find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Zakat Ke Jadeed Masail Part 2

Zakat Ke Jadeed Masail Part 2

بِسْــــــــــمِ اِللَّهِ الرَّ حْمَـــنِ الرَّ حِيِــــمِ
السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
_____________________اسلام کا نظامِ زکوٰۃ اور جدید مسائل ( دوم )______________________
🌏 3. زرعی پیداوار پر زکوٰۃ :
زرعی پیداوار پر زکوٰۃ کو اصطلاحی طور پر 'عشر' کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ زرعی پیداوار میں ہر فصل تیا رہونے کے بعد اس کا عشر (یعنی دسواں حصہ)بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے بشرطیکہ مجموعی پیداوار پانچ وسق یا ا س سے زیادہ ہو اور زمین کی سیرابی کے لئے مشقت کرکے پانی حاصل نہ کیا گیا ہو یعنی ٹیوب ویل لگانے یا کنویں کھودنے کی بجائے بارش یا نہروں کے ذریعے بغیرمشقت کے پانی حاصل ہوجائے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر از راہِ تخفیف بیسواں حصہ (یعنی نصف العشر) بطورِ زکوٰۃ نکالا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
''فیما سقت السماء والعیون أو کان عثریا العشر وما سقی بالنضح نصف العشر'' (بخاری:۱۴۸۳)
''جو زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہوتی ہے یا پھر وہ بارانی ہو اس میں عشر ہے اور جو زمین رہٹ وغیرہ کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو تواس میں نصف العشر ہے۔''
زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار اگر پانچ وسق سے کم ہو تو پھر اس میں کسی قسم کی زکوٰۃ (عشر) فرض نہیں جیسا کہ حضرت ابوسعیدؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:
''لیس فیما أقل من خمسة أوسق صدقة'' (بخاری:۱۴۸۴)
''پانچ وسق سے کم پر زکوٰۃ فرض نہیں۔''
اور واضح رہے کہ پانچ وسق کا مجموعی وزن تقریباً۱۸ من یا دوسرے لفظوں میں ۷۲۰ کلوگرام بنتا ہے جبکہ بعض علما نے ۱۵ من بعض نے ۲۰ من اور بعض نے ۲۵ من کا اندازہ بھی نکالا ہے۔ واﷲ اعلم!
کون کون سی اجناس پر عشر ہوگا؟
اس سلسلہ میں چار اجناس تو وہ ہیں جن پر وجوبِ عشر کے حوالے سے اجماع ہوچکا ہے اور وہ یہ ہیں:
🔸1. گندم،
🔸2.جو،
🔸3.کھجور اور
🔸4.کشمش
(دیکھئے:الاجماع لابن منذر: ص۴۳، موسوعۃ الاجماع: ۱؍۴۶۶)
جبکہ اس کے علاوہ دیگر اجناس کے بارے میں اہل علم کااختلا ف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور بعض تابعین اور امام احمد، موسیٰ بن طلحہ، حسن، ابن سیرین، شعبی، حسن بن صالح، ابن ابی لیلیٰ، ابن المبارک اور ابوعبیدرحمہم اللہ کا یہی موقف ہے کہ صرف ان چار چیزوں پر زکوٰۃ ہے۔(المحلّٰی: ج۵؍ ص۲۰۹) اور یہ اصحاب اپنی تائیدمیں وہ روایات پیش کرتے ہیں جن میں صرف انہی چار اجناس کی زکوٰۃ کا ذکر ہے مگر ان کی اسناد ضعف سے خالی نہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے (فقہ الزکوٰۃ :ج۱ ؍ص۴۶۴،۴۶۵) جبکہ دیگر اہل علم ان تمام روایات کو ضعیف قراردیتے ہوئے دیگر زرعی اجناس پر بھی وجوبِ عشر کے قائل ہیں اور اپنی تائید میں قرآن و حدیث کے دیگر عمومی دلائل پیش کرتے ہیں مثلاً
(1)﴿وَءاتوا حَقَّهُ يَومَ حَصادِهِ...١٤١﴾... سورة الانعام
''کٹائی کے دن ان (زرعی اجناس) کا حق ادا کرو۔''
(2) ﴿وَمِمّا أَخرَ‌جنا لَكُم مِنَ الأَر‌ضِ...٢٦٧﴾... سورة البقرة
''اور ان چیزوں میں سے (زکوٰۃ نکالو) جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالی ہیں۔''
اس کے علاوہ اس گروہ کے پاس اوربھی کئی عمومی دلائل موجود ہیں، تاہم آگے چل کر ان میں بھی اختلاف ِرائے موجود ہے۔ مثلاً
''امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ہر اس اراضی پیداوار پرجس سے افزائش زمین مقصود ہو اور جس سے لوگ بالعموم فائدہ حاصل کرتے ہوں، زکوٰۃ فرض ہے۔جب کہ ان کے نزدیک لکڑی، گھاس پھونس، اور ایرانی بانس مستثنیٰ ہے۔ ا س لئے کہ ان اشیا کی لوگ بالعموم پیداوار نہیں کرتے بلکہ اس سے زمین کو صاف کردیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص (حصولِ منفعت کے لئے) لکڑی والے درخت یا بانس یا گھاس ہی زمین میں اُگالے تو اس پر عشر عائد ہوجائے گا...
امام ابویوسف اور امام محمد کی رائے ان اشیا کے بارے میں جن کا پھل باقی نہ رہے (جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور کھیرے ککڑی وغیرہ) امام ابوحنیفہؒ کی رائے سے مختلف ہے اور ان اشیا میں (بھی) ان کے نزدیک زکوٰۃ ہے۔'' (فقہ الزکوٰۃ: ج۱؍ ص۴۷۰ تا۴۷۱)
داود ظاہری وغیرہ کا نکتہ نظر بھی یہی ہے کہ
''ہر اراضی پیداوار پر زکوٰۃ ہے اور اس میں کوئی استثنیٰ نہیں اور یہی ابراہیم نخعی کا بھی ایک قول ہے اور یہی حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ، مجاہدؒ، حمادبن ابی سلمان ؒ سے مروی ہے۔'' (ایضاً)
امام احمد بن حنبلؒ سے اس سلسلہ میں کئی طرح کے اقوال مروی ہیں تاہم ابن قدامہ نے المغنی میں ان کا جو مشہور قول بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ
''وکل ما أخرج اﷲ عزوجل من الأرض مما ...'' (المغنی: ج۴؍ ص۱۵۵)
ان تمام اشیا پر زکوٰۃ (عشر) ہے جن میں یہ تین وصف ہوں:
🔸1. خشک ہونے کی خاصیت ہو
🔸2. محفوظ کی جاسکتی ہوں
🔸3. اور تولی جاسکتی ہوں۔''
شوافع کا نکتہ نظر یہ ہے کہ (دیکھئے شرح المنہاج: ج۲؍ ص۱۶)
ہر وہ زرعی جنس جو غذا اور ذخیرہ بن سکتی ہے اس پرعشر ہوگا اور جن میں یہ شرائط نہ ہوں،ان پر عشر نہیں۔ مثلاً بادام، اخروٹ، پستہ، سیب، انار، امرود وغیرہ پر ان کے نزدیک عشر نہیں
مالکیوں کی بھی یہی رائے ہے تاہم انہوں نے صرف ۲۰ متعین چیزوں پر عشر واجب قرار دیا ہے۔
(دیکھئے الشرح الکبیر مع حاشیہ الدسوقی :ج۱ ص۴۴۷)
مذکورہ بالا اختلاف میں داود ظاہری کا نکتہ نظر ہمیں اَقرب ا لی السنۃ معلوم ہوتا ہے ۔امام ابو حنیفہ اور امام احمد کا فتویٰ بھی یہی ہے ۔متاخر علمائے اہلحدیث کی بڑی تعداد بھی اسی کی قائل ہے اور علامہ یوسف قرضاوی نے بھی اسی رائے کو ترجیح دی ہے ۔ باقی رہی ترمذی کی وہ حدیث جس میں ہے کہ 'سبزیوں میں زکوٰۃ نہیں' تو اسے خود امام ترمذی نے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔
🌏 4. اَموالِ تجارت پر زکوٰۃ :
ابن منذر فرماتے ہیں کہ
''وأجمعوا علی أن في العروض التي تدار للتجارة الزکوٰة إذا حال علیھا الحول'' (الاجماع: ص۴۵) ''اہل علم کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ جو مال تجارت کے لئے ( رأس المال) ہو اس پر زکوٰۃ فرض ہے بشرطیکہ اس پر ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہو۔''
مذکورہ بالا اجماع جن نصوص کی بنیاد پر ہوا ہے، ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
(1)﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَنفِقوا مِن طَيِّبـٰتِ ما كَسَبتُم...٢٦٧﴾... سورة البقرة
''اے ایمان والو! جو پاکیزہ مال تم نے کمائے ہیں، ان سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔''
(2) حضرت سمرہؓ سے مروی ہے کہ
''کان النبي! یأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعدّ للبیع'' (ابوداود:۱۵۶۲)
''نبی اکرمﷺہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم ان تمام چیزوں سے زکوٰۃ ادا کریں جو بغرضِ تجارت ہمارے پاس موجود ہوں۔''
(3) حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:
''اونٹوں پر زکوٰۃ ہے، بکریوں پر زکوٰۃ ہے، گائیوں پر زکوٰۃ ہے اور تجارت کے کپڑے پرزکوٰۃ ہے۔'' (المحلی: ج۵؍ص۲۲۴)
اگرچہ مذکورہ بالا روایتوں کی سندوں پر بعض محدثین نے تنقید کی ہے، تاہم اجماعِ اُمت اور عمل صحابہؓ سے اسی کی تائید ہوتی ہے کہ سامانِ تجارت پر زکوٰۃ نکالی جائے گی۔ (دیکھئے کتاب الاموال لابی عبید: ص۴۲۵ اور السنن الکبری للبیہقی :۴؍۱۴۷،فقہ الزکوٰۃ:ایضاً،الاجماع ص ۴۵)
🌟 آلاتِ تجارت پر زکوٰۃ نہیں ہے!
سامانِ تجارت اور آلاتِ تجارت میں واضح فرق ہے۔ جوچیزیں تجارت کیلئے (For Sale) ہوں، ان پرہر سال چالیسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ نکالا جائے گا۔ اہل ظواہر، امام شوکانی، اور نواب صدیق حسن خاں کو چھوڑ کر باقی اُمت کا اس پر اتفاق رہا ہے اور اسی طرح اُمت کا اس بات پر بھی اجما ع رہا ہے کہ آلاتِ تجارت خواہ وہ کتنے ہی قیمتی کیوں نہ ہوں، ان پر زکوٰۃ نہیں تاہم ان سے حاصل ہونے والی آمدنی پراگر ایک سال کا عرصہ گزر جائے اور وہ نصاب کے برابر ہو تو پھر اس کی زکوٰۃ دی جائے گی۔(دیکھئے: الفقہ علی المذاھب الأربعۃ: ج۱؍ ص ۵۹۵) اس سلسلہ میں جو دلائل پیش کئے جاتے ہیں وہ یہ ہیں:
(1) حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''لیس علی العوامل شيء''
(ابوداود:۱۵۷۲) ''پیداوار کا ذریعہ بننے والے جانوروں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔''
(2) حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''لیس في الإبل العوامل صدقة'' (السنن الکبریٰ للبیہقی:۴ ؍۱۱۶)
''کام کرنے والے اونٹوں پر زکوٰۃ نہیں ہے''
(3) امام بیہقی فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ سے مروی ایک روایت میں اونٹوں کے ساتھ بیل، گائیوں کا بھی اس طرح ذکر ہے کہ
'' اوربیل گائیاں کام کرنیوالے ہوں تو ان میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔'' (ایضاً)
(4) اسی طرح حضرت علی ؓ ، حضرت جابرؓ اور بعض دیگر صحابہ اور تابعین و تبع تابعین سے مروی ہے کہ ''ہل چلانے والے جانور (بیل ، گائے وغیرہ) پر زکوٰۃ نہیں۔'' (ایضاً)
(5) مذکورہ بالا احادیث و آثار کی بنیاد پر جمہور فقہاء و محدثین کا متفقہ طور پر یہ موقف رہا ہے کہ پیداوار کا ذریعہ بننے والے جانوروں پر زکوٰۃ نہیں اور اگر کسی نے شذوذ و تفرد کی راہ اختیار کرتے ہوئے پیداوار کاذریعہ بننے والے جانوروں پر بھی زکوٰۃ عائد کرنے کی کوشش کی تو دیگر فقہاء ومحدثین نے اس کی تردید کی۔ مثلاً امام خطابی ابوداود کی روایت (نمبر۱) ذکر کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''وقوله لیس في العوامل شيء بیان فساد قول من أوجب فیھا الصدقة وقد ذکرنا فیما مضیٰ'' (معالم السنن:ج۲؍ ص۳۰)
''حدیث ِنبوی کے یہ الفاظ کہ '' پیداوار کا ذریعہ بننے والے جانوروں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔'' ہر اس شخص کے موقف کی خوب تردید کرتے ہیں جو ان جانوروں پر بھی زکوٰۃ فرض قرار دیتے ہیں۔ ا ور یہ مؤقف کن کا ہے، اس کی وضاحت ہم پیچھے کر آئے ہیں۔''
واضح رہے کہ احادیث میں آلاتِ پیداوار کی جگہ اونٹوں اور گائیوں کا ذکر آیاہے اس لئے کہ اس دور میں یہی جانور آلاتِ پیداوار کی حیثیت رکھتے تھے، تاہم دورِ حاضر میں ان کی جگہ تمام جدید آلات بھی ذرائع پیداوار کی حیثیت رکھنے کی وجہ سے زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گے جیسا کہ مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒ لیس في الإبل العوامل صدقةکے ضمن میں رقم طراز ہیں کہ
''اس ارشاد میں اگرچہ اونٹ کا نام آیا ہے تاہم یہ ایک عام اصول ہے مثلاً دکان کا باردانہ یا فرنیچر زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گے، اسی طرح فیکٹریوں میں نصب شدہ مشینیں جو پیداوار کا ذریعہ بنتی ہیں خود بکاؤ مال نہیں ہوتیں، وہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گی۔'' (تجارت اور لین دین کے مسائل: ص۲۹۳)
اسی طرح ہر وہ چیز آلاتِ تجارت اور ذرائع پیداوار متصور ہوگی جو کرائے کے لئے دی جاتی ہو۔ مثلاً کرائے کا مکان، دکان، فرنیچر، گاڑیاں، بسیں اور دیگر سامان وغیرہ۔ یہ چیزیں بھی چونکہ کمائی کا ذریعہ (آلاتِ تجارت؍ذرائع پیداوار) ہیں، اس لئے ان سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر نصاب کے بقدر ہو اور اس پر ایک سال کا عرصہ بھی گذر چکا ہو تو پھر اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی، ورنہ نہیں۔ ( دیکھئے المغنی: ج۳ ص۴۷) خواہ بذاتِ خود یہ چیزیں کتنی ہی قیمتی اور مہنگی کیوں نہ ہوں۔ جمہور فقہائِ اُمت کا گذشتہ چودہ صدیوں سے یہی موقف رہا ہے مگر ماضی قریب میں علامہ یوسف قرضاوی اور ان کے تین استادوں (ابوزہرہ، عبدالرحمن حسن اور عبدالوہاب خلاف) نے اس مسئلہ میںاختلاف کرتے ہوئے ایک نئی رائے پیش کی اوروہ یہ ہے کہ صرف ایسے آلاتِ تجارت ، زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں ۔چنانچہ موصوف رقمطراز ہیں:
''جو آلات آج بھی دست کار کے ذاتی استعمال کے ہوں اور وہ ان کو خود استعمال کرتا ہو مثلاً حجام کے آلاتِ حجامت وغیرہ اور وہ آلاتِ صنعت جو حصولِ منفعت میں رأس المال کی حیثیت رکھتے ہیں اور مالک کو نفع پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہوں جیسے کارخانے کا مالک جواس کارخانے کو چلانے کے لئے مزدوروں کو اُجرت پرلگاتا ہو تو اس کے یہ صنعتی آلات (مشینیں) اس کا رأس المال اور مالِ نامی متصور ہوں گے کیونکہ اسے ان مشینوں سے جو منفعت حاصل ہورہی ہے، اس کے لحاظ سے یہ مشینیں آہن گر یا بڑھئی کے ان اوزاروں کے مشابہ نہ ہوں گی جن سے وہ ہاتھ سے کام لیتا ہے۔ اس لئے ان آلاتِ صنعت اور مشینوں کے مالِ نامی ہونے کے باعث ان پر زکوٰۃ عائد ہوگی اور ان کا شمار ذاتی استعمال کی اشیا میں نہیں ہوگا۔''
(فقہ الزکوٰۃ: ج۲؍ ص۶۱۰،۶۱۱)
مذکورہ اقتباس میں موصوف نے دو باتیں ذکر کی ہیں:'' ایک تو یہ کہ جدید صنعتی آلات مالِ نامی ہیں اور مالِ نامی پر زکوٰۃ فرض ہے''۔ حالانکہ ہر مالِ نامی موجب زکوٰۃ نہیں ہوتا اور خود موصوف نے بھی اس پر بحث کی ہے کہ ''ہر مالِ نامی محل زکوٰۃ نہیں۔'' اس کی مزید تفصیل پچھلے صفحات میں 'ذاتی استعمال کی اشیا پر زکوٰۃ' کے ضمن میں گزر چکی ہے۔
موصوف نے دوسرا نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ قدیم دور کے آلاتِ صنعت کو جدید آلاتِ صنعت کا محل ِقیاس نہیں بنایاجاسکتا اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ قدیم آلاتِ صنعت براہِ راست استعمال ہوتے تھے جبکہ جدید آلاتِ صنعت اکثر و بیشتر بالواسطہ استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں مماثلت نہیں۔ حالانکہ یہ اعتراض سرے سے غلط ہے اس لئے کہ اوّل تو قدیم آلاتِ تجارت دونوں طرح ہی استعمال ہوتے تھے۔ بلاواسطہ میں تو انہیں بھی شک نہیں جبکہ غلاموں کے ذریعے اور کرائے اور ٹھیکے کے ذریعے ہونے والے سبھی کام بالواسطہ ہی کی مثالیں ہیں۔ اور دورِ حاضر میں کرائے پراستعمال ہونے والے تجارتی کمپلیکس، بسیں، گاڑیاں اور جہاز وغیرہ کو قدیم دور میں کرائے پر چڑھنے والے مکانوں، باغوں وغیرہ پر قیاس کرنا بالکل صحیح ہے۔ اسی طرح وہ جدید آلاتِ صنعت جنہیں بالواسطہ استعمال کیا جاتا ہے، انہیں قدیم دور کے ان آلات پر قیاس کرنا صحیح ہے جن کے ذریعے مالکوں کے غلام کام کیا کرتے تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ شریعت نے جب عوامل (یعنی ذرائع پیداوار اور آلاتِ تجارت) کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے بالواسطہ اور بلاواسطہ کی کوئی تفریق نہیں کی تو پھر ہمیں اس تفریق کی آخرکیا ضرورت ؟ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ یوسف قرضاوی نے ہمارے موقف کے حامل متقدم فقہاکے دلائل ذکر کرتے ہوئے ان صریح احادیث کو پیش نہیں کیا جن میں ذرائع پیداوار کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔کچھ یہی صرفِ نظر پروفیسر احمد اقبال قاسمی صاحب نے اپنے مضمون 'زکوٰۃ کا نفاذ ، چند قابل غور پہلو' (شائع شدہ ترجمان القرآن، اگست ۲۰۰۳ء) میں کیاہے۔ اس پر طرہ یہ کہ انہوں نے سامانِ تجارت اور آلاتِ تجارت کو ایک ہی زاویہ سے پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ اور آخر میں یہ الفاظ رقم کردیے ہیں کہ
''احقر بھی حضرت مولانا محمد طاسین مرحوم اور ڈاکٹر یوسف قرضاوی اور ڈاکٹر ابوزہرہ، پروفیسر عبدالوہاب خلاف کے نظریات کی پوری طرح تائید کرتا ہے۔'' (ماہنامہ 'ترجمان القرآن' اگست ۲۰۰۳ئ:ص۵۳)
حالانکہ یہ اصحاب اگرچہ آلاتِ تجارت کی بعض صورتوں پر وجوبِ زکوٰۃ کے قائل ہیں لیکن یہ آلاتِ تجارت اور سامانِ تجارت میں فرق ضرور کرتے ہیں۔ اس لئے مضمون نگار کو چاہئے تھا کہ وہ ان اصحاب کے نکتہ نظر کا بغور مطالعہ کرکے کوئی رائے دیتے۔ لیکن انہوں نے مذکورہ مضمون میں چونکہ ایک دو ثانوی مصادر سے سرسری استفادہ کے بعد اخذ و ترتیب سے کام لیا ہے، اس لئے نہ صرف یہ کہ پورا مضمون ہی خلط ِمبحث کا شکار دکھائی دیتا ہے بلکہ اس میں یہ بلند بانگ دعویٰ بھی ہے کہ: ''ان حضرات (یعنی آلاتِ تجارت پر عدمِ وجوب کے قائل... ناقل) کے پاس قرآن و سنت کی کوئی صریح دلیل نہیںہے۔ اس کا سارا انحصار فقہا کی درج ذیل عبارت پر ہے جو حاجاتِ اصلیہ پر زکوٰۃ نہ ہونے سے متعلق ہے...'' ( ایضاً:ص۵۲)
حالانکہ مضمون نگار اگر بنیادی مصادر ومراجع کی طرف رجوع کرلیتے تو یقینا اتنا بڑا دعویٰ نہ کرتے۔ کیونکہ قرآن و سنت میں ایسے دلائل موجود ہیں جن سے آلاتِ تجارت پر عدمِ وجوبِ زکوٰۃ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میںچار احادیث و آثار تو ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں۔ باقی رہی قرآنی دلیل تو وہ بھی پیش خدمت ہے :
﴿أَمَّا السَّفينَةُ فَكانَت لِمَسـٰكينَ يَعمَلونَ فِى البَحرِ‌...٧٩﴾... سورة الكهف
''کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔''
اس آیت میں یہ بات موجود ہے کہ دریائی کشتی جو یقینا ایک قیمتی چیز تھی، کے مالک ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مسکین قرار دیا ہے اور مسکین بذاتِ خود مستحق زکوٰۃ ہوتا ہے۔ گویا کشتی جو ان لوگوں کے لئے آلہ تجارت تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کی کوئی بات نہیں کی لہٰذا اسی طرح ہر آلہ تجارت زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار پائے گا خواہ وہ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو۔ واضح رہے کہ دریا اور سمندر میں کام کرنے کے قابل درمیانے درجہ کی کشتی بھی انتہائی قیمتی ہوتی ہے اور خود ہمارے ایک دوست نے ایسی ہی معمولی کشتی ۱۵ لاکھ میں خریدی حالانکہ وہ تھی بھی استعمال شدہ۔
مجلہ'ترجمان القرآن' کی مناسبت سے یہاں یہ بات واضح کردینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بانی ٔترجمان سید مودودیؒ کی رائے بھی اس مسئلہ میں وہی تھی جو جمہور فقہائے امت کی گذشتہ چودہ صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ چنانچہ سید مودودیؒ نے بعض لوگوں کے اعتراضات کے باوجود یہی رائے دی کہ
'' کرایہ پر دی جانے والی اشیا کے بارے میں جو کچھ لکھا گیاتھا وہ مختصر تھا، اس لیے بات واضح نہ ہو سکی ۔میرا مدعا یہ ہے کہ جولوگ فرنیچر یاموٹریں یا ایسی ہی دوسری چیزیں کرائے پر چلانے کا کاروبار کرتے ہیں، ان کے کاروبار کی مالیت اس منافع کے لحاظ سے مشخص کرنی چاہیے جو اس کاروبار میں ان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس فرنیچریا ان موٹروں کی قیمت پر زکوٰۃ محسوب کی جائے جسے وہ کرائے پر چلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ تووہ آلات ہیں جن سے وہ کام کرتے ہیں اور آلات کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں لگتی۔ در اصل اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کاروبار جو منافع دے رہا ہو اس کی بنا پر یہ رائے قائم کی جائے گی کہ اس قدر منافع دینے والے کاروبار کی مالیت کیا قرار پانی چاہیے ۔رہے کرایہ کے مکانات تو ان کے بارے میں مجھے بھی اس بنا پر تامل ہے کہ سلف سے ان پر زکوٰۃ لگائے جانے کاثبوت نہیں ملتا۔''
'الإبل العوامل'(کام کرنے والے اونٹوں) پر زکوٰۃ نہ لگنے کی وجہ وہی ہے جو میں نے پہلے بیان کی ہے کہ ایک آدمی جن آلات یا حیوانات کے ذریعے سے کام کرتا ہو، ان پر زکوٰۃ نہیں لگتی۔ مثلاً ہل چلانے والے بیل یا بار برداری کے جانور، ان پر زکوٰۃ ِمواشی عائد نہ ہوگی۔ اسی طرح ڈیری فارم کے جانوروں پر زکوٰۃ ِمویشی عائد نہ ہوگی، ان کی زکوٰۃ تو اس پیداوار پر زکوٰۃ لگنے کی صورت میں وصول ہوجاتی ہے جو ان کے ذریعہ سے حاصل کی گئی ہو۔ کرایہ پر چلانے جانے والے اونٹوں پر بھی عوامل کا اطلاق ہوتا ہے، اس لئے ان پر بھی زکوٰۃ مویشی عائد نہ ہونی چاہئے اور نہ ان کی مالیت پر زکوٰۃ لگنی چاہئے۔ بلکہ اس کرایہ کے کاروبار کی جو Good Willمشخص ہو، اس پر زکوٰۃ لگنی چاہئے۔''
(ترجمان القرآن:فروری ۱۹۶۲ء اور رسائل ومسائل حصہ سوم: ص ۳۳۰)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کرائے پرچلنے والے بڑے بڑے کمپلیکس، بسیں، جہازاور قیمتی مشینری وغیرہ کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرا ردے دیا جائے تو پھر بہت سے لوگ زکوٰۃ سے بری ہوجائیں گے اور غربا کی حق تلفی ہوگی۔ حالانکہ یہ محض مفروضہ ہے، اس لئے کہ جس شخص کے آلاتِ تجارت کروڑوں کی مالیت کے ہوں، اس کی آمدن بھی لاکھوں سے کم نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کی آمدن پر جب ہزاروں، لاکھوں روپیہ بطورِ زکوٰۃ نکل رہا ہے تو پھر اسے کسی ایسی تنگی میں مبتلا کرنے کی کیا ضرورت جو شریعت نے پیدا نہیں کی۔ بلکہ ایسے اصحابِ ثروت اگر آمدن ہی کی زکوٰۃ نیت و خلوص سے ادا کرتے رہیں تو معاشی و معاشرتی سطح پر بہت بڑی مثبت تبدیلی رونما ہوجائے گی۔٭ ان شاء اللہ!
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
جناب مبشر حسین
وٙالسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS