمی نماز نہیں پڑھتا ہوتواس کا روزہ بھی صحیح نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے قبول کیاجائےگا، کیونکہ بےنمازی کافرہے ، اور اللہ تعالی کافرکی عبادت قبول نہیں فرماتا۔
 ◆   دوسری شرط :  عقل 
اس کی ضدجنون ( پاگل پن ) ہے ۔لہٰذا مجنوں (پاگل شخص ) پر روزہ فرض نہیں۔کیونکہ روزے کی درستگی کےلیے نیت شرط ہے۔اور مجنوں نیت کااہل نہیں اسلیے کہ وہ عقل وشعور نہیں رکھتا۔اور حدیث میں ہے
   ”  تین طرح کےلوگ مرفوع القلم ہیں۔١۔سونےوالا یہاں تک کہ بیدارہوجائے۔٢۔بچہ، یہاں
       تک کہ بلوغت کوپہنچ جائے۔٣۔مجنوں ، یہاں تک کہ اسکےہوش وحواس درست ہوجائیں ۔ “
اور مجنوں ہی کےحکم میں وہ شخص بھی ہےجسکی عقل کبرسنی کی وجہ سےچلی گئی ہو۔اس لیے کہ جب انسان سن رسیدہ ہوجاتا ہے تو بسااوقات اس کی عقل چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ وہ رات اوردن ،دور اور نزدیک کےدرمیان بھی تمیز نہیں کرپاتا اور اسکی حالت ایک بچے سےبھی گئی گزری ہوجاتی ہے۔لہٰذا جب انسان عمرکےاس مرحلہ کوپہنچ جائے توشریعت اس پر روزہ فرض نہیں کرتی ، جس طرح کے اس کے لیے نماز اور طہارت ضروری نہیں رہ جاتی۔
  ◆   تیسری شرط : بلوغت 
اسکی ضد کم سنی ہے ، مذکر(مرد ) کی بلوغت کی پہچان تین علامتوں میں سے کسی ایک سے ہوتی ہے۔اور مئونث (عورت) کی بلوغت کی پہچان چارعلامتوں میں سے کسی ایک سے ہوتی ہے۔
پہلی علامت * پندرہ سال کا پورا ہونا ۔
دوسری علامت * زیرِ ناف بال کا اگنا۔
تیسری علامت * بشہوت منی کا نکلنا ،خواہ خواب کی حالت میں ہو یا حالتِ بیداری میں
جب ان تین علامتوں میں سے کوئی علامت ظاہرہوجائے توانسان بالغ ہوجاتا ہے۔خواہ مرد ہویا عورت۔اورعورت کے بلوغ کی پہچان ایک چوتھی علامت سےبھی ہوتی ہے۔اور وہ ہے دم حیض کا آنا ،جب عورت کو دم حیض آنےلگے تو وہ بلوغت میں داخل ہوجاتی ہے۔یہاں تک کہ اگراسے دس سال کی عمر میں ہی دم حیض کا آنا شروع ہوجائے تب وہ بالغ ہوجاتی ہے اور اب اس کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔اور اس پر وہ تمام امور واجب ہوجاتے ہیں جوایک تیس سالبکی عورت پر واجب ہوتے ہیں۔
 ◆    چوتھی شرط : طاقت 
اسکی ضد عجز وبےبسی ہے۔روزے کی طاقت وہمت نہ ہونے کی دو قسمیں ہیں
 (①)  وقتی طور پر طاقت نہ رکھنا۔جیسے کوئی عام بیماری ہوجس سےشفایابی کی امید ہو۔
 (②)  دائمی عجز وبےبسی ، جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو۔جیسے کوئی ایسی بیماری جس سے شفا یابی کی امیدنہ ہو۔مثلاً کینسر کا مرض اور پیرانہ سالی۔اسلیےکہ پیرانہ سالی کبھی ختم نہیں ہوسکتی ،کیونکہ سن رسیدہ شخص کاپھر جوان ہونا ممکن نہیں ہے۔اس قسم کی عجز وبےبسی میں آدمی پر روزہ واجب نہیں ہے۔اس لیے کہ وہ اسکی طاقت سے باہر ہے۔لیکن اسکے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر دن کےبدلے ایک مسکین کوکھانا کھلائے۔اگر مہینہ انتیس دن کا ہے تو انتیس مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اور مہینہ تیس دن ہونےکی صورت میں تیس مسکینوں کوکھانا کھلائے گا۔کھانا کھلانے کی دو صورتیں ہیں :
 (①)  پہلی صورت یہ ہے کہ ماہ رمضان کے دنوں کی تعداد میں مہینہ کے آخر میں مساکین کو دعوت دےاور انہیں دوپہر یا شام کا کھانا کھلائے۔
 (②)  دوسری صورت یہ ہے کہ انہیں اناج اور گوشت دیدے ،اناج کےساتھ سالن بھی ہو ،اور اس اناج کی مقدار ایک چوتھائی صاع (٤/١ صاع ) ہے کیونکہ صاع عہد نبوی میں چار مد کا ہوتا تھا اور صاع کا تعین کیا گیا تو اسکی مقدار دو کلو چالیس گرام پہنچی۔ اس طرح ہرمسکین کو آدھا کلو اور دس گرام ( یعنی پانچ سو دس گرام ) کھانا دیا جائے گا۔یہی واجب مقدار ہےلیکن احتیاط کےطورپرانسان اس سے زیادہ دیدے تو کوئی حرج نہیں۔
عجز کی دوسری قسم وقتی عجز ہے ۔جسکے زائل ہونے کی امید ہوتی ہے۔جیسےعام بیماریاں زکام اور بخار وغیرہ۔ایسی صورت میں اس پر واجب ہے کہ جن دنوں کا اس نےروزہ نہیں رکھا ،اتنے دنوں کی قضا کرے۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے
فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ  ﴿۱۸۵﴾
 تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اُسے روزہ رکھنا چاہے ہاں جو بیمار
 ہو یا مسافر ہو اُسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔(سورة البقرہ )
اگرایسےمریض پر روشہ شاق گزرے تو اس سے کہا جائے گا کہ روزہ توڑ دے اور بعد میں اسکی قضا کر لے ۔
  ◆   پانچویں شرط : اقامت (مقیم ہونا ) 
اسکی ضد سفرہے(یعنی سفر میں ہونا ) ارشاد باری تعالیٰ ہے
فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ  ﴿۱۸۵﴾
 تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اُسے روزہ رکھنا چاہے ہاں جو بیمار
 ہو یا مسافر ہو اُسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔
(سورة البقرہ )
اس آیت کے مطابق مسافرکےلیے افضل کام وہی ہےجواس کےحق میں آسان تر ہو۔اگر اس کے حق میں روزہ توڑنا آسان راہ ہے تو وہ روزہ توڑ دے۔اور اگرروزہ رکھنا اور توڑنا مساوی حیثیت رکھتےہوں تو راجح مسلک یہی ہےکہ روزہ رکھنا افضل ہے  کیونکہ یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔آپؐ روزہ رکھتےتھے اور جب آپؐ سےیہ کہا گیا کہ لوگوں پرروزہ شاق گزررہاہے اور وہ آپؐ کےفعل کاانتظار کررہےہیں ، تواس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔مسافر کا روزہ نہ رکھنا اور رکھنا اگراس کےلیے برابرہوں تو اسکا روزہ رکھ لینا اس لیے بھی افضل ہے،کیونکہ دیکھنےمیں یہ بات آتی ہے کہ جب انسان پر کسی چیز کی قضا واجب ہوتی ہے تواسکےلیےیہ قضا دشوارگزارہو جاتی ہے۔
یہاں ایک بہت اہم سوال پیداہوتا ہے کہ اگرآدمی عمرہ کرنے کےلیے آئے اور مکہ میں ہو تو کیا وہ روزہ چھوڑ دے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ جب (معتمر) سفرمیں ہو ،اور سفر میں ہی ہے ،تواسکے لیےروزہ توڑنا(نہ رکھنا) جائز ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےسن ٨ ہجری میں مکہ فتح کیا ،انیس یا بیس رمضان کومکہ میں داخل ہوئے۔اور مہینے کا باقی حصہ وہیں گزارا اور روزہ نہیں رکھا۔جیسا کہ صحیح بخاری میں ثابت ہے کہ نبی اکرمؐ نے باقی مہینہ روزہ نہیں رکھا اور مکہ میں انیس دن گزارےاور نماز قصر کرتے رہے۔اسی لیے ہم مکہ میں ایسے لوگوں کو پاتے ہیں جن پرعمرے کی ادائیگی کی وجہ سے روزہ بہت شاق گزرتا ہے۔یہاں تک کہ بعض لوگوں کوبےہوش ہوتے بھی دیکھا گیا ہے۔لہٰذاایسےشخص کو روزہ توڑ دینا ہی بہتر ہے،کیونکہ وہ سفر میں ہے۔
اب یہاں دوسراسوال پیداہوتا ہے کہ کیا یہ افضل ہے کہ آدمی جب دن میں مکہ پہنچے توروزے کی حالت میں باقی رہے اور عمرہ کو رات تک کےلیے مئوخر کردے؟ یایہ افضل ہےکہ روزہ توڑ دے تاکہ پہنچتے ہی دن میں عمرہ ادا کرلے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ افضل دوسری صورت ہے ،یعنے روزہ توڑ دے تاکہ عمرہ کی ادائیگی جلد کرسکے کیونکہ اس کا مکہ آنے کا مقصود اصلی عمرہ ہی ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ ہی کے لیے جلدی کرتے تھے،یہاں تک کہ اپنی اونٹنی (سواری) کو مسجد کے دروازے پرہی بٹھادیتےاور عمرہ کی ادائیگی کےلیے مسجد میں داخل ہو جاتے۔
 ◆   چھٹی شرط : موانع سے خالی ہونا 
یہ شرط عورت کےساتھ خاص ہے۔یعنی وہ حیض ونفاس کی حالت میں نہ ہو ۔کیونکہ حیض ونفاس روزے کی صحت سے مانع ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کے لیے فرمایا
الیس اذا حاضت لم تصل ولم تصم
کیا ایسی بات نہیں کہ جب عورت حالت حیض میں ہوتی ہےتونہ نمازپڑھتی ہےنہ روزہ رکھتی ہے۔
اور تمام مسلمانوں کااجماع ہے کہ حائضہ عورت کا روزہ صحیح نہیں ہے۔بلکہ اس پر روزہ رکھنا حرام ہے۔اور یہی حکم نفاس والی عورت کے بارے میں بھی ہے۔
شیخ محمّد بن صالح العثیمین رحمة اللہ
روزہ اور اعتکاف کےاحکام ومسائل
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه

  
Share:

Rozedar Ke Liye Jayez Kaam, Ramzan Me Miswak Karna, Roze Ki Halat Me Biwi Se Bosa Lena

Rozedar Ke Liye Jayez Kaam, Ramzan Me Miswak Karna, Roze Ki Halat Me Biwi Se Bosa Lena , Ramzan Me Khusboo Lagana, Janabat Me Subah Karna, Roza Me Injection, Roza Me Blood Nikalwana, Roze Ki Haalat Me Daanton Ki Safayi, Aankhon Me Ark Gulab

Rozedar Ke Liye Jayez Kaam, Ramzan Me Miswak Karna, Roze Ki Halat Me Biwi Se Bosa Lena , Ramzan Me Khusboo Lagana, Janabat Me Subah Karna, Roza Me Injection, Roza Me Blood Nikalwana, Roze Ki Haalat Me Daanton Ki Safayi, Aankhon Me Ark Gulab

 بِسْــــــــــمِ اِللَّهِ الرَّ حْمَـــنِ الرَّ حِيِــــمِ
السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
Rozedar Ke Liye Jayez Kaam, Ramzan Me Miswak Karna, Roze Ki Halat Me Biwi Se Bosa Lena , Ramzan Me Khusboo Lagana, Janabat Me Subah Karna, Roza Me Injection, Roza Me Blood Nikalwana, Roze Ki Haalat Me Daanton Ki Safayi, Aankhon Me Ark Gulab
Rozedar Ke Liye Jayez Kaam, Ramzan Me Miswak Karna, Roze Ki Halat Me Biwi Se Bosa Lena

درج ذیل چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا
١ـ بھول کرکھانا اور پینا ۔
٢ـ بغیر مبالغہ کے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا ۔
٣ـ دمہ کیلئے اسپرے کا استعمال ۔
٤ـ کان اور آنکھ میں قطرہ ڈالنے یا سرمہ لگانے سے ‘ ناک میں قطرہ ٹپکانے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔
٥ـ گردے کی صفائی ۔
٦ـ مسواک کرنا خواہ زوال سے پہلے ہویا زوال کے بعد بلکہ ہر وقت مسواک مستحب ہے ۔
٧ـ ٹیسٹ کیلئے خون دینا ۔
٨ـ ایسا انجشکن جو غذا کا کام نہ دیتا ہو ۔
٩ـ کھانا چھکنا بشرطیکہ حلق میں داخل نہ ہو۔
١٠ـ ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا ‘ لیکن پرہیز بہتر ہے ۔
١١ـ کلی کرتے وقت بغیر قصد کے حلق میں پانی چلے جانا ۔
درجہ ذیل چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
١ـ جان بوجھ کرکھانا اور پینا ۔
٢ـ جماع ( ہمبستری )
٣ـ قئے کرنا ‘ اگر قئے اپنے آپ آجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
٤ـ گلوکوز چڑھوانا ‘ یا ایسا انجکشن لینا جو کھانے پینے کا بدل ہو ۔
٥ـ پچھنا لگوانا ‘ اس حکم میں خون دینا بھی داخل ہے ۔
٦ـ شہوت سے منی کا خارج کرنا ۔
٧ـ عورت کو حیض یا نفاس کاخون آجانا ۔
روزوں کے درمیان ہونے والی غلطیاں
ذیل میں ان چند غلطیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جنہیں لوگ جانے انجانے میںکئے جاتے ہیں ‘ ان سے بچا جائے تاکہ ہمارے روزے مقبول روزے ہوں : ـ
١ـ کھانے پینے کی چیزیں خریدنے میں مبالغہ سے کام لینا ۔
٢ـ رات ہی سے روزہ کی نیت نہ کرنا ۔
٣ـ فجر کی اذان کے وقت قصدا پانی پینا ۔
٤ـ بعض لوگوں کا رمضان المبارک کی اہمیت کو نہ سمجھنا اور عام دیگر مہینوں کی طرح اسکا استقبال کرنا ۔
٥ـ تراویح کی نماز چھوڑدینا ۔
٦ـ بعض لوگوں کا اپنے نابالغ بچوں کو روزہ رکھنے سے منع کرنا ۔
٧ـ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ سے کام لینا ۔
٨ـ نیند کے بہانے بعض لوگوں کا ظہر اور عصر کی نماز تاخیر سے پڑھنا ۔
٩ـ بہت سے لوگوں کا کپڑے اور مٹھائیاں وغیرہ خریدنے میں مشغول رہنا اور عبادت سے لاپرواہی برتنا ۔
▓  وہ اعمال جو روزہ دار کے لیے مباح (جائز ) ہیں
روزہ دار کے لیے درج ذیل امور جائز ہیں
☚  روزہ میں مسواک کا استعمال  
مسواک کی فضیلت میں کئی دلائل ہیں۔
 (1)  حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لو لا ان اشق علی امتی لاَمرتھم بالسواک عند کل وضو
” اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا تومیں انہیں ہروضوکےساتھ مسواک کرنےکاحکم دیتا۔“
(صحیح البخاری  ،  متفق علیہ )
 (2) حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
السواک مطھرة للفم مرضاة فلرب
”  مسواک منہ کی صفائی اور رب کی خوشنودی کا باعث ہے  “
(صحیح بخاری ۔ نسائی )
� مسئلہ  ;  روزہ دار کے لیے مسواک کا کیا حکم ہے ؟
روزہ دار کے لیے مسواک کرنا مطلق طور پر جائز ہے۔خواہ ظہر سے پہلے ہو یابعد میں۔اس کے دلائل یہ ہیں
 (1)  حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لو لا ان اشق علی امتی لاَمرتھم بالسواک عند کل وضو
” اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا تومیں انہیں ہروضوکےساتھ مسواک کرنےکاحکم دیتا۔“
(صحیح البخاری  ،  متفق علیہ )
 (2) حضرت عبداللہ بن عمرؓ کےمتعلق مروی ہے کہ وہ روزہ دار کے لیے مسواک کو جائز سمجھتے تھے۔
( ابن ابی شیبہ ، بسند صحیح )
حضرت شیخ عبدالرحمٰن سعدیؒ سے پوچھا گیاکہ ”روزے کی حالت میں آدمی مسواک کرےتو مسواک کی حرارت اور ذائقہ محسوس کرے تو کیا یہ اسکے لیے نقصان دہ ہے۔یا اگر روزہ دار مسواک کرتا ہوامسواک کو باہر نکال لےاور اس پر تھوک ہو اور پھر دوبارہ منہ میں ڈالے تو کیا اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا ؟ انہوں نے فرمایا دونوں صورتوں میں اسکا روزہ صحیح ہوگا روزہ دار کے لیے مسواک کی اباحت ان تمام مسائل پر مشتمل ہے۔لہٰذا ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں۔
( الفتاوی السعدیہ ٢٢٩ )
جمہور(جن میں امام ابو حنیفہؒ ،امام شافعیؒ ،امام ثوریؒ اور امام اوزاعیؒ  شامل ہیں) کے نزدیک روزہ دارکےلیے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور یہ اسی طرح مسنون و مستحب ہے جس طرح روزہ نہ ہونےکی صورت میں ،خواہ اسے دن کے شروع کے حصہ میں کیا جائے یا آخری حصہ میں، اور وہ خواہ تر ہو یا خشک۔
 ☚  روزے میں ٹوتھ پیسٹ  کا استعمال
منجملہ ان افعال کے جو روشہ دار کے لیے مباح ہیں ٹوتھ پیسٹ کا کرنا بھی ہے۔روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہےکہ جب بالاتفاق روزے دار کے لیے مسواک کرنا جائز ہے تو پھر ٹوتھ پیسٹ کرنے میں کیا امرمانع ہے۔ذائقہ تو دونوں میں ہی ہوتا ہے۔فرق صفاتنا ہے کہ مسواک کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور ٹوتھ پیسٹ کا ذائقہ خوش کن ہوتا ہے۔لیکن جو شخص ٹوتھ پیسٹ کے ذائقے کواپنے حلق میں اترنے سے باز نہیں رکھ سکتا تو وہ اس کے کرنے سے پرہیز کرے۔کیونکہ بلا شک وشبہہ ذائقے کا حلق کے راستے پیٹ میں جانا ،روزےکے مفسدات میں سے ہے۔جبکہ اکثریت اس بات کی قدرت رکھتی ہے کہ اس کے ذائقے کو پیٹ میں جانے سےروکے۔اس لیے روزے کی حالت میں اسے کرنےسے روزے کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہی مسلک سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیزبن عبداللہ بن بازؒ کا بھی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں
لا حرج فی ذالک مع التحفظ عن ابتلاع شیءٍ منہ
اس میں نگلنے کے بچاؤ کےساتھ کوئی گناہ نہیں
(مجموع الفتاوی للسماحة الشیخ عبداعزیز بن عبداللہ بن بازؒ ،فتاوی الصیام٢٤٧/٤ ، دارلوطن،الریاض )
 ☚ روزے میں غسل کرنا 
روزے کی حالت میں غسل کرنا (کسی بھی حالت کا) یا گرمی اور پیاس کی وجہ سے سر وغیرہ پر پانی ڈالنا جائز ہے۔
(الفتح الربّانی ٤٩/١٠ )
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کسی صحابی سے روایت کرتےہیں
لقد رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالعرج یصب علی راسہ الماء وھو صائم من العطش او من الحر
”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرج(ایک مقام ) میں روزے
 کی حالت میں گرمی یا  پیاس کی وجہ سےسر پر پانی ڈالتے دیکھا “
(سنن ابی داؤد ،کتاب الصیام باب الصیام یصب علیہ الماء من العطش ویبالغ فی الاستشاق )
اسکے علاوہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے
قد کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدرکہ الفجر فی رمضان وھو جنب من غیر حلم فیغتسل وبصوم
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتےتھے۔اور یہ جنابت احتلام کے بغیر
ہوتی تھی اور آپؐ روزے سےہوتےتھے۔اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتےتھے“
(صحیح البخاری ،کتاب الصوم ، باب اغتسال الصائم.....صحیح مسلم
 کتاب الصیام باب صحة صوم من طلع علیہ الفجر )
اسی طرح ڈبکی لگا کرکھلے پانی میں نہانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی پیٹ میں داخل نہ ہو ۔
” اللجنة الدائمة للبحوث العلمیہ والافتاء “ سے سوال کیا گیاکی
 ” کیا رمضان میں روزہ دار ظہر کے بعدگھر میں بنے حوض یا بڑےٹب میں نہا سکتا ہے؟ “
افتاء کمیٹی نے جواب دیا
” جی ہاں ! روزہ دار کے لیے نہانا جائز ہے۔اور اس کا روزے پر کوئی اثرنہیں پڑتا ،
صرف اس بات کا خیال کیا جائےکہ پانی پیٹ میں داخل نہ ہو۔کیونکہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم  سے روزہ  کی حالت  میں  نہانا  ثابت  ہے۔“
( فتای الجنة الدائمة فتوی نمبر  ٣٧٣٨ )
فضیلةالشیخ محمدصالح المنجدحفظہ اللہ فرماتے ہیں 👇
روزے دار کے لے نہانا مباح ہے اوراس کا روزے پر کوئي اثر نہیں ۔
ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی مغنی میں کہتے ہیں :
روزے دارکے لیے نہانے میں کوئي حرج نہیں اس کا استدلال مندرجہ ذيل حدیث سے لیا جاسکتا ہے :
عا‏ئشہ اورام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتی ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کی وجہ سے جنبی ہوتے اوربعض اوقات فجر ہوجاتی توآپ روزہ رکھتے اورغسل کرلیتے تھے ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1926 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1109 )
اور ابوداود رحمہ اللہ تعالی اپنی سند کے ساتھ بعض صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ :
میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ روزے کی حالت میں گرمی یا پیاس کی شدت سے اپنے سرمیں پانی ڈال رہے تھے ۔
سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2365 ) علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابوداود میں اسے صحیح قراردیا ہے ۔
صاحب عون المعبود کہتے ہیں :
اس حدیث میں دلیل ہے کہ روزے دار کےلیے جائز ہے کہ گرمی کی شدت کو کم کرنے کےلیے اپنےمکمل بدن یا جسم کے بعض حصہ پر پانی بہا سکتا ہے ، جمہور علماء کرام کا مسلک یہی ہے اورانہوں نے غسل واجب اورغسل مسنون اورمباح میں کوئي فرق نہيں کیا ۔ ا ھـ
امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
روزے دار کے غسل کے بارہ میں باب : اورابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے روزے کی حالت میں اپنا کپڑا بھگوکر اپنے اوپر ڈالا ، اورامام شعبی حمام میں روزے کی حالت میں داخل ہوئے ۔۔۔ اور حسن رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ روزہ دار کے لیے کلی اور ٹھنڈک حاصل کرنے میں کوئي حرج نہیں ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
قولہ : ( روزے دار کے غسل کرنے کا باب ) یعنی اس کے جواز کا بیان ۔
زین بن المنیر کا کہنا ہے کہ : اغتسال کا لفظ مطلق طور پر اس لیے ذکر کیا ہے اس میں غسل مسنونہ ، غسل واجب ، اورمباح ہرقسم کا غسل شامل ہوسکے ، گویا کہ اس روایت کی ضعف کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو علی رضي اللہ تعالی سے مروی ہے اورمصنف عبدالرزاق نے روایت کی ہے اوراس کی سند میں ضعف ہے :
جس میں روزے دار کو حمام میں داخل ہونے سے منع کیا گيا ہے ۔ ا ھـ
☚  روزے میں بیوی کا بوسہ لینا 
جمہور ائمہ (جن میں امام ابوحنیفہؒ ، امام شافعؒؓ  اور امام احمدبن حنبلؒ شامل ہیں ) کے نزدیک روزہ دارکےلیےروزےکی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا یا اس سے لپٹنا جائز ہے۔ لیکن اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے گا ( یعنی جماع یا انزال کا احتمال ہو ) تو اس کے لیے بوسہ لینا مکروہ ہے ۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے
” ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےروزہ کی حالت میں بیوی سے لپٹنے
کے متعلق دریافت کیا تو آپؐ نے اسے جازت دے دی۔پھر ایک دوسرے شخص
نے آکر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔جس شخص
کو آپؐ نےاجازت دی تھی وہ بوڑھا تھااورجس کومنع فرمایا تھا جو جوان تھا ۔“
(سنن ابی داؤد ، کتاب الصیام ، باب کراہیة اللشاب )
تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کی حالت میں اپنی ازواج کا بوسہ لینا ثابت ہے۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے
”  آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیا کرتےتھے اور آپؐ لپٹا بھی کرتے تھے۔
     لیکن آپؐ کو اپنی خواہش پرتم سب کی نسبت زیادہ قابو تھا “
( صحیح البخاری ، الصوم باب المباشرت للصائم )
 ☚  جنابت کی حالت میں صبح کرنا 
جنابت کی حالت میں صبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔خواہ جنابت کی یہ حالت جمع کی وجہ سے ہو یا احتلام کی وجہ سے ۔ اور خواہ روزہ فرض ہو یا نفلی ( التمہید لابن البر ٤٥/٢٢ ) ۔اسکی تائید میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے
قد کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدرکہ الفجر فی رمضان وھو جنب من غیر حلم فیغتسل وبصوم
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتےتھے۔اور یہ جنابت احتلام کے بغیر
ہوتی تھی اور آپؐ روزے سےہوتےتھے۔اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتےتھے“
(صحیح البخاری ،کتاب الصوم ، باب اغتسال الصائم.....صحیح مسلم
 کتاب الصیام باب صحة صوم من طلع علیہ الفجر )
☚ روزہ میں انجکشن 
علاج کےلیے عام طورپرتین قسم کے انجکشن لگائے جاتے ہیں
 (①) جلد میں لگانے والے انجکشن (subcutaneous)
 (②) گوشت میں لگنے والے انجکشن (intramuscular)
 (③) نس میں لگنے والےانجکشن (intravanous )
ان تینوں اقسام میں اگرغذائی ادویہ استعمال نہ ہوں تویہ مباح ہیں۔ان کے دلائل یہ ہیں
1/ جب تک روزےکےبطلان پرواضح دلیل نہ مل جائے روزہ صحیح ہوگا۔
2/ ان کو کھانےپینے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا جاتا۔
اللجنة الدائمة اللبحوث العلمیة والافتاء سے سوال کیاگیا
رمضان میں انجکشن لگوانے کا کیا حکم ہے ؟ خواہ وہ طاقت کےلیے ہو یا علاج کے لیے۔
انہوں نے جواب دیا ”  روزہ دار کے لیے رمضان میں انجکشن کے ذریعے علاج کروانا
درست ہے۔لیکن طاقت کے انجکشن استعمال نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ طاقت کے انجکشن
کھانے پینے کے حکم میں ہیں۔اگریہ رات کواستعمال کرلیےجائیں تو بہتر بات ہے ۔
شاگر کےمریض کو دیا جانے والا انجکشن بھی ناقص روزہ نہیں ہے۔کیونکہ یہ جلد میں لگنےوالاانجکشن ہے۔
https://www.facebook.com/groups/490657937801649/permalink/1409736075893826/
☚  گردوں کی صفائی (dialysis) 
گردوں کی صفائی دو طرح سے کی جاتی ہے
 (①)  آلہ کےذریعے جس میں خون داخل کیا جاتا ہے۔اور وہ آلہ خون کی صفائی کرتا ہے۔پھرخون رگ کےذریعے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے۔اوراس دوران مریض کو کچھ غذائی مواد کی بھی ضرورت پڑتی ہےجسےبذریعہ نس دیا جاتا ہے۔
 (②)  ایک چھوٹی بوتل ناف کےاوپرپیٹ میں داخل کردی جاتی ہے۔اورپیٹ میں تقریبًا دو لیٹرگلوکوز داخل کر دیاجاتا ہے جو کچھ عورصہ بعد نکال کر دوبارہ ڈالا جاتا ہے۔اور اس عمل کودن میں کئی مرتبہ دوہرایا جاتا ہے۔
ان طریقہ کارکےلیے شرعئی حکم یہ ہے کہ یہ ناقصِ روزہ ہیں ۔کیونکہ خون کی صفائی میں جدید اجزاء اور غذائی مواد کا ملنا کھانے پینے کے مشابہ ہے۔ہاں اگر بغیر غذائی اجزاء کےیہ عمل ہو تواس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔لیکن گردوں کے دھونے میں غذائی مواد اور نمکیات وغیرہ کا استعمال ضروری ہے۔
☚ روزہ میں خون کا عطیہ دینا (blood donation ) 
خون کاعطیہ دینے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔کیونکہ اس کا کھانے پینے والی اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور نہ اسے سینگی لگانے پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ سینگی میں جو بات پائی جاتی ہےوہ خون کے عطیہ میں نہیں ہے
   شیخ ابن بازؒ سے سوال کیا گیا کہ
”  رمضان میں روزہ دارکے لیے لیبارٹری  ٹیسٹ(blood sample ) کے
   لیےایک سرنج برابرخون نکالنے کاکیاحکم ہے ؟ “
شیخ ابن بازؒ نےفرمایا اس طرح خون لینے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔
کیونکہ یہ ایک ضرورت کے تحت ہے۔اور شریعت مطہرہ میں معلوم
 روزہ توڑنے والی اشیاء سےاس کا کوئی تعلق نہیں ہے
 (مجموع الفتاوی ابن بازؒ ٢٧٤/١٥ )
☚ دل کی بیماریوں کےلیےزبان کےنیچےرکھنےوالی ٹکیاں 
دل کی بعض بیماریوں کے لیے زبان کے نیچے ٹکیاں رکھی جاتی ہیں جوفورًا منہ میں تحلیل ہوجاتی ہیں اور دل کی بیماریاں کنٹرول کی جاتی ہیں ۔انکےلیےشرعئی حکم یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں ان کا استعمال جائز ہے۔یہ ناقص روزہ نہیں ہیں۔کیونکہ ان میں سے کوئی بھی چیز پیٹ میں داخل نہیں ہوتی۔بلکہ منہ میں ہی تحلیل ہوکراپنا کام پورا کردیتی ہیں۔
(مجمع فقہ الاسلامی قرار نمبر ٩٣ )
☚   روزہ میں دانتوں کی صفائی،بھرنا یا نکلوانا 
دانتوں کی صفائی، بھروانا یا دانت نکلوانا روزہ کی حالت میں جائز ہے۔اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔مگر شرط یہ ہے کہ اس سے نکلنےوالاخون حلق سے نیچے نہ اترے ۔لیکن ان اعمال کو رات تک مئوخر کرلینا افضل ہے۔شیخ ابن بازؒ سےپوچھاگیا
”  اگرانسان بحالت روزہ دانت میں تکلیف محسوس کرےاور چیک کروانے پرڈاکٹر اسکے
دانتوں کی صفائی کردے ،بھر دےیا دانت نکال دےتوکیا اسکے روزےپراثرانداز ہوگا؟
اوراگراسکےدانت کوسن کرنےکےلیےانجکشن لگائےتواسکاکیاحکم ہے ؟ “
انہوں نےجواب دیا
” سوال میں جوکچھ کہاگیا ہے اس کا روزہ کےصحیح ہونے پرکوئی اثرنہیں بلکہ وہ معاف ہے ۔
اور مریض کوچاہیے کہ وہ خون یا دوا کونگلنے سے پرہیز کرے۔اور دانت کو سن کرنے کے
لیے لگائے جانے والے انجکشن کا بھی روزہ کی صحت پرکوئی اثر نہیں۔کیونکہ وہ کھانے پینے
والی اشیاء کی قبیل سے نہیں ۔اصل یہ کہ روزہ درست و صحیح ہے “
سلیمان بن محمدبن سلیمان العصیان حفظ اللہ
احکام الصیام
محمد آصف احسان الباقی
احکام الصیام
☚  رزوہ میں خوشبو لگانا
رزوہ میں خوشبو لگانے کے بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ صالح المنجد لکھتے ہیں:
الحمد للہ
رمضان المبارک میں خوشبواستعمال کرنا جائز ہے ، اوراس کے استعمال سے روزہ فاسد نہيں ہوتا ۔ فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں ہے کہ :
( مطلقاخوشبو وہ عطر ہو یا دوسری روزے کو فاسد نہیں کرتیں رمضان ہویا غیر رمضان روزہ نفلی ہو یا فرضی اس پر کچھ اثرنہیں ہوتا ) ا ھـ
اورایک دوسرے فتوی میں لجنۃ کا کہنا ہے :
( جس نے کسی بھی قسم کی خوشبوروزے کی حالت میں استعمال کی اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا ، لیکن اسے دھونی خوشبوکا پاوڈر نہيں سونگنا چاہیے مثلا کستوری پاوڈر ) ا ھـ
دیکھیں اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 271 ) ۔
اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
روزے دار کے لیے دن کے شروع اورآخر میں خوشبو استعمال کرنی جائز ہے چاہے وہ دھونی ہو یا تیل کی شکل وغیرہ میں ، لیکن دھونی سونگنا جائز نہيں کیونکہ اس کے محسوس اورمشاھد اجزاء ہیں جن کے سونگنے سے وہ معدہ میں داخل ہوتےہیں ، اوراسی لیے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لقیط بن صبرہ رضي اللہ تعالی عنہ کو فرمایا تھا :
( ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کیا کرو لیکن روزے کی حالت میں مبالغہ نہ کرو ) ا ھـ
دیکھیں : فتاوی ارکان الاسلام صفحہ ( 469 ) ۔
☚ روزہ کی حالت میں مذی خارج ہو، یا احتلام ہو جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’روزہ کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے ٹوٹتاہے، جسم سے خارج ہونے سے نہیں ٹوٹتا ۔‘‘
[بخاری، تعلیقا، قبل الحدیث: ۱۹۳۸]
☚ حالت روزہ میں سر پر تیل لگانا اور کنگھی کرنا جائز ہے۔
[بخاری، تعلیقا، قبل الحدیث: ۱۹۳۰]
☚ روزہ دار کے لیے سرمہ استعمال کرنا جائز ہے۔
[ابوداؤد: ۲۳۷۹]
☚ اگر ہنڈیا یا کسی اور چیز کاذائقہ چکھ لیا جائے، بشرطیکہ وہ چیز حلق سے نیچے نہ جائے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :
اس میں کوئی حرج نہیں۔
[بخاری، تعلیقا، قبل الحدیث: ۱۹۳۰]
☚ منہ میں موجود اپنا تھوک نگل لینے سے، یا مکھی کے حلق میں داخل ہو جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیوں کہ ان چیزوں سے روزہ ٹوٹنے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔
↰ سینگی یا پچھنے لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اور روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
[بخاری: ۱۹۳۸، ۱۹۳۹]
☚ حالت جنابت میں سحری کھا کر روزہ رکھ لینا اور بعد میں غسل کرنا جائز ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بعض دفعہ فجر ہو جاتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ صحبت کی وجہ سے جنبی ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے ہیں اور آپ روزے سے ہوتے تھے۔
[بخاری: ۱۹۲۵، ۱۹۲۶۔ مسلم: ۱۱۰۹، ۱۱۱۰]
☚ اگر کسی شخص کو روزے کی حالت میں خود بخود قے آ جائے ، تو اس کا روزہ صحیح ہے قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس کی دلیل حدیث مبارکہ میں ہے کہ
 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا: (جس شخص کو خود بخود قے آ جائے تو اس پر قضا نہیں ہے، لیکن جو عمداً قے کرے وہ قضا دے)
ترمذی: (720)
اس روایت کو البانی نے "صحیح ترمذی" میں صحیح قرار دیا ہے۔
خود بخود قے آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
[البیھقی: ۴/ ۲۱۹۔ ابن ابی شیبہ: ۳/ ۳۸]
☚ امام حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ناک میں دوا (وغیرہ) ڈالنے میں، اگر وہ حلق تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
[بخاری، بعد الحدیث: ۱۹۳۴]
☚ اس شخص کا حکم جسكو رمضان المبارك ميں اٹھائيس يوم تك نكسير آتى رہے :
اگر تو معاملہ وہى ہے جو آپ نے بيان كيا ہے تو آپ كا روزہ صحيح ہے؛ كيونكہ آپ كو نكسير ميں كوئى اختيار نہيں تھا اور وہ خود ہى آئى ہے اس ليے اس كے وجود پر آپ كا روزہ نہيں ٹوٹا اس كى دليل شريعت اسلاميہ كى آسانى ہے.
اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
’’ اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا ‘‘البقرۃ : 286 )
اور اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ بھى فرمان ہے:
’’ اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا ‘‘ (المآئدۃ :6 )
اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمت نازل فرمائے "( فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 264 - 265 )
اور مستقل كميٹى كے فتاوى جات ميں يہ بھى درج ہے:
" اگر كسى شخص كے اختيار كے بغير روزے كى حالت ميں نكسير پھوٹ جائے تو اس كا روزہ صحيح ہے "( فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 10 / 267 )
دیکھیے : فتاویٰ علمائے حدیث/جلد : 2 / کتاب الصلوۃ
☚ روزے میں دمہ کے مریض کا انہیلر استعمال کرنا
ان ہیلر استعمال کرنے سے کوئی چیز معدے تک نہیں پہنچتی، لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ روزے کی حالت میں ان ہیلر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ اس کے استعمال سے دوائی کے اجزا معدہ تک نہیں پہنچتے اس بناء پر کہ یہ ایک ایسی چیز ہے، جو اڑ جاتی، دھواں بنتی اور ختم ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی جز معدے تک نہیں پہنچتا، لہٰذا حالت روزہ میں اسے استعمال کرنا جائز ہے، اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔
دیکھیے : فتاویٰ ارکان اسلام/روزےکےمسائل/صفحہ387
☚ آنکھوں میں عرق گلاب ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟؟؟
مشہور سعودی مفتی علامہ محمد بن صالح العثیمین کا فتوی
قال الشيخ ابن عثيمين :
وذهب شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله : إلى أن الكحل لا يفطر ولو وصل طعم الكحل إلى الحلق ، وقال إن هذا لا يسمى أكلاً وشرباً ، ولا بمعنى الأكل والشرب ، ولا يحصل به ما يحصل بالأكل والشرب ، وليس عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث صحيح صريح يدل على أن الكحل مفطر ، والأصل عدم التفطير ، وسلامة العبادة حتى يثبت لدينا ما يفسدها ، وما ذهب إليه رحمه الله هو الصحيح ولو وجد الإنسان طعمه في حلقه ، ويناءً على ما اختاره شيخ الإسلام لو أنه قطر في عينيه وهو صائم فوجد الطعم في حلقه فإنه لا يفطر بذلك )
الشرح الممتع ( 6 / 382 ) .
المصدر: الإسلام سؤال وجواب
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ سرمہ روزہ کو ختم نہیں کرتا اگرچہ وہ حلق میں بھی چلا جائے اور ان کا کہنا ہے کہ اسے نہ تو کھانے اور پینے کا نام دیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ ان دونوں کے معنی میں آتا ہے اور پھر اس سے نہ ہی وہ چیز حاصل ہوتی ہے جو کھانے پینے سے حاصل ہوتی ہو ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی صریح اور واضح حدیث نہیں ملتی جو کہ اس پر دلالت کرتی ہو کہ سرمہ روزہ توڑنے والی اشیاء میں داخل ہے ۔
تو اس مسئلہ میں صحیح بات یہی ہے کہ روزہ نہیں ٹوٹتا ۔ عبادت اس وقت تک صحیح وسلامت ہے جب تک کہ ہمارے لۓ فاسد کرنے والی کوئی چیز ثابت نہ ہوجا‏‏ئے ۔
اور جس مسلک کی طرف شیخ الاسلام رحمہ اللہ گۓ ہیں وہ ہی صحیح ہے اگرچہ انسان اس کا ذائقہ اپنے حلق میں محسوس ہی کیوں نہ کرے ۔
تو اس بنا پر جسے شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی نے اختیار کیا ہے اگر روزہ دار اپنی آنکھ میں قطرے ڈالے اور اس کا ذائقہ اپنے حلق میں محسوس کرے تو اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔
دیکھیں کتاب : الشرح الممتع جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 382
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
 وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وٙالسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

 
Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS