Ek ladki jise Sharai Parde ki wajah se Shadi Karne se Inkaar kar diya?
تمام لڑکیاں دائرہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھیں کوئی حجاب میں تھی کوئی جینز اور شرٹ میں کسی نے ہاتھوں پر نیل پالش لگائ ہوئ تھی تو کسی نے بال کھول کر آگے کی طرف ڈالے ہوئے تھے کوئ ہلکا سا کالج میک اپ کر کے آئ ہوئ تھی تو کوئی 3 پیس سادے سوٹ میں خود کو ملبوس کیے ہوئے تھی.... سب کی نظر دائرے کے درمیان میں کھڑی لان کی پرنٹڈ میکسی پہنے کم عمر خوبصورت لڑکی پر جمی تھی جس نے کچھ ماہ پہلے گریجویشن مکمل کی تھی-
اس نے خوبصورت گرے کلر کے حجاب سے خود کو کور کیا ہوا تھا اور چمکتے سفید ہاتھوں میں مصحف تھامے ہوئ تھی....اس نے ایک نظر اس دائرے پر ڈالی تھی جو میٹرک انٹر اور یونیورسٹی لیول کی لڑکیوں نے اسکے گرد بنایا ہوا تھا.... اپنے آس پاس رنگ برنگی تتلیوں کو دیکھ کر وہ مسکرائی تھی اسے ایسی ٹوٹی ہوئی بھٹکی ہوئ اللہ کو بھول کر اپنی ہی دنیا میں کھوئ ہوئ لڑکیوں سے انس تھا وہ انہیں بہت محبت سے دیکھتی تھی کہ کیسے اپنی خواہشوں من مانیوں میں یہ کھو کر خود کو توڑ بیٹھی ہیں-
پہلے اس نے اس لڑکی کو دیکھا جو انتہائی خوبصورت تھی مگر خوبصورتی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کئی لڑکوں سے تعلق رکھ چکی تھی ملاقاتیں ہونے کے بعد اب اسکی منگنی کہیں اور ہو گئی تھی وہ اسلیے پریشان تھی کہ اسکا منگیتر اس پر پابندیاں لگاتا تھا "(ہاں جب انسان خود نہ سنبھل رہا ہو تو اللہ پاک ایسے کسی کو بھیج دیتا ہے یعنی پابندیاں بھی اچھی ہوتی ہیں ناجائز کام نہ چھٹ رہے ہوں تو پابندیاں پھر لگنے لگیں تو اسے اللہ کا کرم سمجھنا چاہیے)"
ان میں ایک وہ تھی جو درمیانی قد و کاٹ اور سانولی رنگت کی تھی جس کو یہ غم تھا کہ کسی نے اسے بہت چاہا تھا مگر پہلے دیدار کے بعد وہ اسے چھوڑ گیا تھا وہ دعوے چاہتیں کہیں گم ہو گئی تھیں "(کیوں نہیں سمجھتی ہیں یہ کہ سیرت کے پیچھے اپنانے والے مرد ناپید ہوگئے ہیں اسلیے 2023 کی حقیقت پسند مطلب پرست دنیا میں خود کو کسی دھوکے میں نہیں ڈالنا چاہیے)"
ایک نظر اس معصوم پر ڈال کر اسکی آنکھوں میں نمی اتری تھی جس نے کالج کے زمانے میں کسی کی محبت پر یقین کیا تھا اور اپنی ساری پیاری پیاری تصویریں ویڈیوز چاہت میں اسے بھیج دی تھی گزرتے وقت کے ساتھ وہ اسے بلیک میل کرنے لگا تھا اور وہ کالج میں مشہور ہو چکی تھی پھر وہی باہر نکلنا بند بھائیوں کی باپ کی سختی اور سب سے مشکل خود کسی کے ساتھ مخلص ہونے کے بعد بھی خالی ہاتھ رہ جانا اور اپنے آپ سے لڑنا تھا وہ روز خود سے لڑتی تھی اب بس خاموش گردن جھکائے بیٹھی تھی
"(کیوں لڑکیاں کسی جاہل منحوس پر اعتبار کر لیتی ہیں کسی کا چاہت کا دعویٰ کر دینا پسند کا کہنا کیا اپنا سب کچھ اسے دینے کے لیے کافی ہوتا ہے؟
کوئی کئی سال بھی میرا پیچھا کرے میں تب بھی اسکا یقین نہیں کروں گی میں کیوں ان سستے دعووں پر یقین کروں کسی میں اتنا دم ہے اگر کوئی اتنا مخلص ہے اگر تو مجھے عزت سے بغیر انوالو کیے رخصت کر کے لے کر جاۓ اس نے سوچا تھا ")
پھر اس نے اس پردہ کرنے والی لڑکی کی طرف دیکھا تھا جو کئی سال تک چھپ کر بغیر اسے دیکھے اس کی محبت میں گرفتار رہی اور صرف اسکے پردے کی بنیاد پر اسے اکیلا کر دیا گیا تھا اور وہ بری طرح ٹوٹ چکی تھی کہ میں نے تو حکم الٰہی کو اپنایا تھا مگر اس نے پردہ نہیں چھوڑا تھا اپنی محبت کو چھوڑ دیا تھا مطمئن ہونے کے ساتھ وہ ٹوٹی ہوئی تھی "(اگر اس نے اللہ کے حکم کو اپنایا ہے تو اللہ نے بھی اس کی قدر کی اور کسی ایسے سے جان چھڑوائ جو ایمان ختم کرنے کی وجہ بن سکتا تھا اس نے کھویا نہیں تھا پایا تھا آسمانوں پر ایک مقام
اس میں سے ایک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کشمکش میں تھی کہ کیا کرے کسی نے پسند کا دعویٰ کیا تھا اور مرنے مٹ جانے کے نام پر یہ کہا تھا کہ گھر والوں کو منانے کوشش کریں گے اگر نہ مانے تو تم ساتھ دینا وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو اسکی وجہ سے اسکے بہن بھائیوں کی زندگی بھی اثر انداز ہوگی اسکی ماں پر بھی باتیں بنیں گی وہ اپنے پیاروں کے لیے فکر مند تھی مگر ساتھ پسند بھی کرتی تھی "(پسند کیسی پسند وہ مسکرائی تھی جسکی ابتدا میں ہی نقصان کا خطرہ ہو یہ کونسی پسند اور محبت)"
اپنی بات شروع کرنے سے پہلے ایک آخری نظر اس نے اس لڑکی پر ڈالی تھی جو اپنے والد کی لاڈلی تھی اور اپنے ابو کو ادیبہ لہجے اور انداز میں اپنی پسند کے بارے میں بتایا تھا بابا نے ایک تھپکی کے ساتھ چند الفاظ میں بات ختم کر دی تھی کہ بیٹا یہاں نہیں کوئ اور ہے تو بتاؤ اور بابا کے جانے کے بعد دروازہ بند کر کے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی مولانا طارق جمیل کا ایک بیان شاید اسی وقت کے لیے اللہ نے اسے سننے کی توفیق دی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ اپنے ماں باپ کو اپنی پسند کے لیے مناؤ نہی مانتے پھر جس کی مانتے ہیں اسکے ذریعے کہلواؤ
پھر بھی نہ مانیں تو انکی مان لو اللہ خیر کرے گا.. اللہ خیر کرے گا یہ الفاظ اسکے لیے بہت طاقتور ثابت ہوئے تھے اس نے اللہ پر اندھا توکل کیا تھا اور تمام تعلقات کے خاتمے کے ساتھ اسنے اپنے بابا کے حکم کے آگے سر جھکا لیا تھا وہ اپنے بابا کی محبت اور وفاؤں کو نہیں بھول سکتی تھی اسلیے خاموش ہو گئ تھی روز بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ وہ پرسکون تھی کہ اللہ خیر کرے گا
اس میں یونیورسٹی پاس ایک وہ بھی تھی جس نے سکول پاس کرنے کے بعد محبت شروع کی تھی مگر کالج کے دور میں والدین کے انکار پر چھوڑ دیا تھا اور اسکی منگنی اسے بتائے بغیر کہیں اور کر دی تھی اس نے ضد لگائ ہوئ تھی کہ کچھ بھی ہو گھر سے نہیں بھاگے گی نہ ہی کچھ غلط کرے گی اسلیے آج وہ مطمئن تھی اگر اس نے والدین کا کہا مانا تھا اور کچھ حرام نہیں کیا تھا تو اللہ نے زمین اسکے لیے وسیع کر دی تھی باقی لڑکیوں کی طرح نہ وہ کہیں مشہور ہوئ تھی اور نہ ہی کہیں اس نے مستقبل میں رکاوٹیں دیکھی تھیں کیونکہ اس نے گھر سے جھوٹ بول کر باہر ملاقاتیں نہیں کی تھی جب چھوڑ دیا تو چھوڑ دیا تھا
وہ یہ سوچتی تھی کہ اللہ بغیر مانگے بہت سوں کو بہت کچھ دیتا ہے پھر میں نے تو نمازیں نہیں چھوڑی نفل نہیں چھوڑے دھوپ میں بھی نفل پڑھ کر اسے مانگا تھا جب میں نے اتنا اسکے آگے روئ اتنا گڑگڑائ اگر پھر بھی اس پاک ذات نے مجھے نہیں دیا تو کوئی تو بات ہو گی نا یہ سوچ کر اسے اللہ پر پیار آتا تھا ایک بات اس نے جان لی تھی کہ رو لو کچھ کر لو اگر اللہ کے پاس جاتے رہو گے پھر وہ آپکو کبھی وہ نہیں دے گا جو آپکے لیے بہتر نہیں ہو گا
اور اس بات کا انکشاف اس پر ہو چکا تھا جب اس سے محبت کے دعوے کرنے والے نے کہا تھا کہ وہ اسکے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرے گا اور اسے ایک سمجھانے والے نے کہا تھا تم انکار کرکے بالکل رابطہ ختم کر کے دیکھو جلد از جلد کہیں اور شادی نہ کر لے تو کہنا اور ایسا ہی ہوا تھا صرف کچھ وقت بعد ہی وہ کسی اور کے ساتھ بندھ چکا تھا اس نے اسکی شادی ہونے کا بھی انتظار کیا تھا بلکہ اپنا گھر بسا چکا تھا مگر آج وہ ایک قابل گورمنٹ جاب ہولڈر قرآن پاک کی تعلیم کو سینے میں بسائے ایک ہونہار والدین اور معاشرے کے لیے ایک قابل فخر لڑکی تھی اسے اللہ پر بہت پیار آتا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ سب حقیقتیں اسکو دکھاتا گیا تھا
اور اسے سب نوازتا گیا تھا وہ الحمدللہ پڑھتی تھی کہ اگر کئی سال پہلے وہ اسکے ساتھ بھاگ جاتی یا کچھ غلط کرتی ضد کرتی تو اسے یہ سب کچھ نہ ملتا اسکی بھی پڑھائی رک جاتی.... ہاں کیونکہ جو باہر ملاقاتوں کی چھپ کر موبائل رکھنے کی باتیں سکھائے اس کے ساتھ کیسا گھر بس سکتا ہے آخر؟ وہ مطمئن اس محفل میں ان معصوم لڑکیوں کو سننے آئ تھی جو اسکے جیسے مراحل میں تھی اگر وہ بھی اس جیسا کر لیں تو وہ اس سے بھی اچھا پا لیں گی وہ سوچ رہی تھی.
#اریج_چاندنی







No comments:
Post a Comment