Qatar ke Pas aur kaun se raste hai, Israel ko jawab de ya khamosh hokar Future me hone wale aur hamalo ko bardast kare?
Exploring Qatar’s Strategic Choices: Speak Up or Stay Quiet?
Does Qatar Have Options or Should It Stay Silent?
Arab ne hamesha Aaram Pasand Zindagi Ji he, unhe Fauj, Khufiya mahkama aur Asalaha se bahut nafrat hai magar Aalishan MAnjile, Mahalein banane ka shauq, ab Un Alishan Manjilo ki hifazat kaise ki jaye.... yah kabhi khyal hi nahi aaya?
Agar khamosh rahte hai Israel ko himmat milegi, Aainda aur bar bar dusre mumalik ko apni baat Manwane ke liye Bombari ki dhamki dega,Missile marega isse har koi uski Farmayish puri karega. Agar Qatar Jawab dene ki soche to kaise jawab de sakta hai? kyunke Uske pas apna Army,Missile wagairah nahi hai, wah Kiraye par USA se liya hai, USA ne wah Milittary Isreal ki hifazat ke liye rakhi hai.
تحریر کو توجہ سے پڑھیں،علمی معلومات📚
*قطر نے اگر خاموشی اختیار کی تو عرب کی تباہی یقینی ہے، اور اگر بدلہ لینے کی کوشش کی تو یہ عالمی جنگ کا آغاز ہوگا۔*
قطر سے اس سے پہلے دو مرتبہ ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ حماس کے قائدین کو ہمارے حوالے کیا جائے، کیونکہ انہوں نے ہمارے بندے قید کر رکھے ہیں۔ اس وقت ٹرمپ نے کہا: "آپ ہمارے اتحادی ہیں، اتحاد کا حق ادا کریں۔ ہمارا آپ سے کوئی جھگڑا نہیں، مگر حماس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاتا۔"
مگر قطر نے انکار کر دیا۔ لیکن امریکہ کو ایک مشکل کا سامنا تھا: مشرقِ وسطیٰ میں اس کا سب سے بڑا فوجی اڈا بھی قطر میں ہے۔ اس لیے قطر میں بیٹھ کر قطر پر حملہ کرنا آسان نہ تھا، اور اسرائیل کے لیے بھی یہ مشکل تھا۔ اسی وجہ سے پچھلے ہفتے آپ کو یاد ہوگا، اسرائیل نے شام کے شمالی حلب کے علاقوں پر شدید حملے کیے، اور بعد ازاں وہاں امریکہ اور اسرائیل نے اپنی فوجی چھاؤنی قائم کر لی تاکہ کرد ملیشیاؤں کے خطرے سے نمٹا جا سکے، کیونکہ یہ علاقہ ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔
احمد الشرع نے اقوام متحدہ کو اس جارحیت سے آگاہ بھی کیا، مگر اقوام متحدہ کے سائے تلے سب کچھ ہوتا رہا۔ پھر امریکہ اور اسرائیل نے یہ جواز گھڑ لیا کہ چونکہ یہ علاقے ماضی میں داعش کے قبضے میں رہے اور بعد ازاں کردوں نے کنٹرول سنبھالا، اس لیے شام غیر مستحکم ہوا، اور ہم یہاں مستقل بنیادوں پر مضبوطی چاہتے ہیں تاکہ دوبارہ کوئی طاقت ہمارے خلاف نہ ابھرے۔
یہ بات نوٹ کر لیں کہ یہ وہی شمالی حلب کا علاقہ ہے جسے حدیث شریف میں دابق یا اعماق کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ آج بھی گوگل میپ پر یہ دابق کا مقام واضح نظر آتا ہے، اور دابق و اعماق میں کوئی خاص فاصلہ نہیں۔ اور اب امریکہ نے یہاں مستقل ڈیرے ڈال دیے ہیں۔
اب ذرا دو جملوں میں بات کو واضح کر دوں:
امریکہ یعنی اہلِ روم نے مسلمانوں (یعنی قطر) سے مطالبہ کیا کہ "جنہوں نے ہمارے بندے قید کیے ہیں، انہیں ہمارے حوالے کرو (یعنی حماس کے قائدین کو)" اور کہا "آپ الگ ہو جاؤ، ہمارا کوئی جھگڑا آپ سے نہیں ہے۔" لیکن قطر نے انکار کیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے امریکہ کی ایماء پر قطر کو نشانہ بنایا، اور ساتھ ہی شام (یعنی دابق) میں پہلے سے متبادل اڈا قائم کر کے اپنی حکمت عملی مکمل کی۔
اب حدیث ملاحظہ فرمائیں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق (شام میں حلب کے نزدیک مقام) یا دابق (شام کے قربِ ترکی قصبے) تک نہ پہنچ جائیں۔ پھر مدینہ کے لوگ ان کے مقابلے کے لیے نکلیں گے، اُس دن زمین کے سب سے بہترین لوگ اس لشکر میں ہوں گے۔ جب صفیں بن جائیں گی تو رومی کہیں گے: 'ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے بندوں کو قید کیا ہے، ہم صرف انہی سے لڑیں گے۔' لیکن مسلمان کہیں گے: 'واللہ! ہم ہرگز نہیں ہٹیں گے، ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے الگ نہیں ہو سکتے۔' پھر جنگ ہوگی، ایک تہائی بھاگ کھڑے ہوں گے (اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں کرے گا)، ایک تہائی شہید ہو جائیں گے، اور باقی ایک تہائی کو فتح نصیب ہوگی۔ پھر مسلمان قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، اور جب وہ مالِ غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے اور تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکا رہے ہوں گے، شیطان پکارے گا: 'مسیح دجال تمہارے گھروں میں پہنچ چکا ہے۔' مسلمان گھبرا کر لوٹیں گے مگر یہ خبر جھوٹی ثابت ہوگی۔”
(صحیح مسلم، کتاب الفتن و أشراط الساعة، باب خروج الروم، حدیث نمبر: 2897)
اب انتظار مدینہ سے لشکر کا ہے، کہ کب ظہور ہوگا وہ اللہ کی ذات ہی کو علم ہے.
یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہی وہ جنگ ہے یا اس کے بعد کوئی اور؟ مگر حالات انہی نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اللہ امتِ مسلمہ کو اپنی خاص حفاظت میں رکھے۔
آمین یارب







No comments:
Post a Comment