find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Kya Panch Saal ke Mre Hue Bacche Ka Janaze ka Namaj Padha Ja Sakta Hai?

سوال: کیا پانچ ماہ کے بچے پر جو مرا ہوا پیدا ہوا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے اور اس کے کفن دفن کا طریقہ کیا ہوگا
جزاکم اللہ خیرا. سائل: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
الجواب بعون بعون رب العباد:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتبہ:ابوزھیر محمد یوسف بٹ بزلوی ریاضی۔
خریج جامعہ ملک سعود ریاض سعودی عرب۔
تخصص:فقہ واصولہ:
بی اے بی ایڈ ، ایم اے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وبعد!
چھوٹا بچہ جو ماں کے پیٹ میں چار ماہ کا ہو اور وہ مراہوا پیدا ہوجائے اس پر نماز جنازہ پڑھا جائے  اور اسکا کفن بھی پہنایا جائے۔
اسی طرح جو بچہ چار ماہ کی عمر میں مرجائے اس پر نماز جنازہ پڑھا جائے گا اور اس کا غسل بھی دیا جائے گا۔
دلیل1⃣:حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو بچہ ماں کے پیٹ میں مرجائے اس پر نماز جنازہ پڑھا جائے گا۔ ۔ ۔ ۔[رواه أبوداود  والترمذي ،  مسند أحمد17468 ، بحوالہ:فتاوی لجنہ دائمہ 406/8  ،  والطيالسي 737 والبيهقي في السنن الكبرى 6866  ، قال الترمذيُّ حسنٌ صحيح، وحسَّن إسنادَه ابنُ باز في التعليق على فتح الباري 24/3 ،  وصحَّحه الألباني في صحيح سنن أبي داود ، 3180]۔
دوسری دلیل2⃣:مغیرہ بن شعبہ ہی سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  بچہ کا نماز جنازہ پڑھا جائے۔[أحمد والنسائي والترمذي ، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح کہا ہے ، دیکھئے:شرح المهذب217/5 ، یہ حدیث صحیح ہے]۔
اہل علم کی آراء مع ادلہ:
1⃣:شیخ صالح المنجد رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب فرمایا ہے کہ جو بچہ چار ماہ بعد مرا ہوا پیدا ہوجائے اسکا نام رکھا جائے اور غسل دیا جائے ، کفن پہنایا جائے اور اس کا نماز جنازہ بھی پڑھا جائے اور اسے مسلمان قبرستان میں دفن کیا جائے اور اسکی طرف سے عقیقہ بھی کیا جائے گا اسی پر ہمارے مشائخ کا فتوی ہے۔[فتاوى شيخ صالح المنجد].
2⃣:علامہ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ بچہ جو مرا ہوا ماں کے بطن سے پیدا ہوجائے اسکا نماز جنازہ پڑھنا مشروع ہے اسلئے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ بچہ کا نماز جنازہ پڑھا جائے اور اسکے والدین کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا مانگی جائے۔
اس معاملے میں یہی صحیح ہے کہ جو بچہ چار ماہ سے زائدہ کا پیدا ہوجائے اس كا نماز جنازہ پڑھا جائے اور جو اسے کم كا ہو اسکا نماز جنازہ نہ پڑھا جائے۔[احکام الجنائز ص نمبر:80]۔
3⃣:علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں چار ماہ کے بچے کا نماز جنازہ پڑھا جائے اسلئے اس میں روح پہونکی گئی ہے جیساکہ حدیث ابن ۔مسعود رضی اللہ عنہ میں ہے۔ ۔ ۔ ۔[نیل الاوطار53/4]۔
جو بچہ چار سے کم کا ہو اسکا نہ نماز جنازہ ہے اور نہ اسے غسل دیا جائے گا اور نہ اسکا نام اورنہ  اسکی طرف سے عقیقہ کیا جائے۔ ۔ [فتاوی لجنہ دائمہ408/8]۔
4⃣:علامہ ابن عثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو بچہ چار ماہ سے کم کا ہو اور وہ مرجائے اسکو نہ غسل دیا جائے اور نہ اس پر نماز جنازہ پڑھا جائے لیکن جو بچہ چار ماہ یا اسے زائد کا ہو اسکا غسل دیا جائے گا اور اس کا نماز جنازہ بھی  پڑھا جائے گا اور صحیح رائے کے مطابق اسکی طرف سے عقیقہ بھی کیا جائے گا۔[أسئلة الباب المفتوح السؤال نمبر:653]۔
چار ماہ کے بعد پیدا ہونے والے بچے کا نماز جنازہ پڑھا جائے گا اور اسے غسل بھی دیا جائے۔
5⃣:علامہ ابن منذر اور ابن قدامہ رحمھما  اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔[المغني328/2 ، بدائع الصنائع302/1 ،
اسکے متعلق بعض آثار بھی ہیں:
جلیل القدر صحابی ابن عمر رضی اللہ نے اپنے بیٹی کے بیٹے کا نماز جنازہ پڑھایا جب کہ وہ مراہوا پیدا ہوا تھا۔[عمدة القاري  كتاب الجنائز باب نمبر:79 ، ص نمبر:23].
6⃣:علامہ ابن سیرین ، امام ابن مسیب ، اسحاق اور امام احمد بن حنبل رحمھم بھی اسکے قائل ہیں کہ چار ماہ کے بچے کا نماز جنازہ پڑھا جائے چاھئے وہ پیدا ہوتے وقت چلا یا نہ چلائے۔[المجموع217/5].
خلیفہ اول ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چار ماہ زائد مردہ بچے کا نماز جنازہ پڑھا جائے اسلئے کہ اس میں روح پہونکی گئی ہے وہ اس بچہ کے حکم میں جو مرنے کے وقت چیخے ،کیونکہ نبی اکرم علیہ السلام نے خبر دی کہ چار ماہ کے بچے میں روح پہونک دی جاتی ہے۔ حدیث ابن مسعود۔[أخرجه البيهقي في باب السقط يغسل ويكفن ويصلى عليه إن استهل وعرفت حياته ، كتاب الجنائز ، السنن الكبرى9/4 ، مصنف عبد الرزاق 532/3 ، باب الصلاة على الصغير والسقط وميراثه ، كتاب الجنائز ، حديث ابن مسعود في صحيح البخاري ، كتاب بدء الوحي135/4 ، وهذا الحديث موجود أيضا في كتاب التوحيد لصحيح البخاري ، ومسلم236/4 وغيرهما].
ابن ھانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابو عبد اللہ سے سوال کیا کہ ایک عورت نے چار ماہ کے مرے ہوئے بچے کو جنا اس کا کیا جائے؟
7⃣:ابو عبد اللہ یعنی امام احمد رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ جس بچے کی ماں کے پیٹ میں روح پہونکی گئی ہو اسکا جنازہ پڑھا جائے۔[مسائل الإمام أحمد برواية ابن هانی193/1 ،  نمبر: 963]۔
8⃣:امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسکا جنازہ پڑھا جائے گا اور اسے بالغ شخص کی طرح تین کپڑوں میں دفن کیا جائے گا۔[المجموع للنووي210/5].
9⃣:ائمہ حنابل کا بھی یہی مسلک ہے کہ چار ماہ سے زائد نوزاید بچہ کا نماز جنازہ پڑھا جائے گا۔[كشاف القناع للبهوتي 101/2 ، المغني لابن قدامة 389/2]۔
✔امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہی قول بہت سے محدثین کا ہے کہ چار ماہ سے زائد بچہ کا نماز جنازہ پڑھا جائے گا۔[(شرح النووي على مسلم48/7]۔
:علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے۔[مجموع فتاوى ابن باز164/13]۔
قیاس:جس بھی بچہ کے اندر جائے ڈالی جائے اسکا نماز جنازہ پڑھنا مشروع ہے۔[كشاف القناع للبهوتی101/2]۔
بعض علماء اس چیز کے قائل ہیں کہ جو بچہ چار ماہ کے بعد پیدا ہوجائے اور پیدا ہوتے  وقت چیخے اور پہر مرجائے اسکا نماز جنازہ پڑھا جائے گا
یہی دلیل ائمہ حنفیہ وغیرہ کی ہے انہوں نے حدیث ابن عباس رضی اللہ عنھما کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو پیدا ہوتے وقت چیخے اسکا غسل دیا جائے اور اسکا نماز جنازہ پڑھا جائے۔[رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه والحاكم والبيهقي ، امام نووی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے:دیکھئے: المجموع للنووي 255/5].
شیخ البانی رحمہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ضعیف حدیث سے احتجاج کرنا جائز اور صحیح نہیں ہے۔[أحكام الجنائز ص نمبر:81].
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خلاصہ کلام: چار ماہ یا اسے زائد  بچے کا نماز جنازہ پرھا جائے گا اور اسکا غسل بھی دیا جائے گا اور  اگر بچہ نر ہے تو بالغ مرد کی طرح اور اگر بچی ہے تو بالغ عورت کی طرح اسکی تجھیز وتکفین کی جائے گی۔
اس بارے میں ائمہ احناف یا باقی کچھ ائمہ کی رائے ہے کہ جو بچہ مرایوا پیدا ہوجائے اسکا نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ان کی رائے صحیح اور اصوب نہیں ہے اسلئے کہ انہوں نے جن احادیث سے استدلال کیا ہے وہ احادیث صحیح نہیں ہے اور جو علماء چار ماہ کے بچے کے نماز جنازہ پڑھنے کے قائل ہیں انہوں نے جن احادیث اور آثار سے استدلال کیا ہے وہ احادیث صحت کے اعتبار سے صحیح ہے جیساکہ اوپر ہم نے کسی حد تک یہ کوشش کی کہ حدیث کی صحت کو بیان کیا جائے ، ثابت ہوا کہ چار ماہ کے ماہ مرے ہوئے بچے کا نماز جنازہ پڑھنا جائز اور مشروع ہے اسلئے کہ ایسا کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
********************************
هذا ماعندي والله أعلم بالصواب.
وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحابته أجمعين.
رقم التواصل:
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS