find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

CAB me 4 Qism ki Problems jo har kisi ko Janna Chahiye.

"CAB me ye "4 Problems" hain, Jo hme pta Hona Chahiye.
-------------------------------------------------
 1) *Nastik* (Jo koi Religion me nhi manta hai) Unke liye Es Act me kuch nhi bataya gya hai, Agar koi kahe ki mai Nastik hu to usko kis Religion se Joda jayega.
(Around *3% log* India me Nastik hain (Wikipedia)
2) *Desh ke internal Security* ko Khatra hai, Ham Sab jante hain ki jo log jis Country ke hote hain usi se Mohabbat karte hain Sabse Zayada, To Doosre Country se aaye huye Hindu , Christian, Etc. Army bhi join krne ka Rights milega unko To wo hamare desh se Gaddari bhi kr Sakte hain , Jisse hme khatra ho Sakta hai, Ese Samjhne ki zaroort hai.
3) Ye *Constitution ke "Article 14" ke Khelaf hai*, Jo ye Kahta hai ki "Right to Equality" (Sabko Equal Treat krna hai)
4) Es Act me *Jo Log "Sri Lanka"* se Aaye hain, *Ya "Myanmar"(Barma)* se Aaye Muslims hain unke bare me Kuch nhi bataya gya hai, Ab enka kya hoga? Ye rahenge ya jayenge?
 Es Problems ki wajah se Supreme court esko Reject bhi kr Sakti hai, Ya fir se Amendment krne ko kah Sakti hai.
Sare Muslim bhai Se Guzarish hai ki Aap Hukumat ke Khelaf sirf na Bol kar, Blke wo Constitutionally Valid nhi hai eski baat kre.
( हर बात दलील के साथ)
Share:

Aurat Bagair kisi Mehram ke Ghar Se Bahar nahi Jaye.

  Eid-ul-fitr aur Eid-ul-zuha Ke Din Roze Nahi Rakhna.
Tin Masjido ke alawa kisi aur Masjid Ke liye Safer nahi karna.
ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِالرَّحْمٰنِﺍلرَّﺣِﻴﻢ
मैंने अबु सईद ख़ुदरी रज़ि अल्लाह अन्हु को रसूल अल्लाह ﷺ के हवाले से चार हदीसें बयान करते हुए सुना जो मुझे बहुत पसंद आई। आप ﷺ ने फ़रमाया कि~
1. औरत अपने शौहर या किसी महरम के बग़ैर दो दिन का भी सफ़र ना करे और
2. दूसरी ये कि ईद-उल-फ़ित्र और ईद-उल-अज़हा दोनों दिन रोज़े ना रखे जाएं।
3. तीसरी बात ये कि सुबह की नमाज़ के बाद सूरज के निकलने तक और असर के बाद सूरज डूबने तक कोई नफ़ल नमाज़ ना पढ़ी जाये।
4. चौथी ये की तीन मस्जिदों के सिवा किसी और जगह का मुकद्दस सफर ना तय किया जाए~
🔹मस्जिद अल-हरम,
🔹मस्जिद अल-अक़सा (Jerusalem) और
🔹मेरी मस्जिद (यानी मस्जिद नबवी)

Sahih Bukhari: jild-2,  kitab fazal as-salat fi masjid makkah wa madina(كتاب فضل الصلاة فى مسجد مكة والمدينة), hadith no 1197

Share:

Bewa Auraton ki Madad karna Jihad Ke Brabar Hai.

Bewa Auraton Aur Gareeb Bacho ki Madad Karne wala.
ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِالرَّحْمٰنِﺍلرَّﺣِﻴﻢ

नबी करीम ﷺ  ने फ़रमाया: बेवाओं (widow womens) और मिस्कीनों के काम आने वाला अल्लाह के रास्ते में जिहाद करने वाले के बराबर है, या रात भर इबादत और दिन को रोज़े रखने वाले के बराबर है।

Sahih Bukhari: jild , kitab sifat Al Nifqat 69, hadith no. 5353

Share:

Musalman Ke liye Jume Ka Din Khas Kyu Hai?

Hm Aakhiri Ummat hai Mager Qyamat ke Din Sabse Aage honge.
ﺑِﺴْـــــــــــــﻢِﷲِالرَّحْمٰنِﺍلرَّﺣِﻴﻢ

रसूल अल्लाह ﷺ ने फरमाया: अल्लाह ताला ने हमसे पहले वालों को जुमा से भटका दिया, यहूद के लिए हफ़्ता सनीचर का दिन मुक़र्रर हुआ, और नस्रानियों के लिए इतवार का, फिर अल्लाह ताला हमें लाया तो उसने हमें जुमा के दिन से नवाज़ा, तो अब पहले जुमा है, फिर हफ़्ता सनीचर फिर इतवार, इस तरह ये लोग क़यामत तक हमारे ताबे होंगे, हम दुनिया में बाद में आए हैं मगर क़यामत के दिन पहले होंगे।

Sunan Nasa'i: jild 2, kitab Al Juma 14, hadith no. 1369
Grade Sahih

Share:

Kya Aap Rasool, Nabi aur Paigamber me Fark Jante Hai?

Kya Aap Jante Hai ke Rasool Kise Kahte Hai?
Nabi, Rasool aur Paigamber (messenger) Me Kya Fark hai?
What is The Meaning of Rasool, Nabi and Paigamber
نبی ، پیغمبر اور رسول میں کیا فرق
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رب العزت نے اشرف المخلوقات میں سے جس برگزیدہ  کو منتخب فرما کر کائنات کی راہنمائی اور رشد وہدایت کے لئے مبعوث  فرمایا۔شرعی اصطلاح میں وہ'' انبیاء ورسل اللہ'' کے القاب سے موسوم ہیں۔

نبی اور رسول میں فرق کی وضاحت:
نبی اور رسول کے مابین کیا نسبت ہے اس بارے میں اہل علم کی مختلف آراء ہیں:

1۔یہ دونوں مساوی ہیں ۔یعنی'' ہر نبی رسول ہے اور ہر رسول نبی ہے۔''

2۔یہ دونوں متباینین ہیں۔یعنی '' رسول وہ ہے جو جدید شرع لے کر آئے او نبی وہ ہے جو جدید شرع لے کر نہ آئے۔ پس کوئی رسول نبی نہیں اور کوئی نبی رسول نہیں لیکن ہی  قول غیر درست ہے کیونکہ قرآن مجید میں حضرت اسماعیل  علیہ السلام  کے متعلق صاف  تصریح ہے:

﴿وَكانَ رَ‌سولًا نَبِيًّا ﴿٥٤﴾... سورة مريم
'' اور وہ ر سول نبی تھا۔''

اور اس طرح اس سے پہلے '' سورۃ مریم میں ہی حضرت موسیٰ  علیہ السلام  کے حق میں بھی یہی الفاظ وارد ہوئے ہیں۔

3۔ان دونوں کے مابین عموم خصوص مطلق ہے اکثر علماء کی یہی رائے ہے۔

لیکن بعض کے نذدیک رسول''اعم'' ہے اور نبی '' اخص'' کیونکہ  رسول فرشتہ بھی ہوتا ہے اور انسان بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿اللَّـهُ يَصطَفى مِنَ المَلـٰئِكَةِ رُ‌سُلًا وَمِنَ النّاسِ... ﴿٧٥﴾...سورة الحج
''اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں پیغام رساں چن لیتے ہیں۔''

اور نبی صرف انسان ہی ہوتا ہے۔فرشتہ نہیں پس ہر رسول نبی ہوا لیکن ہر  نبی ر سول نہیں۔کیونکہ بعض رسول فرشتے ہیں۔

اور جمہور کا یہ قول ہے کہ '' نبی اعم اور رسول اخص'' پس ہر ر سول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں مگر اس صورت میں نبی اور رسول میں کیا فرق ہوگا۔اور ان کی شرعی تعریف کیا ہوگی ؟اس سلسلے میں اقوال مختلف ہیں:

حضرت شاہ عبدالقادر نے '' موضح القرآن'' میں'' سورۃ مریم '' کی  تفسیر میں جمہور کی ترجمانی یوں کی ہے۔''

جن کو اللہ کی طرف سے وحی آئے وہ نبی ہیں۔او ر ان میں سے جو خاص امت یا کتاب رکھتے ہیں وہ ر سول ہیں۔

علامہ بیضاوی اپنی معروف تفسیر'' انوار التنزیل'' (2/210) میں رقم طراز ہیں:

''رسول وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شریعت جدیدہ دے کر مبعوث فرمایا ہوکہ وہ لوگوں کو اس کی دعوت دے اور نبی اس کوبھی عام ہے اور اس کو بھی جس کو شرع سابق برقرار ر کھنے کے لئے بھیجا گیا ہو جیسے وہ انبیاء بنی اسرائیل جو حضرت موسیٰ  علیہ السلام  وحضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کے مابین ہوئے ہیں۔''

شرح فقہ اکبر میں منقول ہے:

''زیادہ مشہور فرق جو ان د ونوں کے مابین ہے وہ یہ ہے کہ نبی رسول سے اعم ہے کیونکہ رسول وہ ہے جو تبلیغ پر مامور ہوا اور نبی وہ ہے جس کی طرف وحی کی جائے خواہ وہ تبلیغ پر مامور ہو یا نہ ہو۔( شرح فقه اكبر ص60قديمي كتب خانه كراچي)

مسئلہ ہذا پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے '' کتاب النبوات '' (رقم الفصل (١٧) النبوة والرسالة (٢٨١ الي ٢٨٣) میں بڑی عمدہ اور نفیس بحث کی ہے ۔قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں ۔فرماتے ہیں:

'' نبی وہ ہے  جس کو اللہ بتلاتا ہے۔ اور جو کچھ اللہ بتلاتا ہے۔اس کو ہی بتلاتا ہے۔ اب اگر اسی کے ساتھ وہ ایسے شخص کی طرف بھیجا گیا جو کہ حکم الٰہی کامخالف ہے تاکہ اس کو اللہ تعالیٰ کے پیغام کی تبلیغ کرے تو وہ رسول ہے لیکن اگر ااس صورت میں کہ وہ  پہلی ہی شریعت پر عامل ہے اور کسی کی  طرف ا س کو بھیجا نہیں گیا۔جسے وہ اللہ تعالیٰ کی  طرف سے پیغام پہنچائے ،تو وہ نبی ہوگا۔رسول نہیں ارشاد  ربانی ہے:

﴿وَما أَر‌سَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَ‌سولٍ وَلا نَبِىٍّ إِلّا إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطـٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ...٥٢﴾... سورة الحج
'' اور نہیں بھیجا ہم نے  پہلے تجھ سے کوئی رسول اور نہ نبی مگر جس وقت کہ  آرزو کرتا تھا۔ڈال دیتاتھا  شیطان اس کی آرزو مین۔''

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ارسال کا زکر فرما کر جو ہر دونوع کو عام ہے ان میں سے ایک کو بایں طور پر خاص کیا ہے کہ وہ رسول ہے اور یہی وہ رسول مطلق ہے جو اللہ کے مخالفوں کی  طرف تبلیغ رسالت پر مامور ہے جیسے حضرت نوح  علیہ السلام  کے بارے میں صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ وہ پہلے رسول ہیں۔ جو اہل زمین کی طرف مبعوث ہوئے (صحيح البخاري كتاب احاديث الانبياء باب قول الله عزوجل ( ولقد ارسلنا نوحا الي قومه ) (٣٣٤0) اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پہلے تھے وہ انبیاء تھے جیسے حضرت شیث  علیہ السلام  اور حضرت ادریس  علیہ السلام  اور ان دونوں سے بھی پہلے حضرت آدم  علیہ السلام  جو نبی مکلم تھے ( یعنی ان سے حق تعالیٰ نے کلام فرمایاتھا)

حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بیان ہے کہ حضرت  آدم  علیہ السلام  اور حضرت نوح  علیہ السلام  کے مابین دس قرن گزرے ہیں۔( تاريخ الامم والملوك (١/١١١) للطبري عن ابن عباس واسناده صحيح وعن قتادة هكذا) جو سب کے سب اسلام پر تھے۔ان انبیاء پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی تھی۔جس پر یہ خود بھی عمل پیرا ہوتے تھے۔ اور ان مومنوں کو بھی حکم فرماتے تھے۔ جو ان کے پا س تھے کیونکہ وہ سب ان پر ایمان رکھتے تھے۔ ٹھیک اسی طرح جس  طرح کے ایک شریعت والے ان تمام باتوں کو مانتے ہیں جن کی  علماء  رسول کی طرف سے تبلیغ کرتے ہیں۔اور یہی حال انبیاء بنی اسرائیل کا ہے کہ یہ شریعت تورات کے مطابق حکم کرتے تھے۔ گویا ان میں سے کسی کی طرف ایک معین واقعہ میں خاص وحی بھی کی جاتی تھی تاہم شریعت تورات میں ان کی مثال اس عالم کی سی ہے جس کو اللہ عزوجل کسی قضیہ میں ایسے معنی سمجھا دیں جو مطابق قرآن ہوں۔

جیسے کہ اللہ جل شانہ نے حضرت سلیمان  علیہ السلام  کو قضیہ کا حکم سمجھایا جس پر انہوں نے اور حضرت داؤد  علیہ السلام  نے فیصلہ کیا تھا۔پس انبیاء  علیہ السلام  کو تو اللہ تعالیٰ بتلاتا اور ان پر امرونہی  اور خبر سے ان کو مطلع فرماتا ہے اور وہ ان لوگوں کو جو ان پر ایمان لاتے ہیں اللہ عزوجل کی طرف سے جو کچھ نازل ہوتا ہے  پہنچاتے ہیں  پھر اگر کفار کی  طرف بھی رسول مبعوث ہوئے تو وہ ان کو بھی توحید الٰہی اور اس وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں۔ نیز یہ ضروری ہے کہ رسولوں کی ایک قوم تکذیب کرے۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں:

﴿كَذٰلِكَ ما أَتَى الَّذينَ مِن قَبلِهِم مِن رَ‌سولٍ إِلّا قالوا ساحِرٌ‌ أَو مَجنونٌ ﴿٥٢﴾... سورة الذاريات
''اسی طرح اس سے پہلے لوگوں کے پاس جو رسول آیا تو انہوں نے یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ۔''

نیز یہ بھی ارشاد ہے:

﴿ما يُقالُ لَكَ إِلّا ما قَد قيلَ لِلرُّ‌سُلِ مِن قَبلِكَ...﴿٤٣﴾... سورة حم السجدة
''تجھ سے وہی کہیں گے جو سب رسولوں سے تجھ سے پہلے کہہ دیا ہے۔''

وجہ یہ ہے کہ رسول مخالفوں ہی کی  طرف بھیجے جاتے ہیں۔اسی لئے ان کی ایک جماعت ان کو جھٹلاتی  ہے۔

ارشا د  با ر ی تعا لیٰ  ہے :

﴿وَما أَر‌سَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِ‌جالًا نوحى إِلَيهِم مِن أَهلِ القُر‌ىٰ ۗ أَفَلَم يَسير‌وا فِى الأَر‌ضِ فَيَنظُر‌وا كَيفَ كانَ عـٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۗ وَلَدارُ‌ الـٔاخِرَ‌ةِ خَيرٌ‌ لِلَّذينَ اتَّقَوا ۗ أَفَلا تَعقِلونَ ﴿١٠٩﴾ حَتّىٰ إِذَا استَيـَٔسَ الرُّ‌سُلُ وَظَنّوا أَنَّهُم قَد كُذِبوا جاءَهُم نَصرُ‌نا فَنُجِّىَ مَن نَشاءُ ۖ وَلا يُرَ‌دُّ بَأسُنا عَنِ القَومِ المُجرِ‌مينَ ﴿١١٠﴾... سورة يوسف
اور ہم نے جتنے  بھیجے تجھ  سے پہلے  یہی  مرد  تھے  بستیوں  کے رہنے  والوں  سے  کیا  یہ  لو گ  نہیں  پھر  ملک  میں  کہ  دیکھ  لیتے  کیسا  ہو ا انجا م  ان کا  جو ان سے پہلے  تھے اور پر ہیز گا رو ں  کے لیے تو  پچھلا  گھر  بہتر  ہے کیا  اب بھی  تم نہیں  سمجھتے  یہاں  تک  کہ جب  نا امیدہو نے  لگے رسول  اور خیا ل  کر نے  لگے  کہ ان  سے جھوٹ  کہا گیا  تھا پہنچی ان  کو مدد ہما ر ی  پھر  جس کو چا ہا  ہم نے  بچا لیا  اور نہیں  پھیری  جا تی  گنہگا ر  قو م  سے آفت  ہما ر ی ۔اور فر ما یا :

﴿إِنّا لَنَنصُرُ‌ رُ‌سُلَنا وَالَّذينَ ءامَنوا فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَيَومَ يَقومُ الأَشهـٰدُ ﴿٥١﴾... سورة المؤمن
"ہم مدد کر تے ہیں  اپنے  رسو لو ں  کی اور  ایما ن وا لو ں  کی دنیا  کی زندگانی میں  اور جس  دن  کھڑے  ہو ں  گے  گو اہ ۔

﴿وَما أَر‌سَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَ‌سولٍ وَلا نَبِىٍّ إِلّا إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطـٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّـهُ ما يُلقِى الشَّيطـٰنُ ثُمَّ يُحكِمُ اللَّـهُ ءايـٰتِهِ ۗ وَاللَّـهُ عَليمٌ حَكيمٌ ﴿٥٢﴾... سورة الحج
میں اس  امر کی دلیل  ہے  کہ نبی بھی مر سل  ہی ہو تا ہے  لیکن  اطلا ق  کے وقت  وہ رسول  سے مو سو م نہیں  ہو گا کیو نکہ  وہ کسی  قو م  کی طرف  ایسی  با تیں  لے  کر نہیں  بھیجا  گیا  کہ جن سے  وہ  واقف  نہ ہو  بلکہ اہل ایمان  کو ان  بو تو ں  کا حکم  دیتا  ہے جن  کے حق  ہو نے  کو  وہ جا نتے  ہیں  اور نبی  کی یہ نوعیت  ایک  عا لم  کی سی  ہے اسی  لیے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد  فر ما یا کہ

«المعماء ورثة الانبياء»صححہ ابن حبان والالبانی صحیح ابی دائود کتاب العلم باب فضل العلم (3641) الترمذی (2835) ابن ماجہ (223) ابن حبان (88 ) وقال محققہ الارناووط ''حسن'' وھکذا قال حمزۃ الانظر ااحمد (5/196)

علما ء  انبیاء  علیہ السلام  کے وارث  ہیں  نیز رسول  کے لیے  یہ شر ط  بھی نہیں  کہ وہ شر یعت  لے کر آئے  کیو نکہ  حضرت یو سف  علیہ السلام   با و جو د رسول  ہو نے کہ  حضرت  ابرا ہیم  علیہ السلام  کی ملت  پر تھے  نیز  حضرت  داؤد  علیہ السلام  اور حضرت سلیمان  علیہ السلام  دو نو ں  ہی رسول  تھے اور  شریعت  تو را ت  پر تھے  حق  تعا لیٰ  مؤمن آل  فر عون  کی زبا نی  فر ما تے  ہیں :

﴿وَلَقَد جاءَكُم يوسُفُ مِن قَبلُ بِالبَيِّنـٰتِ فَما زِلتُم فى شَكٍّ مِمّا جاءَكُم بِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا هَلَكَ قُلتُم لَن يَبعَثَ اللَّـهُ مِن بَعدِهِ رَ‌سولًا...﴿٣٤﴾... سورة المؤمن
"اور تحقیق  آچکا ہے تما ر ے  پا س یو سف   علیہ السلام   اس سے پہلے  کھلی  با تیں  لے کر  پھر تم  دھو کے ہی  میں رہے  ان چیزوں  سے جو وہ  لا یا یہا ں  تک  کہ جب  مر گیا  تو تم  کہنے  لگے  اللہ  اس  کے بعد  ہر گز  کو ئی رسول  نہ بھیجے گا اور اور مقا م  پر فرمایا :

﴿إِنّا أَوحَينا إِلَيكَ كَما أَوحَينا إِلىٰ نوحٍ وَالنَّبِيّـۧنَ مِن بَعدِهِ ۚ وَأَوحَينا إِلىٰ إِبرٰ‌هيمَ وَإِسمـٰعيلَ وَإِسحـٰقَ وَيَعقوبَ وَالأَسباطِ وَعيسىٰ وَأَيّوبَ وَيونُسَ وَهـٰر‌ونَ وَسُلَيمـٰنَ ۚ وَءاتَينا داوۥدَ زَبورً‌ا ﴿١٦٣﴾ وَرُ‌سُلًا قَد قَصَصنـٰهُم عَلَيكَ مِن قَبلُ وَرُ‌سُلًا لَم نَقصُصهُم عَلَيكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّـهُ موسىٰ تَكليمًا ﴿١٦٤﴾... سورة النساء
ہم نے وحی  بھیجی  تیری  طرف  جیسے  وحی  کی   نو ح  علیہ السلام   پر اور ان  نبیوں  پر جو اس کے بعد  ہو ئے اور  وحی نا ز ل  کی ابرا ہیم  علیہ السلام   اور اسما عیل  علیہ السلام    پر اور  اسحا ق  علیہ السلام  اور یعقو ب  علیہ السلام پر  اور اس کی اولا د  پر اور عیسی ٰ علیہ السلام  پر اور ایو ب  علیہ السلام پر اور یونس علیہ السلام   پر اور  ہا رو ن  علیہ السلام   پر اور سلیما ن  علیہ السلام پر  اور ہم نے دی  داؤدکو  علیہ السلام  زبو ر ( علیہ السلام ) اور بھیجے  ایسے  رسول  جن  کے احوا ل  ہم نے  سنا ئے تجھ  کو اس سے پہلے  اور ایسے  رسول جن  کے احوا ل  تجھ  کو نہیں  سنا ئے  اور  با تیں کیں  اللہ تعا لیٰ  نے مو سیٰ  علیہ السلام   سے بو ل کر ۔

اور " ارسا ل  اسم  عا م  ہے جو ارسا ل  ملا ئکہ  ارسال  ریا ح  ارسا ل  شیاطین  اور ارسا ل  نا ر  سب  پر مشتمل  ہے اللہ تعا لیٰ  فر ما تا ہے :

﴿يُر‌سَلُ عَلَيكُما شُواظٌ مِن نارٍ‌ وَنُحاسٌ فَلا تَنتَصِر‌انِ ﴿٣٥﴾... سورة الرحمٰن
بھیجے  جا تے  ہیں تم  پر آگ  کے شعلے  اور تا نبا  پگھلا  ہوا ۔"

اور ارشا د  ہے :

﴿جاعِلِ المَلـٰئِكَةِ رُ‌سُلًا أُولى أَجنِحَةٍ...١﴾... سورة فاطر
"جس نے ٹھہرا ئے  فر شتے  پیغا م  لا نے  والے جن  کے پر " ہیں "

یہاں  سب فرشتوں  کو رسول  قرار دیا گیا ہے اور لغت  میں اس کو کہتے ہیں  جو رسا لت  کا حا مل ہو اور دوسری جگہ  فر ما یا :

﴿اللَّـهُ يَصطَفى مِنَ المَلـٰئِكَةِ رُ‌سُلًا وَمِنَ النّاسِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَميعٌ بَصيرٌ‌ ﴿٧٥﴾... سورة الحج
"اللہ تعا لیٰ  چھا  نٹ  لیتے ہیں  فرشتو ں  اور آدمیوں  میں پیغا م  پہنچا نے  والے ۔اور یہ وہ ہیں  جن  کو وحی  دے  کے بھیجتا  ہے چنانچہ  ار شا د  ہے :

﴿وَما كانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلّا وَحيًا أَو مِن وَر‌ائِ حِجابٍ أَو يُر‌سِلَ رَ‌سولًا فَيوحِىَ بِإِذنِهِ ما يَشاءُ...﴿٥١﴾... سورة الشورىٰ
"اور کسی  آد می کے بس  کی با ت  نہیں  کہ اللہ تعا لیٰ  اس سے  کلا م  کر ے  سوائے  اشا ر ے  کے  یا پردے  کے پیچھے  سے یا  بھیج  دے  کو ئی پیغا م   لانے والا  پھر  پہنچا  دے  اس کو  جو وہ  چا ہے ۔"اور فر ما یا ۔

﴿وَهُوَ الَّذى يُر‌سِلُ الرِّ‌يـٰحَ بُشرً‌ا بَينَ يَدَى رَ‌حمَتِهِ...٥٧﴾... سورة الاعراف
"اور  وہی  ذا ت  ہے کہ چلا تی  ہے ہوا میں خو ش خبری  لا نے  والی  مینہ  سے پہلے  ۔ اور فر ما یا :

﴿أَلَم تَرَ‌ أَنّا أَر‌سَلنَا الشَّيـٰطينَ عَلَى الكـٰفِر‌ينَ تَؤُزُّهُم أَزًّا ﴿٨٣﴾... سورة مريم
"اور  چھو ڑ  رکھے  ہیں ہم  نے شیطا ن  منکرو ں  پر اچھا لتے  ہیں ان  کو ابھا ر  کر ۔ "لیکن  جب لفظ  رسول  اللہ کی  طرف  مضا ف ہواور  رسول اللہ ہا جائے  تو اس سے  یہی  مرا د  ہو گا  جو اللہ کی طرف  سے پیغا م  لے کر آئے  خوا ہ  وہ فر شتہ ہو خوا ہ  بشر  چنا نچہ  ار شا د با ر ی تعا لیٰ ہے :

﴿اللَّـهُ يَصطَفى مِنَ المَلـٰئِكَةِ رُ‌سُلًا وَمِنَ النّاسِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ سَميعٌ بَصيرٌ‌ ﴿٧٥﴾... سورة الحج
اور فر شتے کہتے  ہیں :

﴿يـٰلوطُ إِنّا رُ‌سُلُ رَ‌بِّكَ لَن يَصِلوا إِلَيكَ...٨١﴾... سورة هود
"اے لو ط! ہم  تیر ے  رب  کے بھیجے  ہو ئے ہیں  وہ تجھ  تک  ہر گز   نہ پہنچ  سکیں  گے؛

جب  کہ فر شتوں  ہوا ؤں  اور جنوں  کا ارسا ل  کسی فعل  کی  انجا م  وہی  کے لیے  ہو تا ہے تبلیغ  رسالت  کے لیے نہیں  ۔اللہ فر ما تا ہے :

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُر‌وا نِعمَةَ اللَّـهِ عَلَيكُم إِذ جاءَتكُم جُنودٌ فَأَر‌سَلنا عَلَيهِم ر‌يحًا وَجُنودًا لَم تَرَ‌وها ۚ وَكانَ اللَّـهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرً‌ا ﴿٩﴾... سورة الاحزاب
"یا د کرو  اللہ کا احسا ن  جب تم پر فو جیں  چڑھ آئیں  پس  بھیج  دی  ہم نے  ان پر ہوا  اور وہ  فو جیں  جو تم  نے نہیں دیکھیں  اور اللہ دیکھنے   والا  ہے جو کچھ  تم کر تے ہو ۔

پس  اللہ  کے جو  رسول  اس کی طرف  سے امرو نہی  کی تبلیغ  کر تے ہیں عند الا طلا ق  یہی اللہ  کے رسول  ہیں ۔

الغرض ! امام  مو صوف  کے نز دیک  جس اللہ کی طرف سے وحی  آئے  اور وہ مؤمنین  ہی کو احکا م  الٰہی کی  تعلیم  دے وہ نبی  ہے اور جس کی دعوت  کا فرو ں  کے لیے  بھی عا م  ہو تو  وہ رسول  ہے ۔

نبو ت وہبی  شے ہے :

یہ بھی یا د رہے  کہ نبطو ت  کا معنا ئے  حقیقی  شر یعت  میں یہ ہے  کہ:

من حصلت له النبوةجسے (اللہ  کی طرف سے) نبو ت مل جا ئے ۔

نبو ت  کا حقیقی  تعلق  نہ تو  نبی  کے جسم  سے وابستہ  ہو تا  ہے اور نہ  اس کی حالتوں  میں سے کسی حا لت  کے  سا تھ  بلکہ  نبی ہو نے  کی حیثیت  سے اس کا تعلق  اس کے علم سے بھی نہیں ہو تا ۔اصلاً نبو ت  کا کلی  تعلق  اس با ت سے ہو تا  ہے کہ اللہ تعا لیٰ  اسے مطلع  فر ما تے ہیں کہ میں نے تجھے  نبو ت  عطا  کر دی  ہے اس  بنا پر  نبی  کی مو ت  سے نبو ت  کا بطلا ن  لا زم نہیں آتا ۔  جس طرح  کہ نیند  اور غفلت  کے با و جو د  بھی نبو ت  قئم  و دا ئم  رہتی  ہے ۔(فتح الباری :6/361)

قرآن مجید  میں اس کی صراحت  یو ں ہے :

﴿يُنَزِّلُ المَلـٰئِكَةَ بِالرّ‌وحِ مِن أَمرِ‌هِ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ...﴿٢﴾... سورة النحل
مختصر  یہ کہ اللہ کے نبیوں  اور پیغمبروں  نےلاعلائے كلمة اللهدین  کی نصرت  و عظمت  اور سر بلندی  کے  لیے  سر دھڑ کی  با ز ی  لگا دی  اور  دنیا  و آخر ت   میں سر خرو  ہو ئے  ۔ ارشاد  با ر ی تعا لیٰ ہے :

﴿كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغلِبَنَّ أَنا۠ وَرُ‌سُلى...﴿٢١﴾... سورة المجادلة
پھر وقتی  تقا ضوں  کے مطا بق  ہر ایک  کو منجا نب  اللہ  صحا ئف  و کتب  کی شکل میں کچھ  احکا م  اور موا عظ  ملے  جو  اقوا م  عا لم  کے لیے  تقریب  و  حب  الہیٰ  کا پیغا م  اور جنت  میں تنعم  اور جہنم  سے  تبا عد  کا ذر یعہ  بن  سکتے   تھے  لیکن  یا للا سف ! ان کی حا لت  وہی  تھی  جس  کی تصویر  کشی  فر ما ن  باری تعا لیٰ میں یو ں ہے :

﴿وَما يَأتيهِم مِن رَ‌سولٍ إِلّا كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ ﴿١١﴾... سورة الحجر
بہت  کم  با سعادت  اور خو ش  نصیب  تھے  جو حیا ت  مستعاد  اور زندگی  کے مقصد  اعلی  کو سا منے  رکھ  کر پیغمبروں  کی اطا عت  اور اتباع میں  راہ  نجا ت  کی تلا ش  میں نکلے  اور صرط  مستقیم  پر گامزن  رہ  کر جنت  کی نعمتوں  سے بہرہ  ور  ہوئے اور اکثر یت  اس اطا عت  الٰہی  اور نصرت   و اتباع  انبیاء  علیہ السلام   سے محروم  رہی  بلکہ  انہوں  نے  عداوت  مخا لفت  بے  جا ضد   اور ہٹ  دھرمی  کا راستہ  اختیا ر  کیا  دوسری  طرف   کتب  سماویہ  کی مخا فظ  و نگرا ن  بھی  یہی  امم  قرار  پا ئیں ۔بما الستحفظوا من كتاب الله

جس  کا نتیجہ  یہ نکلا  کہ وہ  کتب  تحریف  و تبد یل  اور  تغیر  سے سلا مت  نہ رہ  سکیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

Share:

Yah 6 kalme Jise Yad Nahi kya wah iman wala nahi hai?

Kya India Me Maulana ke Jariye Yah 6 kalme jo Sikhaye Jate hai yah Sahi Hai?
Ager kisi Musalman ko in 6 kalmo ka ilm na ho to kya Wah iman pe nahi hai aur Wah Musalman nahi ho sakta?

چھ 6 کلمے
مروجہ چھ کلموں کی حقیقت و تحقیق

برصغیر پاک وہند میں شش کلمےکےنام سےچند دعائیہ کلمات اور تسبیحات بہت پابندی سےبچوں کو یاد کروائےجاتےہیں-
اس تحریر میں ہم آپکےسامنےان کلمات کی حقیقت بیان کرنےکی کوشش کریں گے-

چھ کلمےجو معروف ہیں-
پہلا کلمہ طیب
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ•
ترجمہ!!!
"اللہ کےسوا کوئی عبادت کےلائق نہیں-
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کےرسول ہیں-"
یہ کلمہ احادیث مبارکہ سےثابت ہے-
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں- کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:-
" اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں تکبر کرنےوالی ایک قوم کا ذکر کیا ہے-
یقیناجب انہیں
لاالہ الااللہ کہا جاتا ہے- تو تکبر کرتے ہیں-
اور اللہ تعالیٰ نےفرمایا:-
"جب کفر کرنے والوں نےاپنے دلوں میں جاہلیت والی ضد رکھی- تو اللہ نےاپنا سکون و اطمینان اپنے رسول اور مومنوں پر اتارا- اور انکے لئے کلمة التقوی کو لازم قرار دیا- اور اسکے زیادہ مستحق اور اہل تھے-"
اور وہ (کلمة التقوی) ہے-
" لّا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ"
حدیبیہ والےدن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت (مقرر کرنے) والے فیصلے میں مشرکین سے معاہدہ کیا تھا- تو مشرکین نےاس کلمہ سے تکبر کیا تھا-
(کتاب الاسماء والصفات للبیہقی-جلد نمبر 1صفحہ نمبر:263حدیث نمبر:195۔ ناشر:مکتبة السوادی، جدة ،الطبعة الأولی)
یہ حدیث بالکل صحیح ہے- اسکی سندکے سارے راوی سچے اور قابل اعتماد ہیں-

دوسرا کلمہ شہادت کہاجاتا ہے-
جو ایمان کا لفظی اقرار ہے-
" اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ، وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ•"
یہ کلمہ الفاظ کمی بیشی کے ساتھ احادیث سے ثابت ہے- اور احادیث میں اسکو پڑھنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-
"جو شخص دن بھر میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا-"
" لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏•"
ترجمہ!!!
"نہیں ہےکوئی معبود، سوا اللہ تعالیٰ کے، اسکا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے- اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے- اور وہ ہر چیز پر قادر ہے-"
تو پڑھنے والے کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملےگا- سو نیکیاں اسکے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی- اور سو برائیاں اس سےمٹا دی جائیں گی- اس روز دن بھر یہ دعا شیطان سے اسکی حفاظت کرتی رہے گی- تاوقتکہ شام  ہو جائے-
اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل لےکر نہ آئےگا- مگر جو اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھ لے-
(بخاری-3293)

تیسرا کلمہ تمجید کےنام سےمنسوب کیا جاتا ہے-
سُبْحَانَ ﷲِ، وَالْحَمْد ﷲِ، وَلَآ اِلٰهَ اِلَّااللہُ، وَﷲُ اَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِ الْعَظِيْمِ•"
یہ الفاظ دو الگ الگ مقام پر دو مختلف احادیث میں آئےہیں-
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا-
میں یہ کلمات کہوں-
سبحان اللہ، الحمداللہ، لاالہ الااللہ، اللہ اکبر•
تو یہ میرے نزدیک ان سب اشیا سے زیادہ  محبوب ہیں-  جن سورج طلوع ہوتا ہے-
(یعنی ساری دنیا سےزیادہ محبوب)
(صحیح مسلم)
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے- کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا-
"اے عبداللہ بن قیس کلمہ
لاحول ولا قوۃ الا بااللہ
کہا کرو- کیونکہ یہ جنت کےخزانوں میں سے ایک خزانہ ہے-"
(بخاری ، مسلم)

چوتھا کلمہ جس کو توحید کہا جاتا ہے-
لَآ اِلٰهَ اِلاَّ ﷲُ وَحْدَهُ لَاشَرِيْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْی وَيُمِيْتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَّا يَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًا، ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَعَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْر•
ان میں سےبعض الفاظ قرآن و حدیث کے ضرور ہیں- مگر یہ کلمات اس ترتیب کےساتھ ثابت نہیں ہیں-

پانچواں کلمہ اِستغفار
اَسْتَغْفِرُ ﷲَ رَبِّيْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُهُ عَمَدًا اَوْ خَطَاً سِرًّا اَوْ عَلَانِيَةً وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِيْ لَآ اَعْلَمُ، اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُيُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ-
یہ الفاظ اس ترتیب کےساتھ قرآن وحدیث میں کہیں بھی مذکور نہیں ہیں-

چھٹا کلمہ ردِِّ کفر
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَيْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِهِ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ بِهِ تُبْتُ عَنْهُ وَتَبَرَّاْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْکِ وَالْکِذْبِ وَالْغِيْبَةِ وَالْبِدْعَةِ وَالنَّمِيْمَةِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُهْتَانِ وَالْمَعَاصِيْ کُلِّهَا وَاَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ، لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ-"
یہ دعائیہ کلمات ہیں- لیکن قرآن و حدیث سےثابت نہیں- اِن کا مصدر نامعلوم ہے-

تحریر کا خلاصہ یہ ہے-
کہ چھ کلموں کو برصغیر میں علماء نےمشہور کیا ہے- کیونکہ عوام عربی سے ناواقف تھے- لہذا انکو مختصر الفاظ میں دعائیں سکھا دیں-

لیکن ان پر دوام اور سختی سےعمل پیرا ہونےکا ایک نقصان یہ بھی ہوا- کہ جس طرح سورہ یٰس کی فضیلت میں غلو سے کام لیا گیا-
بدعات ایجاد کی گئیں-
نتیجۃً سورة البقرۃ اور سورة الکہف جیسی افضل سورۃ کو لوگوں نےنظر انداز کیا- اور ثابت شدہ فضائل سے بھی محروم ہوگئے-
بلکل اسی طرح یہ مجوزہ چھ کلمے یاد کروانے میں شدت اور فضیلت میں غلو سےکام لیا گیا- کہ ہمارے بچوں کی اکثریت سیدالاستغفار اور صبح شام کے مسنون اذکار سے محروم ہو گئی-
ان میں سے زیادہ تر صرف عربی میں بعض قرانی الفاظ پر مشتمل الله کی تعریف پر منبی کلمات ہیں- جن کا کوئی شرعی ثبوت مذکورہ ترتیب اور مذکورہ اسماء کےساتھ نہیں ملتا- انکو جو یاد نہ کرےُ- اس پر کوئی عیب نہیں-
اور جو حدیث میں موجود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی دعائیں یاد کرےُ- تو وہ بھی بہتر ہے- کلمات میں جو الفاظ و دعائیں ہیں- ان میں سے جو حدیث میں موجود ہیں- اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےثابت ہیں- انکو یاد کر سکتےہیں-
لوگوں میں یہ چیز باور کرائی جارہی ہے-
کہ نعوذ باللہ جس کو یہ چھہ کلمے یاد نہیں- اسکا ایمان کمزور ہے-
کلمے یاد ہونا یا نہ ہونا ایمان کا پیمانہ نہیں- نہ ہی اسکی کوئی اضافی فضیلت ہے-
مسنون کلمات کو اکٹھا کر کےایک مجموعہ بنا دینے پر دو مؤقف ہوسکتے ہیں- لیکن اسکو عوام پر تھوپ دینا نری جہالت کےعلاوہ کچھ نہیں-

نوٹ:-
واضح رہے- کہ یہ ترتیب اور تعداد احادیث سے کسی طور پر ثابت نہیں ہیں. واللہ اعلم

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS