find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Jhooti Qasam Khane Wale Ki Sja.

 🍂🍃ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ 

        *السَّلاَمُ عَلَيكُم وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ* 

  Hadith: Jhoothi Qasam khane par dil mein ek (kala) nuqta daal diya jata hai
------
✦ Rasool-Allah Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya koi Qasam khane wala agar qasam khaye aur faisla usee qasam par hone wala ho, phir wo us qasam mein machchar ke par ke barabar bhi jhooth shamil kar de to uske dil par ek (kala) nuqta daal diya jata hai jo qayamat tak baqi rahega
Jamia Tirmizi, Jild 2, 939-Sahih
------
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کوئی قسم کھانے والا اگر قسم کھاۓ اور فیصلہ اسی قسم پر موقوف ہو پھر وہ  اسی قسم میں مچھر کے پر کے برابر  بھی  جھوٹ شامل کر دے  تو اس کے دل میں ایک ( کالا) نکتہ ڈال دیا جائے گا جو قیامت تک قائم اور باقی رہے گا۔
جامہ ترمیزی ، جلد ٢ ، ٩٣٩-صحیح
------
✦ Rasool-Allah SallAllahu Alaihi Wasallam said if anybody insists on taking an oath in which he swears and if he includs the like of a wing of a mosquito of falsehood in it - then a (black) spot is placed in his heart until the Day of Judgement.
Jamia Tirmizi, Book 44, 3020-Hasan

           ☆▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬☆

*🌴Aye imaan waalo Allah ki itaat karo aur uske Rasool ki itaat karo aur apne Amalo ko Baatil na karo🌴*

Jo Bhi Hadis Aapko Kam Samjh Me Aaye Aap Kisi  Hadis Talibe Aaalim Se Rabta Kare !

  🌹JazakAllah  Khaira Kaseera🌹

      ☆▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬☆

Share:

Tik Tok Application Aur Bint-E-Hawa.

Tik Tok Application Aur Hmara Muslim Muashera Tik Tok Application Ek Behyayi ka Shabeb. 

ٹک ٹوک بے حیائی پھیلانے والا مقبول ترین اپلکیشن ہے جو دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں ۵۰۰ ملین اس ایپس کو استعمال کرتے ہیں،
یہ اپلیکیشن کو بننے میں یہودیوں نے کافی وقت لگایا، چاینہ نے اس کو 2016 کے ستمبر مہینے میں لونچ کیا، دو سال میں ٹک ٹوک کو اتنی شہرت حاصل ہوئی جتنی ۵۰ سالوں میں فیس بک اور یوٹیوب کو شہرت حاصل نہیں ہوئی، دو سال میں ۵۰۰+ ملین اس کے یوزر ہیں، اور دنیا کے ۱۵۰ ممالک کے لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں،
اس ایپش کو لونچ کرنے کا مقصد صرف اور صرف اسلام کو نشانا بنانا تھا، آپ اس ایپس پر دیکھیں گے کہ یہودی مذہب کے علاوہ سارے مذاہب کا مذاق بنایا ہوا ہے، آپ کو یہودی مذہب کے خلاف ایک ویڈیو بھی اس ایپس پر نہیں ملےگی، پھر لوگ اس بے حیائی کے سمندر میں غرق ہوتے جارہے ہیں، اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کا مذاق بنا رہے ہیں،
اس ایپس کو زیادہ تر قوم مسلم استعمال کر رہی ہے، اور قوم مسلم میں زیادہ تر ہماری خواتین استعمال کر رہی ہیں،
مسلم خواتین میکپ لگاکر ایسے ایسے برہنہ کپڑے پہن کر سامنے آتی ہیں کہ اللہ کی پناہ، ساتھ میں دین ومذہب کا مذاق بناتے ہیں،
یہودی چاہتے ہی ہیں کہ قوم مسلم کو ننگا برہنہ کیا جائے، اور تعلیم سے ہٹا کر انہیں گیم، تین پتی، لوڈو، فیس بک وہاٹسپ، اور بے حیائی والا ٹک ٹوک کے استعمال میں لگادیں، تاکہ وہ اپنا قیمتی وقت اس میں لگادیں، جب قوم مسلم تعلیم کے میدان میں خالی نظر آئیں گے،تو حکومت ہماری رہے گی، غلام ہمارے رہیں گے،
ان سارے فتنوں کو دیکھ کر غیب داں نبی رحمت والے نبی، امت کی بخشش کے لیے رورو کر رب کو منانے والے نبی نے ارشاد فرمایا تھا کہ "میں تمہارے گھروں میں فتنوں کی جگہیں اس طرح دیکھتا ہوں جیسے بارش گرنے کی جگہوں کو۔“
۱۴۰۰ سال پہلے ہمارے نبی نے ہونے والے سارے فتنوں کی پیشن گوئیاں فرمادیں، دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں
اعمال صالحہ میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہو جائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اور ان فتنوں کا اثر ہوگا کہ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا، نیز اپنے دین ومذہب کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ ڈالے گا۔ (مسلم)
آج ہمارا بچہ بچہ نیٹ کے استعمال کو جانتا ہے، نیٹ کے استعمال سے جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے اس سے کئی گنا انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں، آج ہماری مسلم خواتین گھر میں رہ کر وہ کام کرتی ہیں جو طوائف عورتیں بھی نہیں کرتیں، وہ بند کمرے وہ کام انجام دیتی ہیں جس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی مگر ہماری مسلم خواتین بند کمرے سے لائو آکر وہ کام انجام دیتی ہے جس کے حسن کو پوری دنیا دیکھتی ہے، اور دیکھ دیکھ کر نبی آخر الزماں کی وہ حدیث یاد کرتی ہے کہ
.

دو گروہ ایسے ہیں جو اہل جہنم میں سے ہیں' لیکن میں نے ان کو نہیں دیکھا، ایک تووہ لوگ ہوں گے جن کے پاس گائے کی دُموں جیسے کوڑے ہوں گے جن کے ساتھ یہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری وہ عورتیں ہوں گی جو کپڑے پہن کر بھی ننگی ہوں گی (یعنی یا تو باریک لباس پہنا ہو گا جس کی وجہ سے جسم نظر آ رہا ہو گا یا پھر ایسا لباس پہنا ہو گا کہ جس نے اُن کے جسم کا کچھ حصہ ڈھانپا ہو گا اور کچھ حصہ ننگا ہو گا) 'مَردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود مَردوں کی طرف مائل ہونے والی ہوں گی۔ اُن کے سر ایسے ہوں گے جیسے کہ خراسانی نسل کے اونٹ کے کوہان ہوں ( سر کے بالوں کے نت نئے فیشن اور سٹائلز کی طرف اشارہ ہے)۔یہ عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبوپا سکیں گی' حالانکہ جنت کی خوشبو اتنے اتنے فاصلے سے محسوس ہو گی''۔
بنت حوا ننگا ناچ رہی ہے، ابن آدم اپنی حوس بجھانے کے لیے چسکیاں لے لے کر دیکھ رہا ہے
نہ شرم نبی نہ خوف خدا
یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
اسلام نے عورت کو ایک پاکیزہ نظام دیا ہے جس میں اس کی بھلائیاں چھوپی ہوئی ہیں،
اسلام نے عورت کی حفاظت کی خاطر مسجد میں جانے سے روک دیا، اذان و اقامت سے روک دیا، حج کے دوران اونچی آواز میں تلبیہ کہنے سے روک دیا، اونچی آواز میں قرآن پڑھنے سے روک دیا، اونچی آواز سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھنے سے روک دیا ہو، اسی مذہب کی نوجوان لڑکیاں ٹک ٹوک پر ناچ رہی ہو تو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ہمارے رحمت والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو
ٹک ٹوک کی بیماری میں صرف لڑکیاں ہی نہیں، بلکہ اس کے بچے بچے دیوانے ہیں اور لڑکیوں کے ساتھ میں اپنا وڈیو ساتھ بناکر لوگوں میں شیئر کرتے ہیں اور اس گناہ کے کام میں لذت محسوس کرتے ہیں،
اس کام میں صرف بچے نہیں بلکہ ان لوگوں کے بھی چہرے سامنے آئیں جو والدین ہیں،بڑھے ہیں  دین کے جاننے والے ہیں اس بدفعلی میں برابر نظر آئے،
جب ہمارے رہنما ہی ایسے کاموں میں لگ جائیں تو سمجھ لینا قوم تنزلی کا شکار ہو چکی ہے،رہنماؤں کو تو چاہیے اس بے حیائی والے ایپلیکشن کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے تھا، جمعہ کے خطابات میں اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تھی، مگر اب تو ڈاکٹر ہی بیمار ہونے لگے ہیں تو قوم مسلم کا علاج کیسے کریں گے،
اگر اب بھی نہ سنبھلیں تو وہ دن دور نہیں جب ہماری بچیاں ٹک ٹوک پر بغیر کپڑے کے برہنہ ناچ دیکھائیں، اور اس بات پر یہود جشن منائیں، ہماری غیرت کو کیا ہو گیا، کس حد تک ہم بے شرم ہوگیے، کہ ہم نے اپنی بچیوں کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جس سے وہ اپنی خواہشات بند کمرے میں مٹا رہی ہیں،
ابھی بچے بالغ نہیں ہوتے مگر وہ سیکس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، مشت زنی کرکے بالغ ہوتے ہیں، اغلام بازی کرتے ہیں، کتوں بکریوں اور جانوروں کے ساتھ اپنی پیاسیں بجھاتے ہوئے نظر آتے ہیں، آپ روزانہ اخبارات کا جائزہ لیں تو پتہ چلےگا، کہ ہمارے معاشرے میں ہو کیا رہا ہے، اور کیوں ہو رہا ہے،  خدارا اپنے بچیوں پر رحم کریں، اور جہنم کی آگ سے بچائیں
اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں،


ہماری قوم کو ہمارے نبی کی سیرت پسند نہیں، ہماری قوم کی بچیوں کو پردہ پسند نہیں، ہمارے مسلم لڑکوں کو چہرے پر داڑھی رکھنا پسند نہیں، ہاں اگر پسند ہے تو یہودی اسٹائل میں رکھے جانے والے بال پسند ہے، یہودی لوگ اگر اپنے چہرے پر داڑھی کو فیشن بناکر رکھتے ہیں تو ہمارا جوان اسی کی طرح اپنے چہرے پر داڑھی رکھتا ہے، جیسے وہ کپڑے پہنتا ہے ہمارا جوان ان کی اسٹائل والا لباس پہنتا ہے، ہماری بچیوں کو نقاب پسند نہیں، وہ نقاب و پردے کو دقیانوسی خیال کرتے ہیں وہ اگر کوئی یہودی لڑکی تنگ و چست لباس پہنتی ہے تو ہماری بچیاں اس کی طرح کا لباس خرید کر پہنتی ہے، مردوں کی طرح بال کٹواتی ہے،  مردوں کے لباس پہنتی ہیں،، یہاں تک کے اگر یہودی لڑکیاں چڈی بنیان پہنتی ہیں تو ہماری بچیاں بھی اپنا جسم کھول کر لوگوں کو دیکھاتی ہوئی نظر آتی ہیں، جس منہ سے ہم کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں،  ہم کون سا کام اسلام والا کرتے ہیں، ہم کس منہ سے کہیں ہم کنیز فاطمہ ہیں، غلام مصطفی و غلام حسین ہیں، ہم خود ذلت و رسوائی والے کام کر رہے ہیں، یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں جو وجود میں آرہی ہیں، جو بچ گیا وہ امن پاگیا.. اپنے گھر والوں کی حفاظت کیجیے، اور سیرت مصطفی پر چلنے کا عادی بنا دیجیے، ان شاء اللہ  وہ کبھی نہیں بھٹکےگا...
ہمیں کرنی ہے شہنشاہ بطحا کی رضا جوئی وہ اپنے ہو گئے تو رحمت پروردگار اپنی 

Share:

Mehnat Imaandari Aur Hooner (Skill)

 یونیورسٹی کا ایک پروفیسر صبح کے وقت اس کے کھوکھے سے چائے پیتا تھا. وہ بچے کی محنت پر خوش تھا. وہ اسے روز کوئی نہ کوئی نئی بات سکھاتا تھا. جہانگیر نے ایک دن پروفیسر سے پوچھا ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں‘‘ پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘

جہانگیر کا اگلا سوال تھا ’’کیسے؟‘‘
پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘ جہانگیر کے کھوکھے کے پاس پہنچا‘ دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘ پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘ دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر )skill( لکھا۔
جہانگیر پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد جہانگیر کی طرف مڑا اور بولا:
ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘ پہلا زینہ محنت ہے. آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے. آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘ آپ کامیاب ہو جائیں گے‘‘۔ پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں".
اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے. ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے. وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔ آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘ زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘ تم ایماندار ہو جاؤ گے۔ کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے. آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے.
اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے. آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا. "آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے‘‘.
پروفیسر نے جہانگیر کو بتایا۔ ’’لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں. لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔
آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘ ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا' آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘۔ پروفیسر نے جہانگیر کو بتایا۔ "میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی' اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘-
’تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘ تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے‘‘۔
جہانگیر نے لمبا سانس لیا اور بولا ’’میں نے چاک سے بنی ان تین لکیروں کو اپنا Objective بنا لیا اور میں 45 سال کی عمر میں ارب پتی ہو گیا‘‘. جہانگیر نے بتایا, کھوکھے کی وہ دیوار اور اس دیوار کی وہ تین لکیریں آج بھی میرے دفتر میں میری کرسی کے پیچھے لگی ہیں‘ میں دن میں بیسیوں مرتبہ وہ لکیریں دیکھتا ہوں اور پروفیسر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘‘۔
Share:

Kya Isa Alaihe Salam Ka Yaum-E-Wafaat 25 December hai?

Kya Isa Alaihe Salam KA YAum-E-Wafaat 25 December HAi

 سوال:* کیا حضرت عیسی علیہ السلام کا یومِ ولادت ۲٥ دسمبر ہے؟

جواب:* السلام علیکم و رحمۃ اللہ بھائ صاحب، ▪اس سوال  پر پہلے ذرا غور فرمائیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا دسمبر کے مھینے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ یعنی عبرانی اور عرب اقوام تو زمانہ قدیم سے قمری مہینوں پر چلتے تھے تو پھر یہ دسمبر اور وہ بھی ۲۵ کہاں سے آگئے؟ اور جب عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے تو کسی مؤرخ کو کیا معلوم تھا کہ یہ نومولود نبی اور رسول ہوگا؟ یہ تو اللہ کی کتاب قرآنِ حکیم کا احسان مانئے کہ تاریخ کے اوراق سے مفقود واقعات ہمارے علم میں آئے۔ جیسا کہ قرآن میں عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے بعد حضرت مریم علیہا السلام کے کردار کی گواہی اور اپنی نبوت کی خبر جیسے واقعات کے تذکرے۔ جبکہ یہ واقعات اس وقت کے مؤرخین، بائیبل، اور یہودی کتب، سبھی سے غائب ہیں۔
▪در حقیقت تاریخِ پیدائش اور سالگرہ کا تقریباً یہی معاملہ نبیِ آخر الزماں رسولِ اکرم علیہ السلام کا بھی ہے- یہ بھی امر غور طلب ہے کہ دینی اعتبار سے پہلے ادوار میں سالگرہ کا کوئ رواج بھی نہ تھا، نہ ہم میں اور نہ ہی بنی اسرائیل میں۔ ▪لہٰذا نہ تو ہمارے نبی علیہ السلام نے اپنی تاریخِ ولادت کا کبھی ذکر کیا اور نہ ہی عیسی علیہ السلام نے، بھلےوہ تاریخ قمری ہو یا شمسی! ▪بائیبل میں تو آج بھی عیسی علیہ السلام کی ولادت بہار کے دنوں میں معلوم پڑتی ہے اور سبحان اللہ قرآنِ کریم میں بھی مریم علیہا السلام رُطب کھجور، زچگی کے قریب کھاتی ہیں۔ کھجور اگانے والے جانتے ہیں کہ رُطب، یعنی تازہ ٹھنڈی کھجور کبھی بھی دسمبر میں نھیں پیدا ہو تی۔ تو پھر یہ ۲۵ دسمبر کا کیا قصہ ہے؟؟؟樂
اس سلسلے میں مختصراً بتاتا چلوں کہ ۲۵ دسمبر اللہ کے رسول سیدنا عیسی روح اللہ کا یوم ولادت  قطعاً نھیں۔  بلکہ یہ دن رومی مشرکوں کے سورج دیوتا زوس(Deus Sol Invictus) کا دن تھا جسے عیسائ دنیا نے سن ۳۲۵ ع میں رومیوں کے عیسائ ہونے پر اپنا لیا تاکہ وہ اپنا پرانا تہوار اب عیسائیت کے نام پر منائیں، یعنی مذہب تبدیل کرانے کیلئے عیسائیت نے ایک سمجھوتا کیا جسے وہ خود بھی مانتے ہیں۔۔۔ واللہ اعلم۔. 
      منجانب: حافظ نعمان 
Share:

ISLAMIC Ahkamaat Aur Hmare Muashare Ki Khwateen.

    عورتوں کو نامعلوم یہ غلط فہمی کہاں سے ھو گئی ھے کہ وہ مَردوں کو متاثر نہیں کر سکتیں ۔ حالانکہ واقعہ یہ ھے کہ عورتیں مَردوں پر بہت گہرے اثرات ڈال سکتی ھیں ۔۔
مسلمان لڑکی اگر یہ کہنے لگے کہ :
اُس کو محمّد صلی اللہ علیہ وسلّم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی شکل و صورت پسند ھے ، اور ٹونی بلیئر اور جارج بُش کی شکل پسند نہیں ھے ، تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح مسلمان نوجوانوں کی شکلیں بدلنا شروع ھو جائیں گی.
مسلمان عورت اگر کہنے لگے کہ :
اُسے کالے " صاحب لوگ " کا طرز زندگی مرغوب نہیں ھے ، بلکہ اُسے اسلامی طرز زندگی مرغوب ھے ، جس میں نماز ، روزہ ھو ، پرہیز گاری اور حُسن اخلاق ھو ، خدا کا خوف اور اسلامی آداب و تہذیب کا لحاظ ھو ، تو آپ کی آنکھوں کے سامنے مَردوں کی زندگیاں بدلنے لگیں گی ۔
مسلمان بہن اگر یہ کہے کے میرا بھائ سفید لباس سنت کے مطابق داڑھی کے ساتھ پیارا لگتا ہے تو ضرور بھائ ایسا کر لے گا...
مسلمان بیوی اگر صاف صاف کہہ دے کہ :
اُسے حرام کی کمائی سے سجائے ھوئے ڈرائنگ روم پسند نہیں ھیں ، رشوت کے روپے سے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنا گوارا نہیں ھے ، بلکہ وہ حلال کی محدود کمائی میں روکھی سوکھی روٹی کھا کر جھونپڑے میں رہنا زیادہ عزیز رکھتی ھے ، تو حرام خوری کے بہت سے اسباب ختم ھو جائیں گے اور کتنی ھی رائج الوقت خرابیوں کا ازالہ ھو جائے گا.
مگر افسوس عورت چاہتی ہے مرد آزاد ہو بس یورپی تہذیب کو فالو کرنے والا ہو خوبصورت ہو اب چاہے دل کا کالا ہی کیوں نہ ہو...سیرت پے مرنے والے لوگ مر چکے ہیں اب صرف جسم شکل پیسہ کے پوچاری لوگ زندہ ہیں
اور معاشرتی بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے ..اسلامی احکامات کو پس پشت ڈال کر آج کا مسلمان سکون اور ہدایت کا متلاشی ہے....؟؟؟
رشتہ کرواتے وقت بھی بس کاروبار پیسہ دیکھا جاتا ہے اخلاق سیرت کو لوگ بھول گے ہیں اسی وجہ سے خاندانی نظام بھی کمزور ہوگیا ہے...صدیوں کے رشتے پل بھر میں نہ جانے کیسے ختم ہو جاتے ہیں

Share:

Aaj itni Gareebi Se Gurbat Aayi Ya Hmari Soch Se.

                      Aaj Hmari Soch Aur Hmari Amal.

*تلخ حقیقت*     میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا شور ھے۔ ۔

۔آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ در اصل خواہش پورا نہ ہونے کو بولتے ہیں۔۔ ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ  اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (سواگہ) لگایا کرتے تھے۔۔
(سلیٹ)پر سیاہی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (سیل کا سکہ) استمعال کرتے تھے۔ اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہ صرف عید پر لیتے تھے۔
اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے۔۔ کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے۔۔
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے۔۔
اور جوتا *سروس یا باٹا* کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا۔۔
گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے۔۔
آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ھے۔۔ مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ھے۔ ۔
آج تو اسکول کے بچوں کے ہفتے کے سات دنوں کے سات جوڑے استری کرکے گھر رکھے ہوتے ہیں۔ ۔
روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں۔
آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں۔۔
ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی۔۔
آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ھے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل،کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا،گلے میں سونے کی زنجیر ہاتھ پہ گھڑی۔۔
غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...
آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ھے..
اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ھے میں غریب ہوں۔
*آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ھے..* 
Share:

Aaj ke Maujooda Halaat Aur Hukmran.

ایک بادشاہ بازار سے گزرا، وہاں ایک  چودھری 2 روپے میں  گدھا بیچ رہا تھا۔۔
اگلے دن بادشاہ پھر وہاں سے گزرا، وہ پھر وہیں بیٹھا گدھا بیچ رہا تھا۔ بادشاہ رک گیا اور اس سے پوچھا کہ گدھا کتنے کا ہے۔
اس نے دیکھا کہ بادشاہ ہے، اس نے قیمت 50 روپے بتا دی۔
بادشاہ بولا کل تو تم 2 روپے کا بیچ رہے تھے۔
اب وہ گبھرا گیا اور گبھراہٹ میں اس نے کہہ دیا کہ اس پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرو تو مدینہ کی زیارت ہوتی ہے، اسلیے اس کی قیمت زیادہ ہے۔
بادشاہ نے وزیر کو کہا کہ بیٹھ کر دیکھو کچھ نظر آتا ہے کہ نہیں۔
وزیر بیٹھنے لگا، تو چودھری نے فورا کہہ دیا کہ زیارت صرف نیک ایماندار اور پارساء کو ہوتی ہے۔
اب وزیر بیٹھ گیا، اس نے آنکھیں بند کیں، کچھ بھی نظر نہ آیا، مگر اس نے سوچا کہ میں اگر کہوں گا کہ نظر نہیں آیا، تو سب کہیں گے کہ نیک ایماندار اور پرہیزگار نہیں ہے۔۔
اس نے کہا کہ ماشااللہ مدینہ صاف نظر آرہا ہے۔
بادشاہ کو تجسس ہوا، اس نے کہا کہ میں خود بیٹھ کے دیکھوں گا۔
اب بادشاہ بیٹھ گیا، اور بادشاہ کو کچھ بھی نظر نہ آیا۔ اب اس نے سوچا کہ وزیر تو بچ گیا، اب اگر میں کہوں گا کہ نہیں نظر آتا، تو سب سمجھیں گے بادشاہ نیک اور پرہیزگار نہیں ہے۔
اس نے کہا، ماشااللہ، سبحان اللہ، مجھے مکہ اور مدینہ دونوں نظر آرہے ہیں۔ اور پھر اس کو گدھا بھی 50 روپے میں خریدنا پڑا۔
بالکل کچھ یہی صورتحال یہاں کی بھی ہے۔
اچھی تبدیلی صرف ان کو ہی نظر آرہی، اور اپنا ہی لیڈر  بھی مہنگا پڑ رہا ہے۔۔
وہ ذہنی طور پر اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ ہمارے لیڈر میں وہ خوبی ہی نہیں، جو وہ ہمیں کھڑے ہو کر بیان فرمایا کرتے تھے۔
مگر اب صورت حال اس کے بلکل برعکس ہے، اور اب وہ یہ تبدیلی کی ہڈی نا نگل سکتے ہیں، نا اگل؛
Share:

Qyamat Aane Se Pahle Maal O Daulat kasrat Se Ho Jayegi.

*🍂🌿🍂🌿     ﷽     🌿🍂🌿🍂*

Muhammad Sallallahu álayhi wa sallam ne farmaya !

*Qeyaamat aane se pehle maal wa daulat ki is qadr kasrta hojayegi aur log is qadr maaldaar hojayege ke us waqt saheb e maal ko iski fikr hogi ke iski zakat koun qubool karega aur agar kisi ko dena bhi chahega to usko ye jawaab milega ke muhje iski hajat (zarorat) nahi hai -*

English 

Messenger of Allah (ﷺ) said:

*"The Hour (Day of Judgment) will not be established till your wealth increases so much so that one will be worried, for no one will accept his Zakat and the person to whom he will give it will reply, 'I am not in need of it.' "*

[  Sahih al-Bukhari : 1412 ]
---------------------------------------

Share:

Kya Murde Sunte Hai,Murdon Ke Waseele Se Mangna Haraam Kyu Hai?

   Sawal : - Kʏᴀ ғᴀᴜᴛ sʜᴜᴅᴀ (ᴅᴇᴀᴅ) sᴜɴᴛᴇ ʜᴀɪɴ?

BILKUL NAHI* Kyu ki
Allaah ka farmaan hai:
Beshak aap murdon ko nahi suna sakte hain aur na behron ko apni pukar suna sakte hain._
(Qur'an 27: Aayet 80)
Aur zinde aur murde baraabar nahin ho sakte. Allaah jisko chahta hai suna deta hai aur aap un logo ko nahin suna sakte jo qabron mein hain._
 (Qur'an 35:Aayet 22)
In ayaat se yahan ek aam usool maloom hua ki murde *nahin* sun sakte. Lekin sath he sath iske 2 exceptions bhi milte hain; jaise.
1) Dafnaane ke bad jab log wapas jate hain to murde ka unke qadmo ki awaz sunna
(Bukhari # 1338)
2) ya Jung e Badr me jin dushmano ko kuwe (well) me dafna diya gaya tha, Nabi ﷺ ka unko mukhatib karna.
 Bukhari # 3976,
 Muslim # 7222
To yahan hume *aam* aur *khas* dono usool milte hain. *Aam* usool ke tahat murde nahin sun sakte, lekin *khas* usool ke tahat *murde qadmo ki ahat sunte hain ya jung ke mauqe par qatl hue dushmano ko mukhatib karke Nabi ﷺ ye ailan kar sakte hain ki Allaah ka wada poora hua aur iski tasdeeq ke liye poochh bhi sakte hain (bina murdo ke jawab ka intizar kiye).
Theek waise he jaise aam usool ke tahat murdaar (dead) ka gosht haraam hai (Qur'an 5:3) lekin khas usool ke tahat machhli (Fish) aur Tidda (locust) isse mustasna (exempted) hain. (Ibn Maja h# 3314).
Ab Gour karne wali baat ye hai ki in khas dalaail ki bina par kisi ek sahabi ne bhi faut shuda se ya unke  waseele se kuch bhi mangne ka jawaaz nahin nikala. Halanki aise kai sahaba the jinke Jannati hone ki bashaarat Nabi ﷺ  ne nam le kar ki thi aur jinse badh kar koi aur auliya Allaah nahin ho sakta.
Balki Jung e Badr wale waqye ko bayan karne wale ek sahabi Umar RA the aur wo apni Daur e khilafat me qahat, sookhe ke waqt Nabi ﷺ  ya Abu Bakr RA ki qabr par ja kar ya unka waseela le kar dua mangne ki jagah Abbas RA ke ghar jate aur unse dua ke liye kahte. (Bukhari h# 1010).
  Han, ye bhi sach hai ki faut shuda ke zariye Allaah se mangne ka amal Nabi ﷺ ke zamane me hota tha, _lekin ye amal *mushrikeen-e-makkah* karte the_.
Allaah ne farmaaya;
 _"aur wo kehte  hain ki yeh Allaah ke yahan hamaare sifarishi hain._"
 (Qur'an 10:18).
  Aur inme se aksar but (idols) *apne waqt ke nek log* hua karte the. (Bukhari h# 4920) lekin iske bawajood Allaah ne is tarah ke aqeede aur amal ki sakht pakad ki.
Ek bat ye bhi dhyan rahe ki faut shuda ka kuch awaze sunna, ek bat hai aur is bina par unse, ya unke waseele se dua mangna bilkul alag bat hai, jiska koi suboot kitab-o-sunnat me nahin hai.

Share:

Mannat Kyu Mangte Ho Auron Ke Darbar Se. (Alama Iqbal شعر)

  Allama Iqbal Ne Kiya Khub Kaha !!!
Mannat Kyun Maangte Ho Auron Ke Darbar Se,,,
Aisa Kaunsa Kaam Hai Jo Hota Nahi Tere Parwardigar Se!
"Guzar Gayi Namaz-E-Fajr
Aur Tu Sota Raha...
Qeemti Waqt Ko Khawaboun Me Khota Raha.....
Subha Namodaar Hui Par
Tu Bedaar Na Hua...
Umar Bhar So Ker Bhi Tu
Bezaar Na Hua.....
Aayi Zohar Toh Tujhe Kaam
Ne Uljha Diya....
Be Namaazi Bana Kar Kitna
Tujhe Phansa Diya.......
Milega Rizq Tujhe Namaz Ke Baad Bhi.....
Palega Tera Ghar Namaz Ke Baad Bhi......
Dekh Aagayi Namaz-E-Asar
Tawaani lekar......
Quwwat Hai is Me Tu isse Adaa Kar....
Tandrust Hai Aaj Tu Yeh Shukr Ada Kar......
Badan Ko Apne Sajdoun Ki Lazzat Diya Kar.......
Chal Diya Aftab Ab Ghuroob Hone Ko.....
Namaz-E-Maghrib Hai Ab Shuru Hone Ko....
Khatam Ho Gaya Teri Zindagi Ka Ek Aur Din......
Chala Gaya Yeh Bhi Haath Se Tere Neikiyoun Bin.....
Ab Tujhe Chahiye Raahat Sone Se Pehle.....
Isha Padh Le Apni Zindagi Khone Se Pehle.....
Payega Sukoon Tu ALLAH Ke Zikr Me Hi....
Milega Qaraar Tere Dil Ko issi Fikr Me Hi......
SubhanAllah
Share:

Dua ka Mana O Mafhoom,Dua Kisse Mangni Chahiye?

      دعا کے معنی پکارنے اور بلانے کے ہیں . مطلب یہ ہے کہ اپنی حاجت کے لیے الله تعالیٰ کو پکارا جاۓ تا کہ وہ اس ضرورت کو پوری کرے

           الله تعالیٰ فرماتا ہے

            تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کرونگا (المومن٦٠)         جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اسکی پکار کو قبول کرتا ہوں               اور فرمایا لوگو!       اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو( الاعراف) حدیث میں آتا ہے جو شخص الله سے سوال کرتا ہے تو اسکو اللہ تعالیٰ تین چیزوں میں سے ایک ضرور دیتا ہے

(١)یا تو اسکی مراد پوری کر دیتا ہے.

(٢) یا اس سے بہتر چیز دیتا ہے (دنیا و آخرت میں )

(٣) یا اس کے زریعے سے آنے والی کوئی بری مصیبت دور کر دیتا ہے.

ہر انسان دنیا میں آ کر کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہی ہے پھر اس پریشانی اور مشکل کو ختم کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتا ہے اور الله رب العزت کی بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دعا بھی کر تا ہے لیکن الله کو پکارنے کے انداز مختلف لوگوں کے مختلف رہے ہیں کسی کا گمان یہ ہے کے الله ہم جیسوں کی بات نہیں سنتا لہٰذا الله کے پاس قبر والوں کا وسیلہ لگانا چاہیے ہماری فریاد ان قبر والوں کے پاس اور انکی فریاد الله کے آگے حالانکہ ایسا نہیں ہے الله فرماتا ہے:

"جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں (تو آپ کہ دیجیے) میں قریب ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھ کو پکارتا ہے تو میں اسکی دعا قبول کرتا ہوں"
کیا عقلمند آدمی یہ ماننے کو ہیں کہ ایک آدمی ہمارے درمیان رہتا تھا پھر اسکو موت آ گئی اور اسکو غسل اور کفن دے کر اسکا جنازہ پڑھ کر ہم نے اسکو دفن کیا اور پھر قریب اور دور سے اس نے لوگوں کو پکڑنا شروع کر دیا اب اس قبر والی ہستی کو ہزاروں میل دور سے بھی اور قریب سے بھی بغیر وسیلے کے پکارا جا رہا ہے، اور الله رب العزت جس نے انسان کو پیدا کیا جسکو اونگھ بھی نہیں آتی جو انسان کے دل میں آنے والے خیالوں کو بھی جانتا ہے اور انسان کے قریب ہے اسکو پکارنے کے لیے فوت شدہ اشخاص کا وسیلہ لگایا جا رہا ہے الله قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے بیشک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے(روم ٥٢ ) اگر کوئی کہے کہ وہ مردے نہیں(جیسا کہ بعض لوگ قبر والوں کو مردہ نہیں نہی مانتے) تو الله نے انکا بھی رد کیا ہے. تم قبر والوں کو نہیں سنا سکتے(فاطر ٢٢ ) ان دلائل کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب بھی دعامانگی جاۓ الله سے مانگی جاۓ.ازکار کی تاثیر کے لیے ایک ور بات مد نظر رکھی جاۓ کہ بندہ جب ازکار پڑھ رہا ہو تو اس کے گلے یا بازو وغیرہ میں کسی قسم کا کوئی تعویذ نہ ہو کیوں کہ رسول الله نے فرمایا: جس نے جو چیز لٹکائی وو اس کے سپرد کر دیا جاتا ہے (ترمزی) اب الله سے کسی چیز کا ذمہ ختم ہو جاۓ تو خود سوچیے کہ اب یہ ازکار اسکو فائدہ دے سکتے ہیں؟ویسے بھی الله کے رسول نے تعویذ کو شرک قرار دیا ہے (مسند احمد، ابن ماجہ تمام صحابہ کرام رضوان الله علیہ اجمعین تعویذ کو برا جانتے تھے اگر چہ وہ قرانی تعویذ ہوں یا غیر قرآنی (ابن ابی شیبہ) دعا کی قبولیت کے لیے یہ شرط بھی ہے کہ بندہ جلدی نہ کرے رسول الله نے فرمایا بندے کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے جب تک بندہ جلدی نہ کرے اور اسکا جلدی کرنا یہ ہےکہ بندہ کہے میں دعا کرتا ہوں اور دعا قبول نہیںہوتی (مسلم) دعا کی قبولیت کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہے بندے کی دعا قبول ہوتی ہے رسول الله نے فرمایا: بندہ جو دعا کرتا ہے الله تعالیٰ اسکو وہی کچھ دے دیتا ہے جو اس نے مانگا تھا. اور اگر وہ اسے نہ ملے تو کوئی آنے والی مصیبت جو اس پر آنے والی تھی (جو بندے کے علم میں نہیں تھی ) الله تعالیٰ دعا تو قبول نہیں کرتا مگر وہ آنے والی مصیبت بندے پر سے ٹال دیتا ہے.اور اگر ان دونوں میں سے کوئی بات بھی نہ ہو تو الله تعالیٰ اس مانگی ہوئی دعا کا اجر روز قیامت دیگا (مسند احمد) قبولیت دعا کے لیے بعض اوقات بھی کتاب و سنّت سے ثابت ہیں جیسے فرض نمازوں کے بعد اور خاص طور پر سحری کے وقت. یہ ایسا وقت ہے کہ الله خود پکارتا ہے کہ ہے کوئی اس سے مانگنے والا الله اسکی دعا قبول کرے (صحیح مسلم جادو آسیب کور نظر بعد کے علاج کے لیے وہی طریقہ اپنایا جاۓ.جو شریعت اسلامیہ نے ہم کو بتایا ہے، اگر کوئی شخص غیر شرعی ازکار اور وظائف اپناۓ گا. تو وہ حق سے دور ہو جایگا. اور الله کی بارگاہ میں اسکا عمل رد کر دیا جایگا، رسول الله نے فرمایا جس نے ایسا عمل کی جس کا حکم ہم نے نہ دیا ہو وہ رد ہے، (مسلم) لہٰذا عمال صرف ور صرف وہ کرنے چاہیے جو قرآن اور سنّت سے ثابت ہوں، بعض لوگوں کو اگر ذرا سی کوئی پریشانی آ جاۓ تو وہ سمجھتے ہیں کے کسی نے کچھ کروا دیا ہے. اور جلد ہی کسی جھاڑ پھونک والے کو تلاش کرتے ہیں ایسے لوگوں سے ہماری گزارش ہے کہ ان مسنون ازکار کو اپنائیں جو رسول الله نے تعلیم دئےہیں. ان شا الله وہ ان آفات سے محفوظ رہیں گے، صبح اور شام کے ازکار کا پابندی سے اہتمام کریں. وہ دعائیں جو شیطان سے بچاؤ کا سبب ہیں. انکو پڑھتے رہیں. اگر کوئی شخص کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے تو ان ہی ازکار سے ان بیماریوں اور پریشانیوں کا علاج کرے،جو رسول الله نے بتائی ہیں. عقیدہ کی درستی کے ساتھ پابندی نماز کرتے ہوئےالله رب العزت سے دعا مانگیں وہ ان شا الله ضرور قبول کریگا،  
     الله رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمکو صرف اپنے سے ہی دعا مانگنے کی توفیق دے، اور ہماری تمام جائز حاجات کو پورا کرے اور ہماری تمام پریشانیوں اور بیماریوں کو دور کرے کیوں کہ توفیق دینے والی ذات تو صرف الله کی ہے 


Share:

Kya Taqleed Jaruri hai Nabi ki Sunnat ke Hote Hue?

کیا تقلید ضروری ہے؟

میں کچھ عرصہ قبل تقلید کی پرخار اندھیری وادی میں بھٹک رہا تھا‘ بفضل تعالیٰ دل میں جستجو حق کی کرن طلوع سحر میں تبدیل ہوگئی‘ صراط مستقیم میں حائل رکاوٹیں دور ہوگئیں‘ تقلید کے سیاہ بادل چھٹ گئے اور ہر طرف روشنی ہوگئی‘ قرآن و حدیث کے مطالعے سے تقلید (جہالت) سے دامن چھوٹ گیا‘ میں نے ماضی میں دوران تحقیق جب اپنے حنفی علماء سے پوچھا ۔
ہم حنفی کیوں ہیں؟
کہاگیا ہم چوں کہ امام ابوحنیفہ کے مقلد ہیں اس لئے حنفی کہلاتے ہیں۔
میں نے پوچھا ہم مقلد کیوں ہیں؟
کہا گیا قرآن و حدیث سے لاعلمی کی وجہ سے۔
میں نے پوچھا قرآن و حدیث سے لاعلمی کی وجہ؟
کہا گیا قرآن کو سمجھنا بہت مشکل ہے اور احادیث میں اختلاف ہے۔ اسی لئے ہم ایک امام کی تقلید کے قائل ہیں۔
میں نے کہا بقول آپ کے قرآن مشکل اور احادیث میں اختلاف کی وجہ سے حنفی مذہب اختیار کیا گیا ہے ‘ لیکن حنفی مذہب میں جو شدید اختلافات ہیں تو پھر اب کون سا مذہب اختیار کیا جائے؟ اور حنفی مذہب میں آپ کی طرح دیگر علماء بھی حنفی مذہب کے مقلد ہیں‘ تو یہ علماء حنفی مذہب کے عالم تو ہوئے کیا انہیں عالم دین بھی کہا جاسکتا ہے؟
اگر حنفیت ہی دین ہے تو باقی تین مذاہب کیا ہیں؟ اگر یہ بھی دین ہیں تو دین کے چار حصے کیوں؟ اور ان میں زبردست اختلافات کیوں؟ دین تو 10 ہجری کو کامل ہوگیا تھا‘ جب کہ ان چاروں مذاہب کا وجود بھی نہیں تھا۔
میں نے مزید پوچھا امام (مجتہد) سے خطا ہوتی ہے یا نہیں؟ امام نے خود تقلید کی ہے یا نہیں؟ امام نے اپنی تقلید سے متعلق کچھ کہا ہے یا نہیں؟ اور امام صاحب کی اپنی لکھی ہوئی کوئی کتاب دنیا میں موجود ہے یا نہیں؟
بس دوران تحقیق چند سوالات کرنے کی دیر تھی پھر جو جوابات ملے سوالات کے نہیں بلکہ سوالات کرنے پر کہ تم غیر مقلد ہو‘ گستاخ ہو‘ وہابی ہو‘ اور مزید عزت افزائی کی گئی۔ جو میں لکھنے سے معذرت خواہ ہوں۔ آپ مذکورہ بالا سوالات ان سے کیجئے۔ تقلید کی کیا حیثیت ہے معلوم ہوجائے گا۔ اور عزت افزائی؟ بھی خوب ہوگی۔
یاد رہے قرآن کو سمجھنا مشکل نہیں ہے اور نا ہی احادیث میں اختلاف ہے۔ آپ فہم قرآن و حدیث کے لئے کوشش تو کریں چند مسائل میں اگر مشکل پیش آئے تو علمائے اہل حدیث سے رجوع کریں‘ ان شاء اللہ وہ مشکل بھی حل ہوجائے گی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا (اور کوشش کی) ہم انہیں ضرور سیدھے راستے کی ہدایت دیں گے‘ اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (سورۃ العنکبوت)
مقلدین کہتے ہیں قرآن کو سمجھنا بہت مشکل ہے
جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’بلاشبہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنایا ہے‘ تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے‘‘ (سورۃ القمر)
شریعت میں کوئی الجھن نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم اس طرح الجھن میں مبتلا ہو‘ جس طرح یہود و نصاریٰ‘ تحقیق میں تمہارے لئے روشن و صاف شریعت لے کر آیا ہوں‘‘ (مسند احمد۔ ابن ماجہ)
شریعت میں الجھن کے وجود کو تسلیم کرنا ہی خلاف شریعت ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم میں نے تمہیں روشن شریعت پر چھوڑا ہے‘ اس کی رات اور اس کا دن دونوں روشنی میں برابر ہیں‘‘(مسند احمد۔ ابن ماجہ)
قرآن و حدیث میں شک و شبہ مومن کی صفت نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’مومن تو حقیقت میں وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک و شبہ میں نا پڑے۔‘‘ (سورۃ الحجرات)
جب کہ تقلید کرنے سے شک واقع ہوتا ہے
‘ حنفی مذہب کی معتبر کتاب مسلم الثبوت میں مرقوم ہے ’’یعنی علمی دلائل کو چھوڑ کر تقلید کی طرف جانا معقولات کے برخلاف ہے‘ کیسے خلاف نا ہو تقلید کرنے سے شک واقع ہوتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جس چیز میں شک ہو‘ اس کو ترک کردو اور جو یقینی بات ہو اس پر عمل کرو۔‘‘ (مسلم الثبوت)
امام ابوحنیفہ کی ولادت 80 ہجری اور انتقال 150 ہجری کو ہوا۔ امام صاحب نے خود کوئی کتاب نہیں لکھی ۔ امام ابوحنیفہ فرماتے تھے ’’کہ لوگ ہدایت پر رہیں گے جب تک کہ ان میں حدیث کے طلباء ہوں گے جب حدیث چھوڑ کر اور چیزیں طلب کریں گے تو بگڑ جائیں گے۔‘‘ (میزان شیرانی)
حنفی مذہب ہزاروں افراد کی رائے قیاس اور کئی مذاہب کا مجموعہ ہے جسے حنفی مقلدین بڑے فخر سے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لیکن سنداً ثابت کرنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ حنفی مذہب کی جن کتابوں پر دن رات حنفیوں کا عمل ہے دیکھتے ہیں وہ کب لکھی گئیں۔
قدوری ۔ پانچویں صدی ہجری ہدایہ۔ قاضی خاں۔ دلواجیہ ۔ چھٹی صدی ہجری منیہ۔ قنیۃ ۔ ساتویں صدی ہجری طحطاوی ۔ شرح وقایہ۔ نہایہ۔ کنز۔ عنایہ۔ جامع الرموز ۔ آٹھویں صدی ہجری فتح القدیر ۔ بذازیہ ۔ حلیہ ۔ خلاصہ کیلانی ۔ نویں صدی ہجری فتاویٰ خیریہ ۔ درمختار۔ گیارہویں صدی ہجری فتاویٰ عالمگیری ۔ بارہویں صدی ہجری ملابد ۔ عمدۃ الرعایہ ۔ مراقی الفلاح ۔ تیرہویں صدی ہجری
حنفی مذہب ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا​
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’آج میں نے تمہارا دین کامل کردیا‘ اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی‘ اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا‘‘ (سورۃ المائدہ)
عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں ’’کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی اس کے بعد حلال و حرام کو کوئی حکم نہیں اترا۔‘‘
اب چند سوالات درج ذیل ہیں۔
امید ہے طالب حق مقلدین تلاش حق میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کریں گے‘ اور حق (قرآن و حدیث) کو فراخ دلی سے قبول کریں گے ۔ (آمین)
کیا یہ صحیح ہے کہ قرآن و حدیث میں تقلید سے متعلق منع کیا گیا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اثبات تقلید کی دلیل دیجیئے‘ لیکن مقلد تو اپنے امام کے قول کی دلیل دیکھنے کا بھی مجاز نہیں تو امام کی تقلید سے متعلق کیسے دلیل دے سکتا ہے؟ جب کہ چاروں امام نے اپنی اور دوسروں کی تقلید کرنے سے سخت منع کیا ہے۔ بالفرض آپ کی پیش کردہ دلیل تسلیم کرلی جائے تب بھی کسی امام کی تقلید ثابت نہیں ہوتی۔
آپ کی پیش کردہ دلیل مدنظر رکھی جائے تو زیادہ سے زیادہ صحابہ کرام کی تقلید ثابت ہوگی‘ وہ بھی وقتی اور مطلق جامد نہیں۔ اور یہاں سوال تقلید جامد (شخصی) کا ہے‘ مطلق کا نہیں۔ لیکن صحابہ کرام کا مقلد تو کوئی بھی نہیں‘ آپ بھی نہیں‘ کیا صحابہ کرام کی تقلید منسوخ ہوچکی ہے؟ اگر بقول مقلدین صحابہ کرام کی تقلید منسوخ ہوچکی ہے تو اس کی کیا دلیل اور اگر نہیں ہوئی تو پھر ان کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟ اور ان چاروں امام سے قبل و بعد جو ہزاروں امام و مجتہدین گزرے ہیں ان کی تقلید مشروع ہے یا ممنوع؟ اگر مشروع ہے تو ان کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر ممنوع ہے تو اس کی کیا دلیل؟ اور ان چاروں امام کی تقلید کس دلیل کی بنیاد پر کی جاتی ہے؟ مناسب ہوگا وہ دلائل جس سے بقول مقلدین صحابہ کرام کی تقلید ثابت ہوتی ہے‘ آپ چوں کہ چار امام کی تقلید کے قائل اور ایک امام کے مقلد ہیں‘ اور آپ صحابہ کرام کی تقلید کے قائل نہیں اور نا ہی کسی ایک صحابی کے مقلد ہیں۔ اس لئے بہت ضروری ہے صرف وہ دلائل دیجیئے جس سے صرف ان چار امام کی تقلید واضح طور پر ثابت ہوجائے اور پھر چار امام میں سے تین کو شجر ممنوعہ سمجھ کر ان سے اجتناب اور ایک امام کی تقلید جامد کیوں؟ اور کس دلیل کی بنیاد پر؟ کیا مقلدین کی طرف سے پیش کردہ اثبات تقلید سے متعلق دلائل سے علاوہ ان چار مذاہب کے دیگر مذاہب کے مقلدین بھی استفادہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟‘ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر کرسکتے ہیں تو پھر ’’چاروں مذاہب برحق‘‘ کا نقارہ بند تو نہیں ہوجائے گا؟ بقول مقلدین چاروں مذہب برحق ہیں‘ تو کیا مقلد مجتہد بھی ہوسکتا ہے؟ اگر ہوسکتا ہے تو پھر تقلید کی کیا ضرورت؟ اگر صرف مقلد (جاہل) ہے تو اس لاعلم کو علمی بحث سے سخت اجتناب کرنا چاہیئے‘ جب منہ میں دانت نہیں تو اخروٹ کھانے کی ضد اچھی بات نہیں۔
چاروں امام کا قول ہے ’’صحیح حدیث میرا مذہب ہے‘‘ (میزان شعرانی)

اور مروجہ ایک مذہب مکمل حق نہیں ہوسکتا ‘ یہی وجہ ہے کہ ان چاروں امام نے اپنے سے افضل کی بھی تقلید نہیں کی۔ بلکہ بعد والوں کو اپنی اور دوسروں کی تقلید سے سخت منع کیا ہے۔ ثابت ہوا ان کی تقلید تحقیق ہے تقلید نہیں۔
سمجھ سے بالاتر ہے اگر تقلید مطلق کی جائے تو کس مسئلے میں کس کی؟ اور کس مسئلے میں کس کی؟
کیا مقلد اپنے امام سے بڑھ کر اجتہاد کے اعلیٰ منصب پر فائز ہے؟ کہ وہ یہ معلوم کرسکے کہ کس امام سے کس مسئلے میں اجتہاد میں خطا ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر تقلید جامد کی جائے تو افضل کی یا مفضول کی؟ افضل تو صحابہ کرام تھے ‘ جب ان کی تقلید مقلدین نے منسوخ کردی تو مفضول کی اب تک کیوں؟ کیا تقلید انتقال پذیر ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو صحابہ کرام کی تقلید کیوں انتقال پذیر ہوگئی؟ اگر ہوتی ہے تو ان چاروں امام کی تقلید کیوں جامد ہوگئی؟
مقلدین ان چاروں امام کی تقلید کو فرض اور واجب کہتے ہیں جب کہ یہی مقلدین صحابہ کرام کی تقلید کو فرض کہتے ہیں اور نا ہی واجب ۔ اگر تقلید فرض یا واجب ہے تو کس کی اور کیوں؟ جامد یا مطلق دلیل دیجیئے۔
اور دین میں تحقیق کرنے والے غیر مقلدین کے لئے قرآن و حدیث میں کیا وعید آئی ہے اس کی دلیل ضرور‘ مگر سمجھ کر دیجیئے گا؟؟؟؟
قرآن و حدیث میں تقلید کا لفظ انسانوں کے لئے نہیں بلکہ جانوروں کے لئے آیا ہے۔ اگر اب بھی تقلید کے سوا چارہ نہیں تو پھر امام کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ ناممکن ہے۔ اب درپیش مسائل میں قرآن و حدیث والوں (اہل حدیث) کی طرف کیوں نا رجوع کیا جائے کیوں کہ مقلد تو کہتے ہی اسے ہیں جو صرف اپنے امام کے قول کا پابند ہو‘ قرآن و حدیث سے دلیل دینا تو درکنار اپنے امام کے قول کی دلیل کا مطالبہ تک نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ تقلیدی مذہب میں دلیل کا تقاضا مقلد کو دائرہ تقلید سے خارج کردیتا ہے۔ اور تقلید کہتے ہیں کسی کی بات عدم علم اور تحقیق کے مان لینا ‘ اگر دلیل دی تو (مسئلہ ثابت ہوا یا نہیں) تقلید کہاں رہی۔ اگر مقلدین کو علم و تحقیق کی جستجو ہوتی تو ’’ تق ۔ لید‘‘ میں پھنستے ہی کیوں؟ مقلدین اثبات تقلید سے متعلق قرآن و حدیث سے جو دلائل دیتے ہیں کیا آپ کے امام نے بھی ان دلائل کی روشنی میں اثبات تقلید سے متعلق کچھ کہا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر کہا ہے تو کیا کہا ہے؟
اگر مقلدین امام ابوحنیفہ کا باسند قول اثبات تقلید سے متعلق ان کی اپنی دلیل سے ثابت نہیں کرسکے تو مقلدین کی طرف سے اثبات تقلید سے متعلق دلائل کا کیا مفہوم سمجھا جائے؟ قرآن و حدیث پر افتراء یا اپنے امام اعظم پر فضیلت؟
کہا جاتا ہے چاروں مذاہب برحق ہیں‘ جب کہ چاروں مذہب میں شدید اختلافات ہیں۔ ایک مذہب کہتا ہے یہ چیز حلال تو دوسرا مذہب کہتا ہے حرام ۔ ایک مذہب کہتا ہے یہ جائز دوسرا مذہب کہتا ہے ناجائز۔ ایک مذہب کہتا ہے اس طرح طلاق ہوگئی تو دوسرا مذہب کہتا ہے نہیں ہوئی۔ حد تو یہ ہے کہ اسلام کے ایک اہم رکن نماز سے متعلق ایک مذہب کہتا ہے اس طرح نماز ہوگئی تو دوسرا مذہب کہتا ہے نہیں ہوئی۔ مقلدین کو حق کہنے کا حق تو نہیں پھر بھی مقلدین جسے حق کہتے ہیں اگر یہی حق ہے تو عجیب حق ہے بیک وقت حلال بھی حق‘ حرام بھی حق‘ جائز بھی حق ناجائز بھی حق‘ طلاق ہوگئی حق‘ نہیں ہوئی حق‘ نماز ہوگئی حق‘ نہیں ہوئی حق۔ چاروں تقلیدی مذاہب کے ہزاروں اختلافی مسائل میں اگر یہ بھی حق اور وہ بھی حق اور حق تو ہے ہی حق اگر اس کی ضد باطل بھی حق تو میرا یہ حق ہے کہ مجھے کسی پاگل خانہ میں جمع کرادو۔
بھائیو! حق تو یہ ہے کہ حق ادا نا ہوا ۔ کاش مقلدین اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر عمل کرلیتے تو یہ سنگین صورت حال پیدا نہیں ہوتی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
’’ اور جب تم میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول (قرآن و حدیث) کی طرف لوٹائو‘‘ (سورۃ النسائ)
تین مذاہب مالکی‘ شافعی اور حنبلی تو درکنار خود فقہ حنفی میں امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں میں ہزاروں مسائل میں زبردست اختلافات موجود ہیں۔ بلکہ متعدد مسائل میں امام ابوحنیفہ کے کئی کئی اقوال موجود ہیں۔ مقلدین کا حق ہے کہ وہ اپنے مقلد ؟ علماء سے وضاحت طلب کریں یہ سب کیوں اور کیا ہے؟ حق پرستی ہے یا اکابر پرستی‘ صراط مستقیم ہے یا فرقہ پرستی؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’تو قسم ہے تیرے رب کی (اے پیارے رسول) نہیں ایمان لائیں گے یہاں تک کہ اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ کو حاکم نا بنائیں‘ پھر آپ جو فیصلہ صادر فرما دیں اس سے اپنے دلوں میں کچھ تنگی نا پائیں بلکہ بسر و چشم تسلیم کرلیں‘‘ (سورۃ النساء)
مقلدین ضمیر کو‘ نہیں ہے تو چھوڑیں‘ ہے تو جھنجھوڑیں۔ اپنے تقلیدی مذہب پر ہی جمے رہنا ہے یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت (قرآن و حدیث) کے سامنے سر جھکانا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں‘ ظالم ہیں‘ فاسق ہیں‘‘ (سورۃ المائدہ)
جب چاروں امام کا قول ہے ’’صحیح حدیث میرا مذہب ہے‘‘ تو ان کا مذہب تو کتب حدیث کی صحیح احادیث میں ملے گا نا کہ سینکڑوں سال بعد ہزاروں افراد کی لکھی گئی رائے و قیاس پر مشتمل کتب فقہ میں‘ کیا مکمل شریعت کے بعد رائے قیاس بھی حجت ہے؟ اگر نہیں تو چھوڑا کیوں نہیں جاتا‘ اگر حجت ہے تو یہ شریعت سازی ہے یا نہیں؟ اور شریعت سازی شرک ہے یا نہیں؟ امام (مجتہد) کا اجتہاد اگر درست ہے تو دو اجر‘ اگر اجتہاد میں خطا ہوجائے تو ایک اجر (کوشش کی وجہ سے) مگر مجتہد کی خطا میں اندھی تقلید کرنے والوں کے لئے خسارہ ہے‘ ثواب نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
’’اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آئو اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور رسول کی طرف تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں‘‘ (سورۃ النساء)
اگر اب بھی بچکانہ ضد کہ چاروں مذاہب برحق ہیں اور ایک مذہب کی تقلید ناگزیر ہے تو امام سے خطا کی صورت میں انتقال مذہب کی اجازت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو تقلید گئی ‘ اگر نہیں تو کیوں؟ اور اس کی کیا دلیل ہے؟ اور ایک عامی (جاہل) کے لئے انتخاب مذہب کی کیا دلیل ہے؟ کرہ ارض کے تمام مقلدین عامی ہو یا مفتی سب کے سب اپنے آبائواجداد کے طریقے پر گامزن ہیں۔ جو باپ کا مذہب وہی بیٹے کا مذہب‘ آپ اپنے کسی بھی عالم سے پوچھیں کیا آپ نے تحقیق کرکے یہ مذہب اختیار کیا ہے؟ اگر وہ کہے ’’نہیں‘‘ تو میں سچا‘ اگر وہ کہے ’’ہاں‘‘ تو وہ جھوٹا۔
اس لئے اگر وہ مقلد (جاہل) ہے تو عالم نہیں‘ اگر عالم (علم والا) ہے تو مقلد نہیں۔ اگر کہا جائے ’’مقلد عالم‘‘ تو مقلد (جاہل) عالم (علم والا) یعنی پڑھا لکھا جاہل؟
صد افسوس
عقل کے اندھوں کو کچھ کا کچھ نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے‘ لیلیٰ نظر آتا ہے​
اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے یا بند؟ اگر کھلا ہے تو تقلید کی کیا ضرورت‘ اگر بند ہے تو کس نے کیا؟ مقلدین یا مجتہدین نے فرد واحد یا اجماع نے دلیل یا رائے قیاس سے اور یہ سانحہ عظیم کب‘ کیوں اور کہاں ہوا؟ جب اجتہاد کا دروازہ چاروں امام کے بعد بند کیا گیا ہے تو کیا بعد والے اجتہاد میں ان چاروں امام سے بھی افضل تھے؟ اگر تھے تو ان کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر مفضول تھے تو مسئلہ اجتہاد میں ان کی تقلید کیوں کی جاتی ہے؟ بلکہ جو کام خلفائے راشدین‘ صحابہ کرام‘ تابعین‘ ہزاروں امام و مجتہدین نے نہیں کیا تو بعد والوں کو یہ حق کس نے اور کیوں دیا کہ وہ اجتہاد کا دروازہ بند کردیں۔ بقول مقلدین اگر اس میں حکمت تھی تو کیا اس حکمت سے (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ واقف نہیں تھا‘ اجتہاد کا دروازہ بند کرنے کی کوئی دلیل ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کون سی ‘ اگرنہیں تو ثابت ہوا اجتہاد کا دروازہ محض رائے قیاس سے بند کیا گیا ہے۔ اور شریعت میں کسی کی رائے قیاس حجت نہیں ‘ اگر مقلدین کے نزدیک رائے قیاس بھی حجت ہے تو کیا اس کی کوئی دلیل ہے؟ اگر ہے تو کون سی؟ اگر نہیں تو صرف قرآن و حدیث کو دین اور حجت ماننے والوں (اہل حدیث) کی طرف آیئے‘ حق روشنی تو ادھر ہے آپ اتنے عرصے سے تقلید کی اندھیری گھاٹی میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
’’سو یہی ہے اللہ تمہارا حقیقی پروردگار پس حق کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا ہے سو تم کدھر کو پھرے چلے جا رہے ہو‘‘ (سورۃ یونس)
یہ بتائیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور ایک سائل کے درمیان کون سا امام واسطہ بننے کا زیادہ مستحق ہے کیوں کہ امام (مجتہد) سے بھی خطا ہوتی ہے‘ تو ایسے وقت مقلد کو قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہئے یا نہیں ‘ اگر مقلد اب بھی تقلید کا قلادہ (پٹہ) اپنی گردن سے نہیں اتارے تو اس نے اپنے امام کو شارع یا شارح کی حیثیت تو نہیں دے دی‘ جب کہ اللہ تعالیٰ شارع بھی ہے اور شارح بھی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’ اللہ نے تمہارے لئے دینی شریعت بنائی ہے اور ارشاد فرمایا پھر اس وحی کی تشریح کرنا ہمارا ذمہ ہے‘‘ (سورۃ القیامۃ)
اب مقلدین اپنے امام کو شارع یا شارح سمجھیں تو یہ شرک ہوا یا نہیں۔ اگر مقلدین امام کو شارع یا شارح نہیں سمجھتے تو سمجھائیں کہ وہ یا سمجھتے ہیں؟ اور آپ کا امام کے نام سے منسوب ہونا کیا سمجھا جائے؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’کیا انہوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لئے دینی قوانین بناتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی‘‘ (سورۃ شوریٰ)
یاد رکھیں ! گذشتہ قومیں اللہ تعالیٰ کے احکامات جس کی رسول تبلیغ کرتے تھے نظرانداز کرکے اپنے علماء اور مشائخ کی بے سند اور جھوٹی باتوں کو ہی دین اور راہ نجات سمجھنے لگیں‘ تحقیق چھوڑ کر تقلید اور آبائواجداد کے طریقوں کو پکڑ لیا ‘ اور گمراہ ہوگئیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا‘‘ (سورۃ توبہ)
اس آیت کی تفسیر میں جو حدیث ہے وہ صرف یہی ہے کہ یہود و نصاریٰ اپنے علماء و مشائخ کی حلال و حرام میں پیروی کرتے تھے اور اسی کو رسول اللہ ﷺ نے ان کی عبادت فرمایا تھا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں ’’اور یہی ان کی عبادت تھی‘‘ (ترمذی)
ممکن ہے آپ کے مقلد علماء فرمائیں کہ یہ آیت تو یہود و نصاریٰ سے متعلق ہے‘ آپ حیران ہوکر ان سے پوچھیں کیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شریعت سازی کی اجازت دے دی ہے؟
واضح رہے علت دونوں جگہ ایک ہی ہے یعنی غلطی میں کسی کی پیروی کرنا انسانی صفت تقلید نہیں تحقیق ہے تو پھر آپ تحقیق کریں آپ وہی خطا تو نہیں کر رہے جو گذشتہ گمراہ قوموں نے کی تھی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’سو نصیحت کرتے رہو تم جہاں تک نصیحت نفع دے ضرور نصیحت قبول کرے گا وہ جسے خوف ہے (اللہ کا) اور گریز کرے گا اس سے جو ہوگا انتہائی بدبخت وہ جو جا پڑے گا بڑی آگ میں پھر نا موت آئے گی اسے اس میں اور نا زندہ ہی ہوگا‘‘ (سورۃ الاعلیٰ)
مقلدین ایک بات کے قائل ہیں کہ تقلید ظن (عدم یقین) کی بنیاد پر کی جاتی ہے‘ اور چاروں امام نے اپنے قول پر عدم دلیل کے فتویٰ دینا حرام کہا ہے۔ جب تقلید کی بنیاد ہی عدم دلیل پر قائم ہے تو کیا مقلد مفتی فتویٰ دینے کا مجاز ہے؟ یا نہیں اگر نہیں تو فتویٰ کیوں دیتا ہے؟ اگر مجاز ہے تو کیا عدم دلیل کے فتویٰ دینا جائز ہے؟
اب مقلد مفتی عدم دلیل کے فتویٰ دے تو بقول امام صاحب کے حرام کا مرتکب‘ اگر فتویٰ دلیل سے دے تو اپنے تقلیدی مذہب سے خارج۔ مقلد مفتی دلیل سے فتویٰ دے تو مفتی تو رہے گا سچ بتائیں کیا مقلد بھی رہے گا؟
آج حنفی ہونے پر بڑا فخر کیا جاتا ہے‘ جب کہ اصلی حنفی اسے کہتے ہیں جو امام ابوحنیفہ کی تقلید کرے اور تقلید کرنے والے کو مقلد کہتے ہیں اور مقلد صرف اپنے امام کے قول کا پابند ہوتا ہے دلیل دینا تو مجتہد (غیر مقلد) کا کام ہے‘ مقلد کا نہیں۔ اگر حنفی حضرات صرف امام صاحب کے باسند قول پر عدم دلیل کے فتویٰ دیں تب تو آپ یقیناً حنفی ہیں اگر قرآن حدیث سے دلیل دی پھر تو یہ اطاعت کہلائے گی اور تقلید غائب ہوجائے گی‘ باقی کیا رہ جائے گی؟ ظاہر ہے قول امام دلیل کے تابع ہے‘ دلیل امام کے قول کے تابع نہیں‘ اب حنفی کہلانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ دلیل پر قول امام کو ترجیح؟
جو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں جو نہیں جانتے وہ جاننے کی کوشش کریں‘ مقلدین کہتے ہیں حدیث کے صحیح اور غیر صحیح ہونے میں احتمال ہوتا ہے اور اس قسم کے دوسرے شکوک پیدا ہوتے ہیں لہذا براہ راست حدیث پر عمل کرنا ٹھیک نہیں۔ جب مقلد مفتی امام کے قول پر فتویٰ دیتا ہے تو امام کے قول میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے۔ صحیح ہے یا غیر صحیح ۔ حدیث کے مطابق ہے یا مخالف‘ سنداً ثابت ہے یا نہیں‘ قول قدیم ہے یا جدید اور اس کا مفہوم ہم تک صحیح پہنچا ہے یا نہیں؟ اگر مقلد مفتی امام صاحب کے کسی شاگرد کے قول پر فتویٰ دے تو امام صاحب کے شاگردوں نے ہزاروں مسائل میں اپنے امام سے سخت اختلاف کیا ہے۔ معلوم نہیں امام صاحب کا قول صحیح ہے یا شاگرد کا‘ اور شاگرد کے قول میں بھی مذکورہ بالا شبہات ہوسکتے ہیں۔
بھائیو! آنکھ بند ہونے سے پہلے کھول لیں۔ بعد مرنے کے حسرت اور افسوس لاحاصل ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے حسرت اور افسوس سے کہیں گے کاش ہم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بزرگوں کی بات مانی جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکادیا پروردگار تو انہیں دوگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما‘‘ (سورۃ الاحزاب)
آپ صراط مستقیم کا تعین کریں (تقلیدی مذہب) جس مذہب میں مقلد کو علم سے لاعلم رکھنا فرض اور واجب بتایا جاتا ہے اور دین میں تحقیق و بحث کرنے اور مذہب کے عالم سے سوالات کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور مقلد کو امام کے قول کی سند اور اس کی دلیل کا مطالبہ کرنے پر مذہب سے خارج کردیا جاتا ہے اور اسے لامذہب‘ بے ادب‘ گستاخ اور دیگر برسے القاب سے نوازا جاتا ہے‘ اہل حدیث پر جھوٹے الزامات اور برے القاب سے پکارنے کی اصل وجہ بھی صرف اور صرف یہی ہے یا مسلک قرآن و حدیث جس کسی کی بات مطابق قرآن و حدیث ہو سر آنکھوں پر اگر خلاف ہو تو رد کردی جائے‘ یہی مذہب خلفائے راشدین‘ صحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین‘ آئمہ اربعہ‘ محدثین‘ مجتہدین اور تمام اولیاء اللہ کا تھا‘ صرف یہی صراط مستقیم ہے۔
اسی کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور اطاعت کہتے ہیں اور اسی میں اللہ کی رضا اور ہماری نجات ہے‘ آپ دوران تحقیق چند لوگوں کی جہالت کی پرواہ نا کریں بلکہ روزمحشر اللہ رب العالمین کے سامنے اکیلے اپنے اعمال کی جواب دہی کو مدنظر رکھیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
’’اے نبی کہہ دے میں اللہ کے دین کی طرف دلائل واضح سے بلاتا ہوں اور جو شخص میرا تابعدار ہے اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں‘‘ (سورۃ یوسف)
اس آیت کی تفسیر میں تفسیر حنفی مدارک‘ تفسیر کبیر‘ تفیسر خازن‘ تفسیر بیضاوی اور تفیسر ابن کثیر کی عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے کہ آپﷺ فرما دیجیئے کہ میں تم کو اللہ کے دین کی طرف بلادلیل نہیں بلاتا بلکہ جج و براہین واضح کے ساتھ بلاتا ہوں جس کے ذریعے تم حق اور باطل میں تمیز کرسکتے ہو۔ یہ آیات قرآنی و اقوال مفسرین صاف دلالت کررہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرنا تقلید میں داخل نہیں ہے۔ کیوں کہ اتباع نبویﷺ بالدلائل ہے اور تقلید کی بنیاد عدم دلیل پر قائم ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی‘‘ (بخاری ۔ مسلم ۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
جس طائفہ منصورہ کی حقیقت و فضیلت رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمارہے ہیں مروجہ تقلیدی مذاہب ارواح (حنفی‘ مالکی‘ شافعی‘ حنبلی) کا سلسلہ چوں کہ زمانہ خیر القرون کے بعد کا ہے اس لئے ان کا آپﷺ کی اس بشارت کا حق دار ہونا محل نظر ہے‘ ان کے تقلیدی مذاہب کا وجود رسول اللہﷺ ‘ صحابہ کرام‘ تابعین و تبع تابعین کے مبارک زمانے میں نہیں تھا یہ بات مقلد بھی جانتے ہیں کہ مقلدین سے افضل امام تھے اور امام سے افضل تابعین تھے اور تابعین سے افضل صحابہ کرام تھے ظاہر ہے جب افضل تھے تو مقلد نہیں تھے۔ جب مقلد نہیں تھے تو پھر غیر مقلد ہوئے تو پھر ہمیشہ حق پر قائم رہنے والی جماعت سے تعلق غیر مقلدین کا ہوا یا نہیں؟
مقلدین کہاں کھڑے ہیں؟ اس کا تعین مقلدین خود کریں۔ مقلدین تقلید کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و حدیث سے چند دلائل دیتے ہیں جب مقلدین کو قرآن مشکل اور احادیث میں اختلاف نظر آتا ہے تو کیا تقلید کو ثابت کرتے وقت قرآن آسان اور احادیث میں اختلاف دور ہوجاتا ہے؟
’’ٹب میں نہانے والوں کو سمندر میں نہانے کا دعویٰ زیب نہیں دیتا۔‘‘

کیا تمام مقلدین ایک آیت یا ایک صحیح حدیث دکھا سکتے ہیں جس میں غیر مقلد یعنی دین میں تحقیق اور اجتہاد کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہو؟
آپ ان سے پوچھیں جب تقلید کی بنیاد ہی عدم دلیل پر قائم ہے تو تقلید کو دلیل سے ثابت کرکے آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ عدم دلیل کے تقلید باطل ‘ تقلید پر دلیل دیں پھر بھی تقلید باطل۔
مقلدین تقلید کو ثابت کرتے وقت اپنے مذہب کے اصول اور اس حقیقت کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ چاروں امام غیر مقلد تھے ‘ اگر قرآن و حدیث میں اثبات تقلید سے متعلق ایک بھی دلیل ہوتی تو چاروں امام اس دلیل کی روشنی میں اپنے سے افضل کی تقلید کرتے اور بعد والوں کو اپنی تقلید سے متعلق ضرور کچھ کہتے‘ لیکن چاروں امام نے نا اپنے سے افضل کی تقلید کی اور نا ہی اپنی تقلید کرنے کو کہا۔ بلکہ دوسروں کی تقلید سے بھی سخت منع کرگئے۔ مقلدین اتنی عام فہم بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں‘ کہ ان کی تقلید ہی یہ ہے کہ تقلید نہیں تحقیق کی جائے۔ مناسب ہوگا مقلدین لوگوں کو غیرمقلدوں سے بدظن نا کیا کریں‘ اور نا ہی برے القاب سے پکارا کریں آپ چوں کہ مقلد (لاعلم) ہیں اور بات کہاں تک پہنچ جاتی آپ کو اس کا علم نہیں ہوتا۔
افسوس مقلد بے سمجھ کو بے سمجھوں نے جو سمجھایا وہ اسی کو دین سمجھ بیٹھے ان بے سمجھوں کو کون سمجھ دار سمجھائے کہ قرآن و حدیث میں اثبات تقلید سے متعلق ایک بھی دلیل نہیں اسی وجہ سے کسی امام نے بھی اپنی تقلید و پیروی کا نہیں کہا۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے
’’جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی ہے پیروی کرنے والوں سے صاف الگ ہوجائیں گے اور سب عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے اور ان کے تمام تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور پیروی کرنے والے کہیں گے ہمیں ایک بار دنیا میں لوٹا دیا جائے تو ہم ان سے صاف الگ ہوجائیں گے جیسے وہ ہم سے الگ ہوئے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو حسرتیں بنا کر دکھائے گا اور آگ سے ہرگز نہیں نکلیں گے‘‘ (سورۃ البقرۃ)

  اہل حدیث ......آئو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف مقلدین ...... آئو ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں کی طرف  

اہل حدیث ...... آئو اطاعت (وحی) کی طرف مقلدین ...... آئو تقلید (جہالت) کی طرف اہل حدیث ...... آئو قرآن و حدیث کی طرف مقلدین ...... آئو ہدایہ و فتاویٰ عالمگیری کی طرف  

اہل حدیث ...... آئو صراط مستقیم کی طرف مقلدین ...... آئو فرقہ واریت کی طرف 

 اہل حدیث ...... آئو مکہ مدینہ کی طرف مقلدین ...... آئو کوفہ بغداد کی طرف
برا نا منائیں اتنا جان جائیں جدھر بھی جائیں تحقیق کرکے جائیں۔ تاکہ روزمحشر نا پچھتائیں۔ اللہ تعالی سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے۔ (آمین)

 

 

Share:

Ahle Hadees Naam ka Matlab Kya Hai?

AHLE HADEES  naam ka matlab kya hai?

"AHLE HADEES" nam ke gaherai aur saadgi ko ek misal ke zariye samja ja sakta hai jaisa ke Allah ne Yahoodiyo par Moosa (Aalyhiwassalam) ke zariye TAWRAAT nazil ki thi aur Isaaiyo par Isaa  (Aalyhiwassalam) ke zariye INJEEL nazil ki thi  lekin in do qaumo ko Allah ne Qur'an me "AHLE KITAAB” kaha hai jabke unki asmaani kitabein alag alag thi. Iska matlab ye huwa ke “AHLE KITAAB” me “TAWRAAT aur INJEEL” chhupe huye hai usi tarah “AHLE HADEES” me “Quran aur HADEES” dono chhupe hai kyunke Qur'an ko bhi Alalh ne behtareen HADEES (baat) kaha hai. Padhiye ye Ayat  (Surah Zumar 39: Ayat 23). Isliye AHLE HADEES naam bahot hi mukhtsar hai lekin isme puri shariayat ka khulasa hai.
(Ye Dars Jalaluddin Qasmi ke ek Deeni bayan se liya gaya hai)
Share:

Shariyat ke Mutabik kisi Insaan Ka Khoon karne walo ki Sja kya Hai?

⏹ *Khoon ke badle Khoon:*

BismillahirRahmanNirRaheem

🔹 Jab koi Insan kisi dusre Insan ka na-haq qatl (khoon) karta hai to uske qatil ko MUSLIM KHALIFA/BAD'SHAH ki taraf se qatl ki saza di jaati hai. Ya fir Maqtul ke rishtedar agar kuchh diyat lekar bhi qatil ko maaf kar sakte hai. Ye kaam aam awwam ka nahi hai balke Islami Hukumat ka hai.

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِى ٱلْقَتْلَى ۖ ٱلْحُرُّ بِٱلْحُرِّ وَٱلْعَبْدُ بِٱلْعَبْدِ وَٱلْأُنثَىٰ بِٱلْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَهُۥ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌۭ فَٱتِّبَاعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ وَأَدَآءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَٰنٍۢ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌۭ ۗ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

◼ *"Aye Imaan waalo tum par maqtulo ka Qisaas lena farz kiya gaya hai, azaad; azaad ke badle, ghulam; ghulam ke badle, aurat;aurat ke badle, haan jis kisi ko uske Bhai ki taraf se kuch maafi dedi jaaye, use bhalaayi ki itteba karni chahiye aur asaani ke saath diyat (diyat yani Qisas ki saza ke badle Muh manga Maal dekar saza se chhutkara dilaya jata hai) ada karni chaahiye tumhaare Rab ki taraf se ye taqfeef aur rahmat hai, iske baad bhi jo sarkashi kare use dardnaak azaab hoga".*

🌷
وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَوٰةٌۭ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

◼ *"Aqalmando! Qisaas me tumhaare liye zindagi hai, is baayes se tum (qatl na-haq se) rukoge".*

📗(Surah 02 Al Baqrah : Ayat 178-179)

•············••●◆❁💠❁◆●••········

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS