Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Muslim Muashare me Feminist Ka Urooj aur Uska Zaher. Feminist Auraton ko Kya Dena Chahati hai?

Muslim Muashare me Feminist Ka Urooj aur Uska Zaher.

محافظ"

         نوٹ۔ اس افسانے سے میری پیاری فیمینسٹ بہنیں دور رہیں!
شکریہ

وہ اپنے بھاری جسم کو جیسے زبردستی گھسیٹ رہی تھی۔ چہرے پر دھرے ماسک کے پیچھے اس کا منہ کھلا ہوا تھا اور اسے سانس لینے میں بھی دقت ہورہی تھی۔ آج وہ آفس پھر پندرہ منٹ لیٹ تھی، اس کا دل دہل رہا تھا کہ اج پھر سب کے سامنے اس کا باس اس کی عزت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دے گا۔
وہی ہوا،باس نے سب کے سامنے اس کو لتاڑ دیا،کہ وہ روز لیٹ آتی ہے۔ آنکھوں میں آنسوچھپائے وہ اپنے ڈیسک پر جاکر بیٹھ گئی۔ جب سب لوگ اپنے کام میں مصروف ہوگئے تو ڈیسک پر سر رکھ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
______________
"صباحت!!! تم کیوں کام کررہی ہو؟۔ ماسیاں ہیں ناں؟"
اس کے شوہر نے پیار سے اسکا ہاتھ پکڑا۔
"کام نہیں کروں گی تو بھینس بن جاوں گی۔ ایک بچی کے بعد پھیلتی جارہی ہوں"۔
صباحت نے جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔اور بستر کی چادر ٹھیک کرنے میں مگن ہوگئی۔
"ماسیوں کو گھورنا بند کردو پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
صباحت کی منہ سے زہر ٹپک رہا تھا۔
سلمان کی کان کی لوئیں ٹپ گئیں۔ وہ ہکا بکا اپنی بیوی کو دیکھ کر رہ گیا۔
_______________
اس کو یہ نوکری کرتے ہوئے قریبا تین ماہ ہوگئے تھے۔ بنک کی نوکری تھی۔ کوئی مستقبل نہیں تھا۔ کریڈٹ کارڈ بیچنا تھا۔ پورا دن کسٹمرز کو فون کرنا، ان کی جھڑکیاں سننا اور سو میں سے دو کسٹمرز کا میٹنگز کیلئے بلا کر معنی خیز انداز میں اس کے جسم کے انگ انگ کو گھورنا، ایسی بدکردار نظریں، اس کو جیتے جی مار ڈالتی تھیں۔
_______________
"جان لے لوں گا تیری میں۔۔۔"
سلمان کا غصے سے پاگل ہوئے جارہا تھا۔ اس نے سامنے والے مرد کو گریبان سے پکڑا اور تابڑ توڑ دو تین زوردار گھونسے اس مرد کے چہرے پر مارے۔
"تم نے میری بیوی کو گھورا کیسے؟"۔
صباحت نے سلمان کو زور سے پکڑا مگر سلمان اس کی گرفت سے خود کو آزاد کرکے سامنے فٹ پاتھ پر کھڑے بندے پر ایک دفعہ پھر پل پڑا،اردگرد راہ چلتے لوگوں نے بڑی مشکلوں سے اس بندے کی جان چھڑوائی۔
"سلمان آپ کو غصہ کنٹرول کرنا چاہیئے،اس نے بس گھورا تو تھا۔"
صباحت ناراضگی سے اپنے شوہر کو سمجھانے لگی۔ مگر انداز سمجھانے والا نہیں تھا۔
"نہیں میں برداشت نہیں کرسکتا کوئی میری عزت کی طرف ٹیڑھی نظر سے بھی دیکھے"۔
سلمان نےفیصلہ کن نظروں سے اپنی بیوی کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر دیکھا۔
جوابا اس نے بھی اپنی نظریں سلمان پر گاڑ دیں۔ کچھ دیر گھورنے کے بعد گویا وہ پھٹ پڑی۔
"میں بھی برداشت نہیں کرسکتی جب آپ سرراہ اپنی پرانی کلاس فیلو کیساتھ رنگ رلیاں مناتے رہو۔ کیا میں نہیں برداشت کرتی ہوں تیری حرکتیں؟۔
سلمان ہکا بکا اس کا منہ تکنے لگا۔
_______________
اس نے اپنے گالوں پر بہتے انسووں کو جلدی سے صاف کیا۔ اس کے کچھ کولیگز ان کو ترحم آمیز نظروں سے دیکھ کر دوبارہ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔
صباحت کو یہ نوکری بھی اس شرط کیساتھ ملی تھی کہ اگر آپ نے اس ماہ ٹارگٹ پورے نہیں کئے تو آپ کو آدھی تنخواہ ملے گی اور تین ماہ کے بعد آپ کو نوکری سے نکال دیا جائیگا۔
صباحت نے اپنا فون نکالا۔ نمبر ڈائل کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کے کپکپاتے ہونٹوں سے بس اتنا ہی نکلا۔
"سر میں یہ کام کرتی تو مجھے نوکری کی کیا ضرورت تھی۔ ۔۔۔۔۔ میں معذرت خواہ ہوں"۔
فون کاٹ کر اس کے انکھیں ایک دفعہ پھر جھلملائیں۔
_________________

سات سال سے وہ اپنی ماں کی گھر تھی۔ کیونکہ اس نے اپنی شکی مزاج طبعیت کیوجہ سے سلمان کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ ایک دن اس نے سلمان کو اپنی کولیگز کیساتھ مارکیٹ میں دیکھا، سلمان کے بتہیرا سمجھانے پر بھی اس بات پر اڑی رہی کہ اس کا اس لڑکی کے ساتھ معاشقہ یے۔ سلمان نے گھر کے بزرگوں کےسامنےقران پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ وہ اس کی سینئر تھی اور اس کےساتھ اس لئے مارکیٹ گیا تھا کہ کمپنی کے نئے شوروم کیلئے مختلف کمپنیوں کے میٹرئل کی انسپیکشن کرنا تھی۔
اگلے دن وہ سلمان کے دفتر آدھمکی اور اس خاتون کی سب کے سامنے بے عزتی کردی۔ سلمان کا چہرہ ایسا فق کہ کاٹو تو خون نہیں۔
گھر آکر سلمان نے اس کو کھڑے کھڑے اس کو نکال دیا۔ بچے سلمان نے رکھ لئے۔
__________________
صباحت کے گھر والوں نے طلاق کیلئے بہت زور دیا۔ مگر سلمان نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
"سر کے بال سفید کروا دونگا مگر طلاق نہیں دونگا"۔
صباحت کی ماں نے صباحت کو مجبور کیا کہ وہ خلع لے لے۔ مگر پتہ نہیں کیوں وہ اس بات پر راضی نہیں تھی۔
سات سالوں میں بھابیوں کی نظروں میں اس کی اوقات دو ٹکے کی بھی نہیں رہی تھی۔ جس ماں کے بل بوتے پر وہ اچھل رہی تھی۔اب وہ بھی بہووں کے سامنےکمزور پڑگئی تھی۔
صباحت نے تنگ آکر بنک جاب کیلئے اپلائی کردیا کہ بھائیوں کے بچے بڑے ہورہے تھے سو اسکو خرچادینا بھائیوں کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں تھا۔
ان سات سالوں میں سلمان اپنی دونوں بچیوں کو لیکر پردیس چلا گیا تھا۔ وہ اپنی بچیوں کیلئے پاگل ہورہی تھی۔مگر اب یہاں تھا کون۔ نہ سلمان نہ اس کی اولاد۔
_________________
لنچ ٹائم میں وہ دفتر کی کینٹین سے اپنے کیبن کی طرف آرہی تھی کہ اس کے پیر گویا زمین میں دھنس گئے۔
"ہم نے اس لئے اپائنٹ کیا تھا صباحت کو، کہ شادی شدہ ہے کسٹمرز کو خوش رکھ سکے گی، مگر یہ سالی کسی اڑیل گھوڑی کی طرح کسی کو ہاتھ ہی نہیں رکھنے دے رہی"۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ٹیم لیڈر کی آواز اس کے کانوں میں پگھلتے ہوئے سیسے کی طرح پڑی۔
وہ کسی بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اندر گئی اور تھپر کی آواز سے پورا ہال گونجنے لگا۔
دس منٹ کے بعد وہ دفتر سے باہر گھر جانے کیلئے رکشے کے انتظار میں کھڑی تھی۔
ایک گاڑی اس کے پاس آکر روک گئی۔
"ایک گھنٹے کا کتنا لوگی؟"۔
وہ گھبرا کر فٹ پاتھ سے کیساتھ لگے کھمبے کیساتھ مزید سکڑ گئی۔ بے بسی سے اس کا پورا جسم جیسے سنسنا رہا تھا۔ وہ شدت سے چاہ رہی تھی کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں دھنس جائے۔ کب تلک وہ ان جنسی بھیڑیوں سے اکیلی نبرد آزما رہے گی۔ کب تک وہ ہراس ہرنی جیسے چھلانگیں لگاتی کبھی یہاں کبھی وہاں بھاگیں گی۔ اس زندگی سے موت اچھی ہوگی کم از کم انسان چار فٹ نیچے زمین میں سکون سے تو رہے گا کوئی جنسی درندہ اس کے بخئے ادھیڑنے کو بیتاب تو نہیں ہوگا۔
اچانک اس کو ایک جانا پہچانا مرد دو خوبصورت بچیوں کے ہاتھ پکڑے سامنے والی بلڈنگ میں داخل ہوتا نظر آیا۔ اس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ پورا جسم کپکپانے لگا۔ اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے وہ اس مرد تک پہنچ جائے۔ کیسے اپنی بیٹیوں کو اپنے سینے سے لگا کر رکھیں۔
اس نے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے آواز دی۔
"سلمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
وہ بندہ چیخ سن کر اچانک مڑ گیا۔ دونوں خوبصورت بچیاں حیرت سے اس کو دیکھے جا رہی تھیں۔
وہ سڑک کے اس پار کسی معصوم بچے کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی۔ جس کو اسکول کے بچے مار رہے ہو کوئی بچانے والا نہ ہو مگر اچانک اس کو اپنا باپ نظر اجائے۔
دونوں ہاتھوں سے کار والے کی طرف اشارہ کرکے شکایت کرنے لگی
"سلمان یہ بندہ مجھے پریشان کررہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کا واسطہ یے۔ مجھے بچا لو"۔

    تحریر عارف خٹک  Copied

Fahesh Videos aur Usse hone wali Bimariyaa AIDS.

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS