Aaj ke Daur me Agar Koi zina KAr le to Use Zina ki saja kaun dega ? Qazi ya Hukumat?
Kisi Musalman se Zina ho jaye to wah Kis ke pas jayega iska Zikr karne ke liye?
Zina Ki Saja kya hai Islam me aur yah Shadi Shuda ya Gair Shadi Shuda ke liye kitni saja hai?
بِسْـــــــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّـــــلاَم عَلَيــْــــكُم وَرَحْمَـــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه
سوال :::::
میں صحیح البخاری کی حدیث نمبر 5270 کا مطالعہ کر رہا تھا حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں::
کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن پھر وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گئے (اور زنا کا اقرار کیا) پھر انہوں نے اپنے اوپر چار مرتبہ شہادت دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم پاگل تو نہیں ہو، کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، پھر آپ نے پوچھا کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ہو چکی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عیدگاہ پر رجم کرنے کا حکم دیا۔ جب انہیں پتھر لگا تو وہ بھاگنے لگے لیکن انہیں حرہ کے پاس پکڑا گیا اور جان سے مار دیا گیا۔
حدیث ہے یا قیامت !!!!! اللہ اکبر کبیرہ !!!!!!! اللہ پاک صحابہ پر اپنی رحمتوں کا نزول کرے اور میرے گناہوں کو معاف کرے ۔
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد کچھ سوالات میرے ذہن میں آئے جسکی بابت آپ احباب کی طرف رجوع کیا اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آنے والے سوالات درج ذیل ہیں جن کے بارے رہنمائی درکار ہے تاکہ میں اپنی آخرت و عاقبت کا ساماں کر سکوں۔
سوال نمبر1: صحابی نے گناہ کیا اور بارگاہ رسالت میں اعتراف کیا گناہ کا تاکہ آخرت میں اس بابت سوال نہ ہو اس سے تو میرا یہ سوال ہے کہ اگر ہم سے کوئی گناہ بتقاضا بشریت سرزد ہو جائے تو ہم کس کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کریں تاکہ دنیا میں ہی اسکا خمیازہ بھگت لیں اور آخرت میں ہم سے اس بابت کوئی سوال نہ ہو کیونکہ وہ صحابہ جنت کی بشارت پانے والوں کا یہ حال ہے تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں اپنی تو ساری زندگی ہی گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہے ؟؟؟؟؟
سوال نمبر2: میری ناقص سمجھ کے مطابق گناہ کا اعتراف وقت کے حکمران قاضی کے سامنے کرنا بنتا ہے اور اسی قاضی حکمران کو سزا دینے کا اختیار ہے جیسا کہ اوپر حدیث میں ہے کہ صحابی نبی ﷺ کے پاس آیا جو کہ نبیوں کے امام ہیں ﷺ اگر میری یہ سمجھ درست ہے تو موجودہ ملک جو کہ پاکستان ہے جس میں میں رہتا ہوں ایک اسلامی ملک تو ہے لیکن یہاں اسلام نام کی چیز کوئی نہیں جن قوانین کو اسلامی قوانین سے منسوب کیا وہ اصل میں فقہ حنفی ہے اور فقہ حنفی کیا ہے بتانے کی ضرورت نہیں اور اکثر قوانین ایسے ہیں جو کہ انگریز کے ہیں انگریز ہندوپاک سے تو چلا گیا لیکن اپنے کچھ قانون یہاں چھوڑ گیا خیر یہ تو ایک داستان ہے داستانوں میں اگر میری سمجھ درست ہے تو ہم یہاں کس کے سامنے اپنے آپکو سزا کے لئے پیش کریں تاکہ دنیا میں ہی اپنے اس گناہ سے چھٹکارا حاصل کر لیں ؟؟؟؟؟
سوال نمبر3: مجھ سے اگر کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے کسی قسم کا بھی اور میں اس گناہ کو ختم کرنے کے لئے سزا کے طور پر اپنے آپکو پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو سکے تو کیا میری استغفار میرے اس گناہ کو ختم کر دے گی اور کیا اللہ میری اس استغفار کے بدلے میرے اس گناہ کو معاف کر کے آخرت میں بھی مجھ سے اس بابت سوال نہ کرے اور نہ اس بابت کوئی مواخذہ کرے کیا ایسا ممکن ہے ؟؟؟؟
سوال نمبر4: ایسے کونسے اعمال ہیں جو کبیرہ گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں میرے علم میں تو ابھی تک کبیرہ گناہوں کا خاتمہ اس گناہ سے پکی سچی توبہ ہے لیکن انسان ہوں پھر بھی اگر کوئی ایسا گناہ سرزد ہو جائے تو ایسا کونسا عمل ہے جو کبیرہ گناہوں کو جڑ سے ختم کر دیتا ہے ؟؟
سوال نمبر5: کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں مجھے انکی تفصیل جاننی ہیں کچھ میرے علم میں ہیں لیکن میں جاننا چاہتا ہوں سارے کبیرہ گناہوں کے بارے تاکہ حتی الامکان کوشش کر سکوں ان سے بچ سکوں ؟؟؟؟؟
سوال نمبر6: اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ مالک کائنات اس قدر رحیم و کریم ہے کہ وہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے جہاں اس مالک کی اس قدر مہربانی و رحمت کا تذکرہ دیکھتا ہوں تو وہی جہنم کی ہولناکیوں کا منظر ، قبر کی تاریکی ، پل صراط کی ہولناکی ، سورج کی تپش سے نفسی نفسی کا عالم اللہ اکبر کبیرہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جہاں اسکا یہ فرمان یاد آتا ہے کہ اسکی رحمت اسکے غصے پر حاوی ہے وہیں اسکا یہ فرمان بھی یاد آتا ہے کہ اے انسان کیا تو بے خبر ہے اس قیامت کے دن سے جس دن اعمال کا پہاڑ لے کر آئے گا انسان اور اسکے وہ اعمال ہوا ہو جائیں گے اور وہ عمل اسکےکسی کام نہ آئیں گے ان دونوں میں جہاں ایک طرف خوشخبری ہے وہیں دوسری طرف ڈر بھی ہے ؟؟؟؟؟
آپکو بھی وقت کی قلت کا سامنا رہتا ہے مجھے اس بات کا بھی خیال ہے اس بابت مزید کچھ سوالات ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ میرے انہی سوالوں کے جواب میں انکا جواب بھی موجود ہو گا ان شاء اللہ لہذا زیادہ زحمت دینا آپکو مجھے بھی اچھا نہیں لگتا اور کوشش کرتا ہوں کہ سوال مختصر ہی کروں اور آپکو زحمت تب ہی دیتا ہوں جب کسی ابہام کا شکار ہوتا ہوں تو بجائے اسکے کہ میں اپنی قیاس آرائیوں پر مفروضوں پرکوئی نتیجہ اخذ کر کے اسی کو حجت مان لوں اہل علم سے رہنمائی لینا ضروری سمجھتا ہوں۔
نوٹ: میرے ان سوالات کو بغور پڑھیے گا اور الشیخ سے ڈسکس کیجیے گا پھر ہی انکا جواب لکھیے گا جب آپکو آسانی ہو میں ان شاء اللہ منتظر رہوں گا اور ان شاء اللہ ان سوالات کے بعد کچھ سوالات تقدیر سے متعلق ایک حدیث ہے اس بابت میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں موضوع چونکہ تقدیر کا ہے لہذا اس بابت زیادہ سوال بھی درست نہیں کہیں چھوٹی سی غلطی بھی دائرہ ایمان سے خروج کا سبب نہ بن جائے لیکن ان شاء اللہ میری نیت صرف اور صرف اس حدیث کی بابت رہنمائی ہے خیر میں ابھی اس بارے مزید مطالعہ کر لوں پھر ہی اس بابت تفصیل سے سوالات عرض کروں گا ان شاء اللہ الرحمن
موجودہ سوالات کا منتظر رہوں گا اللہ پاک اپکو اور الشیخ کو عزتوں سے برکتوں سے نوازے دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا کرے حاسدین کے حسد و شر سے محفوظ رکھے اور آپکی محنت اور دین اسلام کی اشاعت کو آپکے لئے صدقہ جاریہ بنائے اور آپ کے لئے اس کام کوبخشش کا زریعہ بنائے ۔ جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء الدنیا والاخراہ
͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡ ͜͡
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
◐ عزیز دینی بھائی اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے بندے !!! آپ کو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور متقی بندوں میں شامل فرمائے کہ آپ نے وہ موضوع چھیڑا ہے جو یقینًا ان شاءاللہ العزیز ان بے شمار لوگوں کو مستفید کرے گا جو اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دامنگیر رکھتے ہیں ، لیکن اسکے ساتھ ظالم معاشرے کے رسوا کن رویہ انکے لبوں کو سی دیتا ہے مگر اپنے اللہ کے غضب پر رحمت کو غالب پاتے ہیں ۔
ہمارے برادرِ اسلام آپ كو یہ بات معلوم ہونا چاہیے كہ مسلمان شخص كو لائق نہيں كہ اس نے جس گناہ سے توبہ كر لى ہو اسے عظيم اور بڑا سمجھے؛ كيونكہ اللہ تعالى كى رحمت و مغفرت اور اس كى معافى و درگزر اس كے گناہوں سے بھى بڑھ كر ہے. جب اللہ تعالیٰ شرکِ اکبر کے سنگین ترین گناہ کو توبہ سے مٹا دیتا ہے تو اسکے بعد کوئی گناہ مثل شرکِ اکبر کے نہیں رہ سکتا ۔
بے شک اسلام انصاف پسند دین ہے ۔ اسلام کی نافذ کی گئی کوئی حد ظلم نہیں بلکہ معصیت کو لگام دینے کے لیے بے مثال اقدام ہوتی ہیں ۔
اللہ تعالی نے زانی مرد اور زانیہ عورت کے لیے حدود سزا مقرر کی ہے جسکی رو سے زانی مرد و عورت اگر شادی شدہ ہوں تو انہيں رجم کیا جائےگا ، اور جو شادی شدہ نہ ہو اسے ایک سو کوڑے مارے جائيں گے ۔ اور زنا كو ثابت کرنے كے ليے چار مسلمان اور آزاد اور عادل گواہوں كى گواہى شرط ہے ۔ جنہوں نے اپنى آنكھوں سے زنا ديكھا ہو ۔ امام الماوردى كہتے ہيں:
" اور زنا ميں گواہى كا طريقہ اور وصف يہ ہے كہ: اس ميں گواہوں كا يہ كہنا كافى نہيں: ہم نے اسے زنا كرتے ديكھا، بلكہ انہيں وہ وصف بيان كرنا ہو گا جس زنا كا انہوں نےمشاہدہ كيا ہے، اور وہ اس طرح كہيں: ہم نے مرد كا عضو تناسل عورت كى شرمگاہ ميں اس طرح داخل ہوتے ديكھا جس طرح سرمہ ڈالنے كى سلائى سرمہ دانى ميں داخل ہوتى ہے.
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ماعز رضى اللہ تعالى عنہ كے اقرار كو ثابت كرنے كے ليے فرمايا:
كيا تو نے اس طرح دخول كيا جس طرح كہ سرمہ ڈالنے والى سلائى سرمہ دانى ميں داخل ہو جاتى ہے، اور پانى كا ڈول كنوئيں ميں ؟
تو اس نے كہا: جى ہاں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے رجم كرنے كا حكم ديا "
اسلام شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی شرعئی سزا مقرر کرتا ہے اور رجم و سنگسارشادی شدہ زانی اور غیر شادی شدہ کو کوڑوں کی سزا اور حد اس وقت لگائي جاۓ گی جب کہ جماع کیا جاۓ اور ایک دوسرے کی شرمگاہ آپس میں داخل ہو ۔ یہ شرعئی حد ہے جسے بدلنے کا کسی بشر کو اختیار نہیں ۔ یہاں تک کہ اس کے لیے سفارش کرنا بھی نا پسندیدہ ہے۔ مجرم کے اعتراف پر یا چار گواہوں کی شہادت (Witness) دینے پر نبی کریم ﷺ نے شادی شدہ زانی پر رجم یعنی سنگساری کی سزا نافذ فرمائی ہے۔ یہ حد جاری کی گئی۔ جو لوگ اس حد شرعئی سے انحراف کرتے ہیں وہی لوگ اسلامی شریعت کو اپنی خواہشاتِ نفسانی کا کھلونا بنانا چاہتے ہیں ۔اس حد شرعئی کے سلسلے میں ہم پہلے فرامین ِرسول کریمﷺ بیان کرتے ہیں :
➊ عن عائشة قالت: قال رسول اﷲ ﷺ (لا یحل دم امرئ مسلم یشھد أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدًا رسول اﷲ إلا في إحدٰی ثلاث: رجل زنیٰ بعد إحصان فإنه یرجم ورجل خرج محاربًا باﷲ ورسوله فإنه یقتل أو یصلب أو ینفی من الأرض أو یَقتل نفسا فیُقتل بھا)
ابوداود:4353، قال الالبانی:'صحیح
''حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، مگر تین صورتوں میں اس کا خون مباح ہوجاتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے، اس جرم پر اسے سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے تو (اس جرم کی پاداش میں ) اسے قتل کیا جائے گا یا اسے سولی دی جائے گی یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کر دے تو اس پر اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کر دیا جائے گا۔''
➋ عن عبداﷲ قال: قال رسول اﷲ ﷺ (لا یحل دم امرئ مسلم یشھد أن لا إله إلا اﷲ وأني رسول اﷲ إلا بإحدی ثلاث: النفس بالنفس والثیب الزاني والمفارق لدینه التارك للجماعة)
صحیح بخاری :6878
''حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کسی مسلمان کا خون جائز نہیں جب کہ وہ یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین حالتوں میں اس کا خون مباح ہوگا۔ پہلی یہ کہ قصاص کی حالت میں ، دوسری یہ کہ شادی شدہ زانی ہونے کی صورت میں اور تیسری یہ کہ دین کو چھوڑنے اور جماعت ِمسلمین سے الگ ہونے کی شکل میں ۔''
➌ عن بریدة قال جاء ماعز بن مالك إلی النبي ﷺ فقال یا رسول اﷲ! طهرني فقال: (ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني۔فقال رسول اﷲ ﷺ: )ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتُب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني فقال النبي ﷺ مثل ذلك۔ حتی إذا کانت الرابعة قال له رسول اﷲ ﷺ: (فیم أُطهرك؟) فقال: من الزنا۔ فسأل رسول اﷲ ﷺ : (أبه جنون؟) فأُخبِر أنه لیس بمجنون فقال: (أشرب خمرا؟) فقام رجل فاستنکه فلم یجد منه ریح خمر۔قال: فقال رسول اﷲﷺ: (أزنیتَ؟) فقال نعم۔ فأمر به فرُجم
صحیح مسلم:1695
''بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالکؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسولؐ! مجھے پاک کر دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو، چلا جا اور اللہ سے بخشش مانگ اور توبہ کر۔ تھوڑی دور بعد وہ پھر لوٹ آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پاک کر دیجئے۔ اللہ کے نبیؐ نے پھر اسی طرح کہا حتیٰ کہ جب چوتھی مرتبہ ایسا ہوا تو آپ ؐ نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں ؟ اُنہوں نے کہا: زنا سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ دیوانہ تو نہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ مجنوں نہیں ۔ پھر آپ ؐنے پوچھا کیا اس نے شراب پی ہے؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور ان کو سونگھا تو شراب کی بو نہ پائی، پھر آپؐ نے فرمایا :کیا تو نے زنا کیا ہے ؟ ماعز ؓ بولے: ہاں ! پس آپؐ کے حکم پر اُنہیں رجم کر دیا گیا۔''
➍ عن جابر بن عبد اﷲ أن رجلا من أسلم جاء إلی رسول اﷲ ﷺ فاعترف بالزنا فأعرض عنہ ثم اعترف عنہ، حتی شھد علی نفسہ أربع شہادات فقال لہ النبي: (أبك جنون؟) قال: ''لا'' قال:(أحصنت)قال: ''نعم'' قال: فأمر به النبي ﷺ فرُجم في المُصلّٰی، فلمّا أذلقته الحجارة فَرَّ،فأدرك فرُجم حتی مات
ابو داود:4430، قال الالبانی:'صحیح
''حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، مگر تین صورتوں میں اس کا خون مباح ہو جاتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے، اس جرم پر اسے سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے تو (اس جرم کی پاداش میں ) اسے قتل کیا جائے گایا اسے سولی دی جائے گی یا اسے جلاوطن کر دیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اس پر اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کر دیا جائے گا۔''
➊ عن جابر بن عبد اﷲ أن رجلا من أسلم جاء إلی رسول اﷲ ﷺ فاعترف بالزنا فأعرض عنہ ثم اعترف عنہ، حتی شھد علی نفسہ أربع شہادات فقال لہ النبي: (أبك جنون؟) قال: ''لا'' قال:(أحصنت)قال: ''نعم'' قال: فأمر به النبي ﷺ فرُجم في المُصلّٰی، فلمّا أذلقته الحجارة فَرَّ،فأدرك فرُجم حتی مات
ابو داود:4430، قال الالبانی:'صحیح
''حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ اَسلم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جرمِ زنا کا اعتراف کیا، آپؐ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، اس نے پھراقرار کیا اور جب چار دفعہ قسم کھا چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:کیاتو پاگل ہے؟'' اُس نے جواب دیا:'نہیں ' آپؐ نے پوچھا: ''کیا تو شادی شدہ ہے؟''وہ بولا: 'جی ہاں ' پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ لوگ اسے عیدگاہ کی طرف لے گئے اور رجم کرنے لگے۔ جب اسے پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا، لوگوں نے تعاقب کرکے اسے پھر جالیا اور سنگسار کردیا۔''
➋ عن أبي ھریرة قال: أتی رجل رسول اﷲ ﷺ وھو في المسجد فناداہ فقال یا رسول اﷲ! إني زنیت فأعرض عنه حتی ردَّدَ علیه أربع مرات، فلما شھد علی نفسه أربع شھادات، دعاہ النبي ﷺ فقال: (أبك جنون؟) قال: لا۔قال:(فھل أحصنت؟)قال : نعم۔ فقال النبي! : (اذھبوا به فارجموہ)
صحیح بخاری:6815
''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضورؐ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس آدمی نے آپؐ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسولؐ! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔'' آپؐ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی، اس آدمی نے آپ کو چار مرتبہ متوجہ کرنے کی کوشش کی پھر جس وقت اس نے چار دفعہ قسم کھا کر اپنے جرم کا اقرار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر پوچھا: ''کیا تو پاگل ہے؟ وہ بولا: 'نہیں ' آپؐ نے پوچھا: ''کیا تو شادی شدہ ہے؟'' جواب ملا: 'جی ہاں ' اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ''لوگو! اسے لے جا کر سنگسار کر دو۔''
➌ عن بریدة قال جاء ماعز بن مالك إلی النبي ﷺ فقال یا رسول اﷲ! طهرني فقال: (ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني۔فقال رسول اﷲ ﷺ: )ویحك ارجع فاستغفر اﷲ وتُب إلیه) قال: فرجع غیر بعید ثم جاء فقال: یا رسول اﷲ! طهرني فقال النبي ﷺ مثل ذلك۔ حتی إذا کانت الرابعة قال له رسول اﷲ ﷺ: (فیم أُطهرك؟) فقال: من الزنا۔ فسأل رسول اﷲ ﷺ : (أبه جنون؟) فأُخبِر أنه لیس بمجنون فقال: (أشرب خمرا؟) فقام رجل فاستنکه فلم یجد منه ریح خمر۔قال: فقال رسول اﷲﷺ: (أزنیتَ؟) فقال نعم۔ فأمر به فرُجم
صحیح مسلم:1695
''بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالکؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسولؐ! مجھے پاک کر دیجئے۔ آپؐ نے فرمایا: تیرا ستیاناس ہو، چلا جا اور اللہ سے بخشش مانگ اور توبہ کر۔تھوڑی دور بعد وہ پھر لوٹ آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پاک کر دیجئے۔ اللہ کے نبیؐ نے پھر اسی طرح کہا حتیٰ کہ جب چوتھی مرتبہ ایسا ہوا تو آپ ؐ نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں ؟ اُنہوں نے کہا: زنا سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ دیوانہ تو نہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ مجنوں نہیں ۔ پھر آپ ؐنے پوچھا کیا اس نے شراب پی ہے؟ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور ان کو سونگھا تو شراب کی بو نہ پائی، پھر آپؐ نے فرمایا :کیا تو نے زنا کیا ہے ؟ ماعز ؓ بولے: ہاں ! پس آپؐ کے حکم پر اُنہیں رجم کر دیا گیا۔''
◐ ہمارے معزز بھائی آپکے سوالات کے جوابات ایکدوسرے سے اتنے مربوط ہیں کہ انہیں الگ نمبر نہیں دیے جاسکتے ۔ لہٰذا ہم امیر کرتے ہیں کہ ہمارا جواب آپکے تمام سوالات کی طرف سے آپکو مطمئین کرے گا۔
زانی اور زانیہ جب مرتکبِ زنا ہو جائیں اور ان کا معاملہ حاکمِ وقت یا قاضی تک نہ پہنچے اور وہ توبہ صادقین کر لیں تو اب انکا معاملہ انکے اور اللہ کے بیچ ہے ۔ اس صورت میں حد شرعئی نافذ نہیں ہوگی
بے زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے کسی انسان سے اگر یہ گناہ سر زد ہو جائے تو وہ اس پر شرمندہ ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لیتا ہے تو قرآن میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے بارے میں فرماتا ہے :
وَ الَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ
اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لَا یَزۡنُوۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ یَلۡقَ اَثَامًا ﴿ۙسورةالفرقان / ۶۸﴾
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ
اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾
''★اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ ہی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرتا ہے وہ اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ قیامت کے دن اس کے لئے عذاب دوگنا کیا جائے گا اور وہ اس میں ذلیل ہو کر رہے گا ★مگر جن لوگوں نے ایسے گناہوں سے توبہ کر لی اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے گا اور اللہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے''۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ آدمی اگر زنا سے توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتے ہیں اور جب اس نے توبہ کر لی اور اس کا معاملہ حاکم تک نہ پہنچا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے دنیا میں اس پر حد لازم نہیں ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث ہے عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ سے بعض محرمات سے اجتناب کے لئے بیعت لی۔ ان میں ایک زنا بھی تھا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جس نے بیعت پوری کی اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو ان میں سے کسی چیز میں مبتلا ہو گیا اور اسے اس کی سزا دی گئی تو وہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گی اور اگر وہ کسی گناہ کو پہنچا تو اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا پس وہ اللہ کی طرف ہے۔ اگر چاہے اسے عذاب دے دے اور اگر چاہے تو اسے بخش دے'' (بخاری مع الفتح ۷/۲۶۰،۱۲/۷۵ یہ حدیث ترمذی ، نسائی اور دارمی میں بھی موجود ہے)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی سے زنا وغیرہ سرزد ہو گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اس کے اقرار اور اصرار کے بغیر دنیا میں اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی ۔ اس سے بڑھ کر اگر کسی کو کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی ایسی چیز معلوم ہوتی ہے جس سے اس پر حد لازم آتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آپس میں معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا:
''آپس میں حدود معاف کرو جو مجھ تک پہنچ گئی وہ واجب ہو گئی''
(صحیح سنن ابی دائود البانی ج۳٣، ص۸۲۸، صحیح سنن نسائی ج۳،ص۸۷۷۸)
مفہومِ حدیث یہ ہے کہ اگرمعاملہ امام، حاکم یا قاضی تک نہیں پہنچا تو حد واجب نہیں ہوتی جب تک وہ حاکم تک نہیں پہنچتی اس کا معاملہ اس کے ساتھ ہے ۔
تفسیر ابنِ کثیر میں عبداللہ بن عباس سے صحیح سند سے مروی ہے۔ ایک شخص نے پوچھا :
'' میں ایک عورت سے حرام کا ارتکاب کرتارہاہوں مجھے اللہ نے اس فعل سے توبہ کی توفیق دی۔ میں نے توبہ کر لی میں نے اس عورت سے شادی کا ارادہ کر لیا تو لوگوں نے کہا زانی مرد صرف زانیہ عورت اور مشرقہ عورت سے نکاح کر سکتاہے۔ ابنِ عباس نے کہا یہ اس بارے میں نہیں ہے تو اس سے نکاح کر لے اگر اس کا گناہ ہوا تو وہ مجھ پر ہے۔''
(تفسیر ابن کثیر عربی،ج ۳' ص۲۲۴)
مفہومِ حدیث یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت جنہوں نے بدکاری کا فعل کیا ہے اگر توبہ کر لیتے ہیں تو بغیر شرعی حد کے ان کا نکاح ہو سکتاہے کیونکہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نہیں کہا کہ پہلے حد لگوائو پھر نکاح کرو۔
◐ یہاں ایک اور مسئلہ واضح کیا جانا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مرجوع کی صورت میں توبہ کے بعد کیا مرد و عورت آپس میں شادی کر سکتے ہیں ؟ اس سلسلے میں الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا
کیازانی کی اس زانیہ سے شادی' جس سے اس نے زنا کیا ہو'انکے گناہوں
کا کفارہ شمار ہوگی؟ کیا شادی کر لینے سے حد معاف ہو جائے گی؟
زانی کے زانیہ سے شادی کفارہ شمار نہیں ہوگی کیونکہ زنا کا کفارہ دو ہی باتیں ہیں تو اس پر حد قائم کی جائے' جبکہ بات حاکم وقت کے پاس پہنچ گئی ہو یا وہ اس جرم (زنا) سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے اپنے عمل کی اصلاح کرے اور فتنہ و فحاشی کے مقامات سے دور رہے۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے تو اس زانی مرد و عورت کی آپس میں شادی حرام ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الزّانى لا يَنكِحُ إِلّا زانِيَةً أَو مُشرِكَةً وَالزّانِيَةُ لا يَنكِحُها إِلّا زانٍ أَو مُشرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى المُؤمِنينَ ﴿٣﴾... سورة النور
''بدکار مرد سوائے زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی (پاک باز عورت) سے نکاح نہیں کر سکتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے''۔
ہاں البتہ اگر وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی جناب میں خالص توبہ کر لیں' جو کچھ ہوا' اس پر ندامت کا اظہار کریں اور نیک عمل کریں تو پھر آپس میں شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں' جس طرح دوسرے مرد کیلئے اس عورت سے شادی کرنا جائز ہوگا اسی طرح اس کیلئے بھی اس صورت میں جائز ہوگا۔ زنا کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی اولاد اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گی۔ یہ اپنے باپ کی طرف منسوب نہیں ہوتی کیونکہ نبی ﷺ کے حسب ذیل ارشاد کے عموم کا یہی تقاضا ہے:
«الولد للفراش وللهاهر الحجر» (صحيح البخاري)
''بچہ صاحب بستر کیلئے اور زانی کیلئے پتھر ہے''۔
''عاہر'' کے معنی زانی کے ہیں اور حدیث کے معنی یہ ہیں کہ یہ بچہ اسکا نہیں ہوگا خواہ وہ توبہ کے بعد اس عورت سے شادی بھی کرلےکیونکہ شادی سے پہلے زنا کے پانی سے پیدا ہونیوالا بچہ اسکا نہیں ہوگااور نہ وہ اسکاوارث ہوگا خواہ وہ دعویٰ ہی کیوں نہ کرے کہ وہ اسکا بیٹا ہے کیونکہ یہ اس کا شرعی بیٹا نہیں ہے۔
فتاویٰ اسلامیہ
جلد : 3 / صفحہ : 404
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّــــــلاَم عَلَيــْـــــكُم وَرَحْمَـــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــاتُه







No comments:
Post a Comment