Safed Jadu ya JAdu kaun Sa JAdu Islam me Jayez hai?
Sawal: Kya Fayeda Pahuchane ke liye Safed Jadu ya Noori Jadu Jayez hai?
Safed Jadu aur Noori Jadu Kya hai iski Haqeeqat.?
السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
کیا فائدہ پہنچانے کے لیے سفید جادو یا نوری جادو جائز ہے؟
️: مسز انصاری
سفید جادو یا نوری جادو کو ایک اچھے اور نفع پہنچانے والے جادو کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو کہ اُس کالے جادو کے برعکس ہے جو بُرائی کی طاقتوں کو استعمال میں لاتا ہے ، اور عام طور پر معاشرے میں یہ غلط تصور پھیلا ہوا ہے کہ نوری یا سفید جادو گناہ نہیں ہوتا بلکہ یہ جائز ہے کیونکہ اس کے مقاصد نیک ہیں ۔
یاد رہے کہ عام طور پر جادو کو کالا علم کہا جاتا ہے جس کے بے شمار مفاسد ہیں اور یہ صریحًا کفر ہے اور کبیرہ گناہ ہے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: "اجتنبوا السبع المُوبِقَات، قالوا: يا رسول الله، وما هُنَّ؟ قال: الشركُ بالله، والسحرُ، وقَتْلُ النفسِ التي حَرَّمَ الله إلا بالحق، وأكلُ الرِّبا، وأكلُ مالِ اليتيم، والتَّوَلّي يومَ الزَّحْفِ، وقذفُ المحصناتِ الغَافِلات المؤمنات
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سات ہلاک کرنے والی چيزوں (گناہوں) سے بچو“۔ صحابۂ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا
الراوي : أبو هريرة | المحدث : البخاري | المصدر : صحيح البخاري | الصفحة أو الرقم: 2766 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح] | التخريج : أخرجه البخاري (2766)، ومسلم (89)
اور کالے جادو کے مقابلہ میں قرآنی عملیات کے ذریعے علاج کرنے کو نوری علم یا سفید جادو کہا جاتا ہے ۔ لیکن جادو نوری نہیں ہوتا، کسی بھی غرض کے لۓ جادو جائز نھیں ہے چاہے وہ کسی بھی نیک مقصد کے لۓ ہو ۔ اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ نفع مند اغراض کے حصول کے لیے شرعی طریقے اختیار کیے جائیں جن میں کوئی گناہ یا شرک نہ ہو اور اس کا انجام بھی منفعت بخش ہو ۔
یاد رہے کہ قرآنی عملیات کے ذریعے علاج کرنے والے معالجین اکثر قرآنی سورتوں میں بعض کلمات کی کمی بیشی کردیتے ہیں ، ایسا کرنا بھی جادو ہی کی زد میں آتا ہے۔ کیونکہ قرآنی الفاظ کی ترتیب بدلنا بذاتِ خود ایک قبیح عمل ہے اور معالجین کا قرآنی سورتوں میں کلمات کے اضافہ یا کمی سے دراصل شیاطین کا قرب مقصود ہوتا ہے جو ایک خطرناک فعل ہے ۔
اور جس طرح جادو کرنا کبیرہ گناہ ہے ، اسی طرح جادوگروں کی باتوں پر یقین کرنا اور عمل کرنا بھی انتہائی خطر ناک گناہ ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ثلاثة لا يدخلون الجنة مُدْمِنُ خمر، وقاطع الرحم، ومُصَدِّق بالسِّحْر
’’تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے شراب پینے والا، قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا اور جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا۔‘‘
[مسند امام احمد، ص۳۹۹، ج۴]
الراوي : أبو موسى الأشعري | المحدث : شعيب الأرناؤوط | المصدر : تخريج المسند لشعيب
الصفحة أو الرقم : 19569 | خلاصة حكم المحدث : قوله منه: "ثلاثة لا يدخلون الجنة: مدمن خمر، وقاطع رحم، ومصدق بالسحر" حسن لغيره
واضح ہو کہ " ومُصَدِّق بالسِّحْر " جادو کی تصدیق کرنے والا یعنی جادوگروں اور شعبدہ بازوں کی علم غیب سے متعلق باتوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو کبیرہ گناہ ہے ، کیوں کہ اس ارتکاب سے شعبدہ بازی، فریب کاری اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپنے کو بڑھاوا ملتا ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب







No comments:
Post a Comment