find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Ahle Kitab Unki Maut Se Pahle Jarur iman Layenge.. wazahat

Ahle kitab Me Uski Maut se Pahle jarur iman layenge.
آیت کی وضاحت فرمائیں
💦وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

اور اہل کتاب میں کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔

(آیت 159) ➊ {وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ :}

اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں درست ہیں، پہلا تو یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا ہر شخص اپنے مرنے سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور ان کے زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لے آئے گا، مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب موت سامنے آ جاتی ہے، جیسا کہ فرعون مرتے وقت ایمان لے آیا تھا، مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب عادل حاکم کی صورت میں اتریں گے اور دجال اور دوسرے تمام کفار سے جہاد کریں گے، تو ان کی موت سے پہلے پہلے تمام دنیا میں اسلام غالب ہو جائے گا۔ یہود و نصاریٰ یا تو مقابلے میں قتل ہو جائیں گے، یا اسلام لے آئیں گے۔

عیسیٰ علیہ السلام صلیب توڑ دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، چنانچہ جب عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے تو ان کی وفات سے پہلے ہر موجود یہودی اور نصرانی ان کی نبوت اور ان کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ اترنے پر ایمان لا چکا ہو گا۔ چنانچہ بخاری اور مسلم میں مذکور اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر کے فرماتے : ’’اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو : « وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ » ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لائے گا۔‘‘¤ ➋ {وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا:} اس جملے کی تفسیر سورۂ مائدہ (۱۱۷)۔
مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔
(آیت 117) ➊ { اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ …:} یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا سب کا رب ہے۔ ¤ ➋ {فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ:} اس آیت سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ عیسیٰ علیہ السلام یہ بیان قیامت کے دن دیں گے جب وہ زمین پر آنے کے بعد اپنی عمر پوری کر کے فوت ہو چکے ہوں گے۔ اگر اصرار کیا جائے کہ {’’ تَوَفَّيْتَنِيْ ‘‘} سے مراد پہلا وقت ہے، جب انھیں آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ وفات قرآن پاک میں تین معنی میں آیا ہے، ایک موت، جیسے : «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا » [ الزمر : ۴۲ ] ’’اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔‘‘ دوسرے نیند، جیسے : « {وَ هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ} » [الأنعام : ۶۰ ] ’’اور وہی ہے جو تمھیں رات کو قبض کر لیتا ہے۔‘‘ تیسرے جسم سمیت اٹھا کر لے جانا، جیسے یہاں ہے اور سورۂ آل عمران (۵۵) اور سورۂ نساء (۱۵۸) میں ہے۔ ¤ ➌ {كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ … :} یعنی میں تو اس وقت تک کے ان کے ظاہری اعمال کی شہادت دے سکتا ہوں جب تک میں ان کے اندر موجود تھا، جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر شہید ہے، یعنی ان میں میری موجودگی کے وقت بھی توہی شہید تھا اور میرے الگ ہونے کے بعد بھی تو ہی شہید ہے۔ شہید اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ شہادت دیکھنے، سننے اور جاننے کے معنی میں بھی ہو سکتی ہے اور کلام کے ساتھ شہادت دینے کے معنی میں بھی۔ (کبیر) مگر دوسروں کے حق میں مطلق شہید یا شاہد کا لفظ (جب کہ کوئی خاص قرینہ نہ ہو) توکلام کے ساتھ شہادت کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر چیز اور ہر شخص کی ہر وقت خبر رکھنے والا ایک اللہ ہی ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’قیامت کے دن میری امت کے کچھ آدمیوں کو لایا جائے گا تو انھیں بائیں طرف کر دیا جائے گا، میں کہوں گا : ’’یہ تو میرے ساتھی ہیں۔‘‘ تو کہا جائے گا : ’’تو نہیں جانتا کہ انھوں نے تیرے بعد کیا نیا کام شروع کر دیا تھا۔‘‘ تب میں بھی اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ کے نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) کہیں گے : «وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ» پھر کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ اپنی ایڑیوں پر پھرنے والے (مرتد) ہی رہے۔‘‘ [ بخاری، التفسیر، باب : «وکنت علیہم…» : ۴۶۲۵ ]

المائدة : 117
النساء : 159

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS