Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Hijab ka Zawal: Dushmano ne Muslim Auraton se Hizab nahi chhina balki use badal diya. Stylish Burqas, Silent Surrender

Hijab Ka Zawal: Tej Raftar ko aapas me bant dena aur Use kamzor Kar dena. Stylish Burqas, Silent Surrender.

The Decline of Hijab: From Modesty to immorality on the name of Modernity.
Hijab Under Siege: Lost in the Name of Style.
Hijab’s Fall: When Enemy rebranded it.
Muslim Women's Identity: Hijab is their Crown.
Stylish Burqas: A Modern Mask Over Modesty.
Hijab’s Purpose Forgotten in the Rush for Acceptance.
Hijab Redefined: The Enemy Didn't Remove It, They Rebranded It.
From Shield to Showpiece Hijab: The Transformed by Europe. 

Dushmano ne Dekha ke unhone Khawateen ka Hijab utarwane ke lliye jo tarike ikhtiyar kiye they we usme Kamyab nahi hua.. unhe yah malum hua ke tej raftar ko dusri taraf modna ya use rok dena durust nahi, isliye Musalmano ke is Muhim/Lehar ko aapas me taqseem karke kamzor kar dene ki tarkib apnayi. Lakdiyo ke majbut ghattar ko todna mushkil hi nahi na mumkin hai magar unhi lakdiyo ko ek ek karke todna aasan hai. (Divide and Rule)
Hidden Crusader Mentality, Double Standards in Belief, The Decline of Hijab: From Modesty to Modernity,

  حــجــاب کا زوال
تیـز لہـر  کو تـقـسـیم کرکے کمـزور کـر دینـا-

دشمنوں نے دیکھا کہ انہوں نے خواتین کا حجاب اتروانے کے لیے جو طریقے اختیار کیے تھے ، وہ کامیاب نہیں ہوئے۔
انہیں ادراک ہوا کہ تیز لہر کے مخالفت سمت سفر کرنا درست نہیں ہے ،  چنانچہ انہوں نے تیز لہر کو تقسیم کرکے کمزور کر دینے کی پالیسی اپنائی۔
لکڑیوں کے گٹھے کو توڑنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر گٹھا کھول کر لکڑیاں علیحدہ کر لی جائیں تو انہیں توڑنا آسان ہو جاتا ہے ۔
دشمنوں نے مشاہدہ کیا کہ خواتین کے عبایا برقعے کھلے اور ڈھیلے ڈھالے  ہوتے ہیں جو جسم کو چھپا لیتے ہیں۔ عورت جب برقع اوڑھ کر چلتی ہے تو بدن کا کوئی انگ دکھائی نہیں دیتا ۔
دشــمـنوں نـے کـہـا: ”ہم یہ نہیں کہتے کہ برقعہ良 اتار پھینکو۔  یہ حرام ہے۔ لیکن دیکھو تمہارے برقع کا اسٹائل پرانا ہو چکا ہے۔ اب ان برقعوں کا رواج نہیں رہا۔ تمہیں نئے انداز کا (نئی اسٹائل کا ۔ نئے فیشن کا) برقع پہننا چاہیے “
یکایک ڈریـس ڈیـزائـنـر حرکت میں آئے ۔ انہوں نے کئی طرح کے برقعے کے ڈیزائن کیے جو عام برقع سے بالکل الگ تھے۔  بہت تنگ تھے۔ لیکن بہرحال برقعے تو تھے۔ خواتین نے یہ برقعے اوڑھنے شروع کر دیے ۔ اب برقع نے دیدہ زیب گاؤن کی سی شکل اختیار کرلی۔ جو برقع زینت چھپانے کے لیے اوڑھا جاتا تھا وہ بجائے خود زینت بن گیا۔ دشــمــن خـوشـی سے پھـولے نہ سمائے۔ انہوں نے جانا کی لہر کا زور کم پڑنے لگا ہے۔ پھر نئے طرز کے برقعوں کی دیکھا دیکھی بغیر بازوؤں کے برقعے بنا کر اوڑھے جانے لگے۔ اس کے بعد ایسے برقعوں کا چلن ہوا۔ ایسے برقعے بازار (مارکیٹ) میں سامنے آئے۔ جو کمر میں بیلٹ سے باندھے جاتے تھے ۔ اس کے بعد بازار میں جو برقعے وجود میں آئے وہ بڑے تنگ تھے۔ بدن سے چپک جاتے۔ مختلف مختلف کلر کے، رنگین رنگین،  اور جسم کے انگ انگ کو نمایاں کرتے۔ اب لوگوں کی نظریں اسی عورت کا تعاقب کرتی جو برقع اوڑھے ہوتی۔ یوں معاشرہ اضطراب کا شکار ہونے لگا ۔

اب کـشـتـی غـرق ہـونـے لـگـی ۔ اصلاح کار خاموش نہ رہ سکے ۔ علمائے کرام نے اِن برقعوں کی مزمت میں فتوے دیے ۔ خطباء کی شعلہ بیانیوں سے منبر لرز اٹھے۔ داعیانِ اسلام نے وعظ و نصیحت کرنے میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا،  کوئی کسر نہ چھوڑی،  انہوں نے دیدہ زیب برقع اوڑھنے والی عورت کو اس فعل کے انجامِ بد سے آگاہ کیا اور بتایا کہ یوں بدن کی زینت عیاں ہوتی ہے جسے الله تعالیٰ نے چھپانے کا حکم دیا ہے ۔ تنگ اور باریک برقعوں کے متعلق ہر عقل مند آدمی کو علم تھا کہ یہ حرام ہیں ۔  یوں ان کا رواج پھر سے کم پڑنے لگا۔ خواتین نے پھر بدن کو پورے طور پر ڈھانپنے والے برقعے اوڑھنے شروع کر دیے۔  دشمنوں نے یہ صورت حال دیکھی تو سخت پریشان ہوئے کہ ہماری ساری محنت اکارت گئی۔ انہوں نے سوچا کہ وہ حجاب اتروانے اور مرد و زن کا اختلاط کرانے کے لیے ہزار جتن بھی کریں گے تو کامیاب نہیں ہوں گے۔ وہ دن رات ایک کر کے ہزار ہا خواتین کو اپنے پیچھے لگاتے ہیں۔ خوشی کے شادیانے بجنے کو ہوتے ہیں کہ کوئی شعلہ بیان مقرر آتا ہے اور آیات و احادیث  سنا سنا کر اُن خواتین سے چٹکیوں میں توبہ کرا لیتا ہے ۔ فسادی دراصل نہیں جانتے کہ اہل اسلام کے دلوں میں اسلام کی جڑیں بڑی مضبوط اور گہری ہیں۔ مسلمان خاتون غلطی کر بیٹھتی ہے لیکن جلد ہی توبہ کر کے اسلام کی طرف لوٹ آتی ہے۔ "مسـلـمـان عـورت کی فـطـرت خـالـص ســونـے جـیـسـی ہـوتـی ہـے" ذرا سی جھاڑ پونچھ سے سونے کا گردوغبار دور ہوجاتا ہے۔ اور وہ پہلے کی طرح چمکنے دمکنے لگتا ہے۔ آخـر لـمـبـی سـوچ بـچـار کـے بعـد ایـک نئـی آفــت کـا دروازہ کـھـلا ۔
اس معاملے میں اختلاف ہے:

فساد پر واروں نے صفحاتِ تاریخ کی ورق گردانی شروع کی کہ دیکھیں ماضی کے مسلمان ممالک میں حجاب کو زوال کیسے آیا۔ انہوں نے دیکھا کہ زوالِ حجاب کی ابتداء یوں ہوئی کہ سب سے پہلے چہرہ کھلا رکھنے کی دعوت دی گئی۔ پھر جب چہرہ کھلا رکھنا معمول کی بات ہوگئی تو چہرے کو طرح طرح کے اسباب زینت سے آراستہ کیا جانے لگا۔ اس کے بعد حجاب کے لیے شوخ رنگ اور چمکدار کپڑا استعمال ہونے لگا۔ اب چہرہ زیادہ خوبصورت معلوم ہونے لگا۔ حجاب پر نقش و نگار بنائے اور پھول کاڑھے جانے لگے۔ چہرے کی فتنہ انگیزی پہلے سے بڑھ گئی۔ اب حجاب سکڑنا شروع ہوا۔ پـہـلـے پـیـشـانی نـنـگـی ہـوئـی ، پـھـر پـیـشـانی سـے اوپـر کے بــال نـظـر آنـے لـگـے ۔ دشمنوں نے جزیرہ کنز میں بھی یہی ہتھکنڈہ آزمانے کی ٹھان لی۔ جزیرے کنز کی خواتین حجاب اوڑھتے وقت چہرہ بھی چھپاتی تھیں۔ بعض عناصر کی طرف سے سیٹلائٹ چینلوں اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے انہیں سبق پڑھایا جانے لگا کہ حجاب میں چـہــرہ چـھـپـانـا دراصل واجب نہیں ہے۔ عــورت کے لیے چـہـرہ کھلا رکھنا جائز ہے ۔ بعض علمائے کرام کا فتویٰ ہے کہ چہرے کو کھلا رکھنا جائز ہے۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS