Dusre Muratad Qabayel Se Istashaal.
Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu Bakr Razi Allahu Anahu. Part-30.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
![]() |
| Islamic History. |
تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (30)
دوسرے مرتد قبائل کا استیصال:
حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے چشمہ بزاخہ پر کامل ایک مہینہ قیام فرمایا، اس دوران میں وہ ان بقیہ قبائل کی سرکوبی میں مصروف رہے جو ابھی تک ارتداد اور سرکشی پر قائم تھے اور ام زمل سے مل کر مسلمانوں کے مقابلے کی تیاریاں کر رہے تھے، انہوں نے ایسے لوگوں کو چن چن کر قتل کرا دیا جن کے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے آلودہ تھے اور مرتدین کے متعدد سر بر آوردہ اشخاص کو جو اسلامی فوجوں کے مقابلے کو نکلے تھے، گرفتار کر کے مدینہ بھجوا دیا، ان لوگوں میں سے مشہور شخص یہ تھے: قرہ بن ہبیرہ، فجائۃ السلمی، ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ السلمی وغیرہ۔ یہ لوگ اس وقت تک حالت اسیری میں رہے جب تک حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق فیصلہ نہ سنا دیا۔
بقیہ مرتد قبائل:
ام زمل اور طلیحہ کے لشکر کے مفرورین کا حال بیان کرنے سے قبل اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ ان لوگوں کا کیا بنا جو طلیحہ کی قوم، بنی اسد کی طرح دوبارہ اسلام میں داخل نہ ہوئے؟ کیا ان کی عقل یہ تقاضا نہ کرتی تھی کہ جب طلیحہ کا کذب ان پر ظاہر ہو گیا تھا تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آتے؟
دوسرے مرتد قبائل کا استیصال:
حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ نے چشمہ بزاخہ پر کامل ایک مہینہ قیام فرمایا، اس دوران میں وہ ان بقیہ قبائل کی سرکوبی میں مصروف رہے جو ابھی تک ارتداد اور سرکشی پر قائم تھے اور ام زمل سے مل کر مسلمانوں کے مقابلے کی تیاریاں کر رہے تھے، انہوں نے ایسے لوگوں کو چن چن کر قتل کرا دیا جن کے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے آلودہ تھے اور مرتدین کے متعدد سر بر آوردہ اشخاص کو جو اسلامی فوجوں کے مقابلے کو نکلے تھے، گرفتار کر کے مدینہ بھجوا دیا، ان لوگوں میں سے مشہور شخص یہ تھے: قرہ بن ہبیرہ، فجائۃ السلمی، ابو شجرہ بن عبدالعزیٰ السلمی وغیرہ۔ یہ لوگ اس وقت تک حالت اسیری میں رہے جب تک حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق فیصلہ نہ سنا دیا۔
بقیہ مرتد قبائل:
ام زمل اور طلیحہ کے لشکر کے مفرورین کا حال بیان کرنے سے قبل اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ ان لوگوں کا کیا بنا جو طلیحہ کی قوم، بنی اسد کی طرح دوبارہ اسلام میں داخل نہ ہوئے؟ کیا ان کی عقل یہ تقاضا نہ کرتی تھی کہ جب طلیحہ کا کذب ان پر ظاہر ہو گیا تھا تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آتے؟
بات یہ ہے کہ اگرچہ سارے عرب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مجبوراً سر تسلیم خم کرنا پڑا، لیکن در حقیقت وہ لوگ صدق دل سے آپ پر ایمان نہ لائے تھے، ان میں بہت سے لوگوں کو بتوں کی عبادت فضول معلوم ہوئی تو وہ ان کی پرستش چھوڑ کر اللہ کی عبادت کرنے لگے، لیکن اس عبادت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر جو دوسرے فرائض عائد کر دئیے وہ ان کے لیے بڑے تکلیف دہ تھے اور ان کی آزاد طبائع ان فرائض کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھیں، اسی لیے انہوں نے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا، جب حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ زمانہ آیا تو ان لوگوں نے ادائے زکوٰۃ سے انکار کر دیا، کیونکہ مال کی محبت ان کے دلوں میں ہر چیز سے زیادہ رچی ہوئی تھی، اسی طرح وہ نماز اور دوسرے فرائض اسلام سے بھی نجات حاصل کرنا چاہتے تھے، طلیحہ، مسیلمہ اور دوسرے مدعیان نبوت کی پیروی انہوں نے اسی لیے اختیار کی تھی کہ اپنی گردنوں سے وہ طوق اتار کر پھینک سکیں جو فرائض اور ارکان اسلام کی شکل میں ان کی گردنوں میں ڈال دیا گیا تھا، چنانچہ طلیحہ کے فرار ہونے کے بعد بھی وہ اپنے آپ کو اسلامی حکومت کی اطاعت کرنے پر آمادہ نہ کر سکے اور دوسری جگہ جا کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے دوبارہ جنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی، کیونکہ ان کا خیال تھا وہ بالآخر ضرور فتح یاب ہوں گے اور حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کو مجبور کر سکیں گے کہ فرائض اسلام کی بجا آوری میں ان پر اتنی سختی نہ کریں جتنی وہ اب کر رہے ہیں۔
لڑائی کے لیے دوبارہ تیار ہو جانے کا ایک سبب اور بھی تھا اور اس کا تعلق بدوؤں کی نفسیات سے ہے، ان قبائل اور مہاجرین و انصار کے درمیان پرانے جھگڑے چلے آ رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غلبہ پا لیا تو انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور آپ کے احکام کی بجا آوری پر بظاہر رضا مند ہو گئے، لیکن یہ سب کچھ انہوں نے بحالت مجبوری، اپنی مرضی کے خلاف محض اس لیے کیا کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہو چکے تھے، جونہی انہیں کچھ مہلت اور آزادی ملی وہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک لمحہ بھی سوچ بچار میں ضائع نہ کیا، انہیں جنگ خندق کا واقعہ یاد تھا جب قریب تھا کہ مدینہ اپنے دروازے کفار کے لیے کھول دیتا، اگر ایک سخت آندھی کافروں کے تمام منصوبے تہ و بالا کر کے نہ رکھ دیتی۔
بظاہر مسلمان ہونے کے بعد یہ لوگ چپکے ہو رہے اور دیکھتے رہے کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، پھر کیا تھا یہ لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے سارے ملک میں فساد برپا کر دیا، جب تک اسلامی فوجیں ان کی سرکوبی کے لیے پہنچیں انہوں نے اس وقفے سے فائدہ اٹھا کر اپنی جمعیت کو مضبوط تر کر لیا، ان کا خیال تھاکہ قسمت ضرور ان کا ساتھ دے گی اور وہ دوبارہ اس آزادی و خود مختاری سے بہرہ ور ہو سکیں گے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محروم ہو چکے تھے، اگر تمام قبائل اپنے اس موقف پر مضبوطی سے قائم رہتے تو یقینا حضرت خالدؓ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ آسانی سے مرتدین پر فتح نہ پا سکتے، لیکن عدی بن حاتم کی کوششوں سے قبیلہ طئی کی دونوں شاخیں طلیحہ سے الگ ہو کر مسلمانوں سے مل گئیں، یہ دیکھ کر طلیحہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، یہی گھبراہٹ اور پریشانی اس کی شکست اور فرار کا موجب بنی۔ طلیحہ کے فرار ہونے کے بعد عینیہ بھی اپنے قبیلے میں جا کر بیٹھ رہا، اس دوران میں بنو عامر جو طلیحہ کے طرف داروں میں سے تھے اور بزاخہ سے کچھ فاصلے پر آباد تھے، اس انتظار میں رہے کہ دیکھیں کس فریق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے؟
لڑائی کے لیے دوبارہ تیار ہو جانے کا ایک سبب اور بھی تھا اور اس کا تعلق بدوؤں کی نفسیات سے ہے، ان قبائل اور مہاجرین و انصار کے درمیان پرانے جھگڑے چلے آ رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غلبہ پا لیا تو انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور آپ کے احکام کی بجا آوری پر بظاہر رضا مند ہو گئے، لیکن یہ سب کچھ انہوں نے بحالت مجبوری، اپنی مرضی کے خلاف محض اس لیے کیا کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہو چکے تھے، جونہی انہیں کچھ مہلت اور آزادی ملی وہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک لمحہ بھی سوچ بچار میں ضائع نہ کیا، انہیں جنگ خندق کا واقعہ یاد تھا جب قریب تھا کہ مدینہ اپنے دروازے کفار کے لیے کھول دیتا، اگر ایک سخت آندھی کافروں کے تمام منصوبے تہ و بالا کر کے نہ رکھ دیتی۔
بظاہر مسلمان ہونے کے بعد یہ لوگ چپکے ہو رہے اور دیکھتے رہے کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، پھر کیا تھا یہ لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے سارے ملک میں فساد برپا کر دیا، جب تک اسلامی فوجیں ان کی سرکوبی کے لیے پہنچیں انہوں نے اس وقفے سے فائدہ اٹھا کر اپنی جمعیت کو مضبوط تر کر لیا، ان کا خیال تھاکہ قسمت ضرور ان کا ساتھ دے گی اور وہ دوبارہ اس آزادی و خود مختاری سے بہرہ ور ہو سکیں گے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محروم ہو چکے تھے، اگر تمام قبائل اپنے اس موقف پر مضبوطی سے قائم رہتے تو یقینا حضرت خالدؓ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ آسانی سے مرتدین پر فتح نہ پا سکتے، لیکن عدی بن حاتم کی کوششوں سے قبیلہ طئی کی دونوں شاخیں طلیحہ سے الگ ہو کر مسلمانوں سے مل گئیں، یہ دیکھ کر طلیحہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی، یہی گھبراہٹ اور پریشانی اس کی شکست اور فرار کا موجب بنی۔ طلیحہ کے فرار ہونے کے بعد عینیہ بھی اپنے قبیلے میں جا کر بیٹھ رہا، اس دوران میں بنو عامر جو طلیحہ کے طرف داروں میں سے تھے اور بزاخہ سے کچھ فاصلے پر آباد تھے، اس انتظار میں رہے کہ دیکھیں کس فریق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے؟
جب حضرت خالدؓ نے بنو اسد اور قیس کو شکست فاش دے دی تو بنو عامر نے باہم مشورہ کر کے طے کیا کہ اب ان کے لیے مسلمان ہو جانا ہی بہتر رہے گا، چنانچہ وہ بھی اسد، غطفان اور طئی کی طرح حضرت خالدؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔
قا تلوں پر حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کی سختی:
حضرت خالدؓ نے غطفان، ہوازن، سلیم اور طئی کے لوگوں کی جان بخشی اس شرط پر کی تھی کہ وہ ان کو ان کے حوالے کر دیں، جنہوں نے ان غریب مسلمانوں کو قتل کیا تھا جو بزمانہ ارتداد ان کے چنگل میں پھنس گئے تھے، چنانچہ جب یہ لوگ ان کے سامنے پیش کیے گئے تو انہوں نے دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے ان کے سرداروں کے سوا باقی سب کو قتل کر دیا، اس کے بعد قرہ بن ہبیرہ، عینیہ بن حصن اور دوسرے سرداروں کو بیڑیاں پہنا کر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کر دیا اور ساتھ ہی حسب ذیل مضمون کا ایک خط بھی ارسال کیا:
"بنو عامر ارتداد کے بعد اسلام لے آئے، لیکن میں نے ان کی جان بخشی اس وقت تک نہ کی جب تک انہوں نے ان لوگوں کو میرے حوالے نہ کر دیا جنہوں نے غریب و بے کس مسلمانوں پر سخت ظلم ڈھائے تھے، میں نے ایسے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ہے، اس خط کے ساتھ قرہ بن ہبیرہ اور اس کے ساتھیوں کو روانہ کر رہا ہوں۔"
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی روش پر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خوشنودی:
حضرت خالدؓ نے جن لوگوں کو قتلِ مسلماناں کی پاداش میں تلوار کے گھاٹ اتار دیا تھا، ان کی طرف سے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں قطعاً رحم پیدا نہ ہوا بلکہ انہوں نے ان دشمنان اسلام اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا کا قرار واقعی مستحق سمجھا اور حضرت خالدؓ کو جواب میں لکھا:
"اللہ تمہیں اپنے انعام سے بہرہ ور کرتا رہے، میری یہ نصیحت ہے کہ تم اپنے معاملات میں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور ہمیشہ تقویٰ کی راہ پر چلو، کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے اور اس کے بندوں پر احسان کرتے ہیں، اللہ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر کام کرو اور کبھی سستی نہ برتو، ہر شخص کو جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو، قابو پانے کے بعد قتل کر دو، دوسرے لوگوں کے متعلق بھی جنہوں نے اللہ سے دشمنی اور سرکشی اختیار کر کے اس کے احکام کی خلاف ورزی کی، اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ ان کا قتل کر دینا مناسب ہے تو تمہیں ایسا کرنے کا اختیا رہے۔"
حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ خط حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے مرتدین کو مرعوب کرنے کی پالیسی پر اور زور شور سے عمل شروع کر دیا، چنانچہ ایک مہینے تک وہ بزاخہ کے چشمے پر مقیم رہ کر مرتدین کا قافیہ تنگ کرتے رہے۔
========> جاری ہے ۔۔۔
قا تلوں پر حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کی سختی:
حضرت خالدؓ نے غطفان، ہوازن، سلیم اور طئی کے لوگوں کی جان بخشی اس شرط پر کی تھی کہ وہ ان کو ان کے حوالے کر دیں، جنہوں نے ان غریب مسلمانوں کو قتل کیا تھا جو بزمانہ ارتداد ان کے چنگل میں پھنس گئے تھے، چنانچہ جب یہ لوگ ان کے سامنے پیش کیے گئے تو انہوں نے دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے ان کے سرداروں کے سوا باقی سب کو قتل کر دیا، اس کے بعد قرہ بن ہبیرہ، عینیہ بن حصن اور دوسرے سرداروں کو بیڑیاں پہنا کر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ کر دیا اور ساتھ ہی حسب ذیل مضمون کا ایک خط بھی ارسال کیا:
"بنو عامر ارتداد کے بعد اسلام لے آئے، لیکن میں نے ان کی جان بخشی اس وقت تک نہ کی جب تک انہوں نے ان لوگوں کو میرے حوالے نہ کر دیا جنہوں نے غریب و بے کس مسلمانوں پر سخت ظلم ڈھائے تھے، میں نے ایسے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ہے، اس خط کے ساتھ قرہ بن ہبیرہ اور اس کے ساتھیوں کو روانہ کر رہا ہوں۔"
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی روش پر حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کی خوشنودی:
حضرت خالدؓ نے جن لوگوں کو قتلِ مسلماناں کی پاداش میں تلوار کے گھاٹ اتار دیا تھا، ان کی طرف سے حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کے دل میں قطعاً رحم پیدا نہ ہوا بلکہ انہوں نے ان دشمنان اسلام اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سزا کا قرار واقعی مستحق سمجھا اور حضرت خالدؓ کو جواب میں لکھا:
"اللہ تمہیں اپنے انعام سے بہرہ ور کرتا رہے، میری یہ نصیحت ہے کہ تم اپنے معاملات میں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور ہمیشہ تقویٰ کی راہ پر چلو، کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے اور اس کے بندوں پر احسان کرتے ہیں، اللہ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر کام کرو اور کبھی سستی نہ برتو، ہر شخص کو جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو، قابو پانے کے بعد قتل کر دو، دوسرے لوگوں کے متعلق بھی جنہوں نے اللہ سے دشمنی اور سرکشی اختیار کر کے اس کے احکام کی خلاف ورزی کی، اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ ان کا قتل کر دینا مناسب ہے تو تمہیں ایسا کرنے کا اختیا رہے۔"
حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ خط حضرت خالدؓ بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے مرتدین کو مرعوب کرنے کی پالیسی پر اور زور شور سے عمل شروع کر دیا، چنانچہ ایک مہینے تک وہ بزاخہ کے چشمے پر مقیم رہ کر مرتدین کا قافیہ تنگ کرتے رہے۔
========> جاری ہے ۔۔۔







No comments:
Post a Comment