Agar Aap Chahate hai ke Log aapke Maut ke bad bhi aapko yad rakhe to aap apne Aulad ki achi tarbiyat kijiye.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
!!موضوع!! تربیت
!!صنفہ صدام حسین!
اس معاشرے میں باحیا اور باکردار ہونے کے لئے تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے اس وقت اس معاشرہ میں تربیت کا بہت زیادہ بحران ہے چاہے اسکول ہو کالج ہو چاہے کوئی اور درسگاہ ہو آج کل صرف تعلیم پر زور ہے تربیت پر ذرہ برابر بھی توجہ نہیں ہے بچہ ہو یا بچی ہمارے والدین بچے کو ہر چیز فراہم کرتے ہیں نہی کرتے تو فقط تربیت نہی کرتے اس وقت علم کی کمی نہیں ہے علم آپ کو جگہ جگہ ہر شخص سے ملے گا مگر تربیت یافتہ بندہ آپ کو ہر ہر جگہ میں میسر نہی ہوگا آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اس معاشرے کو تربیت کی کتنی زیادہ ضرورت ہے کہ والدین اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کے نام کر دیتے ہیں مگر جیسے ہی بچہ یا بچی جوان ہوتے ہیں تو وہ اپنے والدین کی عزت کی کس طرح دھجیاں اڑاتے ہیں کس طرح سے ان کو دھوکہ دیتے ہیں یہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے والدین نے کیا کچھ نہی کیا اولاد کے لیے ہر چیز اولاد کو فراہم کرتے ہیں ہے والدین جہاں جانا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن اولاد کی وجہ سے وہاں ہاتھ پھیلا لیتے کہ میری اولاد سکھی ہوجاۓ ہیں مگر اولاد آخر میں والدین سے کہتی ہے آپ نے میرے لئے کیا : کیا ہے ابا حضور والدین کو چاہیے بڑی بہن کو چاہیے بڑے بھائی کو چاہیے کہ اپنے ماتحتوں کی بہترین تربیت کریں!! حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیت تو ہر ایک کو یاد ہوگی فرمایا کہ میری میت کو رات کو دفن کیا جائے آئے تاکہ کسی غیر مرد کی نظر مجھ پر نہ پڑے یہ حضرات بھی انسان تھے لیکن قربان جاؤں کس قدر تربیت کی گئی تھی ..بخاری شریف میں ایک واقعہ مذکور ہے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام علیھم الرضوان بھی مجلس میں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہ کرام علیہم الرضوان ارشاد فرمایا کہ کہ وہ کون سا درخت ہے کہ جس کی مثال مومن کی مانند ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان فرماتے ہیں کہ ہمارے ذہن جو وہ جنگلات کی کی طرف منتقل ہوگئے جنگلات کی طرف چلے گئے پھر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی ارشاد فرما دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے کہ جس کی مثال مومن کی مانند ہے جب مجلس اپنے اختتام کو پہنچی اور ہر صحابی رسول رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اپنے گھروں کی طرف تشریف لے گئے جب گھر پہنچے تو حضرت عبداللہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کی یہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے ہیں عرض کرتے ہیں کہ آپ ابا جان آج حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس درخت کے بارے میں پوچھا تھا وہ درخت مجھے معلوم تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادہ سے فرمایا بیٹا مجلس میں بتا دیتے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا وہ رہتی دنیا تک ہر والدین کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا بابا جان جس مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسی عظیم ہستیاں خاموش بیٹھی ہوں وہاں میں کیسے گفتگو کر سکتا ہوں .یہ وہ حضرات جنہوں نے اپنے بچوں کی تربیت کی تھی کہ کب اور کہاں کیا بولنا ہے اور ایک ہمارا معاشرہ ہے جو کہ ہمارے سامنے عیاں ہے میں اپنی اس مختصر تحریر کو شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی اس بات پر ختم کرتا ہوں آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کیا آپ کے دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگ آپ کو اچھے الفاظ سے یاد کریں تو اپنی اولاد کو اچھے اخلاق سکھا کر چلے جائیں !
!!موضوع!! تربیت
!!صنفہ صدام حسین!
اس معاشرے میں باحیا اور باکردار ہونے کے لئے تربیت کی بہت زیادہ ضرورت ہے اس وقت اس معاشرہ میں تربیت کا بہت زیادہ بحران ہے چاہے اسکول ہو کالج ہو چاہے کوئی اور درسگاہ ہو آج کل صرف تعلیم پر زور ہے تربیت پر ذرہ برابر بھی توجہ نہیں ہے بچہ ہو یا بچی ہمارے والدین بچے کو ہر چیز فراہم کرتے ہیں نہی کرتے تو فقط تربیت نہی کرتے اس وقت علم کی کمی نہیں ہے علم آپ کو جگہ جگہ ہر شخص سے ملے گا مگر تربیت یافتہ بندہ آپ کو ہر ہر جگہ میں میسر نہی ہوگا آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ اس معاشرے کو تربیت کی کتنی زیادہ ضرورت ہے کہ والدین اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کے نام کر دیتے ہیں مگر جیسے ہی بچہ یا بچی جوان ہوتے ہیں تو وہ اپنے والدین کی عزت کی کس طرح دھجیاں اڑاتے ہیں کس طرح سے ان کو دھوکہ دیتے ہیں یہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہے والدین نے کیا کچھ نہی کیا اولاد کے لیے ہر چیز اولاد کو فراہم کرتے ہیں ہے والدین جہاں جانا بھی گوارا نہیں کرتے لیکن اولاد کی وجہ سے وہاں ہاتھ پھیلا لیتے کہ میری اولاد سکھی ہوجاۓ ہیں مگر اولاد آخر میں والدین سے کہتی ہے آپ نے میرے لئے کیا : کیا ہے ابا حضور والدین کو چاہیے بڑی بہن کو چاہیے بڑے بھائی کو چاہیے کہ اپنے ماتحتوں کی بہترین تربیت کریں!! حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیت تو ہر ایک کو یاد ہوگی فرمایا کہ میری میت کو رات کو دفن کیا جائے آئے تاکہ کسی غیر مرد کی نظر مجھ پر نہ پڑے یہ حضرات بھی انسان تھے لیکن قربان جاؤں کس قدر تربیت کی گئی تھی ..بخاری شریف میں ایک واقعہ مذکور ہے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام علیھم الرضوان بھی مجلس میں تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےصحابہ کرام علیہم الرضوان ارشاد فرمایا کہ کہ وہ کون سا درخت ہے کہ جس کی مثال مومن کی مانند ہے صحابہ کرام علیہم الرضوان فرماتے ہیں کہ ہمارے ذہن جو وہ جنگلات کی کی طرف منتقل ہوگئے جنگلات کی طرف چلے گئے پھر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی ارشاد فرما دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے کہ جس کی مثال مومن کی مانند ہے جب مجلس اپنے اختتام کو پہنچی اور ہر صحابی رسول رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اپنے گھروں کی طرف تشریف لے گئے جب گھر پہنچے تو حضرت عبداللہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کی یہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے ہیں عرض کرتے ہیں کہ آپ ابا جان آج حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس درخت کے بارے میں پوچھا تھا وہ درخت مجھے معلوم تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادہ سے فرمایا بیٹا مجلس میں بتا دیتے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا وہ رہتی دنیا تک ہر والدین کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا بابا جان جس مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسی عظیم ہستیاں خاموش بیٹھی ہوں وہاں میں کیسے گفتگو کر سکتا ہوں .یہ وہ حضرات جنہوں نے اپنے بچوں کی تربیت کی تھی کہ کب اور کہاں کیا بولنا ہے اور ایک ہمارا معاشرہ ہے جو کہ ہمارے سامنے عیاں ہے میں اپنی اس مختصر تحریر کو شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی اس بات پر ختم کرتا ہوں آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کیا آپ کے دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگ آپ کو اچھے الفاظ سے یاد کریں تو اپنی اولاد کو اچھے اخلاق سکھا کر چلے جائیں !







No comments:
Post a Comment