find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Apne Biwi Bacho se Door Baher me Rahne wale Ki Zindagi.

Foreign me Rahne wale Ki Zindagi aur unke Ahle khana.
Bairuni Mulk Me Rahker Paise Kmane wale Ki Azdwaji Zindagi aur Unke Maa-Baap Ahle khana ki Zindagi.
ہمارے معاشرے میں رواج ہے کہ جو لڑکے باہر کے ممالک میں رہائش پذیر ہیں، india میں شادی کر کے بیوی کو یہیں چھوڑ جاتے ہیں ہیں.تین یا چھ ماہ کی چھٹی گزار کر واپس چلےجاتے ہیں پھر کسی کو چھ مہینے یا سال بعد آنا نصیب ہوتا ہے اور کسی کو اس سے بھی دیر سے...

مختلف لوگ مختلف کہانیاں ہیں.

کہیں بیویوں کی چاہت کہ مال ملے ،شریکوں میں سب سے اچھا میرا مقام ہو اسلیے خاوند باہر ہیں اور کہیں مرد سو مجبوریوں کا قلادہ پہنے ہیں قرض اتارنا ،گھر بنانا،چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم اور شادیاں وغیرہ وغیرہ...
سال دو سال کی بات بھی مرد و زن کیلۓ قابل برداشت ہے مگر سالہا سال باہر گزار دینا .بڑھاپے اور بیماری کیساتھ واپس پلٹنا...
مختلف افراد تذکرہ کرتے ہیں کہ خاوند بیرون ملک ہونے کی وجہ سے خواتین بے راہ روی کی طرف مائل ہورہی ہیں.اور گھر بھی اسی وجہ سے ٹوٹ رہے ہیں.
ایک بات جس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ ماں بچے کی تربیت کرتی ہے...

یہ بات بچے کے چھوٹے ہونے تک درست ہے لیکن بڑا ہونے کیساتھ ہی لڑکے ماں کی بجاۓ باپ کو کاپی کرتے ہیں.انہی بچوں کی شخصیات مضبوط ہوتی ہیں جنہیں والد اور والدہ دونوں کی توجہ ملے.
اور جس تیزی سے حالات بگڑ رہے ہیں مرد کی دوہری تہری ﺫمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھے اپنی بیوی کو توجہ دے.کیا فائدہ اس مال و دولت کا جو گھرانے کی تباہی کو ساتھ کھینچ لاۓ.
کتنے ہی ایسے گھرانے دیکھے جن کے والد سر پر نہیں اور اولاد والدہ کے قابو سے باہر ہے...

اور ایسی صورتحال میں عموما خواتین بھی نفسیاتی مریض بنتی جاتی ہیں، بے وجہ بچوں کی مار پیٹ، سسرال والوں سے جھگڑا، چڑچڑاپن ان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے.اور گھر والے سناتے ہیں۔

" اچھا کھانے پہننے کو مل رہا ہے پھر بھی جھگڑے ختم نہیں ہوتے."

یہ بھول جاتے ہیں کہ مقصد نکاح کیا ہے...
لڑکیوں کے والدین بھی باہر سیٹل دیکھ کر "جی اچھا رشتہ ہے" لڑکی دے دیتے ہیں درحقیقت ایسے لوگ(معذرت کیساتھ)لڑکے کیساتھ نکاح نہیں کرتے بلکہ اسکے مال کے ساتھ نکاح کرتے ہیں.
(آجکل جو ٹریند چل رہا خاوند باہر ہے اور بیوی اپنے ملک میں نوکری کر رہی. ساتھ میں خوامخواہ کی بدمزگی،چڑچڑا پن الگ،جسے دیکھنے والے نخرے کا نام دیتے ہیں...
یہ نہین سوچتے کہ جو فطرت رب تعالی نے رکھ دی اس سے فرار کیسے ممکن ہو؟
قسمت سے فون کالز پیار محبت کے ساتھ بند ہوتی ہیں عام طور پر اختتام تلخی کےساتھ ہوتا ہے)
اگر آپ خواتین سے پوچھیں تو قلیل تعداد ایسی خواتین کی ہے جو خاوندوں کے بیرون ممالک رہنے پر راضی ہیں اکثریت باتیں سننے کے خوف سے چپ رہتی ہے.خاوند سے ﮈھکے چھپے الفاظ میں تذکرہ کر دیں تو سننے کو ملتا ہے"میں تو جیسے بہت خوش ہوں ناں یہاں میرے سے پوچھو کیسے تم سب سے دور تنہائی کاٹ رہا ہوں اور تم سب کیلۓ تو محنت کررہا ہوں"
اور مرد خود کونسا باہر خوش رہتے ہیں لیکن بس گھر والوں کی خوشی خاطر کولہو کے بیل بنے ہوۓ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا مستقبل تباہ کیے جارہے ہیں۔  معاشرہ جس تیزی سے تباہی کی طرف جا رہا ہے شاید ایسے افراد اندازہ ہی کرنا نہیں چاہتے...
ایک خاتون نے بتایا کہ جس علاقے میں میری شادی ہوئی ہے اس خاندان کے کم ہی مرد گھر ہیں.تقریبا سب ہی دوسرے ممالک میں اور جن کے آدمی گھر ہیں اسے غریب گھرانہ سمجھا جاتا ہے.رشتہ داروں نے زور لگا لیا کہ اپنے بیٹوں کو باہر بھیجیں پانچ بیٹے باہر کمائیں گے باپ کا سایہ بھی سر پر نہیں ہے مگر ساس یہی کہتی رہیں تھوڑا مل جاۓ مگر بچے اپنے گھر والوں کےساتھ رہنے ضروری ہیں. یہاں کی خواتین زیورات سے لدی پھندی،خود اور بچوں کے ہاتھ میں بیش قیمت موبائل،ایک سے ایک عمدہ گھر اور اسی حساب سے بے حیائی ﮈیرے ﮈالے ہوۓ ہے. نوجوان لڑکیوں سے زیادہ عورتیں بدنام ہیں.
(یہ آج سے تقریبا گیارہ سال پہلے کی بات ہے اور اب کا کیا حال ہوگا اندازہ ہوسکتا)
ایسے گھرانے بےشمار ہیں جن کے مرد بیرون ملک یا بیرون شہر مقیم ہیں اور عرصے بعد آنا ہوتا ہے.ان کی کہانیاں سننے لگیں تو علم ہوگا بظاہر خوش باش نظر آنے والے کس کرب سے گزر رہے ہیں...
ایک خاتون بتارہی کہ میرا خاوند واپس آنا چاہتا ہے مگر میں کہتی ہوں جہاں اتنا عرصہ رہ لیا ہے اب کچھ دیر مزید رہ لو کم ازکم گھر تو ہمارا اپنا بن جاۓ۔
(بندہ پوچھے الگ الگ ہی رہنا تھا تو شادی کیوں کی؟)
اکثر جانتے ہی ہونگے کہ کنواری خاتون کی نسبت بیوہ خواتین کے نکاح جلد کرنے کو کہا گیا ہے.  وجہ بھی حدیث میں درج ہے. تو مرد و زن دونوں ہی سوچیں کہ نکاح کے بعد الگ الگ رہنے سے مسائل کا پیدا ہونا غیر فطری ہے؟
جہاں خواتین بے راہ روی کا شکار ہورہی ہیں مرد حضرات کا بھی یہی حال ہے.اپنے ارد گرد پر نظر دوڑائیں تو علم ہو کہ کس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں...
اگر آپکی بیوی اور والدین اپکے باہر رہنے پر اصرار کرتے ہیں تو انہیں صاف صاف بتادیں کہ میرا باہر رہنا درست نہیں ہے. جس عورت کو بیاہ کر لایا ہوں اس کے حقوق ہیں، اولاد بڑی ہوچکی ہے ان کی دیکھ بھال میرے ﺫمہ ہے...
آخر میں بہنوں سے گزارش ہے کہ قناعت کو اپنائیں.اپنا رہن سہن سادہ کریں تاکہ مرد چاہے وہ آپ کے بیٹے کی شکل میں ہو یا خاوند کی شکل میں، وہ مجبور ہو کر فالتو اخراجات پورے کرنے کیلۓ بہتر سے بہترین مال کی تلاش میں دربدر نہ ہو. پہننا اوڑھنا، کھانا پینا درمیانہ کرلیں لیکن پیسے کے پیچھے اپنا گھر اور سکون تباہ نہ کریں. خاوند کو احساس دلاتی رہیں کہ مجھے اور بچوں کو آپ کی ضرورت ہے اور اگر آپ والدہ ہیں تو بیٹے پر زور دیں کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے پاس پلٹ آۓ....
اور بھائی لوگو!  اگر آپ اپنا گھر بسانا چاہتے ہیں، اولاد کو نیک دیکھنا چاہتے ہیں تو اہل خانہ کے ساتھ اس طریقے سے رہیے کہ ان کی ہر ہر بات پر نظر اہل خانہ کی غلط باتوں پر رکوع و سجود میں نہ پڑے رہیں بلکہ اپنی مردانگی اور حاکمیت یہاں دکھائیں.اپنی فیملی کی اصلاح کریں انکی طبیعت قناعت پسند بنائیں.تبھی اپ کو نیک صلہ ملے گا.ورنہ تباہ حال گھرانے ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہیں۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS