find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Kya Auraton ko Be Parda aur Aazad khyal ka Banane me Mard Jimmedar Nahi hai?

Kya Auraton ko be Parda aur Be Nakab karne me Ham Sharik nahi hai?


Jab hm Ek Shauhar Ke Shakal me Yah Chahte hai ke Meri Biwi ko koi na dekhe aur wah hamesa Parde ka Ehteram kare jabke iske Barakash (ulta) hm Girl Friend wali Na jayez talluqat me Apni Girlfriend se Yah Sb kyu nahi chahte, balke Ulte Use Skirt aur Jeans me Dekhne chahte hai, use kabhi Parde ke bare me nahi kahte ya Salwar Soot Ke bare me bhi nahi kahte balke Uski aur jyada Tarif karte hai aur Hausla Afzai bhi aur Hm fir bhi yahi Ummid rakhte hai ke Meri hone wali Biwi Pak Daman Bahut hi nek aur Farma bardar hongi kyu?

 
Jab Hm hi Dusro ka Daman Dagdar karenge to Hmare Qismat me kaise Pak Daman hongi Jra Soche?


क्या औरतों को आज बे पर्दा और बे हिजाब करने में, उसे बे बाक बनाने में मर्द हजरात जिम्मेदार नहीं है?


जब इसलाम मर्द और औरत दोनों के लिए पर्दे का हुक्म दिया है तो फिर सिर्फ पर्दा औरतों के लिए ही क्यों मर्द को भी निगाहें नीची रखने का हुक्म है लिहाजा उसे भी अपनी नजरें नीची रखनी चाहिए ताकि गैर मेहरम यानी दूसरों की बहन बेटी को मुझ से तकलीफ ना पहुंचे और कोई उसपे बुरी नजर नहीं डाले, अगर आप अपनी घर की औरतों की इज्ज़त आे एहतेराम चाहते है तो दूसरों बहन और बेटी  को भी इज्ज़त ओ एहतराम दीजिए। इंशा अल्लाह आपकी औरतें भी महफूज़ रहेंगी।


کیا عورتوں کو بے پردہ اور بے حجاب کرنے میں آج مرد حضرات ذمّہ دار نہیں ہے؟

 
ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺣﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺑﺎﮎ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺎ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ
ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺑﮍﮮ ﺟﻮﺷﯿﻠﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﻣﻮﻗﻊ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺐ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﺫﺍﺕ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺯﮨﺮ ﺍُﮔﻠﯿﮟ
ﻣﺜﺎﻝ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ


ﺁﺝ ﮐﻞ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﷲ ﺑﭽﺎﺋﮯ ۔ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﺍﻥ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ‛ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ

ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﺿﺎﺕ ﭨﮭﯿﮏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﭽﻮﮞ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑُﺮﮮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﻮﮒ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺸﻦ ﺯﺩﮦ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﯽ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﺜﺎﺭ ﻭ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺟﯿﺘﯽ ﺟﺎﮔﺘﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﯽ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﺍﻟﻤﯿﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﻘﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ.


ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺗﺤﻔﻆ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﻮﻕ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺐ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺟﻮﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﺗﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ


ﺑﮯ ﺷﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺑﺤﺜﯿﯿﺖ ﻣﺎﮞ ۔ ﺑﮩﻦ ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺤﺜﯿﯿﺖ ﺑﺎﭖ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺁﭖ ﭘﮩﻠﻮ ﺗﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ


ﺁﭖ ﮐﻮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺑﺤﺜﯿﯿﺖ ﻣﺮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻧﺒﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ
ﺁﺝ ﮐﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮯ ﺑﺎﮎ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺑﮯ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺍ؟


ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ؟


ﺁﭖ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﺍﺧﺘﻼﻑ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﭽﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮭﭩﻼﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ‏) ﺟﮭﭩﻼ ﺳﮑﺘﮯ ‏( ﮐﮧ ﺁﺝ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺑﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﺠﺎﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﻣﺮﺩ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮨﯿﮟ
ﺗﻠﺦ ﺳﮩﯽ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻮ ﻓﯿﺼﺪ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻗﺼﻮﺭ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ
ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﺮﺩ ﺧﻮﺩ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﻋﯿﺎﺷﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺣﺜﯿﯿﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﮦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﮩﻦ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮧ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻝ ﻓﺮﻧﯿﮉ Girl Friend ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺎﺭ ‏) ﺷﺮﻡ ‏( ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮈﯾﭧ ﭘﺮ ﺟﺎﺋﮯ


ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ شکل ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺭﺍﮦ ﺭﺳﻢ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﮯ


ﮔﺮﻝ ﻓﺮﻧﯿﮉ Girl Friend ﮐﻮ ﻭﮦ ﭨﯽ ﺷﺮﭦ ﺳﮑﺮﭦ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﻗﻤﯿﺾ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺑﺎﺕ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﯿﺮﺕ ﻣﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮑﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﻧﮯ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﺗُﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟


ﯾﮧ ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﺎ؟؟؟؟

ﻋﻮﺭﺕ ﺍﮔﺮ ﻓﺘﻨﮧ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻓﺘﻨﮧ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺩﺧﻞ ﮨﮯ ﻟﮩﺰﺍ ﻣﺮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﺍﻟﺬﻣﮧ ﻗﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﮯ
ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻧﯿﭽﯽ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮈﺍﻟﯿﮯ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻡ ﻭ ﺣﯿﺎﺀ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﺟﺰﺑﮧ ﺟﺎﮔﮯ ﮔﺎ


ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ۔ ﻣﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮭﻨﭩﯿﺎﮞ ﺑﺠﺎﺗﮯ ﮐﯿﺒﻞ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻣﺰ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﻮ ﺑﺪ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﻋﻠﻢ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﺅﮞ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ۔


ﺍﮔﺮ  ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﺅﮞ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺩﯾﺠﯿﺌﮯ۔


ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﷲ ﮐﺮﯾﻢ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﻝ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ۔ آمین ثمہ آمین

Share:

Shauhar Ke Maut ke Bad Biwi ko Iddat kaha Gujarni Chahiye?

Shauhar Ka inteqal Ho jane ke Bad Biwi Shauhar ke Ghar me Iddat Gujaregi ya Apne Maa Baap ke Ghar?
खाविंद के मौत के बाद बिवी इद्दत कहा गुजरेगी शौहर के घर में या अपने मां बाप के घर पे?
شوہر وفات پا گئے عورت عدت وہی شوہر کے گھر میں گزارے یا اپنے ماں باپ کے گھر میں ؟
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے ، اس کے اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کے متعلق دو قول ہیں۔ ان میں دلائل کے اعتبار سے مضبوط اور قوی موقف یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت گزارے ، یعنی جس گھر میں اپنے خاوند کے ہمراہ رہائش پذیر تھی وہیں عدت کے ایام پورے کرے، جیسا کہ حضرت فریعہ بنت مالک ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا میرا خاوند اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا، انہوں نے موقع پاکر اسے قتل کردیا ۔ میں نے رسول اللہﷺ سے اپنے والدین کے ہاں منتقل ہونے کے متعلق دریافت  کیا کیونکہ میرے شوہر نے اپنی ملکیت میں کوئی مکان نہیں چھوڑا تھا اور نہ ہی نان و نفقہ کا کوئی معقول بندوبست تھا۔ آپ نے مجھے اپنے میکے چلے جانے کی اجازت دی، دب میں حجرے میں پہنچی تو آپ نے مجھے آواز دی اور فرمایا کہ تم اپنے پہلے مکان میں ہی رہو، یہاں تک کہ تمہاری عدت پوری ہوجائے، حضرت فریعہ ؓ کا بیان ہے کہ پھر میں نے اپنی عدت کی مدت چار ماہ دس دن اسی سابقہ مکان میں ہی پوری کی۔ (ابو داؤد،الطلاق:۲۳۰۰)
صور ت مسئولہ میں اگر خاوند کے دو مکان ہیں تو بیوی کو چاہیے کہ وہ عدت گزارنے کے لئے اس مکان کا انتخاب کرے، جس میں وہ اپنے خاودن کے ہمراہ رہاکرتی تھی دونوں مکانوں میں بیک وقت رہائش نہیں رکھی جاسکتی بلکہ ایک مکان رہائش وغیرہ کےلئے اور دوسرا بطور ڈیرہ یا مہمان خانہ کے طور پر استعمال ہوگاا س لئے عدت کے لئے اس مکان میں رہائش رکھے جس میں وہ خاوند کے ہمراہ رہتی تھی۔ہاں دوسرے مکان  میں بوقت ضرورت جانے میں کوئی حرج نہیں  ہے۔ ضروریا ت کو پورا کرنے کےلئے گھر سے باہر جانے کی شرعاً اجازت ہے لیکن رات گھر واپس آجانا چاہیے۔ وہ ضروری بات بھی ایسی ہو جو اس کے بغیر پوری نہ ہوسکتی ہو۔ بہرحال بیوہ نے سوگ کے ایام نہایت سادگی کے ساتھ اپنے خاوند کے گھر میں گزرانے ہیں اور اسے شدید ضرورت کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔  (واللہ اعلم )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
Share:

Kya Koi Saman Kharidne Me Kisto pe Kuchh aur Nakad pe kuchh aur Kimat le sakte hai?

Saman Kharidane ke liye Nakad Aur kisto pe Alag alag Kimat liya ja sakta hai?
कया खरीदार अगर नकद खरीदना चाहे तो उसकी और कीमत और किस्तों में खरीदना चाहे तो उसकी और कीमत मुकर्रर की जा सकती हैं।
मसलन को सामान नकद में 50,000 और किस्त्तो पर 60,000 हजार रुपए किया जा सकता है?
كيا خريدار اگر نقد خريدنا چاہے تو اس كي اور قيمت اور اگر قسطوں ميں خريدنا چاہے تو  اس كي اور قيمت مقرر كي جاسكتي ہے؟ مثلا: يہ گاڑي نقد ميں پچاس ہزار اور قسطوں ميں ساٹھ ہزار كي ہے.

جواب
الحمد للہ :
جب بائع يہ كہےكہ: يہ گاڑي نقد پچاس ہزار اور قسطوں ميں ساٹھ ہزار كي ہے، تو اس مسئلہ كي دوصورتيں ہيں:

پہلي صورت:
بائع اور مشتري گاڑي كي قيمت اور ادائيگي كا طريقہ طے كرنے كےبعد جدا ہوں جائيں، تويہ بيع جائز ہے.

دوسري صورت:
قيمت پر متفق ہوئےبغير ہي جدا ہو جائيں، تو يہ بيع حرام ہو گي اور صحيح نہيں.

امام بغوي رحمہ اللہ تعالي " شرح السنۃ " ميں اس دوسري صورت كےمتعلق كہتےہيں:

اكثراہل علم كےہاں يہ فاسد ہےاس ليے كہ اس ميں كوئي علم نہيں كہ دونوں ميں سے كس بنياد پر قيمت ركھي گئي ہے.اھ

اوربہت سےعلماء نے نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي ايك بيع ميں دو بيع كي نہي كي يہي تفسير اور شرح كي ہے.

ابوھريرہ رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتےہيں كہ: رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے ايك سودے ميں دو سودے كرنےسے منع كيا ہے.

جامع ترمذي حديث نمبر ( 1152 ) علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح ترمذي ( 985 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

امام ترمذي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

اہل علم كا عمل اسي پر ہے، اور بعض اہل علم نے اس كي تفسير كرتے ہوئےكہا ہےكہ: ايك بيع ميں دوبيع يہ ہے كہ كوئي يہ كہے: ميں نےيہ كپڑا نقد ميں آپ كو دس اور ادھار بيس ميں فروخت كيا، اور دونوں ميں سےايك بيع پر جدا ہو، لھذا جب وہ دونوں ميں سےايك پر جدا ہو اوركسي ايك پر سودا بھي طے ہوچكا ہو تواس ميں كوئي حرج نہيں. اھ

اور امام نسائي رحمہ اللہ تعالي سنن نسائي ميں كہتےہيں:

ايك بيع ميں دو بيع يہ ہےكہ: فروخت كرنے والا يہ كہے ميں نےيہ سامان آپ كو نقدسودرھم ميں اور ادھار دو سودرھم ميں فروخت كيا .

اور اما شوكاني رحمہ اللہ تعالي نيل الاوطار ميں كہتےہيں:

ايك بيع ميں دو بيع كي حرمت كي علت يہ ہےكہ ايك ہي چيز كودو قميتوں ميں فروخت كرنےكي صورت ميں قيمت كا عدم استقرار ہے. اھ.

مستقل فتوي كميٹي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا: ِ

ايك گاڑي نقد دس ہزار اور قسطوں ميں بارہ ہزار ميں فروخت كرنے كے متعلق آپ كي رائےكيا ہے؟

كميٹي كا جواب تھا:

جب كوئي شخص كسي دوسرے كو گاڑي نقد دس ہزار اور ادھار بارہ ہزار ميں فروخت كرے اور مجلس سے بغير كسي سودے پر متفق ہوئےبغير ہي اٹھ جائيں يعني نقد يا ادھار كي قيمت پر متفق ہوئےبغير ہي، تو يہ بيع جائز نہيں اور جھالت كي بنا پر كہ آيا نقد بيع ہوئي يا ادھار اس كا كوئي علم نہ ہونے كي بنا پر يہ بيع صحيح نہيں ہوگي.

اس پر بہت سےعلماء كرام نے نبي صلي اللہ عليہ وسلم كي ايك بيع ميں دو بيع كي نہي والي حديث سے استدلال كيا ہے، جسےامام احمد اور نسائي ترمذي نےروايت كيا اوراسےصحيح كہا ہے، اور اگر خريدنےاور فروخت كرنے والا مجلس سے اٹھ كرجدا ہونے سے قبل نقد يا ادھار ميں سےكسي ايك پر متفق ہوجائيں اور پھر جدا ہوں توقيمت اور اس كي حالت كي علم كي بنا پر صحيح اور جائز ہے. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 192 ) .

اور ايك دوسرے سوال ميں ہےكہ:

جب فروخت كرنےوالا يہ كہےكہ: يہ سامان ادھار دس ريال ميں اور نقد پانچ ريال ميں ہے تواس كا حكم كيا ہوگا؟

كميٹي كا جواب تھا:

جب واقعتا ايسا ہي جيسا سوال ميں مذكور ہے توبيع جائز نہيں، اس ليے يہ ايك بيع ميں دوبيع كي صورت بنتي ہے، اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے ايك بيع ميں دو بيع كي نہي ثابت ہے، كيونكہ اس ميں ايسي جہالت ہے جو اختلاف اور جھگڑے كاباعث بنےگي. اھ

ديكھيں: فتاوي اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 197 ) .

اور فقہ اكيڈمي كي قرار ہے كہ:

جس طرح نقد اور معلوم مدت كي قسطوں والي بيع كي قيمت ميں زيادتي جائزہےاسي طرح موجودہ اور ادھار كي قيمت ميں بھي زيادتي جائز ہے، اور بيع اس وقت جائزنہ ہوگي جب تك دونوں فريق نقد يا ادھار كا فيصلہ نہ كرليں، لھذا اگر بيع نقد اور ادھار كےمابين متردد ہو اور فريقين كا كسي ايك قيمت پر اتفاق نہ ہوا ہو تو يہ بيع شرعا ناجائزہوگي. اھ

واللہ اعلم .

Share:

Ager Kutta (Dog) Se Touch ho jaye to kya Kare?

Agar🐕 kutte se touch ho Jayen to kya karen.
جواب تحریری
کتوں پر تحقیق، تجربے، اور ریسرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس کیلئے کتوں کو ہاتھ لگانا پڑے، یا کتوں کے کچھ اعضا کو چھونا پڑے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ  شریعت میں صرف کتوں کو بلا وجہ پالنے  سے منع کیا گیا ہے۔

تاہم جس شخص کو کتے کے کچھ حصوں کو چھونا پڑے تو وہ  اپنے  متاثرہ حصے کو سات بار دھوئے ، جن میں سے پہلی بار  دھوتےوقت مٹی استعمال کرے؛ اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے: (تمہارے کسی برتن کو  کتا منہ لگا دے تو اس کو پاک کرنے کیلئے سات بار دھوئے، پہلی بار دھوتے ہوئے مٹی استعمال کرے)مسلم: (279)

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ بات ذین نشین رہے کہ کتے کے منہ اور دیگر اعضا میں کوئی فرق نہیں ہے، چنانچہ اگر کتے کا پیشاب، لید، خون، پسینہ، بال، لعاب یا اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ کسی پاک شے کو لگ جائے ، اوریہ پاک شے یا  اُن نجس اشیا  میں سے کوئی  ایک  حالت ِ رطوبت میں  ہو تو اس پاک شے کو سات بار دھونا لازم ہوجائے گا، جس کیلئے پہلی بار دھوتے وقت مٹی کا استعمال  کیا جائے گا" انتہی
"شرح صحيح مسلم " (3/185)

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کتے کو چھونے کے بارے میں یہ ہے کہ اگر کتے کو خشک ہاتھ لگیں تو اس سے وہ  پلید نہیں ہوں گے، اور اگر رطوبت کی حالت میں ہاتھ لگے تو اس سے متعدد اہل علم کے ہاں ہاتھ نجس ہو جائے گا، اور اسے ساتھ بار دھونا واجب ہوگا، جس میں ایک بار مٹی کا استعمال کیا جائے گا" انتہی
"مجموع فتاوى ابن عثیمین" (11/246)۔

شافعی، اور حنبلی مذہب کے مطابق کتا نجس ہے، اسی کو دائمی فتوی کمیٹی نے اختیار کیا ہے، چنانچہ دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی: (23/89) میں ہے کہ: "کتا پورے کا پورا نجس ہے، اسکا لعاب وغیرہ سب نجس ہے"انتہی

واللہ اعلم.

Share:

Ager Namaj Me Bhool Chook Ho jaye to kya karna chahiye?

Ager Namaj me bhool chuk ho jaye to kya karni Chahiye?

Agrar Namaj Me Bhool Jaye to Kya Kare, Namaj E Nabwi, Namaj Ka Sahih Tariqa
 Maine Google se fajar ki Namaz ka time search Kar ke sehri ka time dekha Lekin hamare ghar ke pas ek jagah fajar ki Azan baki sari azano Se aur Google ke time se Takriban 10 minutes pehle ho jati, to Kya mujhe 10,15 minutes pahle Khana peena chor Dena chahiye?
میں نے گوگل سے فجر کے نماز کا وقت تلاش کرکے سحری کا وقت دیکھا، مگر ہمارے گھر کے پاس ایک جگہ فجر کی اذان باقی ساری آذانو اور گوگل کے وقت سے تقریباً 10،15 منت پہلے ہو جاتی ہے تو کیا ہمیں 10،15 منٹ پہلے ہی کھانا پینا چھوڑ دینا چاہیئے؟
*سجدہ سہو کا طریقہ
لحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان بھول چوک کا نشانہ بن جاتا ہے اور شیطان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نمازی کو اثنائے نماز میں مختلف افکار اور اشغال میں الجھا کر رکھے ۔ بسا اوقات اس بھول چوک کے نتیجے میں نماز میں کمی بیشی بھی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے نمازی کو نماز کے آخر میں سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے جو ایک فدیہ ہے اور اس کےذریعے سے شیطان ذلیل ہو جاتا ہے رحمان راضی ہو جاتا ہے اور نماز کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ علمائے کرام اس سجدےکو" سجدہ سہو" کا نام دیتے ہیں۔
سہو کا معنی "بھول جاناہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  متعدد بار نماز میں بھول گئے تھے۔ آپ کی یہ بھول امت محمدیہ پر اللہ کی نعمت کا تمام اور دین کی تکمیل کا سبب ثابت ہوئی تاکہ بھول چوک کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے طریقے کی پیروی کر سکیں ۔ بھول چوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے جملہ واقعات کتب احادیث میں محفوظ ہیں۔ ایک بار آپ نے چار رکعات کی بجائے دورکعتیں پڑھا کر سلام پھیردیا۔ پھر باقی دورکعات پڑھ کر نماز مکمل کی آخر میں سلام سے قبل سجدہ سہو کر لیا۔
ایک دفعہ تین رکعات پڑھا کر سلام پھیردیا تو پھر ایک رکعت مزید پڑھی اور سجدہ سہو کر لیا۔ ایک موقع پر دورکعتیں پڑھا کر کھڑے ہوگئے اور درمیانی تشہد میں نہ بیٹھے تو آخرمیں سجدہ سہو ادا کردیا وغیرہ اور آپ نے فرمایا:
"إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَوْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ "
"تم میں سے جب کوئی نماز میں بھول جائے۔ اسے معلوم نہ ہو کہ کتنی نماز پڑھی ہے زیادتی ہوئی ہے یا کمی؟ تو وہ دو سجدے کرے۔"[1]
تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت پیش آجائے تب سجدہ سہو مشروع ہوتا ہے۔
(1)جب بھول کر نماز میں کوئی زیادتی ہو جائے۔
(2)یا نماز میں کوئی کمی واقع ہو جائے۔(3)نماز کے دوران میں کسی شے کی کمی بیشی میں شک پڑجائے۔
ان صورتوں میں سے کوئی صورت پیش آجائے سجدہ سہو لازمی ہے جس کی دلیل اور طریقہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میں موجود ہے۔ واضح رہے کہ کمی بیشی یا ہر شک سجدہ سہو کرنے کا سبب نہیں بنتا بلکہ اس مسئلہ میں جوسنت رسول ہے اس پر عمل کیا جائے گا جس کی تفصیل آپ آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔
جب سجدہ سہوکرنے کا سبب پیدا ہو جائے تب وہ مشروع ہو جاتا ہے خواہ فرض نماز ہو یا نقل کیونکہ دلائل میں عموم ہے۔
نماز میں بھول چوک کے سبب سجدہ سہو کے بارے میں مندرجہ بالا تین حالتوں کی وضاحت اور تفصیل درج ذیل ہے۔
1۔بھول کر نماز کے افعال یا اقوال میں زیادتی ہو جائے۔ افعال میں زیادتی سے مراد جنس نماز کے افعال ہیں۔جیسے بیٹھنے کے موقع پر کھڑے ہو جانا۔ یا کھڑے ہونے کے مقام پر بیٹھ جانا یا رکوع سجدہ زیادہ کر لینا۔ ان صورتوں میں سجدہ سہو لازم ہے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"إِذَا زَادَ الرَّجُلُ أَوْ نَقَصَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ "
"جب کوئی شخص (اپنی نماز میں بھول کر)زیادتی یا کمی کرے تو(آخر میں)دو سجدے کر لے۔"[2]
اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز میں کسی عمل کی زیادتی درحقیقت نماز کی شکل و صورت میں ایک قسم کی کمی ہے۔ اس کے لیے سجدہ سہو کرنے کا حکم ہے تاکہ یہ کمی پوری ہو جائے۔
اسی طرح اگر ایک رکعت زائد پڑھ لی اور نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد اسے یاد آیا تو وہ صرف سہو کے دو سجدے کرے۔ اور اگر اسے زائد رکعت ادا کرنے کے دوران میں یا دآیا تو وہ فوراً بیٹھ جائے۔ اگر تشہد نہیں پڑھا تھا تو پڑھے پھر سجدہ سہو کرے اور سلام پھیردے۔
اگر کوئی امام ہے تو جس مقتدی کو کسی کام کی زیادتی کا علم ہو جائے تو وہ امام کو توجہ دلانے کے لیے کلمہ تسبیح (سبحان اللہ) کہے اور عورت تالی بجا دے تو امام ان کے توجہ دلانے پر واپس لوٹ جائے۔ بشرطیکہ امام کو اپنے درست ہونے کا یقین نہ ہو کیونکہ مقصد درست صورت کی طرف لوٹنا ہے جب نقص پیدا ہو تو تب بھی مقتدیوں پر امام کو تنبیہ کرنا لازم ہے۔
اقوال میں زیادتی کی متعدد صورتیں ہیں مثلاً:رکوع یا سجدہ میں قرآءت کرنا چار رکعتوں والی نماز کی آخری دو رکعتوں میں یا مغرب کی تیسری رکعت میں فاتحہ کے علاوہ کسی اور سورت کی قرآءت کرنا۔ ان صورتوں میں بھی سجدہ سہو کرنا مستحب ہے۔[3]
2۔نماز میں بھول کر کمی واقع ہو جائے یعنی ایسا فعل جو نماز کا حصہ ہے چھوٹ جائے۔اگر چھوٹ جانے والا عمل نماز کا رکن ہے اور رکن بھی تکبیر تحریمہ ہوتو اس کی نماز ہی نہ ہو گی نہ سجدہ سہو کافی ہوگا۔ اور اگر تکبیر تحریمہ کے علاوہ کوئی اور رکن چھوٹ گیا ہے مثلاً:رکوع یا سجدہ۔ اگر بعد والی رکعت کی قرآءت سے پہلے پہلے اسے یاد آگیا تو اس پر لازم ہے کہ واپس پلٹ آئے اور چھوٹ جانے والا رکوع یا سجدہ ادا کرے اور اس رکوع یا سجدے کے بعد والے تمام کام دوبارہ ادا کرے اور اگر بعد والی رکعت کی قرآءت شروع کردی تھی تب اسے چھوٹ جانے والا رکن (رکوع یاسجدہ)یاد آیاتو جس رکعت میں رکوع یا سجدہ چھوٹ گیا تھا وہ ساری رکعت باطل ہو جائے گی اور شمار نہ ہو گی بعد والی رکعت باطل رکعت کے قائم مقام ہو گی ۔ الغرض اسے ایک رکعت مزید پڑھنا ہو گی کیونکہ اس نے ایسا رکن چھوڑا ہے جس کا استدراک ممکن نہیں۔
اگر کسی کو متروک رکن کا علم سلام پھیرنے کے بعد ہوا تو یہ سمجھا جائے کہ گویا ایک رکعت چھوٹ گئی ہے لہٰذا وہ ایک مکمل رکعت ادا کرے ہاں اگر اس کی نماز کا آخری تشہد یا سلام چھوٹ گیا ہو تو صرف آخری تشہد ادا کر کے سجدہ سہو کرے اور سلام پھیردے۔
اگر کوئی شخص تشہد اول میں بیٹھنا بھول گیا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو وہ تشہد کی حالت کی طرف پلٹ آئے بشرطیکہ وہ سیدھا کھڑا نہ ہواہو۔ اور اگر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا ہو تو اس کا واپس تشہد کی حالت میں پلٹنا مکروہ ہے اگر وہ پلٹ گیا تو نماز باطل نہ ہو گی ۔ اگر تیسری رکعت میں فاتحہ کی قرآءت شروع کر دی تو تب پلٹا قطعاً درست نہیں کیونکہ وہ دوسرے رکن کی ادائیگی شروع کر چکا ہے جسے توڑنا یا چھوڑنا قطعاً مناسب نہیں۔
اگر کسی سے رکوع یا سجدے میں تسبیحات چھوٹ گئیں تو اس رکوع یا سجدے کو دوبارہ ادا کرے بشرطیکہ وہ بعد والی رکعت ادا کرنے کے لیے سیدھا کھڑا نہ ہوا ہو اور وہ ان تمام حالات میں سجدہ سہو ادا کرے۔
3۔نماز میں شک پڑجائے:اگر کسی کو نماز کی رکعات کی تعداد میں شک پڑ جائے: مثلاً: اس نے دورکعتیں ادا کی ہیں یا تین تو دو سمجھے کیونکہ کم تعداد یقینی ہے۔ پھر سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے کیونکہ مشکوک چیز معدوم کے حکم میں ہے۔ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَوَاحِدَةً صَلَّى أَمْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ"
"جب کسی کو اپنی نماز میں شک پڑجائے اور اسے علم نہ ہو کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو وہ ایک رکعت سمجھے۔ اور اگر وہ نہیں جانتا کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ وہی سمجھ لے۔"[4]
اگر کسی مقتدی کو شک ہوا کہ جب وہ امام کے ساتھ شامل ہوا تھا آیا وہ پہلی رکعت تھی یا دوسری تو وہ دوسری رکعت سمجھ لے یا اسے شک ہوا کہ امام کے ساتھ اسے پوری رکعت ملی تھی یا نہیں وہ مکمل رکعت شمار نہ کرے اور سجدہ سہو کرے۔
اگر کسی کو نماز کے رکن چھوٹ جانے پر شک ہو تو وہ اس رکن اور رکن کے بعد والی ایک رکعت کے ارکان دوبارہ ادا کرے جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
اگر کسی واجب کے چھوٹ جانے میں شک ہوتو اس شک کو معتبر نہ سمجھے اور سجدہ سہو نہ کرے۔ اسی طرح اگر کسی واجب کی زیادتی میں شک ہوتو اسے قابل التفات نہ سمجھے کیونکہ اصل چیز کمی یا زیادتی کا نہ ہونا ہے۔
یہ سجدہ سہو کے چند احکامات تھے جو ہم نے بیان کر دیےتفصیل کا طالب بڑی کتب کی طرف رجوع کرے۔واللہ الموفق۔
[1]۔جامع الترمذی الصلاۃ باب فی من یشک فی الزیادۃ والنقصان حدیث 398وشرح السنۃ للبغوی 3/282حدیث 755وکنزالعمال :7/473۔حدیث 19843واللفظ لہ۔
[2]۔صحیح مسلم المساجد باب السہو فی الصلاۃ والسجود لہ حدیث 572۔
[3]۔چار رکعتوں والی نماز کی آخری دورکعتوں میں یا مغرب کی تیسری رکعت میں فاتحہ کے علاوہ قرآءت کرنا مشروع ہے سجدہ سہو یہاں نہیں ہو گا۔(ابو زید)
[4]۔مسنداحمد 1/190وجامع الترمذی الصلاۃ باب فی من یشک فی الزیادۃ والنقصان حدیث 398وصحیح مسلم المساجد باب السہو فی الصلاۃ والسجودلہ حدیث 571عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب
Share:

Quran Majeed Me Aayi duayein Jise hme yad karni chahiye.

Quran Majeed Me Maujood Duayein.
تمام قران کریم میں موجود دعاؤں کو جمع کر دیا ہےان سب دعاؤں کو یاد کریں اور دوسروں کو بھی بھیجیں.                                                         

✅  رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

✅ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅  رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ

✅ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ

✅ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ

✅ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

✅ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

✅ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

✅ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ

✅ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ

✅ رَبِّ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ

✅ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

✅ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

✅ رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا

✅ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا

✅ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي, وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي, وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي, يَفْقَهُوا قَوْلِي، رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا

✅ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ

✅ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

✅  رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ

✅ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ

✅ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا

✅ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

✅ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ، إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ.

✅ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ

✅  رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

✅ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ

✅ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

✅ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ

✅ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ

✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

✅ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

✅ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ... وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

✅ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا

✅  رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

شیر کریں۔ سب مومنین کیلئے۔
طآلب دعا.

Share:

Tasbeeh ki Namaz kaise Padha Jata Hai iski Fazilat?

Namaj-E-Tasbeeh Kaise Padhe aur iski Fazilat.
Namaj-E-Tasbeeh kya Har Musalman ko Zindagi me Ek bar padhna Lazim hai?
نمازِ تسبیح کا ثبوت
غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری

اللہ رب العزت کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو نوافل کے ذریعہ سے اپنا قرب بخشا ، نیز ان کو مغفرت و معافی کے اسباب عطا فرمائے ۔ ان میں سے ایک نماز ِ تسبیح ہے ۔ یہ بڑی فضیلت والی نماز ہے ، روزانہ پڑھیں ، ہفتہ میں یامہینہ میں یاسال کے بعد یا زندگی میں ایک بار پڑھ لیں ۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت وبرکت سے جھولی بھرلیں ۔ اس نماز کا ثبوت اورطریقہ ملاحظہ ہو ۔

قال الإمام أبوداو،د : حدّثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحکم النیسابوریّ ، حدّثنا موسی بن عبد العزیز ، حدّثنا الحکم بن أبان عن عکرمۃ عن ابن عبّاس : أنّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم قال للعبّاس بن عبد المطّلب : یا عبّاس ! یا عمّاہ ! ألا أعطیک ؟ ألا أمنحک ؟ ألا أحبوک ؟ ألا أفعل بک عشر خصال ؟ إذا أنت فعلت ذلک غفر اللّٰہ لک ذنبک أوّلہ وآخرہ ، قدیمہ وحدیثہ ، خطأہ وعمدہ ، صغیرہ وکبیرہ ، سرّہ وعلانیتہ ، عشر خصال ؛ أن تصلّی أربع رکعات ، تقرأ فی کلّ رکعۃ فاتحۃ الکتاب وسورۃ ، فإذا فرغت من القراء ۃ فی أوّل رکعۃ وأنت قائم ، قلت سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا إلہ إلّا اللّٰہ واللّٰہ أکبر خمس عشرۃ مرّۃ ، ثمّ ترکع ، فتقولہا وأنت راکع عشرا ، ثمّ ترفع رأسک من الرکوع ، فتقولہا عشرا ، ثمّ تہوی ساجدا ، فتقولہا وأنت ساجد عشرا ، ثمّ ترفع رأسک من السجود ، فتقولہا عشرا ، ثمّ تسجد فتقولہا عشرا ، ثمّ ترفع رأسک فتقولہا عشرا ، فذلک خمس وسبعون فی کلّ رکعۃ ، تفعل ذلک فی أربع رکعات ، إن استطعت أن تصلّیہا فی کلّ یوم مرّۃ ، فافعل ، فإن لم تفعل ، ففی کلّ جمعۃ مرّۃ ، فإن لم تفعل ففی کلّ شہر مرّۃ ، فإن لم تفعل ففی کلّ سنۃ مرّۃ ، فإن لم تفعل ففی عمرک مرّۃ ۔
”سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، اے عباس ، اے میرے چچا ! کیا میں آپ کو تحفہ نہ دوں ، کیا میں آپ کو گراں مایہ چیز مفت میں عطا نہ کردوں ، کیا میں آپ کے لیے دس خصلتیں بیان نہ کردوں کہ جب آپ ان کو کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اول وآخر ، قدیم وجدید ، غلطی سے سر زد ہونے والے اورجان بوجھ کر کیے ہوئے ، صغیرو کبیرہ ، مخفی وظاہری تمام گناہ معاف کردے ؟ وہ دس خصلتیں یہ ہیں کہ آپ چار رکعات ادا کریں۔ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ اورایک سورت پڑھیں ، پھرپہلی رکعت میں قرائت سے فارغ ہوکر قیام کی حالت میں ہی پندرہ دفعہ یہ دعا پڑھیں : سُبْحَانَ اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ، وَلاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ (اللہ تعالیٰ پاک ہے ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے)، پھر آپ رکوع کریں اور(رکوع کی تسبیحات کے بعد)رکوع کی حالت میں دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں ، پھرآپ رکوع سے سراٹھائیں اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں ، پھر آپ سجدے کے جھک جائیں اور سجدے کی حالت میں (تسبیحات کے بعد)دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں ، پھر آپ سجدے سے اپنا سراٹھائیں اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھیں ، پھر آپ دوسرا سجدہ کریں اوردس مرتبہ یہ دعا پڑھیں ، پھرآپ سجدے سے سر اٹھائیں اوردس مرتبہ یہ دعا پڑھیں ۔ یہ ہررکعت میں کل پچھتر تسبیحات ہوجائیں گی ۔ چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں ۔ اگر آپ روزانہ یہ نماز پڑھ سکتے ہیں تو روزانہ پڑھیں ، ورنہ ہر ہفتے ، ورنہ ہر مہینے ایک مرتبہ پڑھ لیں ۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ اوراگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو زندگی میں ایک مرتبہ یہ نماز پڑھ لیں۔”(سنن ابی داو،د : ١٢٩٧، سنن ابن ماجہ : ١٣٨٧، صحیح ابن خزیمۃ : ١٢١٦، المعجم الکبیر للطبرانی : ١١٦٢٢، المستدرک للحاکم : ١/٣١٨، وسندہ، حسنٌ)
ابوحامد احمد بن محمد بن الحسن الشرقی الحافظ کہتے ہیں کہ میں نے امام مسلم  رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : لا یروی فی ھذا الحدیث إسناد أحسن من ھذا ۔
”اس حدیث کی اس سے بڑھ کر بہتر سند کوئی نہیں بیان کی گئی ۔”
(الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث للخلیلی : ١/٣٢٦، وسندہ، صحیحٌ)
ابنِ شاہین رحمہ اللہ (٢٩٧۔٣٨٥ھ)فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابوداؤد سے سنا:
أصحّ حدیثا فی التسبیح حدیث العبّاس ۔ ”نماز ِ تسبیح کے بارے میں سب سے صحیح حدیث ، سیدنا عباس کی حدیث ہے ۔”(الثقات لابن شاہین : ١٣٥٦)
حافظ منذری رحمہ اللہ (٥٨١۔٦٥٦ھ)لکھتے ہیں : صحّح حدیث عکرمۃ عن ابن عبّاس ھذا جماعۃ ، منھم : الحافظ أبوبکر الآجری ، وشیخنا أبو محمّد عبد الرحیم المصریّ ، وشیخنا الحافظ أبو الحسن المقدسیّ ۔
”اس حدیث کو ائمہ کرام کی ایک جماعت نے صحیح قرار دیا ہے ، ان میں سے حافظ ابوبکرالآجری ہیں اورہمارے شیخ ابو محمدعبدالرحیم المصری ہیں اورہمارے شیخ حافظ ابوالحسن المقدسی ہیں ۔”(الترغیب والترھیب للمنذری : ١/٤٦٨)
حافظ علائی رحمہ اللہ (٦٩٤۔٧٦١ھ)لکھتے ہیں ـ: حدیث حسن صحیح ، رواہ أبوداو،د وابن ماجہ بسند جیّد إلی ابن عبّاس ۔
”یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اس کو امام ابوداؤد اورامام ابنِ ماجہ نے ابنِ عباسw سے جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔”(النقد الصحیح : ص ٣٠)
حافظ ابن الملقن  رحمہ اللہ (٧٢٣۔٨٠٤ھ)فرماتے ہیں : وھذا الإسناد جیّد ۔
”یہ سند جید ہے ۔”(البدر المنیر لابن الملقن : ٤/٢٣٥)
حافظ سیوطی  رحمہ اللہ (م ٩١١ھ)فرماتے ہیں : وھذا إسناد حسنٌ ۔
”یہ سند حسن ہے۔” (اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ : ٢/٣٥)
اس حدیث کے متعلق حافظ نووی(٦٣١۔٦٧٦ھ)اورحافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ  (٧٧٣۔٨٥٢ھ)کی کلام متناقض ہے ۔ بعض اہل علم کا اس حدیث کی صحت کا انکار کرنا بے معنیٰ ہے ۔ علمائے کرام نے اس نماز کے ثبوت وفضیلت پر ایک درجن سے زائد تصانیف کی ہیں ۔ اس حدیث کے راویوں کے متعلق محدثین کی شہادتیں ملاحظہ ہوں :
1    عبدالرحمن بن بشر بن الحکم النیسابوری : یہ ثقہ ہیں۔
(تقریب التھذیب لابن حجر : ٣٨١٠)
2    موسیٰ بن عبدالعزیز العدنی : جمہور محدثین کے نزدیک ”حسن الحدیث” ہیں۔ ان کے بارے میں امام یحییٰ بن معین  رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لا أرٰی بہ بأسا ۔ ”میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا ۔”
(العلل ومعرفۃ الرجال لاحمد بن حنبل : ٣٩١٩، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم : ٨/١٥١)
امام ابنِ حبان رحمہ اللہ (الثقات : ٩/١٥٩)اورامام ابنِ شاہین رحمہ اللہ  (الثقات : ١٣٥٦) نے اسے ثقات میں ذکر کیا ہے ۔
امام عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی  رحمہ اللہ (١٢٦۔٢١١ھ)سے ان کے بارے میں پوچھا تو :
فأحسن الثناء علیہ ۔ ”آپ نے اس کی تعریف کی ۔”
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : ١/٣١٩، وسندہ، صحیحٌ)
رہا امام علی بن مدینی رحمہ اللہ کا اسے ”ضعیف” کہنا(تہذیب التہذیب لابن حجر: ١٠/٣١٨) تو یہ ثابت نہیں ہوسکا ۔ ثابت ہونے کی صورت میں جمہور کی توثیق کے مقابلہ میں ناقابل التفات ہے ۔ الحافظ السلیمانی کا ان کو ”منکر الحدیث”کہنا بھی مردود ہے ۔
اوّلاً یہ جمہور کے خلاف ہے ۔ ثانیاً حافظ سلیمانی ، ثقہ راویوں کے بارے میں اس طرح کی سخت کلام کرتے رہتے ہیں ۔ خود حافظ سلیمانی کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
رأیت للسلیمانیّ کتابا ، فیہ حطّ علی کبار ، فلا یسمع منہ ما شذّ فیہ ۔
”میں نے حافظ سلیمانی کی ایک کتاب دیکھی ہے ، جس میں بڑے بڑے علماء پر کلام کی گئی ہے۔ ان کی وہ بات نہیں سنی جائے گی ، جس میں انہوں نے عام علماء سے شذوذ اختیار کیا ہے ۔”
(سیر اعلام النبلاء للذہبی : ١٧/٢٠٣)
موسیٰ بن عبدالعزیز کی دوسری روایات کی علمائے کرام نے ”تصحیح” کررکھی ہے ۔ یہ ان کی توثیق ہے ۔
3    الحکم بن ابان العدنی : اس راوی کی کبار محدثین نے توثیق کر رکھی ہے ، سوائے امام ابنِ عدی  رحمہ اللہ کے ۔ امام عبداللہ بن المبارک  رحمہ اللہ  کا إرم بہ (اس کو پھینک دو) کہنا ثابت نہیں ، کیونکہ امام عقیلی  رحمہ اللہ کے استاذ عبداللہ بن محمد بن سعدویہ کی توثیق نہیں مل سکی ۔ اگر بالفرض یہ ثابت ہوبھی جائے تو جمہور محدثین کی توثیق کے مقابلہ میں مردود ہے ۔
4    عکرمہ مولیٰ ابنِ عباس : عکرمہ ، جمہور کے نزدیک ”ثقہ” ہیں ۔
حافظ بیہقی رحمہ اللہ (٣٨٤۔٤٥٨ھ)لکھتے ہیں : وعکرمۃ عند أکثر الأئمّۃ من الثقات الأثبات ۔ ”عکرمہ اکثر ائمہ کے نزدیک ثقہ ثبت راویوں میں سے ہیں۔”
(السنن الکبرٰی للبیقی : ٨/٢٣٤)
علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (٧٦٢۔٨٥٥ھ) لکھتے ہیں : والجمہور وثّقوہ ، واحتجّوا بہ ۔ ”جمہور نے ان کی توثیق کی ہے اور ان سے حجت لی ہے ۔”
(عمدۃ القاری للعینی : ١/٨)
خلاصۃ الکلام : صلاۃ التسبیح کے بارے میں حدیث ابنِ عباس کی سند بلاشک وشبہ ”حسن” ہے ۔ ان شاء اللہ !
تنبیہ بلیغ : صلاۃ التسبیح کے بارے میں سنن ابی داؤد (١٢٩٩)میں ایک انصاری صحابی سے بھی حدیث آتی ہے ، جس کی سند بالکل ”صحیح” ہے ، لہٰذا نماز ِ تسبیح کے ثبوت میں کوئی شبہ نہیں رہا ۔
فائدہ نمبر 1 : شیخ الاسلام ، الامام ، المجاہد ، عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ  نماز ِ تسبیح کا طریقہ یوں بیان کرتے ہیں : یکبّر ، ثمّ یقول : سبحانک اللّٰہمّ وبحمدک ، وتبارک اسمک ، وتعالی جدّک ، ولا إلہ غیرک ، ثمّ یقول خمس عشرۃ مرّۃ : سبحان اللّٰہ ، والحمد للّٰہ ، ولا إلہ إلّا اللّٰہ ، واللّٰہ أکبر ، ثمّ یتعوّذ ، ویقرأ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم ، و فاتحۃ الکتاب ، وسورۃ ، ثمّ یقول عشر مرات : سبحان اللّٰہ ، والحمد للّٰہ ، ولا إلہ إلّا اللّٰہ ، واللّٰہ أکبر ، ثمّ یرکع ، فیقولہا عشرا ، ثمّ یرفع رأسہ من الرکوع ، فیقولہا عشرا ، ثمّ یسجد ، فیقولہا عشرا ، ثمّ یسجد الثانیۃ ، فیقولہا عشرا ، یصلّی أربع رکعات علی ہذا ، فذلک خمس وسبعون تسبیحۃ فی کلّ رکعۃ ، یبدأ فی کلّ رکعۃ بخمس عشر تسبیحۃ ، ثمّ یقرأ ، ثمّ یسبّح عشرا ، فإن صلّی لیلا ، فأحبّ إلی أن یسلّم فی الرکعتین ، وإن صلّی نہارا ، فإن شاء سلّم ، وإن شاء لم یسلّم ۔
”نمازی تکبیر کہے ، پھر سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ پڑھے ، پندرہ مرتبہ یہ دعا پڑھے : سُبْحَانَ اللّٰہِ ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ، وَلاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ (اللہ تعالیٰ پاک ہے ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے)، پھر تعوذ وبسم اللہ پڑھ کر سورۃ الفاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھ لے ، پھر دس مرتبہ یہی دعا پڑھے ، پھر رکوع کرے اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھے ، پھر رکوع سے سر اٹھائے اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھے ، پھر سجدہ کرے اوردس مرتبہ یہ دعا پڑھے ، پھر دوسرا سجدہ کرے اور دس مرتبہ یہ دعا پڑھے ، اسی طرح چاررکعتیں ادا کرلے۔یہ ہررکعت میں کل پچھتر تسبیحات ہوجائیں گی ، ہررکعت کو پندرہ دفعہ تسبیح کے ساتھ شروع کرے گا ، پھر قرائت کرے گا ، پھردس دفعہ تسبیح پڑھے گا ، اگر رات کو نماز ِ تسبیح ادا کرے توزیادہ پسندیدہ بات یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرے اور اگر دن کو پڑھے تو سلام پھیرے یا نہ پھیرے ، درست ہے۔”
(سنن الترمذی ، تحت حدیث : ٤٨١، المستدرک للحاکم : ١/٣٢٠، وسندہ، صحیحٌ)
فائدہ نمبر 2 : علامہ عبدالحئی لکھنوی حنفی لکھتے ہیں :
اعلم أنّ أکثر أصحابنا الحنفیّۃ وکثیر من المشایخ الصوفیّۃ ، قد ذکروا فی کیفیّۃ صلاۃ التسبیح الکیفیّۃ الّتی حکاہا الترمذیّ والحاکم عن عبد اللّٰہ ابن المبارک الخالیۃ عن جلسۃ الاستراحۃ ، والمشتملۃ علی التسبیحات قبل القرائۃ وبعد القرائۃ ، وذلک لعدم قولہم بجلسۃ الاستراحۃ فی غیرہا من الصلوات الراتبۃ ، والشافعیّۃ والمحدثون أکثرہم اختاروا الکیفیّۃ المشتملۃ علی جلسۃ الاستراحۃ ، وقد علم ممّا أسلفنا أنّ الأصحّ ثبوتا ، ہو ہذہ الکیفیّۃ ، فلیأخذ بہا من یصلّیہا حنفیّا کان أو شافعیّا ۔
”جان لیں کہ ہمارے اکثر حنفی اصحاب اور بہت سے صوفی مشایخ نے نماز ِ تسبیح کے طریقے میں اس طریقے کو ذکر کیا ہے ، جسے امام ترمذی اورامام حاکم نے امام عبداللہ بن المبارک سے نقل کیا ہے ۔ یہ طریقہ جلسہ استراحت سے خالی ہے اور قرائت سے پہلے اور بعد تسبیحات پر مشتمل ہے۔ اکثر احناف نے یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا کہ وہ عام نمازوں میں جلسہ استراحت کے قائل نہیں ہیں ، جبکہ شوافع اور اکثر محدثین نے نماز ِ تسبیح کے اس طریقے کو پسند کیا ہے ، جس میں جلسہ استراحت موجود ہے ۔ ہماری گزشتہ بحث سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ زیادہ صحیح ثابت یہی (جلسہ استراحت والا)طریقہ ہے ۔ نماز ِ تسبیح پڑھنے والا خواہ حنفی ہو یا شافعی اسے یہی (جلسہ استراحت والا)طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔”(الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ لعبد الحی :١٤١)
فائدہ نمبر 3 : امام عبدالعزیز بن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ امام عبداللہ ابن المبارک  رحمہ اللہ نے فرمایا : یبدأ فی الرکوع ، سبحان ربّی العظیم ، وفی السجود ، سبحان ربّی الأعلی ثلاثا ، ثمّ یسبّح التسبیحات ۔
”نماز ِ تسبیح پڑھنے والا رکوع میں پہلے تین دفعہ سبحان ربّی العظیم پڑھے گا اور سجدے میں پہلے تین دفعہ سبحان ربّی الأعلی پڑھے گا ،پھر نماز ِ تسبیح کی تسبیحات پڑھے گا۔”(سنن الترمذی ، تحت حدیث : ٤٨١، وسندہ، صحیحٌ)
فائدہ نمبر 4 : نیز فرماتے ہیں کہ میں نے امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ  سے کہا کہ نمازی بھول گیا توکیاسجدہئ سہو میں بھی دس مرتبہ تسبیحات پڑھے گا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : لا ، إنّما ھی ثلاثمائۃ تسبیحۃ ۔
”نہیں ، یہ صرف (چار رکعات میں)تین سو تسبیحات ہیں ۔” (ایضا ، وسندہ، صحیحٌ)
تنبیہ : نماز ِ تسبیح کی جماعت کروانا بدعت ہے ، کیونکہ نبی ئ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے اس کی جماعت ثابت نہیں ہے ۔جن نوافل کی جماعت سنت سے ثابت ہے ، انہی کوباجماعت ادا کرنا مشروع ہے ، ورنہ تو سننِ رواتب کی بھی جماعت جائز ہونی چاہیے ، حالانکہ آج تک کسی مسلمان نے ایسا نہیں کیا۔

Share:

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS