Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Khilafat Hazrat Abu Bakr R.A | Islamic History Part 5.

Hijarat-E-Madina Aur Abu Bark Siddique Razi Allahu Anahu.

Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu Part-5.
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.
Khilafat-E-Siddique, Seerat-E-Sahaba, Muslim rulers, Islamic web, Islamic governance,
Khilafat-E-Siddique: Islamic History.
  تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (05)
ہجرت مدینہ :
اسلام کے اولین دور میں مسلمانوں کی مدد کرنے اور ہمہ تن اسلام کی تبلیغ کرنے میں مشغول رہنے کے باعث ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ایسا تعلق قائم ہو گیا تھا جس کی نظیر ملنی ناممکن ہے، بیعت عقبہ کے بعد یثرب میں اسلام پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے متبعین کو اجازت دے دی کہ یثرب ہجرت کر جائیں، قریش قطعاً لا عم تھے کہ آیا اس مرتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کر جائیں گے یا ہجرت حبشہ کی طرح مسلمانوں کو یثرب بھیج کر خود مکہ ہی میں مقیم رہیں گے، اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے بھی ہجرت کرنے کی اجازت مانگی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرما کہ انہیں یثرب جانے سے روک دیا :

’’ابھی ایسا نہ کرو، شاید اللہ تعالی تمہارا کوئی ساتھی پیدا کر دے جو ہجرت کے موقع پر تمہارے ہمراہ ہو‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کرنا وہ نعمت تھی کہ دنیا کی ساری نعمتیں مل کربھی ان کا مقابلہ نہ کر سکتی تھی، چنانچہ وہ آپ کے حسب ارشاد ٹھہر گئے اور سمجھ لیا کہ اس موقع پر شہادت بھی نصیب ہو گئی تو یہ ایسی شہادت ہو گی کہ جو اپنی جلو میں جنت اور اس کی تمام نعمتوں کو لیے ہو گی اور جس پر ہزاروں برس کی زندگی بہ خوشی قربان کی جا سکتی ہے۔

اسی روز حضرت ابوبکرؓ نے دو اونٹنیوں کا انتظام کیا اور انتظار کرنے لگے کہ کب ہجرت کا حکم نازل ہوکر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوتا ہے، ایک روز حسب معمول شام کے وقت آپ ان کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے انہیں یثرب کی جانب ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔

اسی دن قریش کے نوجوانوں نے آپ کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ کب آپ باہر نکلتے ہیں اور انہیں کب آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنی تلواروں کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے، آپؐ نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو حکم دیا کہ وہ آپ کی سبز حضرمی چادر اوڑھ لیں اور بے خوف و خطر آپ کے بستر پر سو جائیں، انہوں نے ایساہی کیا، جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا تو آپؐ اپنے گھر سے نکلے اور حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے، وہ جاگ رہے تھے، فوراً دونوں گھر کی پشت کی ایک کھڑکی سے باہر نکلے اور جانب جنوب تین چار میل کی مسافت طے کرکے غار ثور جا پہنچے۔

صبح ہونے پر جب قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ سے نکل جانے کا پتا چلا تو انہوں نے چاروں طرف سے آپ کی تلاش میں آدمی دوڑائے، مکہ کے قریب کوئی وادی، کوئی میدان اور کوئی پہاڑ نہ تھا جو انہوں نے نہ چھان مارا ہو، وہ لوگ آپ کو تلاش کرتے کرتے غار ثور تک بھی پہنچ گئے اور ایک آدمی نے غار میں اترنے کا ارادہ بھی کیا، جب حضرت ابوبکرؓ نے ان لوگوں کی آوازیں سنیں تو ان کی پیشانی سے پسینہ چھوٹ نکلا اور انہوں نے اپنا سانس تک روک لیا کہ مبادا کسی قسم کی آواز نکل کر دشمنوں کو ان کے یہاں ہونے کا احساس دلا دے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے اطمینان سے اللہ کے ذکر اور دعاؤں میں مشغول رہے، جب آپ نے ابوبکرؓ کی گھبراہٹ دیکھی تو جھک کر ان کے کان میں کہا:

''لا تحزن ان اللہ معنا (ڈرو مت اللہ ہمارے ساتھ ہے۔)''

ادھر قریشی نوجوان نے اپنی نظر غار کے اردگرد دوڑائی تو دیکھا کہ غار کے منہ پر ایک مکڑی نے جالا تن دیا ہے، یہ دیکھ کر وہ واپس ہو گیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں جاتے تو یقینا جالا ٹوٹ جاتا، اس لیے میں واپس آ گیا، یہ سن کر وہ لوگ حالت مایوسی میں وہاں سے چلے گئے، جب وہ دور نکل گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکار کرفرمایا:

اللہ اکبر اللہ اکبر!
حضرت ابوبکرؓ نے بھی قدرت کا یہ عجیب تماشا دیکھ کر وجد میں آ گئے۔

غار ثور میں گھبراہٹ کی وجہ:
اس موقع پر سوال پید ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی گھبراہٹ … جس کے باعث ان کی پیشانی سے پسینے چھوٹنے لگے تھے اور ان کا سانس بھی رک گیا تھا، اپنی جان بچانے کے خوف سے تھی یا اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بال بیکا نہ ہو جائے؟ آیا کہ اس وقت انہیں اپنی جان کا خیال تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کا؟ اس کا تسلی بخش جواب ہمیں مندرجہ ذیل روایات میں ملتا ہے۔

ابن ہشام حسن بن ابوالحسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ آدھی رات کو غار میں پہنچے تو آپؐ سے پہلے ابوبکرؓ غار میں داخل ہوئے اور اسے اچھی طرح دیکھا بھالا، مبادا کہ اس میں کوئی سانپ یا بچھو یا درندہ چھپا بیٹھا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا نخواستہ کوئی ضرر پہنچ جائے، بالکل یہی جذبہ ان کا ان نازک لمحات میں تھا، جب انہوں نے غار کے سرے پر قریش کے نوجوانوں کو دیکھا، اس وقت انہوں نے جھک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں آکر کہا: اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے نظر کر لے تو یقینا ہمیں دیکھ لے گا، اس وقت حضرت ابوبکرؓ کو اپنی جان کی مطلق پروا نہ تھی، اگر خیال تھا تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور اس دین کا جس کی خاطر انہوں نے اپنی جان کی کوئی حقیقت نہ سمجھی تھی، انہیں نظر آرہا تھا کہ اگر اس وقت خدانخواستہ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قابو پا لیا تو دین اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا، اپنی ذات کا خیال انہیں آ ہی کس طرح سکتاتھا، جب انہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور دین اسلام کے عشق میں بالکل جذب کر لیا تھا، وہ تو اپنے نفس کو پہلے ہی عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فنا کر چکے تھے، اس لیے اللہ کے رستے میں دوبارہ فنا ہونے سے انہیں کیا ڈر ہو سکتا تھا؟

تاریخ کے مطالعے سے متعدد ایسے اشخاص کے حالات معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں اپنے سرداروں اور بادشاہوں پر قربان کر دیں۔ آج کل بھی ایسے اکثر زعماء ہیں جنہیں ان کے معتقدین انتہائی تقدیس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے غار میں جو نمونہ دکھایا وہ ان سب سے الگ اور بالا حیثیت رکھتا ہے۔ کیا بادشاہوں اور لیڈروں کی تاریخوں میں ایسی کوئی مثال پائی جاتی ہے کہ ان کی رعایا معتقدین میں سے کسی فرد نے ان کے لیے ایسی قربانیاں پیش کی ہوں؟ ایثار و قربانی میں اس کی مثال کی نظیر پش کرنے سے تاریخ عاجز ہے۔

جب کفار کا جوش و خروش کچھ ٹھنڈا پڑا اور انہیں ان دونوں کے ملنے سے مایوسی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ غار سے نکلے اور یثرب کا رخ کیا، راستے میں بھی بعض ایسے واقعات پیش آئے جو خطرے کے لحاظ سے واقعے سے کم نہ تھے جو غار میں پیش آ چکا تھا، حضرت ابوبکرؓ نے مکہ سے نکلتے ہوئے پانچ ہزار درہم بھی ساتھ لے لیے تھے جو تجارت کے منافع میں سے ان کے پاس باقی بچ گئے تھے۔

======> جاری ہے ۔۔۔
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS