find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Khudkushi karne wala Jannat me Jayega ya Nahi?

Khudkushi (Suicide) Karne wala Jannat me Jayega ya nahi?
Khudkushi Karne wale ke bare me Islam kya Kahta hai?
*خود کشی کرنے والا جنت میں جاے گا نہیں*
الحمد للہ :

خود كشى كبيرہ گناہ ميں شمار ہوتى ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا ہے كہ خود كشى كرنے والے شخص كو اسى طرح كى سزا دى جائےگى جس طرح اس نے اپنے آپ كو قتل كيا ہو گا.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5442 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 109 ).

اور ثابت بن ضحاك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے دنيا ميں اپنے آپ كو كسى چيز سے قتل كيا اسے قيامت كے روز اسى كا عذاب ديا جائيگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5700 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 110 ).

اور جندب بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم سے پہلے لوگوں ميں ايك شخص زخمى تھا جس اور وہ اسے برداشت نہ كر سكا تو اس نے چھرى ليكر اپنا ہاتھ كاٹ ليا اور خون بہنے كى وجہ سے مر گيا، تو اللہ تعالى نے فرمايا: ميرے بندے نے اپنى جان كے ساتھ جلدى كى ہے، ميں نے اس پر جنت حرام كر دى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3276 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 113 ).

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بطور سزا اور دوسروں كو اس سے دور ركھنے اور روكنے كے ليے كہ وہ ايسا كام مت كريں، خود كشى كرنے والے شخص كى نماز جنازہ بھى نہيں پڑھائى، اور دوسرے لوگوں كو اس كى نماز جنازہ پڑھنے كى اجازت دى، اس ليے اہل علم اور فضل و مرتبہ والے لوگوں كے ليے مسنون يہ ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ كى پيروى اور اتباع كرتے ہوئے خود كشى كرنے والے شخص كى نماز جنازہ ادا نہ كريں.

جابر بن سمرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس ايك شخص لايا گيا جس نے اپنے آپ كو تير كے ساتھ قتل كر ليا تھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كى نماز جنازہ ادا نہيں فرمائى"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 978 ).

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

المشاقص: چوڑے تير كو كہتے ہيں.

اس حديث ميں يہ دليل ہے كہ خودكشى جيسى نافرمانى كرنے والے شخص كى نماز جنازہ نہيں ادا كى جائيگى.

عمر بن عبد العزيز، اوزاعى رحمہما اللہ تعالى كا يہى مذہب ہے، اور حسن، نخعى، قتادہ، مالك، ابو حنيفہ، شافعى، اور جمہور علماء كرام رحمہم اللہ تعالى كا مسلك ہے كہ اس ك نماز جنازہ ادا كى جائيگى.

اور اس حديث كا انہوں نے جواب ديتے ہوئے كہا ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بطور سزا اور لوگوں كو اس طرح كے كام سے منع كرتے ہوئے خود تو نماز جنازہ ادا نہيں فرمائى، تاہم صحابہ كرام كو اس كى نماز جنازہ ادا كرنے كا حكم ديا تھا. انتہى

ديكھيں: شرح المسلم للنووى ( 7 / 47 ).

اس كا معنى يہ نہيں كہ ـ اگر اس لڑكى كى خود كشى ثابت ہو جائے تو ـ اس كے ليے مغفرت اور رحمت كى دعاء نہ كى جائے، بلكہ تمہارے ليے تو يہ حتمى چيز ہے كہ اس كے ليے مغفرت اور رحمت كى دعا كريں، كيونكہ وہ اس كى محتاج اور ضرورتمند ہے.

اور پھر خود كشى كوئى كفر تو نہيں جو دائرہ اسلام سے خارج كر دے جيسا كہ بعض لوگوں كا خيال اور گمان ہے، بلكہ يہ تو كبيرہ گناہ ہے جو اللہ تعالى كى مشئيت پر ہے قيامت كے روز اگر اللہ تعالى چاہے تو اسے معاف كر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اس ليے آپ اس كے ليے دعا كرنے ميں سستى اور كاہلى سے كام مت ليں، بلكہ اس كے ليے پورے اخلاص كے ساتھ مغفرت اور رحمت كى دعا كريں، ہو سكتا ہے يہ اس كى مغفرت اور بخشش كا سبب بن جائے.

واللہ اعلم .

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS