Islam Jis se Rokta hai usme jarur koi n koi wazah hoti hai Bas Insan Apni KAmzor Aqal se Samajh nahi paata.
کسی عمل کے کرنے یا رکنے کا دین جو حکم دیتا ہے اسکے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کی سورہ اعراف میں کھانے پینے کے علاوہ جو کچھ حرام کیا ہے اس میں فواحشات یعنی بدکاری اور متعلقات، حق تلفی، کسی کے جان و مال کے خلاف اقدام، شرک اور اپنی طرف سے دین میں کچھ شامل کر دینا یا ایسا اللہ کے نام منسوب کر دینا جو اللہ تعالی نے نہیں کہا جسے اختراع کہتے ہیں، شامل ہے۔جو بھی عمل ان کے تحت آئے گا وہ ممنوع ہو گا۔ ان سے بچنے کے لیے بھی ہدایت دی گئیں تاکہ مسلمان ان اعمال کے قریب بھی نہ جائیں۔ لہذا ہم کسی بھی عمل کے درست یا غلط ہونے کو جانچنے کے لیے دیکھیں گے کہ ان بیان کردہ ممنوعات کے تحت تو وہ نہیں آتا۔
کوئی چیز اپنے وجود میں بری نہیں ہوتی۔ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔
کوئی چیز اپنے وجود میں بری نہیں ہوتی۔ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔
دولت کمانے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ ترغیب دی گئی ہے۔ لیکن اگر اسے ناجائز زرائع سے حاصل کیا جائے تو اس سے حق تلفی ہو سکتی ہے جیسا کہ رشوت، کرپشن، دھو کہ دہی اور چوری چکاری وغیرہ۔ اسی طرح ملاوٹ نہ صرف حق تلفی ہے بلکہ کہ کسی کی جان کے خلف اقدام بھی ہے۔ فنون لطیفہ میں برائی نہیں لیکن اگر اس میں کسی فواحش کی ترغیب ملتی ہو تو یہ برائی ہو جاتی ہے۔ اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ موبائل فون یا ٹی وی کو اچھے مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہیں اوراس پر فواحش بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کاغذ اور قلم کی مثال لے لیں اس سے اچھا بھی لکھا جا سکتا ہے اور برا بھی۔لہذا کوئی چیز ساخت میں بری نہیں ہوتی اس کا استعمال اس کی حیثیت بدل دیتا ہے۔
دولت،شہرت اور طاقت میں غرور و تکبر اور نمائش نظر آئے تو یہ برے افعال ہیں لیکن ویسے یہ نعمتیں ہیں۔ لہذا اس طرح کا کوئی بھی عمل جس میں غرور پایا جائے وہ غلط ہو گا۔ جس عمل سے کسی کی حق تلفی ہوتی ہو وہ غلط ہو گا جس سے کسی کے خلاف ظلم و زیادتی ہو وہ غلط ہو گا۔ کسی کے جان و مال کے خلاف عمل ہو گا تو یہ حرام ہو گا. گسی بات، چیز یا عمل میں شرک کا شائبہ پایا جائے تو غلط ہو گا اسی لیے ایسی تصاویر و مجسمے بنانے کے لیے منع فرمایا کہ جن کا مقصد شرک ہو۔ہر شخص اپنے خیالات اور اعمال کا جائزہ لے کر دیکھ سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق کہاں کھڑا ہے۔
دولت،شہرت اور طاقت میں غرور و تکبر اور نمائش نظر آئے تو یہ برے افعال ہیں لیکن ویسے یہ نعمتیں ہیں۔ لہذا اس طرح کا کوئی بھی عمل جس میں غرور پایا جائے وہ غلط ہو گا۔ جس عمل سے کسی کی حق تلفی ہوتی ہو وہ غلط ہو گا جس سے کسی کے خلاف ظلم و زیادتی ہو وہ غلط ہو گا۔ کسی کے جان و مال کے خلاف عمل ہو گا تو یہ حرام ہو گا. گسی بات، چیز یا عمل میں شرک کا شائبہ پایا جائے تو غلط ہو گا اسی لیے ایسی تصاویر و مجسمے بنانے کے لیے منع فرمایا کہ جن کا مقصد شرک ہو۔ہر شخص اپنے خیالات اور اعمال کا جائزہ لے کر دیکھ سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق کہاں کھڑا ہے۔







No comments:
Post a Comment