find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Jisne Fatima ko Sataaya Usne Mujhe Sataya.

السلام علیکم ورحمةاللہ
اس حدیث کے بارے میں رہنمائی فرما دیں
کہا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے فاطمہ کو ستایا اس نے مجھے ستایا اور یہ تب فرمایا جب حضرت علی نے ابو جہل کی بیٹی سے شادی کی تھی۔
اس حدیث کا سیاق و سباق بتا دیں
والسلام علیکم
۔....................................................
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَة : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : فَاطِمَة بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَ هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.
’’حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، پس جس نے اسے ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔
الحديث رقم 5 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3510، و في کتاب : المناقب، باب : مناقب فاطمة، 3 / 1374، الرقم : 3556، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1903، الرقم : 2449، و ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 388، الرقم : 32269، و أبو عوانة في المسند، 3 / 70، الرقم؛ 4233، و الشيباني في الآحاد والمثاني، 5 / 361، الرقم : 2954، و الطبراني في المعجم الکبير، 202 / 404، الرقم : 1012.
یہ حدیث اس وقت بیان کی تھی جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے نبیﷺ اور اللہ کے عدو کی بیٹی کو ایک ہی چھت کے نیچے رکھنے کا سوچ رہے تھے۔۔۔
اُس موقع پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم حسنین رضی اللہ عنھم جنت میں عورتوں کی سردار کو تکلیف دینے پر یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔۔
ہم سے ابولیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے علی بن حسین نے بیان کیا اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کو (جو مسلمان تھیں)پیغام نکاح دیا، اس کی اطلاع جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھئیے یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ پڑھتے سنا۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امابعد: میں نے ابوالعاص بن ربیع سے (زینب رضی اللہ عنہا کی، آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی) شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے (جسم کا)ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔
اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیے۔
Share:

1 comment:

  1. Jhoot likha hai ye sab. Kisi nasbi ne sab likha hai ye. Mola Ali A.S. ne aisa kabhi koi kaam he nahi kiya jis main Nabi e Karim S.A.W. ki marzi shamil na ho. Ye hadees kisi or waqiya k reference main maujood hai or wo reference Aqa S.A.W. k wisaal k baad pesh aya jab khilafat k masayil thay.

    ReplyDelete

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS