Murtad Qaidiyo Ko Hazrat Abu bakr Razi Allahu Anahu Ki Ma'afi.
Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-31
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
![]() |
| Islamic History. |
تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (31)
مرتد قیدیوں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معافی:
حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے برعکس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان قیدیوں پر سختی نہ کی جو میدان جنگ سے پابجولاں مدینہ پہنچے تھے، عینیہ بن حصن مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا اور طلیحہ کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں سے جنگ کر چکا تھا، وہ قرہ بن ہبیرہ کے ساتھ قید ہو کر مدینہ آیا اس کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے، مدینہ کے لڑکے اسے کھجور کی شاخوں سے مارتے اور کہتے تھے:
" اے اللہ کے دشمن! تو ہی ایمان لانے کے بعد کافر ہو گیا تھا؟"
عینیہ جواب دیتا: "میں تو کبھی اللہ پر ایمان نہیں لایا۔"
لیکن اس کے باوجود حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی جاں بخشی کر دی اور اسے کچھ نہ کہا، بعض روایتوں کے مطابق اس نے نہایت گستاخی کا اظہار کیا جس کی بنیاد پر قتل کردیاگیا۔
قرہ بن ہبیرہ:
قرہ بن ہبیرہ بنو عامر سے تعلق رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمرو بن عاص عمان سے مدینہ آتے ہوئے راستے میں اس کے پاس ٹھہرے تھے، اس وقت بنو عامر ارتداد کے لیے پر تول رہے تھے، جب عمروؓ بن عاص نے وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو قرہ نے علیحدہ میں ان سے مل کر کہا:
" عرب تمہیں تاوان (زکوٰۃ) دینے پر ہرگز راضی نہ ہوں گے، اگر تم ان کے اموال انہیں کے پاس رہنے دو اور ان پر زکوٰۃ عائد نہ کرو تو وہ تمہاری باتیں ماننے اور اطاعت قبول کرنے پر رضا مند ہو جائیں گے، لیکن اگر تم نے انکار کیا تو پھر وہ ضرور تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔"
یہ سن کر عمرو بن عاص نے جواب دیا: اے قرہ! کیا تو کافر ہو گیا ہے اور ہمیں عربوں کا خوف دلاتا ہے؟ جب قرہ اسیر ہو کر مدینہ آیا اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو اس نے کہا:
" اے خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو مسلمان ہوں اور میرے اسلام پر عمرو بن عاص گواہ ہیں، وہ مدینہ آتے ہوئے ہمارے قبیلے میں سے گزرے تھے، میں نے انہیں اپنے پاس ٹھہرایا تھا اور بڑی خاطر تواضع کی تھی۔"
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عمروؓ بن عاص کو بلایا اور ان سے قرہ کی باتوں کی تصدیق چاہی، عمرو بن عاص نے سارا واقعہ بیان کرنا شروع کیا، جب وہ زکوٰۃ کی بات پر پہنچے تو قرہ کہنے لگا: عمروؓ بن عاص اس بات کو جانے دو۔ عمروؓ بن عاص نے کہا: کیوں؟ واللہ! میں تو سارا حال بیان کروں گا۔ جب وہ بات ختم کر چکے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مسکرائے اور قرہ کی جان بخشی کر دی۔
علقمہ بن علاثہ:
عفو و در گزر کی یہ پالیسی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے کمزوری کی آئینہ دار نہ تھی، بلکہ اس سے صرف وہ جوش و خروش اس انداز سے سرد کرنا مقصود تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، لیکن جہاں معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تک پہنچتا، وہاں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کسی قسم کی نرمی ہرگز گوارا نہ کر سکتے تھے، اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے چند مثالیں کافی ہوں گی۔
بنی کلب کے ایک شخص علقمہ بن علاثہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا، لیکن آپ کی زندگی ہی میں مرتد ہو گیا اور شام چلا گیا، آپ کی وفات کے بعد وہ اپنے قبیلے میں واپس آیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے لگا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے خبر پا کر قعقاع بن عمرو کو اس کے مقابلے کے لیے بھیجا، لیکن مقابلے کی نوبت آنے سے پیشتر ہی عقلمہ فرار ہو گیا، اس کی بیوی، بیٹیاں اور دوسرے ساتھی اسلام لے آئے اور اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، بعد میں علقمہ بھی تائب ہو کر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے اس کی توبہ قبول کر لی اور جان بخشی کر دی، کیونکہ اس نے نہ مسلمانوں سے جنگ کی تھی اور نہ کسی مسلمان کو قتل کیا تھا۔
فجاۂ ایاس:
لیکن اس کے مقابل انہوں نے فجاۂ ایاس بن عبد یا لیل کے عذرات قبول نہ کیے اور نہ اس کی جان بخشی ہی کی، یہ شخص حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کی کہ آپ مجھے کچھ ہتھیار دیجئے، میں جس مرتد قبیلے سے آپ چاہیں گے لڑنے کے لیے تیار ہوں، انہوں نے اسے ہتھیار دے کر ایک قبیلے سے لڑنے کا حکم دیا، لیکن فجاۂ نے وہ ہتھیار قبیلہ سلیم، عامر اور ہوازن کے مسلمانوں اور مرتدین دونوں کے خلاف استعمال کیے اور کئی مسلمانوں کو قتل کردیا، اس پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے طریفہ بن حاجز کو ایک دستے کے ہمراہ فجاۂ کی جانب بھیجا، لڑائی میں فجاۂ گرفتار ہوا اور طریفہ اسے اپنے ہمراہ مدینہ لے آئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے جلا دینے کا حکم دیا، اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر فجاۂ مسلمانوں کو قتل نہ کرتا تو اسے اتنی ہولناک سزا نہ دی جاتی جس پر بعد میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو افسوس بھی ہوا۔
مرتد قیدیوں کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معافی:
حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے برعکس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ان قیدیوں پر سختی نہ کی جو میدان جنگ سے پابجولاں مدینہ پہنچے تھے، عینیہ بن حصن مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا اور طلیحہ کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں سے جنگ کر چکا تھا، وہ قرہ بن ہبیرہ کے ساتھ قید ہو کر مدینہ آیا اس کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے، مدینہ کے لڑکے اسے کھجور کی شاخوں سے مارتے اور کہتے تھے:
" اے اللہ کے دشمن! تو ہی ایمان لانے کے بعد کافر ہو گیا تھا؟"
عینیہ جواب دیتا: "میں تو کبھی اللہ پر ایمان نہیں لایا۔"
لیکن اس کے باوجود حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی جاں بخشی کر دی اور اسے کچھ نہ کہا، بعض روایتوں کے مطابق اس نے نہایت گستاخی کا اظہار کیا جس کی بنیاد پر قتل کردیاگیا۔
قرہ بن ہبیرہ:
قرہ بن ہبیرہ بنو عامر سے تعلق رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمرو بن عاص عمان سے مدینہ آتے ہوئے راستے میں اس کے پاس ٹھہرے تھے، اس وقت بنو عامر ارتداد کے لیے پر تول رہے تھے، جب عمروؓ بن عاص نے وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو قرہ نے علیحدہ میں ان سے مل کر کہا:
" عرب تمہیں تاوان (زکوٰۃ) دینے پر ہرگز راضی نہ ہوں گے، اگر تم ان کے اموال انہیں کے پاس رہنے دو اور ان پر زکوٰۃ عائد نہ کرو تو وہ تمہاری باتیں ماننے اور اطاعت قبول کرنے پر رضا مند ہو جائیں گے، لیکن اگر تم نے انکار کیا تو پھر وہ ضرور تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔"
یہ سن کر عمرو بن عاص نے جواب دیا: اے قرہ! کیا تو کافر ہو گیا ہے اور ہمیں عربوں کا خوف دلاتا ہے؟ جب قرہ اسیر ہو کر مدینہ آیا اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو اس نے کہا:
" اے خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو مسلمان ہوں اور میرے اسلام پر عمرو بن عاص گواہ ہیں، وہ مدینہ آتے ہوئے ہمارے قبیلے میں سے گزرے تھے، میں نے انہیں اپنے پاس ٹھہرایا تھا اور بڑی خاطر تواضع کی تھی۔"
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے عمروؓ بن عاص کو بلایا اور ان سے قرہ کی باتوں کی تصدیق چاہی، عمرو بن عاص نے سارا واقعہ بیان کرنا شروع کیا، جب وہ زکوٰۃ کی بات پر پہنچے تو قرہ کہنے لگا: عمروؓ بن عاص اس بات کو جانے دو۔ عمروؓ بن عاص نے کہا: کیوں؟ واللہ! میں تو سارا حال بیان کروں گا۔ جب وہ بات ختم کر چکے تو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مسکرائے اور قرہ کی جان بخشی کر دی۔
علقمہ بن علاثہ:
عفو و در گزر کی یہ پالیسی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے کمزوری کی آئینہ دار نہ تھی، بلکہ اس سے صرف وہ جوش و خروش اس انداز سے سرد کرنا مقصود تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، لیکن جہاں معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تک پہنچتا، وہاں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کسی قسم کی نرمی ہرگز گوارا نہ کر سکتے تھے، اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے چند مثالیں کافی ہوں گی۔
بنی کلب کے ایک شخص علقمہ بن علاثہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا، لیکن آپ کی زندگی ہی میں مرتد ہو گیا اور شام چلا گیا، آپ کی وفات کے بعد وہ اپنے قبیلے میں واپس آیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے لگا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے خبر پا کر قعقاع بن عمرو کو اس کے مقابلے کے لیے بھیجا، لیکن مقابلے کی نوبت آنے سے پیشتر ہی عقلمہ فرار ہو گیا، اس کی بیوی، بیٹیاں اور دوسرے ساتھی اسلام لے آئے اور اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا، بعد میں علقمہ بھی تائب ہو کر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے اس کی توبہ قبول کر لی اور جان بخشی کر دی، کیونکہ اس نے نہ مسلمانوں سے جنگ کی تھی اور نہ کسی مسلمان کو قتل کیا تھا۔
فجاۂ ایاس:
لیکن اس کے مقابل انہوں نے فجاۂ ایاس بن عبد یا لیل کے عذرات قبول نہ کیے اور نہ اس کی جان بخشی ہی کی، یہ شخص حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے عرض کی کہ آپ مجھے کچھ ہتھیار دیجئے، میں جس مرتد قبیلے سے آپ چاہیں گے لڑنے کے لیے تیار ہوں، انہوں نے اسے ہتھیار دے کر ایک قبیلے سے لڑنے کا حکم دیا، لیکن فجاۂ نے وہ ہتھیار قبیلہ سلیم، عامر اور ہوازن کے مسلمانوں اور مرتدین دونوں کے خلاف استعمال کیے اور کئی مسلمانوں کو قتل کردیا، اس پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے طریفہ بن حاجز کو ایک دستے کے ہمراہ فجاۂ کی جانب بھیجا، لڑائی میں فجاۂ گرفتار ہوا اور طریفہ اسے اپنے ہمراہ مدینہ لے آئے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے جلا دینے کا حکم دیا، اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر فجاۂ مسلمانوں کو قتل نہ کرتا تو اسے اتنی ہولناک سزا نہ دی جاتی جس پر بعد میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو افسوس بھی ہوا۔
ابو شجرہ: اسی ضمن میں ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ کا واقعہ بیان کردینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ واقعہ عینیہ، قرہ اور علقمہ کے واقعات سے بڑی حد تک مشابہت رکھتا ہے، ابو شجرہ، مشہور شاعرہ خنسا کا بیٹا تھا جس نے اپنے بھائی صخر کی یاد میں بڑے دل دوز مرثیے کہے ہیں، ابو شجرہ اپنی والدہ کی طرح شاعر تھا، وہ مرتدین سے مل گیا اور ایسے شعر کہنے لگا جن میں اپنے ساتھیوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جاتا تھا اور ان سے لڑنے کی ترغیب دی جاتی تھی، چنانچہ منجملہ اور اشعار کے اس کا ایک شعر یہ بھی تھا:
فرویت رمحی من کتیبۃ خالد
وانی لارجو بعدھا ان اعمرا
''میں نے اپنا نیزہ خالدؓ کے لشکر کے خون سے سیراب کر دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی میں اسی طرح کرتا رہوں گا۔''
لیکن جب اس نے دیکھا کہ حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کے خلاف ترغیب و تحریض بار آور ثابت نہیں ہوئی اور لوگ برابر اسلام قبول کررہے ہیں تو وہ بھی اسلام لے آیا، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس کی بھی جان بخشی کر دی اور اسے معاف کر دیا۔
حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں ایک دفعہ ابو شجرہ ان کے پاس آیا، وہ اس وقت زکوٰۃ کا مال غرباء میں تقسیم کر رہے تھے، ابو شجرہ نے کہا: امیر المومنین! مجھے بھی کچھ دیجئے کیونکہ میں حاجت مند ہوں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: تو کون ہے؟ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ ابو شجرہ ہے تو فرمایا:
اے اللہ کے دشمن! کیا تو وہی نہیں جس نے کہا تھا:
فرویت رمحی من کتیبۃ خالد
وانی لارجو بعدھا ان اعمرا
اس کے بعد انہوں نے اسے درے مارنے کا حکم دیا، مگر وہ بھاگ کر اونٹنی پر سوار ہو کر اپنی قوم بنو سلیم میں آ گیا۔
======> جاری ہے ۔۔۔







No comments:
Post a Comment