Muslim Muashare ki buniyad aur Parda o Imaan.
Muslim Muashare ki Buniyad: Parda aur Imaan ka Talluq.
Muslim Muashare ki Taameer kis Buniyad par Hoti Hai.
Discusses the concept and purpose of modesty in Islam.
Aaj ke Daur mein Muslim Muashare ke Challenges.
Parda aur Imaan ka Aapas ka Talluq.
How faith shapes the behavior and ethics of society?
Modern challenges faced by Muslim societies.
Explains the foundation of Islamic society.
Explores the connection between modesty and faith.
Parda ki Ahmiyat aur Maqsad
Parda ki Ahmiyat aur Maqsad
Muslim Muashra, Muslim Society, Parda in Islam, Imaan, Islamic Values, Muslim Culture, Hijab, Faith in Islam, Islamic Ethics, Muslim Lifestyle, Parda and Hijab, Beauty of Hijab, Hijab Explaine, Concept of Hijab.
بے حیائی کا خاتمہ
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
موضوع : بدنظری اک زہر پاکدامنی اس کا تریاق
تحریر : حافظ عبدالغفور طاہری
#الحیاء_تحریری_مقابلہ
حسنِ فانی سے آہ یہ ترا شاداں ہونا،
یہی دلیل ہے ظالم ترا نادان ہونا؛
دل دیا غیر کو ظالم تو کہاں چین و سکوں،
آہ ہر لمحہ ترے دل کا پریشان ہونا؛
اسلام دینِ فطرت اور دینِ حیاء ہے
اسلام پاک و صاف معاشرے کی تعمیر
اور انسانی اخلاق وعادات کی تہذیب کرتا ہے-
اوراپنے ماننے والوں کی تہذیب اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے جو اہم تدایبر کرتا ہے،
ان میں انسانی جذبات کو ہر قسم کے ہیجان سے بچاکر پاکیزہ زندگی کاقیام ہے ۔
اور اس سلسلے میں اسلام نے شروع میں سب سے زیادہ حفاظتِ نظر پر زور دیا ہے؛
چونکہ بدنظری تمام فواحش کی بنیاد ہے،
اس لیے سب سے پہلے اس کے حوالے سے جن تنبیہات و ترغیبات کا تذکرہ ملتا ہے اس کا مطالعہ کرتے ہیں
قرآن مجید میں احکامات ارشاد فرماتے ہوئے
اس سلسلے میں مسلمان مردوں کو یہ حکم دیا گیا ہے-
سورۃ النور آیت نمبر 30 میں حکمِ الٰہی ہے
"آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے ، بےشک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں"۔
اور پھر مسلمان عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا
کہ
"اور کہہ دو مومن عورتوں سے بھی کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں
اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں
اور اپنی آرائش "یعنی زیور کے مقامات "کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں
مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو "جیسے چادر اور اوپر کا کپڑا اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں"۔
قارئین کرام :
بدنظری ”بدکاری“ کے راستے کی پہلی سیڑھی ہے۔
اسی وجہ سے ان آیاتِ کریمہ میں نظروں کی حفاظت کے حکم کو ”حفاظتِ فرج“ کے حکم پر مقدم رکھا گیا ہے۔
شریعتِ اسلامیہ نے ”بدنظری” سے منع کیا
اور اس کافائدہ یہ بتایا
کہ اس سے شہوت کی جگہوں کی حفاظت ہوگی
اسی طرح یہ چیز تزکیہٴ قلوب میں بھی معاون ہوگی ۔
”غضِ بصر“ کا حکم ہر مسلمان کو دیا گیاہے ۔
نگاہ نیچی رکھنا فطرت اور حکمتِ الٰہی کے تقاضے کے مطابق ہے؛
اس لیے کہ عورتوں کی محبت اور دل میں ان کی طرف خواہش فطرت کا تقاضا ہے ۔
ارشاد ربانی ہے:
سورت آل عمران آیت نمبر 14 میں ہے
"لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے جیسے عورتیں۔۔۔۔“۔
آنکھوں کی آزادی اور بے باکی ہی خواہشات میں انتشار پیدا کرتی ہے ۔
اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو یہ حکم بھی دیا ہے
کہ جن چیزوں کا دیکھنا میں نے حرام کر دیا ہے ان پر نگاہیں نہ ڈالو ۔ حرام چیزوں سے آنکھیں نیچی کرلو ۔
اگر بالفرض نظر پڑجائے تو بھی دوبارہ یا نظر بھر کر نہ دیکھو ۔
صحیح مسلم میں ہے
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ نے
نبی ﷺ سے اچانک نگاہ پڑ جانے کی بابت پوچھا
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اپنی نگاہ فورا ہٹا لو۔
[صحيح مسلم:2159
اسی طرح حضرت بریدہ بن حصیب اسلمیؓ سے روایت ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا:
اے علی! ؓ نظر پر نظر نہ جماؤ ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے قصدا معاف نہیں۔
[سنن أبي داود:2149، سنن الترمذي:2777]
بلکہ اس بدنظری سے بچنے کےلئے چند تدابیر کو حدیثِ مبارکہ میں ایسے واضح کیا گیا
جیسا کہ اس حدیثِ نبوی میں ہے
حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا:
راستوں پر بیٹھنے سے بچو " ۔
لوگوں نے کہا حضور ﷺ کام کاج کے لئے وہ تو ضروری ہے ۔ " آپ ﷺ نے فرمایا اچھا تو پھر راستوں کا حق ادا کرتے رہو " ۔ انہوں نے کہا وہ کیا ؟
فرمایا "نیچی نگاہ رکھنا "
کسی کو ایذاء نہ دینا ،
سلام کا جواب دینا ، اچھی باتوں کی تعلیم کرنا، بری باتوں سے روکنا "۔
[صحيح البخاري:6229، صحيح مسلم:2121]
بلکہ ایک جگہ پر صحیح بخاری میں ہے:
جو شخص زبان اور شرمگاہ کو اللہ کے فرمان کے ماتحت رکھے ۔ میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں۔
[صحيح البخاري:6474
بدنظری کبیرہ گناہ ہے
چونکہ نگاہ پڑنے کے بعد دل میں فساد کھڑا ہوتا ہے ،
اس لئے شرمگاہ کو بچانے کے لئے نظریں نیچی رکھنے کا فرمان ہوا ۔
نظر بھی ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے ۔
پس جب زنا سے بچنا ضروری ہے
تو اس کےلئے نگاہ نیچی رکھنا بھی ضروری ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے بھی شرمگاہ کی حفاظت کا حکم دیا
جیسا کہ پہلے نظر کی حفاظت کا فرمایا،
حفاظتِ نظر سبب ہے حفاظت ِ شرمگاہ کا،
محرّمات کو نہ دیکھنے سے دل پاک ہوتا ہے
اور اس سے بندے کا دل و دماغ صاف ہوتا ہے .
جو لوگ اپنی نگاہ حرام چیزوں پر نہیں ڈالتے ۔
اللہ ان کی آنکھوں میں نور بھر دیتا ہے ۔
اور ان کے دل نورانی کر دیتا ہے۔
جو شخص اللہ کے خوف سے اپنی نگاہ روک رکھے ،
اللہ تعالیٰ اس کے دل کے بھیدوں کو جانتا ہے ۔
چنانچہ حضور ﷺ فرماتے ہیں:
ابن آدم کے ذمے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے
جسے وہ(کم علمی یا کم ایمانی سے) لا محالہ پالے گا ،
آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے ۔
زبان کا زنا بولنا ہے ۔
کانوں کا زنا سننا ہے ۔
ہاتھوں کا زنا تھامنا ہے ۔
پیروں کا زنا چلنا ہے ۔
دل خواہش تمنا اور آرزو کرنا ہے ۔
پھر شرمگاہ تو سب کو سچا کر دیتی ہے
یا سب کو جھوٹا بنا دیتی ہے۔
اس لیے ہر شخص کو ممکن حد تک
اپنے آپ کو اس بدنظری سے بچانا چاہیے
اور اس کے بدلے میں جن انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے
ان کو نگاہ میں رکھنا چاہیے
کیونکہ بدنظری کی لذت عارضی ہے اور سزا زیادہ ہے
عشقِ بتاں کی منزلیں ختم ہیں سب گناہ پر،
جس کی ہو ابتدا غلط کیسے صحیح ہو انتہا
جبکہ نگاہ کا جھکانا اگرچہ وقتی مشکل ہے
لیکن جزا و بدلہ و انعامات دائمی ہیں۔
اس لیے ترغیب دلاتی یہ حدیثِ مبارکہ پڑھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تین افراد کی آنکھیں روز قیامت آگ کو نہیں دیکھیں گی:
وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے رو پڑی،
وہ آنکھ جس نے اللہ کے راستے میں پہرہ دیا
اور وہ آنکھ جس نے اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور سے چشم پوشی کی۔“
[ المعجم الكبير للطبراني:1003]
دوسری جانب
ایک آیتِ کریمہ میں سخت وعید بیان کرتے ہوئے
یہاں تک کہا گیا کہ
"اللہ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو
اور جس چیز کو سینہ میں چھپاتے ہیں اس کو بھی جانتے ہیں"۔
قارئین کرام :
آئیے اب اس بیماری کے علاج کی طرف بڑھتے ہیں
جو شخص اپنے اس بدنظری والے برے فعل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہو
اسے چاہیے کہ وہ اسباب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی مانگے ۔
کیونکہ یہ بچنے کی ہمت و توفیق اللہ کے سوا کوئی عطا نہیں کر سکتا
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سکھلائی
سیدہ ام معبد ؓ سے روایت کیا
کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ ، وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ ،
وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ ،
وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ ،
فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورِ۔
ترجمہ :
اے اللہ ! پاک کردے میرے دل کو نفاق سے
اور میرے عمل کو ریاکاری سے
اور میری زبان کو جھوٹ سے
اور میری آنکھ کو خیانت سے
بلاشبہ آپ جانتے ہیں آنکھوں کی خیانت کو
اور جو کچھ سینے چھپاتے ہیں۔
کسی خاکی پہ مت کر خاک اپنی زندگانی کو،
جوانی کر فدا اس پر کہ جس نے دی جوانی کو.
آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدُعا ہوں کہ
اے اللہ تعالیٰ ھم سب کو صراطِ مستقیم پر استقامت عطا فرما دے
اور ہمیں بدنگاہی کے انجام سے ڈرتے ہوئے پاکدامن زندگی عطا فرما دے
اور ہمارے قلم و قرطاس کو معاشرے میں پھیلے اس زہر کےلئے تریاق بنا دے ۔ آمین ۔ یا رب العالمین ۔
28 اگست بروز اتوار 2022
29 محرم الحرام 1444







No comments:
Post a Comment