find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Kya Gair Muslim Ke Hath Se Iftaar Kar Sakte Hai?

سوال:کیا غیر  مسلم  کے ہاتھ سے افطار کرسکتے ہیں کہ نہیں؟

* * * * * * * * * * * *
تحرير:حافظ أبوزهير محمد يوسف بٹ ریاضی۔
* * * * * * * * * * * *

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خير خلق الله محمد بن عبد الله وعلى آله وأصحابه أجمعين.
اگر کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کو کوئی ھدیہ دے یا ، کچھ کھلائے اسے دعوت کرے اسے رمضان میں افطاری کرائے تو اس میں کوئی حرج نہیں شریعت کی رو سے ایسا کرنا جائز ہے۔

دلیل:انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی علیہ السلام کے پاس بکری کا گوشت لیکر آئی اور اس گوشت میں اسنے زہر ملایا تھا اور نبی علیہ السلام نے اس گوشت کو کھایا۔[رواه البخاري2474 ، صحیح مسلم2190]۔

دوسری دلیل:نبی علیہ السلام کو ایک بادشاہ نے ھدیہ میں ایک گدھا اور ایک کپڑا  دیا تھا آپ اس پر سوار ہوتے تھے۔ ۔  ۔  ۔ ۔ [حدیث ابو حمید ساعدی صحیح بخاری2990]۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اکیدر کندی نصرانی بادشاہ نے نبی علیہ السلام کو ھدیہ میں ریشم کا کپڑا دیا اور اسے علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور ان سے فرمایا کہ اسے فاطموں کے درمیان ڈوپٹہ بنا کر تقسیم کرو۔[صحیح بخاری حدیث نمبر:2472 ، مسلم2071]۔
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کافر کا ھدیہ قبول کرنا جائز ہے۔[شرح مسلم للنووي جلد14/ ص نمبر:50 ، 51].

      فتوی لجنہ دائمہ میں ہے کہ کافر کا ھدیہ اسکی دعوت اسکا کھانا قبول کر سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اگر اسکے مذھب کا کوئی تھوار یا ان کے مذھب کا کوئی مذھبی شعار کے مواقع پر ہو اس صورت میں انکی دعوتیں قبول کرنا انکی مذھبی دعوتیں ھدایا قبول کرنا جائز نہیں ہے ، کیونکہ نبی علیہ السلام سے ثابت ہے کہ انہوں نے کافر کی دعوت کافر کے ھدایا قبول کئے جیساکہ بخاری ومسلم کی روایات سے ثابت ہے۔[فتاوی لجنہ دائمہ470/10]۔
علامہ ابن عثیمن رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی غیر مسلم مٹھائی وغیرہ بطور ھدیہ پیش کرے اسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ انکے دینی شعار کے ھدایا وغیرہ قبول کرنا جائز نہیں۔۔ ۔ ۔ [فتاوى نور على الدرب24/2 ، مکتبہ شاملہ]۔

خلاصہ:اسے ثابت ہوا کہ غیر مسلم کے ھدیہ انکی طرف سے دیا گیا وہ پیسہ جو انہوں نے افطاری وغیرہ کے لئے دیا ہو قبول کرنا جائز ہے جیساکہ احادیث نبویہ سے معلوم ہوا کہ نبی علیہ السلام نے غیر مسلم کی دعوت انکی طرف سے دئے گئے ھدایا قبول کئے ہیں۔

هذا ماعندي والله أعلم بالصواب.
وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين.

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS