find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Aalim-E-Deen aur Hafij Quran ki Fazilat. (Part 02)

Deen ki Dawat dene wale aur Quran Hifj karne wale ki Fazilat.
سوال : مجھے عالم دین اور حافظ قرآن کی فضیلت کے بارے میں احادیث چاہئے؟؟

*جواب تحریری 2*
علم اور علماء ے دین کی جابجا فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ سورہ آل عمران میں فرمایا

{شَھِدَ اللٰہُ اَنَّہ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَالْمَلَائِکَۃُ وَاُولُواالْعِلْمِ} ’’اللہ ‘ فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے اپنے ساتھ فرشتوں اور پھر اہل علم کاذکرفرمایا۔امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں علم کی فضیلت اورعلماء کی عظمت کاذکرہے ۔ اگر علماء سے زیادہ کوئی معزز ہوتا تواس کانام بھی فرشتوں کے ساتھ لیا جاتا۔ اسی طرح سورہ طٰہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا

{وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْماً} کہ اپنے رب سے علم میں اضافہ کی دعا کرو۔

گویاعلم اتنی اہمیت والی چیز ہے کہ جس میں اضافہ کیلئے مانگنے کا نبی کریم جیسی ہستی کوحکم دیاجا رہاہے ۔اگر اس سے زیادہ اہمیت والی کوئی چیز ہوتی تو اس کے مانگنے کا حکم بھی دیا جاتا۔(قرطبی) سورہ عنکبوت میں فرمایا {وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا اِلَّا الْعَالِمُوْنَ} ہم ان مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان فرما رہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

مزید ارشاد ہوا: {بَلْ ھُوَ اٰیٰتٔ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْعِلْمَ} بلکہ یہ قرآن تو روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں ‘ہماری آیتوں کا منکر بجز ظالموں کے اور کوئی نہیں۔

سورہ فاطر میں فرمایا: {اِنَّمَایَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰؤُا} اہل علم نے کہا یہ آیت علماء کی شان بیان کرتی ہے اور اس امتیاز کو حاصل کرنے کیلئے اللہ سے تقوی اور خشیت ضروری ہے۔ یاد رکھو کہ علم محض جان لینے کانام نہیں، خشیت و تقویٰ کا نام ہے۔ عالم وہ ہے جو رب سے تنہائی میں ڈرے اور اس میں رغبت رکھے اور اس کی ناراضگی سے بچے ۔ سورہ زمر میں فرمایا: پوچھو بھلا علماء اور جہلاء برابر ہوسکتے ہیں؟ حالانکہ نصیحت تو عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں ۔

فضیلت علم و علماء کا باب امام بخاری نے کتاب العلم میں قائم کیا ہے۔ باب العلم قبل القول والعمل اس میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ذکرکی’’ کہ جوکوئی حصول علم کیلئے نکلتا ہے اللہ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ (مسلم) حضرت صفوان بن عسال سے مرفوعا ًروایت ہے کہ طالب علم کے پاؤں کے نیچے فرشتے پربچھاتے ہیں تاکہ وہ راضی رہے اور حصول علم میں دل لگا کر مشغول رہے۔ (ترمذی) حضرت کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں مسجد دمشق میں حضرت ابودرداء کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مدینہ منورہ سے ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاننے کیلئے آیا۔ حضرت ابودردا ء نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو علم دین کیلئے نکلتا ہے اللہ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے ۔ بے شک فرشتے طالب دین کے پاؤں کے نیچے پر بچھاتے اور ارض وسماء کی ساری مخلوق حتی کہ سمندروں کی مچھلیاں گہرے پانیوں میں ان کیلئے استغفار کرتی ہیں۔ عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں کے چاندکی سارے ستاروں پر۔ علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ۔یادرکھو کہ انبیاء کا ورثہ درہم ودینار نہیں ہوتا بلکہ علم دین ہوتا ہے جو جتنا زیادہ حاصل کرے گا اتنی ہی فضیلت حاصل کرسکے گا۔ (ابوداود کتاب العلم )

دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالم کی عابد پر فضیلت اتنی ہے جتنی میری فضیلت تم میں سے عام مسلمان پر ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتے اور ارض وسماء کی ساری مخلوق ، حتی کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں پانی میں معلم خیر کیلئے دعائے رحمت بھیجتی ہیں۔(ترمذی وابوداود)

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور بے شک میں علم بانٹنے والا ہوں اور اللہ مجھے عطا فرمانے والے ہیں۔ یہ امت ہمیشہ خیر پر رہے گی‘ انہیں خوار کرنے والا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتیٰ کہ اللہ کا فیصلہ آجائے۔ (بخاری)

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS