find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Musa Alaihe Salam Nange Ho gaye they Ya yah iljam hai?

Kya Musa Alaihe Salam Nange Ho gaye they?
Musa Alai Salam ko unki Qaum ne kaun kaun si Pareshaniya Di?
♦️کیا موسی علیہ السلام ننگے ہو گئے؟
حافظ ابو یحیٰی نورپوری

📌قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا؛
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا. {الأحزاب: 69}
"ایمان والو، ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ، جنہوں نے موسی علیہ السلام کو اذیت دی، تو اللہ تعالی نے ان کے بیان کردہ عیب سے موسی علیہ السلام کو پاک ثابت کر دیا، موسی علیہ السلام اللہ کے ہاں عزت وشرف والے ہیں."
✨موسی علیہ السلام کی قوم نے انہیں کون سی اذیت دی؟ انہوں نے وہ کون سی باتیں کیں، جن سے موسی علیہ السلام رنجیدہ وکبیدہ خاطر ہو گئے؟
اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ یہاں اذیت سے مراد قوم کا موسی علیہ السلام پر ایسے عیب کا الزام تھا، جسے موسی علیہ السلام خود صاف نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ اگر ایسا ممکن ہوتا تو آپ اذیت میں نہ پڑے رہتے، بل کہ اپنی بے عیبی دکھا کر اس اذیت سے بچ جاتے. جب موسی علیہ السلام بے بس ہو گئے تو اللہ تعالی نے لوگوں کے سامنے ثابت کیا کہ آپ اس عیب سے پاک ہیں. یہ ثبوت اتنا واضح تھا کہ ان لوگوں کی زبانیں بند ہو گئیں، وہ دوبارہ یہ الزام لگانے کی جسارت نہیں کر سکے، یوں موسی علیہ السلام ان کی اذیت سے محفوظ ہو گئے.
📌اللہ تعالی نے کس طرح ثابت کیا کہ موسی علیہ السلام بے عیب ہیں؟ وہ عیب کیا تھا جس سے پاک ہونے کی موسی علیہ السلام خود وضاحت نہ دے سکے؟ بات تقریبا تقریبا سمجھ میں آ ہی رہی ہے. موسی علیہ السلام کو کسی ایسے عیب کا الزام دیا جا رہا تھا، جو ان میں نہیں تھا، لیکن قوم کو اس حوالے سے ثبوت بھی نہیں دے سکتے تھے. اللہ تعالی نے ایسا انتظام کر دیا جس سے موسی علیہ السلام کے ثبوت دئیے بغیر قوم کو خود ہی ثبوت مل گیا.
💐 اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری (279) وغیرہ میں یہ حدیث مذکور ہے کہ موسی علیہ السلام کی قوم کے لوگ پانی کے چشمے وغیرہ پر کپڑے اتار کر اکٹھے نہاتے تھے، موسی علیہ السلام ایسا نہیں کرتے تھے، بل کہ اکیلے میں نہاتے تھے. قوم کے لوگوں نے سمجھا کہ شاید موسی علیہ السلام کے ہمارے ساتھ مل کر نہانے کہ وجہ ان کا کوئی جسمانی عیب ہے. بعض نے کہہ دیا کہ موسی علیہ السلام کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، اس لیے وہ اپنا یہ عیب چھپانے کے لیے اکیلے میں نہاتے ہیں. قوم نے جب ایسی باتیں شروع کیں تو موسی علیہ السلام کو اس سے تکلیف پہنچی، بے بسی بھی ایسی کہ کسی کو اپنا جسم دکھا بھی نہ سکتے تھے کہ لو دیکھ لو، میں بے عیب ہوں. لیکن قوم کی طرف سے اذیت تھی کہ دن بدن بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی. پھر اللہ تعالی نے قوم کو ان کی بے عیبی دکھانے کا یہ انتظام فرمایا کہ جب موسی علیہ السلام اکیلے میں پانی میں نہا رہے تھے، کپڑے اتار کر کنارے ایک پتھر پر رکھے تھے، جب نہا کر باہر آ رہے تھے، وہ پتھر اللہ کے حکم سے چل پڑا. موسی علیہ السلام پتھر کے پیچھے بھاگے، پتھر آگے آگے اور موسی علیہ السلام پیچھے پیچھے. پتھر قوم کے پاس پہنچا تو قوم نے دیکھ لیا کہ موسی علیہ السلام کے ان کے ساتھ نہانے کہ وجہ وہ عیب نہیں تھا جس کا اتہام وہ لگا رہے تھے، بل کہ موسی علیہ السلام کی شرم وحیا تھی.
🎨 منکرین حدیث اس آیت کی کوئی معقول تفسیر تو کر نہیں سکے، الٹا تفسیر پر مشتمل اس صحیح حدیث پر اعتراض داغنا شروع کر دئیے. کہنے لگے کہ یہ حدیث تو عصمت انبیاء کے خلاف ہے. موسی علیہ السلام کا قوم کے سامنے بے لباس ہو جانا ان کی عصمت کے خلاف ہے.
♦️یہ لوگ بھی عجیب مخلوق ہیں، دعوی یہ ہے کہ قرآن کافی ہے، حدیث رسول کی بھی ضرورت نہیں، لیکن عصمت کے پیمانے اپنی عقل سے گھڑتے نظر آتے ہیں. کیا ان کے نزدیک قرآن انبیاء کی عصمت کے اصول بتانے میں کافی نہیں؟ چودہ سو سال سے صحابہ وتابعین اور ائمہ دین سمیت پوری امت کی عقل اس حدیث پر معترض نہیں ہوئی، ساری امت کی عقل کو رد کر کے یہ لوگ اس حدیث کو چھوڑتے ہیں، لیکن دوسری طرف اپنی عقل کو ماخذ دین بنا رہے ہوتے ہیں.
♦️قرآن کریم کی کس آیت میں ہے کہ نہ چاہتے ہوئے غیر اختیاری حالت میں بے لباس ہو جانا عصمت کے خلاف ہے؟ اگر کوئی مسلمان بے اختیار کسی کے سامنے بے لباس ہو جائے تو کیا وہ بے عصمت ہو جائے گا؟
📢 دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں بے لباس ہونے سے مراد کیا ہے؟ کیا الف ننگا ہونا مراد ہے یا عام لباس سے عاری ہونا؟ کیا موسی علیہ السلام بالکل ننگے ہو کر تالاب یا چشمے وغیرہ میں نہا رہے تھے یا کپڑے اتار کر غسل کے لیے پہنا جانے والا ازار پہنا ہوا تھا؟
علماء کے ایک گروہ کا رجحان یہی ہے کہ موسی علیہ السلام عام لباس اتار کر غسل کے لیے خاص ازار باندھے ہوئے تھے. موسی علیہ السلام بھیگے ہوئے جسم کے ساتھ صرف ازار پہنے ہوئے قوم کے سامنے جانے سے بھی فطری شرم محسوس کر رہے تھے.
اس پر منکرین حدیث یہ حرف اٹھاتے ہیں کہ پھر قوم کو موسی علیہ السلام کے خصیتین کا سلامت ہونا کیسے معلوم ہوا؟ تو جواب واضح ہے کہ حدیث میں قوم کی طرف سے لگایا گیا عیب یہ تھا کہ موسی علیہ السلام کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں. "آدر" کے لفظ کو عربی ڈکشنری سے کھنگال کر تسلی کی جا سکتی ہے. بھیگے ہوئے جسم پر ازار جسم سے چپکا ہوتا ہے، جس سے یہ صاف پتا چل سکتا ہے کہ کسی پر لگایا گیا مذکور عیب موجود ہے یا نہیں؟
📌بس اتنی سی بات منکرین کی عقل میں نہیں سماتی، بل کہ ہم تو علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ ان کی اکثریت ہٹ دھرمی کی بنا پر جانتے بوجھتے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے بار بار ایسے بودے اعتراضات دوہراتے رہتے ہیں اور انہی کو آڑ بنا کر صحابہ کرام سے لے کر ائمہ دین تک سب کو گالیاں دیتے رہتے ہیں، حالانکہ علماء ان اعتراضات کے جوابات دیتے رہتے ہیں. ابھی بھی آپ دیکھ لیجیے گا کہ بجائے ان ساری دلیلوں کو مدنظر رکھ کر کوئی جواب دینے کے، ڈھیٹ پن اختیار کرتے ہوئے منکرین اپنی اندھی عقل کو اپنا ماخذ شریعت بناتے اور اسے پوجتے نظر آئیں گے.
اللہ تعالی انہیں ہدایت دے یا اپنی زمین کو ان ظالموں سے پاک کر دے. آمین

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS