Ek Jhuthe Nabi Ka Nabuwat Ka Dawa.
Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-20.
This post has been published with the full consent of the original author, who has permitted its sharing to spread Islamic knowledge. The content is shared respectfully and lawfully.
![]() |
| Islamic History. |
تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (20)
مُسیلمہ کا دعوائے نبوت:
گزشتہ اقساط میں ہم اجمالاً بیان کر چکے ہیں کہ بنی حنیفہ کے مدعی نبوت مسلیمہ بن حبیب نے دو قاصدوں کے ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خط مدینہ بھیجا تھا۔
" مسلیمہ رسول اللہ کی جانب سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف! آپ پر سلامتی ہو۔ بعد ازاں واضح ہو کہ میں آپ کا شریک بنایا گیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی، لیکن قریش کی قوم انصاف سے کام نہیں لیتی۔ "
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو قاصدوں سے دریافت فرمایا: تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم وہی کہتے ہیں جو خط میں لکھا ہے، آپ نے غضب ناک نظروں سے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ''اللہ کی قسم! اگر قاصدوں کا قتل روا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔'' اس کے بعد مسلیمہ کو یہ جواب لکھوایا:
"بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ من محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی مسیلمۃ الکذاب! اما بعد، فان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ المتقین"
''محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مسلیمہ کذاب کی طرف! بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے متقی بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خط کے مضمرات سے ناواقف نہ تھے، آپ نے اہل یمامہ کے دلوں سے مسیلمہ کا اثر زائل کرنے اور انہیں اسلامی تعلیمات سکھانے کے لیے مدینہ سے ایک شخص نہار الرحال کو یمامہ بھیجا، لیکن وہ جا کر مسیلمہ سے مل گیا اور اہل یمامہ کے سامنے گواہی دی کہ واقعی مسیلمہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے، نہاراً الرحال کی تائید نے مسیلمہ کے اثر و نفوذ میں بے پناہ اضافہ کر دیا اور اہل یمامہ جوق در جوق مسیلمہ کے حلقہ اطاعت میں شامل ہونے لگے، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدائی رحمت سے قطعاً نا امید نہ ہوئے، آپ کو یقین تھا کہ اللہ مسلمانوں کو رومیوں پر ضرور فتح عطا فرمائے گا اور اس فتح کے نتیجے میں تمام داخلی فتنے اپنی موت آپ ہی مر جائیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی:
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کہ ہر قیمت پر رومیوں کو زیر کیا جائے اور عرب کی شمالی حدودکو ہرقل کی فوجوں کی تاخت و تاراج سے محفوظ رکھا جائے، اس زمانے میں ہرقل کی قوت و طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا، اس نے اپنے وہ تمام علاقے جو کچھ عرصہ قبل ایرانیوں کے قبضے میں چلے گئے تھے، واپس چھین لیے تھے اور صلیب اعظم کو بھی ایرانیوں سے چھڑا کر بیت المقدس واپس لے آیا تھا، اس بات کا زبردست خطرہ تھا کہ کہیں رومی فوجوں کا رخ عرب کی جانب نہ پھر جائے، کیونکہ وہاں کے حکمران سرزمین عرب میں ایک نئی قوت کو ابھرتے دیکھ کر سخت پریشان ہو رہے تھے، غزوہ موتہ میں اسلامی لشکر رومیوں کے مقابلے کی تاب نہ لا کر واپس ہونے پر مجبور ہوا تھا، (گو اسے ان کے مقابل میں شکست کا سامنا نہ کرنا پڑا)، غزوہ تبوک نے مسلمانوں کے رعب و داب میں خاصا اضافہ کر دیا تھا، پھر بھی عرب پر رومیوں کے حملے کا خطرہ کلیتاً دور نہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ اگر اسلامی فوجیں رومیوں پر غالب آ گئیں تو نہ صرف آئندہ کے لیے عرب علاقوں پر ان کی تاخت و تاراج کا سلسلہ رک جائے گا بلکہ شوریدہ سر عربی قبائل بھی چھپ کر بیٹھ جائیں گے اور طوعاً و کرہاً مسلمانوں کی اطاعت کرنے پر مجبور ہوں گے۔
آپ کا یہ خیال بالکل درست تھا، کیونکہ اس زمانے میں عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مسلمانوں ہی کا غلغلہ برپا تھا، انہیں عرب کی سب سے بڑی طاقت تسلیم کر لیا گیا تھا، یمامہ میں مسیلمہ، عمان میں لقیط اور بنی اسد میں طلیحہ اس قابل نہ تھے کہ مسلمانوں سے کھلم کھلا جنگ چھیڑ کر فتح یاب ہو سکتے۔
لقیط، طلیحہ اور مسلیمہ تینوں ایسے مناسب موقع کے انتظار میں تھے جب باقاعدہ بغاوت کا اعلان کر کے مسلمانوں کا تختہ الٹ سکیں، ابتداء میں ان تینوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن و تشنیع اور آپ کی رسالت پر اعتراض کیے بغیر اپنا پروپیگنڈہ شروع کیا، تینوں کا دعویٰ تھا کہ وہ نبی ہیں اور جس طرح ہر قوم میں اللہ کی طرف سے نبی مبعوث کیے گئے ہیں، انہیں بھی اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا ہے، تاکہ وہ انہیں ہدایت کا راستہ دکھائیں۔
یہ صورت حال ان علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے بڑی پریشان کن تھی، ان کے زیرپا فتنہ کی آگ سلگ رہی تھی اور کسی کو علم نہ تھا کہ کب یہ آگ زور شور سے بھڑک اٹھے، جونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر وفات مشتہر ہوئی یہ آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے دیکھتے عرب ایک آتش فشاں پہاڑ میں تبدیل ہو گیا جس سے آگ اور سیال لاوا نکل کر چاروں طرف پھیل رہا تھا۔
=========> جاری ہے ۔۔۔
ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ.
مُسیلمہ کا دعوائے نبوت:
گزشتہ اقساط میں ہم اجمالاً بیان کر چکے ہیں کہ بنی حنیفہ کے مدعی نبوت مسلیمہ بن حبیب نے دو قاصدوں کے ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خط مدینہ بھیجا تھا۔
" مسلیمہ رسول اللہ کی جانب سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف! آپ پر سلامتی ہو۔ بعد ازاں واضح ہو کہ میں آپ کا شریک بنایا گیا ہوں، اس لیے نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی، لیکن قریش کی قوم انصاف سے کام نہیں لیتی۔ "
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو قاصدوں سے دریافت فرمایا: تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم وہی کہتے ہیں جو خط میں لکھا ہے، آپ نے غضب ناک نظروں سے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ''اللہ کی قسم! اگر قاصدوں کا قتل روا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔'' اس کے بعد مسلیمہ کو یہ جواب لکھوایا:
"بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ من محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی مسیلمۃ الکذاب! اما بعد، فان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ المتقین"
''محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے مسلیمہ کذاب کی طرف! بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے متقی بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خط کے مضمرات سے ناواقف نہ تھے، آپ نے اہل یمامہ کے دلوں سے مسیلمہ کا اثر زائل کرنے اور انہیں اسلامی تعلیمات سکھانے کے لیے مدینہ سے ایک شخص نہار الرحال کو یمامہ بھیجا، لیکن وہ جا کر مسیلمہ سے مل گیا اور اہل یمامہ کے سامنے گواہی دی کہ واقعی مسیلمہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے، نہاراً الرحال کی تائید نے مسیلمہ کے اثر و نفوذ میں بے پناہ اضافہ کر دیا اور اہل یمامہ جوق در جوق مسیلمہ کے حلقہ اطاعت میں شامل ہونے لگے، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدائی رحمت سے قطعاً نا امید نہ ہوئے، آپ کو یقین تھا کہ اللہ مسلمانوں کو رومیوں پر ضرور فتح عطا فرمائے گا اور اس فتح کے نتیجے میں تمام داخلی فتنے اپنی موت آپ ہی مر جائیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی:
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی یہ تھی کہ ہر قیمت پر رومیوں کو زیر کیا جائے اور عرب کی شمالی حدودکو ہرقل کی فوجوں کی تاخت و تاراج سے محفوظ رکھا جائے، اس زمانے میں ہرقل کی قوت و طاقت میں اضافہ ہو رہا تھا، اس نے اپنے وہ تمام علاقے جو کچھ عرصہ قبل ایرانیوں کے قبضے میں چلے گئے تھے، واپس چھین لیے تھے اور صلیب اعظم کو بھی ایرانیوں سے چھڑا کر بیت المقدس واپس لے آیا تھا، اس بات کا زبردست خطرہ تھا کہ کہیں رومی فوجوں کا رخ عرب کی جانب نہ پھر جائے، کیونکہ وہاں کے حکمران سرزمین عرب میں ایک نئی قوت کو ابھرتے دیکھ کر سخت پریشان ہو رہے تھے، غزوہ موتہ میں اسلامی لشکر رومیوں کے مقابلے کی تاب نہ لا کر واپس ہونے پر مجبور ہوا تھا، (گو اسے ان کے مقابل میں شکست کا سامنا نہ کرنا پڑا)، غزوہ تبوک نے مسلمانوں کے رعب و داب میں خاصا اضافہ کر دیا تھا، پھر بھی عرب پر رومیوں کے حملے کا خطرہ کلیتاً دور نہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ اگر اسلامی فوجیں رومیوں پر غالب آ گئیں تو نہ صرف آئندہ کے لیے عرب علاقوں پر ان کی تاخت و تاراج کا سلسلہ رک جائے گا بلکہ شوریدہ سر عربی قبائل بھی چھپ کر بیٹھ جائیں گے اور طوعاً و کرہاً مسلمانوں کی اطاعت کرنے پر مجبور ہوں گے۔
آپ کا یہ خیال بالکل درست تھا، کیونکہ اس زمانے میں عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک مسلمانوں ہی کا غلغلہ برپا تھا، انہیں عرب کی سب سے بڑی طاقت تسلیم کر لیا گیا تھا، یمامہ میں مسیلمہ، عمان میں لقیط اور بنی اسد میں طلیحہ اس قابل نہ تھے کہ مسلمانوں سے کھلم کھلا جنگ چھیڑ کر فتح یاب ہو سکتے۔
لقیط، طلیحہ اور مسلیمہ تینوں ایسے مناسب موقع کے انتظار میں تھے جب باقاعدہ بغاوت کا اعلان کر کے مسلمانوں کا تختہ الٹ سکیں، ابتداء میں ان تینوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن و تشنیع اور آپ کی رسالت پر اعتراض کیے بغیر اپنا پروپیگنڈہ شروع کیا، تینوں کا دعویٰ تھا کہ وہ نبی ہیں اور جس طرح ہر قوم میں اللہ کی طرف سے نبی مبعوث کیے گئے ہیں، انہیں بھی اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا ہے، تاکہ وہ انہیں ہدایت کا راستہ دکھائیں۔
یہ صورت حال ان علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے بڑی پریشان کن تھی، ان کے زیرپا فتنہ کی آگ سلگ رہی تھی اور کسی کو علم نہ تھا کہ کب یہ آگ زور شور سے بھڑک اٹھے، جونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر وفات مشتہر ہوئی یہ آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے دیکھتے عرب ایک آتش فشاں پہاڑ میں تبدیل ہو گیا جس سے آگ اور سیال لاوا نکل کر چاروں طرف پھیل رہا تھا۔
=========> جاری ہے ۔۔۔
ماخوذ از مستند تاریخ اسلام ویب سائیٹ.







No comments:
Post a Comment