find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Fateh Andalas Aur Tarik Bin Jeyad. (Part 13)

Fateh Andalas Aur Tarik Bin Jeyad.
          فاتح اندلس
        طارق بِن زِیاد
          تحریر:- صادق حسين

     قسط نمبر 13_______________Part 13

____تدمیر کا قاصد نہایت تیزی سے چلا جا رہا تھا -
اسے دارالسلطنت طلیطلہ میں پہنچنا تھا -
چونکہ وہ راستوں سے بخوبی واقف تھا، اس لیے اس نے ایسا راستہ اختیار کیا تھا جو نہایت مختصر تها_
وہ قرمونہ سے ہوتے ہوئے وادی الکبیر کو عبور کر کے قرطبہ کو دائیں ہاتھ چھوڑ کر سیدھا طلیطلہ کی جانب روانہ ہو لیا، چونکہ اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ جلد از جلد بادشاہ کے حضور میں پہنچ جائے، اس لیے نہایت تیزی سے رات اور دن چلا جا رہا تھا -
فقط تهوڑی دیر قیام کرتا تھا-
کوچ و قیام کرتے ہوئے وہ کوہ طلیطلہ پر جا پہنچا اور اس کے دروں اور گھاٹیوں کو طے کرتے ہوئے دریائے ٹیگس کے کنارے پر جا کھڑا ہوا-
یہاں سے طلیطلہ کی سر بفلک عمارتیں اور فلک بوس فصیل سب نظر آ رہی تھی-"
طلیطلہ نہایت وسیع قلعہ تھا -
یہ چٹانوں پر آباد تھا اور اگر سچ پوچھیں تو موٹی موٹی چٹانوں کو تراش کر ہی فصیل بنا لی گئی تھی-
اس قلعہ کے چاروں طرف دریائے ٹیگس بہتا تھا -
پل جو کہ اس دریا پر بنایا گیا تھا، نہایت اونچا اور بڑا شاندار تها-
اہل اندلس نے اس کی صناعی میں اپنی حرفت ختم کر دی تھی اس قاصد نے پل کو عبور کیا اور قلعے کے سامنے والا میدان طے کر کے قلعہ کے دروازے پر پہنچا-
اس قلعہ کے چاروں طرف چار دروازے تھے اور چاروں دروازوں کے سامنے اچھے خاصے میدان پڑے تھے -
دروازے نہایت بلند اور شاندار تهے -
ہر دروازے پر سپاہی رہتے تھے قاصد دروازے سے گزر کر قلعہ میں داخل ہوا-"
قلعہ اندر سے بھی نہایت شاندار تها-
نہایت اونچی اونچی اور خوبصورت عمارتیں بنی ہوئی تھیں-
اس نے دیکھا کہ تمام قلعہ خوب آراستہ کیا گیا ہے، مکانات اور بازار سب سجائے گئے ہیں، اس نے ایک شخص سے دریافت کیا کہ یہ سجاوٹ کیوں ہو رہی ہے -
اسے بتایا گیا کہ آج جشن نو روز منایا جا رہا ہے - "
وہ جس طرف سے بھی گزرا اس کے کانوں میں شادیانوں کی آوازیں آتی رہیں-
کہیں کہیں رقص و سرور کی محفلیں بھی گرم ہو رہی تھیں _
لوگ اچھی پوشاکیں پہنے خوش ہوتے اور ہنستے پھر رہے تھے - "
قاصد سیدھا دربار عام میں پہنچا-
آج دربار کی عمارت دلہن کی طرح بنا دی گئی تھی-
خوب اچھی طرح سے سجاوٹ کی گئی تھی-
دربار لگا ہوا تھا اور اراکین سلطنت اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے - "
شاہ رازرق ایک اونچے چبوترے پر چاندی کے تخت پر بیٹھا تھا-
کئی حسین اور نوخیز لڑکیاں اس کے پیچھے کھڑی مگسرانی کر رہی تھیں اور بہت سی پری زاد رقاصائیں چبوترہ کے نیچے قالین کے فرش پر ناچ رہی تھیں _
ایک تو وہ سب سے حسین تهیں دوسرے نہایت اچھی ریشمی پوشاکیں اور سونے چاندی کے زیورات پہنے اور بھی حسین معلوم ہو رہی تھیں _
سب مست شباب تهیں -
ناچنا گانا خوب جانتی تھیں-
لہذا نہایت دل فریب طریقے سے ناچ رہی تھیں _
سارے درباری اراکین سلطنت اور بادشاہ تمام نہایت غور سے ناچ دیکھ کر داد دے رہے تھے -
قاصد ایک طرف کھڑا اس بات کا انتظار کر رہا تھا کہ ناچ ختم ہو اور موقع ملے تو تدمیر کا عریضہ بادشاہ حضور کو پیش خدمت کرے-"
ناچ کے فوراً بعد ہی گانا شروع ہو گیا باجے نہایت دلکش انداز میں بجنے لگیں گانے والیوں کی سریلی آوازوں نے تمام درباریوں کو بے خود کر دیا -
حتی کہ بادشاہ بھی محو و بے خود ہو گیا -
کچھ عرصے کے بعد، گانا ختم ہوا اور پری جمال گانے والیاں دو قطاروں میں کھڑی ہو گئیں-
ان کی جھلمل جھلمل کرن پوشاکوں پر نظر نہ جمتی تهی - "
ہر شخص ان کے لباس اور چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا _
قاصد کو موقع ملا وہ ناچنے گانے والیوں کے بیچ میں سے گزرتا ہوا چبوترہ کے قریب جا پہنچا-
رازرق نے غضبناک نگاہوں سے قاصد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بد بخت انسان کون ہے تو؟ "
اس کی ڈاڑھی کے بال بلکل سفید ہو گئے تھے ستر پچھتر سال کی عمر ہو گی لیکن بد قسمتی سے اپنے آپ کو جوان سمجھتا تھا اور جوانوں جیسی حرکتیں کرتا تھا نہایت ہوس پرست اور عیش کوش تھا -
ہر وقت حسین و جمیل لڑکیوں اور عورتوں سے اختلاط کرتا رہتا تھا-"
قاصد اسے پر غضب دیکھ کر ڈر گیا-
اسے اندیشہ ہوا کہ کہیں بادشاہ اس سے ناراض ہو کر اس کے قتل کا حکم نہ دے دے-"
قاصد فوراً سجدے میں گر گیا اور کهڑا ہو کر نہایت ادب سے بولا-
حضور میں قاصد ہوں-"
رازرق نے غصہ اور حیرت بهری مخلوط آواز میں کہا - "
قاصد؟ "
قاصد جی ہاں رازرق نے پوچھا کس کے؟
قاصد تدمیر کا
اب رازرق کا غصہ دور ہو گیا اور چہرہ سے کچھ مسرت و انبساط کی علامات ظاہر ہوئیں-
اس نے کہا کیا اس نے بلقیس کو گرفتار کر لیا؟ "
قاصد جی ہاں!
رازرق تم نے بلقیس کو دیکھا ہے؟
قاصد دیکھا ہے حضور! !!!
رازرق کیا وہ بہت زیادہ خوبصورت ہے؟
قاصد جی ہاں وہ ماہ شب چہارم دہم سے بھی زیادہ حسین ہے، رازرق ٹھیک ہے وہ کہاں ہے؟
قاصد تدمیر کے پاس ہے، رازرق کو پهر غصہ آ گیا اس نے کہا! اس نے یہ حماقت کیوں کی؟ "
قاصد نہ سمجھ سکا کہ بادشاہ کا مطلب ہے اور اسے کیا جواب دینا چاہیے، وہ چپ رہ گیا رازرق کو آور بھی غصہ آ گیا-
اس نے خشونت کے انداز میں کہا - "
احمق قاصد اس نے اسے اپنے پاس کیوں ٹھہرایا ہے؟ "قاصد حضور اس حور کو بھیجنے کا انہیں موقع ہی نہیں ملا رازرق کیوں؟
قاصد کچھ عجیب سے لوگ اچانک آ گئے، رازرق کہاں آ گئے؟
قاصد جہاں سپہ سالار کا لشکر تها-
رازرق انہوں نے آ کر کیا کہا!
قاصد حضور انہوں نے آتے ہی جنگ شروع کر دی رازرق نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا-"
جنگ! _____؟"
قاصد جی ہاں!
اب اس نے جنگ کے تمام واقعات سنا دیے-
ہر شخص نے نہایت حیرت و استعجاب سے ان واقعات کو سنا رازرق نے دریافت کیا!
آخر کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ "
قاصد حضور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں - ان کے لباس دامن نہایت چوڑے چوڑے ہیں داڑھیاں لمبی لمبی ہیں چہروں سے نور برس رہا ہے یوں تو فرشتے معلوم ہوتے ہیں-"
رازرق عجیب بات ہے-
قاصد نے بڑھ کر عریضہ پیش کیا رازرق نے لے کر وزیر اعظم کو دیا-
اس نے پڑھنا شروع کیا-"
شہنشاہ جہانبائی فرمانروائے اسپین! !!!
ہمارے ملک پر ایک عجیب قوم نے حملہ کر دیا ہے ان کی پوشاک شاید سارے زمانے سے
نرالی ہے کم از کم میں نے تو ایسا لباس کہیں نہیں دیکھا-
لمبے لمبے ٹخنوں تک جبے ہیں -
چوڑے چوڑے دامن ہیں چوڑی آستینیں ہیں -
سروں پر بہت سے کپڑے باندھ لیتے ہیں اور ان کپڑوں پر ایک بڑا سا رومال ڈال لیتے ہیں جو دونوں کانوں کے برابر سے آ کر سینے تک لٹکنے لگتا ہے-
داڑھیاں لمبی لمبی اور صورتیں نورانی ہیں مگر جب لڑتے ہیں تو خونخوار شیر بن جاتے ہیں کم بخت ایسا جی توڑ کر لڑتے ہیں کہ کوئی قوم بھی ان کے سامنے نہیں ٹهہر سکتی-
میں حیران ہوں کہ یہ کہاں سے آ گئے ہیں-
آیا آسمان سے اترے ہیں یا زمین سے نکل آئے ہیں -
ہمارا ان سے مقابلہ ہوا ہم نے پورے جوش و شجاعت سے کام لیا-
بڑی جانبازی سے لڑے مگر تمام کوششوں اور سب جانثاروں کا انجام ناکامی ہی ثابت ہوا-
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کم بخت مرنا نہیں جانتے بلکہ صرف مارنا جانتے ہیں-
وہ پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہیں لیتے اور آگے ہی آگے بڑھتے چلے آتے ہیں-
ان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اگر ان کے قدم جم گئے تو سارے اندلس کو تباہ و برباد کر ڈالیں گے -
اس بلائے عظیم کو دور کرنے کے لیے عظیم الشان لشکر لے کر حضور خود تشریف لائیں ورنہ ان کی جانب سے خطرہ ہے-
میں نے ان کا ایک آدمی گرفتار کر لیا ہے اور بلقیس بھی میرے پاس ہے-"
(وفادار جاں نثار تدمیر)
رازرق اور تمام درباری اس خط کو سن کر نہایت متحیر ہوئے-
ابهی ان کی حیرت دور نہ ہوئی تھی کہ کچھ کھٹکا ہوا-
بادشاہ اور درباریوں نے نظریں اٹها اٹھا کر دیکھا-
دو بوڑھے آدمی پادریوں جیسا لباس پہنے چاندی کے عصا ہاتهوں میں لیے بڑھے چلے آ رہے تھے -
انہیں دیکھتے ہی بادشاہ اور درباریوں کو حیرت ہوئی اور سب ان کو ٹکٹکی لگائے ہوئے دیکھنے لگے__________
   جاری ہے......

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS