find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Fateh Andalas Aur Tarik Bin Jeyad. (Part 06)

Fateh Andalas Aur Tarik Bin Jeyad.
         طارق بِن زِیاد
          تحریر:- صادق حسين

      قسط نمبر 6______________Part 6

_____امامن :جو انسان انسانیت رکھتے ہیں ضرور ان پر اثر ہوتا ہے_______ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب بھیڑیوں نے میری بیٹی کو پکڑا اس نے میری طرف دیکھا تو میں ضبط نہ کر سکا اور پارہ دل کو چھڑانے کو آگے بڑھا، مگر ان میں سے دو خونخوار انسانوں نے مجھے پکڑ اس زور دھکا دیا کہ میں گر پڑا اور گرتے وقت میرا سر دروازہ کے سنگی بازو سے ٹکرایا اور میں بے ہوش ہو گیا_________طارق نے دانت پیستے ہوئے کہا" بے درد انسان"-
امامن: آہ انہیں انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے-
وہ بھیڑیے ہیں بهیڑیئے بے رحم و سفاک اور خونخوار-
طارق: اللہ انہیں غارت کرے انہیں سزا دے گا.
امامن:ہزاروں ستم زدہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر انہیں کوس رہے ہیں! !!!
طارق: اچھا جب تم ہوش آئے______؟
امامن: جب میں ہوش میں آیا وہ اسے لے جا چکے تھے اور چونکہ میں بے ہوش ہوگیا تھا اور کوئی ان کو روک ٹوک کرنے والا نہیں تھا، اس لیے انہوں نے میری ساری دولت بھی لوٹ لی اور چلے گئے مگر____مجھے دولت کی پرواہ نہیں جو کچھ بھی میرے پاس تھا سب لے جاتے ہیں مگر میری بچی کو چھوڑ جاتے مگر وہ دولت بھی لے گئے اور میرے دل کے ٹکڑے کو بھی لے گئے، مجھ پر اس واقعہ ایسا اثر ہوا کہ میں نیم پاگل ہو گیا-
ایک کمرے سے دوسرے میں دوسرے تیسرے میں بھاگا پھرنے لگا-
دیر تک میری یہی حالت رہی یہاں تک کہ رات ہو گئی اور تهک کر چور ہو گیا
نیند تو کیا آتی شاید ضعف طاری ہو گیا تھا یا پھر صدمہ کا اثر بھی باقی تھا جس کے سبب مجھے غش آ گیا-
اسی عالم میں میں نے ایک سفید پوش بزرگ کو دیکھا جو کہ مجھے تسلی دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر تیری بیٹی محفوظ ہے اور اسے چھڑانے والے بھی آ گئے ہیں-
جزیرہ خضر میں جا! !!!!
وہ تجھے وہاں ملیں گے-میں نے دریافت کیا-
حضور میں انہیں کیسے پہنچانوں گا؟ ؟"انہوں نے جواب دیا -"
ان کی سفید اور سادہ پوشاک اور چوڑے چوڑے دامنوں سے پہچاننا-
وہ سب عمامے باندھے ہوں گے ان کو دنیا مسلمان کے نام سے پکارتی ہے"-
سب کو اس سے یہ سن کر کمال کا تعجب ہوا لیکن تعجب کے ساتھ ساتھ ان سب کو اس بات کا بھی یقین ہو گیا کہ وہ ان شاءالله اندلس کی موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیں گے-"
امامن نے اپنی داستان جاری رکھتے ہوئے کہا"-
میں فورا اٹھ کھڑا ہوا صبح ہو گئی تھی میں نے مکان بند کیا اور آپ کی تلاش یہاں چلا آیا اللہ کا شکر ہے کہ آپ مل گئے-"
طارق:اور یہ واقعہ کب کا ہے؟ "
امامن: ایک مہینے کا ذکر ہے حضور-
طارق:تمہاری لڑکی کا نام کیا ہے؟
امن:بلقیس ہے حضور-
طارق:مگر یہودیوں میں تو ایسا نام نہیں رکھا جاتا-
امامن:حضور یہ بات بہت مشہور ہے کہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کی بیوی نہایت حسین و جمیل تھی-
میری بیٹی بھی بہت حسین ہے اس لیے اس کا نام بلقیس رکھا تھا-
طارق: اچھا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ وہ بلقیس کو کہا لے کر گئے ہیں؟ "
امامن:حضور اتفاق سے ایک عیسائی مل گیا تھا اور وہ ان سپاہیوں میں سے تھا جو کہ اسے پکڑ کر لے گئے تھے-
اس سے میں نے پوچھا تو اس نے کہا کہ بلقیس تدمیر کے لشکر میں ہے-
طارق: اور تدمیر کہاں ہے؟ "
امامن: قریب ہی ہے شاید یہاں سے چار پانچ میل ہو گا-"
طارق: پھر تو یہ مناسب ہو گا کہ ہم آج یہیں ٹھہریں اور صبح ہوتے ہی ان پر حملہ کر دیں-"
امامن: حضور چونکہ میرے دل میں آتش انتقام بھڑک رہی ہے اس لیے میں تو یہی کہوں گا کہ اسی وقت ان بھیڑیوں پر حملہ کر دیں لیکن صحیح رائے یہی ہے کہ آج یہاں قیام کیجئے اور صبح ہوتے ہی حملہ کر دیجئے-
مغیث الرومی اور دوسرے افسروں نے بھی یہی مشورہ یہی دیا-
چنانچہ اسی جگہ رات بسر کرنے کے ارادے سے اسی جگہ لشکر مقیم ہو گیا اور چونکہ مسلمان خیمے نہیں لائے تھے نہ گھوڑے اس لیے کھلے آسمان تلے ہی سایہ رات بسر کرنے کی ٹھان لی-
رات کو انہوں نے کھانا تیار کر کے کھایا-
امامن کو کھلایا اور عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے صبح بیدار ہوئے-
ضروریات سے فراغت حاصل کرنے کے بعد وضو کیا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھی گئی-
جب وہ نماز پڑھتے تھے تو امامن ان کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ان کی خدا ترسی کا اس کے دل پر گہرا اثر ہوا تھا-
اس نے ایک ہی شب ان کے ساتھ رہ کر دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ فضول تکلفات اور بے ہودہ باتوں سے کوسوں دور ہیں-
ان کا مشغلہ اللہ کی عبادت ہے خوش اخلاق ایسے ہیں کہ اس نے آج سے پہلے ایسے خوش خلق لوگ نہ دیکھے تھے-
نماز پڑھتے ہی ہر مجاہد نے اپنا اپنا بستر اور تھوڑی تھوڑی رسد باندھ کر اپنی اپنی کمر سے لگائی اور نہایت اطمینان سے صف در صف کھڑے ہو کر روانہ ہو گئے-
اگرچہ طارق لشکر کے سپہ سالار تھے اور ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا مگر وہ اپنا بستر کمر سے باندھے ہوئے تھا اور طارق اپنا-
یہ مساوات دیکھ کر امامن کے دل پر گہرا اثر پڑا-
اسلامی لشکر نہایت اطمینان اور استقلال سے چل پڑا یہ مساوات دیکھ کر امامن کے دل پر گہرا اثر پڑا-
اسلامی لشکر نہایت اطمینان اور استقلال سے چل پڑا اور اب ان کا ہر قدم جزیرہ سبز سے آگے بڑھنے لگا تھا- مسلمان خوب جانتے تھے اس جزیرہ کے اختتام پر تدمیر سے مقابلہ ہو گا-
انہیں اس مقابلہ کی بڑی مسرت تھی اور فرط انبساط سے قدم بڑھائے چلے جا رہے تھے-
ابھی آفتاب نصف النهار کے قریب بھی نہیں پہنچا تھا کہ جزیرہ سبز سے باہر نکل آئے-
انہوں نے کچھ ہی دور جا کر عیسائی لشکر کو دیکھا جو خیموں میں پڑا سو رہا تھا-
انہیں مطلق خبر نہیں تھی کہ ان کی موت ان کے سروں پر منڈلا رہی ہے-
مسلمانوں نے اس میدان میں جاتے ہی اللہ اکبر کے غلغلہ کا پر ذور نعرہ لگایا-
عیسائیوں نے اس نعرے کی آواز کو سنا اور گھبراتے ہوئے خیموں سے باہر آئے اور حیرت سے لشکر اسلام کو دیکھنے لگے__________________
اندلس کی پہلی جنگ________یہ لشکر تدمیر کا تھا خیموں میں دور تک چهولداریاں تھیں اور ان کے پیچھے گھوڑے بندھے ہوئے تھے-
جن حیران کن متعجب نظروں سے وہ مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے اس سے صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ انتہائی متعجب ہوئے ہیں-"
تدمیر جوان تھا اور نہایت چالاک تجربہ کار اور بہادر اس نے فوراً ہی اپنے لشکر کو مسلح ہو کر مجاہدین اسلام سے مقابلے کے لیے نکلنے کا حکم دیا-
اندلس کے
عیسائیوں نے اس سے پہلے کسی مسلمان کو نہیں دیکھا تھا اس لیے انہوں رہ رہ کر حیرت ہو رہی تھی کہ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آ گئے ہیں لیکن جب تدمیر نے انہیں مقابلے کا حکم دیا تو وہ فوراً اپنے خیموں میں گھسے اور تیار ہو کر اپنے گھوڑوں پر سوار ہو میدان جنگ میں نکلنے لگے-'
طارق نے فوراً ہی فوج کو صف بستہ شروع کر دیا ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس گھوڑے نہیں تھے وہ پیدل تھے نیز گھوڑا تو گھوڑا مجاہدین اسلام کے پاس ہتھیار بھی پورے نہیں تھے زرہ بگتروں کا تو جواب ہی کیا-
اکثر لوگوں کے پاس نیزے اور تلواریں کچھ لوگوں کے پاس خالی تیر کمان اور کچھ خالی جڑی لاٹھیاں تھیں.
طارق نے انہیں اس طرح صف بستہ کیا کہ اگلی صف میں ہر چار آدمی ایسے تھے جن کے پاس تلواریں اور نیزے تھے بیچ میں ایک کمان والے کو کھڑا کر دیا اور دوسری اور تیسری صفوں میں صرف تلوار اور نیزے والے تھے اور پانچویں صف میں تیر انداز کھڑے کئے ان کے پیچھے لاٹھیوں والے صف بستہ کئے جس وقت انہوں نے اس ترتیب سے شیران اسلام کی صف بندی کی تو اس وقت تدمیر بھی اپنے لشکر کو صف بستہ کر چکا تھا-
اس کے تمام سپاہی لوہے کی زرہ بکتر پہنے گھوڑوں پر سوار بڑی شان و شوکت سے کھڑے ہوئے تھے ان کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ بےسروساماں مجاہدین کو حقیر اور ناتواں سمجھ رہے ہیں-
تدمیر اپنے لشکر کی صفوں سے باہر نکلا اور چند قدم آگے بڑھا کر بلند آواز میں پوچھنے لگا اے لوگوں کیا تم بتا سکتے ہو کہ تم کون ہو؟ "
چونکہ تدمیر نے اپنی زبان میں بات کی تھی اس لیے کوئی مسلمان اس کی بات کو نہ سمجھ سکا چنانچہ طارق نے امامن کو بلا کر دریافت کیا تم اسے جانتے ہو یہ کون ہے؟ "
جی ہاں یہ تدمیر ہے عیسائی لشکر کا سپہ سالار ہے.
طارق: اس سے دریافت کرو کہ یہ کیا کہتا ہے طارق امامن کے ساتھ بڑھ کر صفوں سے باہر نکلا-
تدمیر نے امامن کو دیکھا تو غضب میں آ کر کہا آو شیطان یہودی تو بھی ان کے ساتھ ہے-
تیری اس نازیبا حرکت سے پتہ چلا ہے کہ تم یہودی لوگ ان سے ملے ہوئے ہو تم ہی انہیں کہیں سے پکڑ کر ہمارے مقابلے کے لیے لائے ہو-
امامن نے اطمینان و سنجیدگی سے جواب دیا ہم نہیں لائے بلکہ تمہاری قوم ہی انہیں تم پر حملہ کرنے کے لیے لائی ہے-"
تدمیر نے غصے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے کہا کون ہے وہ بد بخت؟ "
امامن: کونٹ جولین اور سیوطا کا گورنر-
امامن کو تمام واقعات معلوم ہو چکے تھے کیونکہ وہ یہودی تجارت کی غرض سے حجاز جاتے رہتے تھے:
       جاری......

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS