Allah ke Nabi ke baal mubarak ki Ziyarat ki haqeeqat.
« نبی کریمﷺ کےموئے مبارک کی زیارت کی حقیقت »
اسلامی مما لک کے متعدد شہروں سے اخبا را ت میں یہ خبر یں آتی ہیں کہ ان کے ہا ں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مو ئے مبا ر ک ہیں مثلاً تر کی کے دار الحکو مت استنبو ل میں کسی نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس 43 مو ئے مبارک تھے، ان میں سے 25 بال ہد یہ کے طور پر مختلف سر برا ہوں کو دے دئیے گئے ہیں اور اس کے پا س 18 با ل مو جو د ہیں، ہمارے ہا ں پچھلے دنوں جا معہ اشر فیہ لا ہو ر کے مہتمم کی طرف سے اخبا را ت میں یہ دعویٰ شا ئع ہو ا تھا کہ ان کے پاس بھی مو ئے مبا ر ک ہیں جنہیں بہترین عطر سے غسل دیا جا تا ہے، نیز خواتین و حضرا ت درودشریف کا ورد کرتے ہو ئے ان کی زیا رت کر تے ہیں ،انہو ں نے یہ فتو یٰ بھی دیا کہ جو آنکھ ان مو ئے مبا رک کی زیا رت کر ے گی اس پر جہنم کی آگ کچھ اثر نہیں کر ے گی ، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ موئے مبا ر ک سعو دیہ کے فر ما نر وا ملک عبدالعزیز مر حو م نے اپنے ایک ہند و ستا نی معا لج حکیم نا بینا دہلی والے کو تبرکا دئیے تھے، الی آخر ہ۔
رمضا ن المبا رک کی ستائیسویں اور شعبا ن المعظم کی پند رھویں را ت کو ان با لو ں کی زیا رت کا خاص اہتمام کیا جا تا ہے ، حا لانکہ یہ سب بلا دلیل دعو ے ہیں ، سعو دی حکو مت اور پا کستا ن میں سعو دی سفا رت خا نہ سے اس تمام خو د ساختہ پلند ے کے جھو ٹ ہو نے کی تصد یق کی جا سکتی ہے، پھر اس فتو یٰ کی بھی کوئی شرعی حیثیت نہیں بلکہ لو گو ں کو بے عمل بنا نے کے لئے ایک مؤثر تحر یک ہے، شر یعت مطہرہ میں صرف دو قسم کی آنکھیں ہیں جن پر جہنم کی آگ حرا م ہے۔
(1)وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں پہرہ دیا ہو ۔
(2) وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے اشکبا ر ہو ئی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثا ر شر یفہ اگر صحیح ہو ں تو ان سے دو شر ا ئط کے ساتھ تبرک لیا جا سکتا ہے :
(1)تبرک لینے وا لا شر عی عقیدہ اور اچھے کردار کا حا مل ہو جو شخص سچا مسلما ن نہیں اسے اللہ تعا لیٰ اس قسم کے تبر کا ت کا کو ئی فا ئدہ نہیں پہنچا ئیں گے ۔
(2)جو شخص تبر ک حا صل کر نا چا ہتا ہو اسے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی آثا ر شر یفہ میں سے کو ئی شے حا صل ہو اور پھر وہ اسے استعمال بھی کرے، محض دیکھ لینے سے کو ئی فا ئدہ نہیں ملے گا، ہم مذکو رہ حقائق کی روشنی میں علی وجہ البصیر ت کہتے ہیں کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں با لو ں اور اسی طرح کی دیگر اشیاء میں سے کچھ بھی با قی نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے بس میں ہے کہ وہ قطعی اور یقینی طور پر یہ ثا بت کر سکے کہ فلا ں چیز وا قعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ جب صورت حا ل یہ ہے تو پھر ان موئے مبا رک کے سا تھ عملی طور پر تبرک تو ہما رے اس دور میں ممکن نہیں۔
آخر میں ہم اس امر کی وضاحت کر نا ضر وری خیا ل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم نے اگر چہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے آثا ر شر یفہ سے تبر ک حا صل کیا اور آپ کے لعا ب دھن کو اپنے چہرو ں اور جسمو ں پر ملا اور آپ نے انہیں منع نہیں فرما یا ،ایسا کرنا جنگی حا لا ت کے پیش نظر انتہا ئی ضرو ری تھا مقصد یہ تھا کہ کفا ر قر یش کو ڈرا یا جا ئے اور ان کے سا منے اس با ت کا اظہا ر کیا جائے کہ مسلما نو ں کا اپنے راہبر اور راہنما سے تعلق کس قدر مضبو ط ہے، انہیں اپنے نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر وا لہا نہ عقیدت و محبت ہے، وہ آپ کی خدمت میں کس قدر فنا ہیں اور وہ کس کس اندا ز سے آپ کی تعظیم بجا لا تے ہیں لیکن اس کے با وجو د اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے چھپا یا جا سکتا ہے کہ اس صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑ ے حکیما نہ انداز میں اور لطیف اسلو ب کے سا تھ مسلما نو ں کی تو جہ اعما ل صا لحہ کی طرف مبذول کر نے کی کوشش فرما ئی جو اس قسم کے تبر کا ت کو اختیا ر کر نے سے کہیں بہتر ہیں۔ مند ر جہ ذیل حدیث اس سلسلہ میں ہما ر ی مکمل را ہنمائی کر تی ہے :
"حضرت عبد الر حمن بن ابوقراد رحمۃ اللہ علیہ سے روا یت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن وضو فر ما یا ، آپ کے صحا بہ کرا م رضی اللہ عنہم نے آپ کے وضو کے پا نی کو اپنے جسموں پر ملنا شر وع کر دیا ، آپ نے در یا فت فر ما یا :کہ تم ایسا کیو ں کرتے ہو ؟ صحا بہ کرا م رضی اللہ عنہم نے عر ض کیا کہ ہم اللہ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے پیش نظر ایسا کر تے ہیں۔ آپ نے فر ما یا : جسے یہ با ت پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کر ے یا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کر ے تو اسے چا ہیے کہ بات کر تے ہو ئے سچ بو لے، اس کے پا س امانت رکھی جا ئے تو اسے ادا کر ے اور ا پنے پڑو سیوں سے حسن سلو ک کا مظا ہر ہ کر ے ۔ (الاحا دیث الصحیحہ:نمبر 6/998)
مختصر یہ ہے کہ ہما ر ے نز دیک رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل تبرک یہ ہے کہ جو کچھ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ کی طرف سے ملا ہے اس پر عمل کیا جا ئے اور آپ کی صورت و سیر ت کی اتباع کی جا ئے، اس دنیا و آخرت کی خیر و بر کا ت سے ہم مشرف ہو ں گے جیسا کہ حا فظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
" اہل مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بر کت کی وجہ سے دنیا و آخرت کی سعادت سے بہر ہ ور کیا گیا بلکہ ہر مؤمن جسے اس بر کت کی بدو لت ایمان نصیب ہوا ،اسے اللہ کے ہا ں اتنی بھلائیو ں سے نوازا جائے گا جس کی قدر و قیمت کو وہی جا نتا ہے ۔ (مجمو عہ فتا وی ٰ ابن تیمیہ 11: 113)
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب
[ دیکھیے : فتاوی اصحاب الحدیث/جلد:1 صفحہ:42 ]







No comments:
Post a Comment