Muawiya Raziallahu Anahu ki Sharai Khilafat aur Ibn Abbas R.Z.
Khilafat-E-Muawiya aur Ibn Abbas Raziallahu anahu.
معاویہ رضی اللہ عنہ کی شرعی خلافت پر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا استنباط قرآنی
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کی صحبت کے لئے چُنا ہے، اور جن کو حفاظت شریعت کا پہلا زینہ بنایا ہے، جن کی سب سے بڑی سعادتمندی یہ ہے کہ بروز قیامت صحابہ کرام کے علاوہ دیگر مومنین کو دخول جنت کے بعد جس نعمت الہی (رضاء الہی) کا حصول ہوگا وہی نعمت ان صحابہ کرام کو دنیا میں عطا کی جاچکی ہے، رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ۔
اللہ رب العزت نے فرمایا :{وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} - [التوبة: 100].
ترجمہ: "اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے" ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے متعلق فرمایا:" میرے صحابہ کو گالی یا بُرا نہ کہنا، (جان لو کہ )تم میں سے کوئی بھی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی(صدقہ و خیرات میں ) خرچ کرلے تووہ اُن (صحابہ) میں سے کسی بھی ایک کے مکمل یا آدھے مُد (آدھا کلو یا ایک پاؤ اناج کےخرچ کرنے کی فضیلت و مقام) تک بھی نہیں پہنچ سکتا". ( متفق علیہ)
نیز آپ ﷺ نے فرمایا:" سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں". (متفق علیہ)
لہذا صحابہ کرام سے محبت کرنا اور اُن کا ظاہری و باطنی طور پر عملاً احترام کرنا، صحابہ سے بغض و عداوت رکھنے والوں سے نفرت و عداوت رکھنا، صحابہ کے باہمی ظاہری اختلافات میں خاموشی اختیار کرنا اور ہر قسم کی منفی رائے دہی سے اجتناب کرنا، اور یہ عقیدہ رکھنا کہ تمام صحابہ عدول ہیں اور اللہ کے یہاں انتہائی معزَّز اور اجر و ثواب والے ہیں اور اُن کی سیرت و کردار کو زبانی و عملی طور پر اپنانا ہر مسلمان پرفرض و واجب ہے۔
عمومی طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جو بھی فضائل قرآن مجید کی آیات اور احادیث میں وارد ہیں ان میں خال المؤمنین، کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حبر الأمۃ و مفسر امت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب شخصیات میں شامل ہیں جن کے لیے اللہ تعالی نے جنت کو واجب کردیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا"
میری امت کا وہ پہلا لشکر جو سمندری جہاد کرے گا ان کے لیے جنت واجب ہے۔ (صحيح بخاری: 2924)
آپ وحی لکھتے تھے یعنی کاتبین وحی میں سے ہیں۔[ دلائل النبوۃ للبیہقی جلد2 ص243]
اسی طرح عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہوش سنبھالا ہی تھا کہ انھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں وقف کردیا، سفر و حضر میں آپ صلی اللہ کے ساتھ رہتے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کا ارادہ فرماتے فورا وضو کا پانی حاضر کردیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے تو یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہوکر نماز شروع کردیتے، سفر کے دوران کئی مرتبہ انکو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا، غرض یہ کہ ہر لمحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں کمر بستہ رہے.
فضل وکمال کے اعتبار سے ابن عباس ؓ اس عہدِ مبارک کے ممتاز ترین علماء میں سے تھے ان کی ذات ایسی زندہ کتاب خانہ تھی، جس میں تمام علوم ومعارف بہ ترتیب جمع تھے، قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، شاعری، وغیرہ کوئی ایسا علم نہ تھا جس میں ان کو یدِ طولیٰ حاصل نہ رہا ہو۔ باالخصوص قرآن پاک کی تفسیر و تاویل میں جو مہارت اور آیات قرآنی کے شانِ نزول اورناسخ و منسوخ کے علم میں جو وسعت ان کو حاصل تھی وہ کم کسی کے حصہ میں آئی ۔
ویسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کئی اصحاب کو دعائیں دی ہیں لیکن جن دو ہستیوں کو علم کی دعا دی ان میں یہ دونوں اصحاب شامل ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے معاویہ رضی اللہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا : اللهم عَلِّم معاويةَ الكتاب والحساب، وقِهِ العَذاب - (مسند احمد)
"اے میرے اللہ! معاویہ کو کتاب و حساب سکھا اور اُسے عذاب سے بچا".
اسی طرح مزید دعا فرمائی کہ:
اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ ".
اے اللہ ! انھیں ( معاویہ کو) ہادی مہدی بنادے اور ان کے ذریعے سے لوگوں کو ہدایت دے۔ ( سنن ترمذی: 3842 وقال حسن غریب)۔
اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فضائل میں آتا ہے وہ کہتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا، اور یہ دعا فرمائی: اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ، وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ ".
اے اللہ! اس کو میری سنت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطاء فرما۔ ( سنن ابن ماجه: 166 ، صحيح).
اصل واقعہ :
ظاہر ہے دعاء نبی ﷺ ان دونوں اصحاب کو ملی ہے، اور دونوں ہی علم و حکمت میں صحابہ کرام میں مشہور تھے، چنانچہ جب ذو النورین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل ہوا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کے بارگاہ میں آیت قرآنی سے استنباط کرتے ہوئے نصیحت کی آپ قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ سے جلدی بدلہ لے لیں جیسا کہ سورہ بنی اسرائیل آیت ۳۳ کی تفسیر میں ابن کثیر رحمہ اللہ اس جانب اشارہ کرتے ہوئے واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ :
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنصُورًا
اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈالا جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے کہ پس اسے چاہیے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بیشک وہ مدد کیا گیا ہے۔
اگر کوئی شخص ناحق دوسرے کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہے تو اس کے وارثوں کو اللہ تعالیٰ نے قتل پر غالب کر دیا ہے، اسے قصاص لینے اور دیت لینے اور بالکل معاف کر دینے میں سے ایک کا اختیار ہے ۔
ایک عجیب بات یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کریمہ کے عموم سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطنت پر استدلال کیا ہے کہ وہ بادشاہ بن جائیں گے اس لیے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انتہائی مظلومی کے ساتھ شہید کئے گئے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ قاتلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے طلب کرتے تھے کہ ان سے قصاص لیں اس لیے کہ یہ بھی اموی تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اموی تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس میں ذرا وقت طلب کر رہے تھے، ادھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مطالبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ تھا کہ ملک شام ان کے سپرد کر دیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تاوقتیکہ آپ قاتلان سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نہ دیں میں ملک شام کو آپ کی زیر حکومت نہ کروں گا چنانچہ آپ نے مع کل اہل شام کے بیعت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے انکار کر دیا، اس جھگڑے نے طول پکڑا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے حکمران بن گئے.
اسی طرح معجم طبرانی میں یہ روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رات کی گفتگو میں ایک دفعہ فرمایا کہ آج میں تمہیں ایک بات سناتا ہوں نہ تو وہ ایسی پوشیدہ ہے نہ ایسی اعلانیہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اس وقت میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ آپ یکسوئی اختیار کر لیں، واللہ اگر آپ کسی پتھر میں چھپے ہوئے ہوں گے تو نکال لیے جائیں گے لیکن انہوں نے میری نہ مانی، اب ایک اور بات سنو اللہ کی قسم [سیدنا] معاویہ [رضی اللہ عنہ] تم پر بادشاہ ہو جائیں گے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے، "جو مظلوم مار ڈالا جائے ، ہم اس کے وارثوں کو غلبہ اور طاقت دیتے ہیں، پھر انہیں قتل کے بدلے میں قتل میں حد سے نہ گزرنا چاہیئے الخ". سنو یہ قریشی تو تمہیں فارس و روم کے طریقوں پر آمادہ کر دیں گے اور سنو تم پر نصاری اور یہود اور مجوسی کھڑے ہو جائیں گے اس وقت جس نے معروف کو تھام لیا اس نے نجات پالی اور جس نے چھوڑ دیا اور افسوس کہ تم چھوڑنے والوں میں سے ہی ہو تو مثل ایک زمانے والوں کے ہوجاؤگے کہ وہ بھی ہلاک ہونے والوں میں ہلاک ہو گئے - (طبرانی کبیر: 320/10)
خلاصہ :
من سب الصحابة ومعاوية
فهو كلب من كلاب هاوية !







No comments:
Post a Comment