Sham (Syria) Se Usama Razi Allahu Anahu Ke Lashkar Ki Wapasi.
Khilafat-E-Siddique: Hazrat Abu bakr Razi Allahu Anahu. Part-27.
This Islamic post has been published with the full consent of the original author, who has expressly permitted its sharing to spread beneficial knowledge.
![]() |
| Islamic History. |
تاریخ اسلام۔ عہدِ خلافتِ صدیقیؓ، قسط: (27)
شام سے لشکرِ اسامہ کی واپسی:
مختلف قبائل کے مسلمان زکوٰۃ لے کر مدینہ پہنچ ہی رہے تھے کہ حضرت اسامہؓ بھی سرزمین روم سے مظفر ومنصور واپس آ گئے، حضرت ابوبکرؓ اور کبار صحابہ نے مقام جرف میں لشکر کا استقبال کیا، عامۃ الناس نے بھی بڑے جوش و خروش سے اس فوج کا خیر مقدم کیا، جب لشکر مدینہ میں داخل ہوا تو ہر جانب سے خوشی اور مسرت کے گیتوں کی آوازیں آ رہی تھیں، حضرت اسامہؓ سب سے پہلے مسجد نبوی میں پہنچے، وہ عَلم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے انہیں مرحمت فرمایا تھا، مسجد میں بلند کیا اور نماز شکرانہ ادا کی۔
حضرت ابوبکرؓ نے نہایت دور اندیشی سے فیصلہ کیا کہ دشمن کو تیاری کا موقع نہ دیا جائے، بلکہ اس پر پے در پے حملے کر کے اس کی قوت و طاقت توڑ دی جائے، انہوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کو فی الحال آرام کرنے کا حکم دیا اور خود ان لوگوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے جو اس سے پہلے ذی القصہ کی لڑائی میں ان کے ساتھ شریک تھے، لوگوں نے درخواست کی کہ آپ اپنے آپ کو خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ اگر خدا نخواستہ آپ کو کوئی ضرر پہنچ گیا تو اسلامی سلطنت کا نظام تہہ و بالا ہو جائے گا، اس لیے آپ اپنی جگہ کسی اور کو لشکر کا سردار مقرر فرما دیں، تاکہ اگر وہ میدان میں کام بھی آ جائے تو مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچ سکے، لیکن حضرت ابوبکرؓ جب کسی کام کا ارادہ کر لیتے تھے تو جب تک اسے پورا نہ کر لیتے پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہ لیتے تھے، انہوں نے یہ باتیں سن کر فرمایا:
"واللہ! میں ہرگز پیچھے نہ رہوں گا، بلکہ تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری ہمتوں کو بلند رکھوں گا۔"
مدینہ سے روانہ ہو کر حضرت ابوبکرؓ ابرق پہنچے جو ذی القصہ کے قریب واقع ہے، وہاں بنی عبس، ذبیان اور بنی بکر سے ان کی مڈ بھیڑ ہوئی، جنگ میں مؤخر الذکر قبائل کو شکست اٹھانی پڑی اور مسلمانوں نے انہیں اس علاقے سے نکال دیا، ابرق بنی ذبیان کی ملکیت تھا، لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے انہیں وہاں سے نکال دیا تو اعلان کیا کہ اب یہ سرزمین مسلمانوں کی ملکیت ہے، آئندہ بنی ذبیان اس پر قابض نہ ہو سکیں گے، چنانچہ اس کے بعد یہ مقامات مسلمانوں ہی کی ملکیت میں رہے اور حالات معمول پر آنے کے بعد بھی بنو ثعلبہ نے اس جگہ دوبارہ آباد ہونا چاہا تو حضرت ابوبکرؓ نے اجازت نہ دی۔
عبس، ذبیان، غطفان، بنی بکر اور مدینہ کے قریب بسنے والے دوسرے باغی قبائل کے لیے مناسب تھا کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی اور بغاوت سے باز آ جاتے، حضرت ابوبکرؓ کی کامل اطاعت اور ارکان اسلام کی بجا آوری کا اقرار کرتے اور مسلمانوں سے مل کر مرتدین کے خلاف نبرد آزما ہو جاتے، عقل کا تقاضا بھی یہی تھا اور واقعات بھی اسی کی تائید کرتے تھے، حضرت ابوبکرؓ کے ذریعے سے ان کا زور ٹوٹ چکا تھا، روم کی سرحدوں پر حصول کامیابی کے باعث اہل مدینہ کا رعب قائم ہو چکا تھا، مسلمانوں کی قوت وطاقت بڑھ چکی تھی اور اب وہ اس کمزوری کے عالم میں نہ تھے جو جنگ بدر اور ابتدائی غزوات کے ایام میں ان پر طاری تھی، اب مکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا اور طائف بھی اور ان دونوں شہروں کی سیادت سارے عرب پر مُسلم تھی، پھر خود ان قبائل کے درمیان ایسے مسلمان کثرت سے موجود تھے جنہیں باغی کسی صورت ساتھ نہ ملا سکے تھے اور اس طرح ان کی پوزیشن بے حد کمزور تھی۔
لیکن مسلمانوں کی دشمنی نے ان کی آنکھیں اندھی کردی تھیں اور سود و زیاں کا احساس دلوں سے جاتا رہا تھا، انہوں نے اپنے وطنوں کو چھوڑ دیا اور قبیلہ بنی اسد کے نبوت کے دعویدار طلیحہ بن خویلد سے جا ملے، جو مسلمان ان کے درمیان موجود تھے وہ انہیں ان کے ارادوں سے باز نہ رکھ سکے، ان لوگوں کے پہنچ جانے سے طلیحہ اور مسیلمہ کی قوت و طاقت میں بہت اضافہ ہو گیا اور یمن میں بغاوت کے شعلے زور و شور سے بھڑکنے لگے۔
یہ حالات دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ نے فیصلہ کیا کہ جنگ کا سلسلہ بدستور جاری رکھا جائے اور اس وقت تک دم نہ لیا جائے جب تک یمن کا چپہ چپہ اسلامی حکومت کے زیر نگین نہ آ جائے، اگر یہ قبائل عقل سے کام لیتے تو طلیحہ اور دوسرے مدعیان نبوت کو اتنا فروغ حاصل نہ ہوتا اور بہت جلد سارا عرب اسلام کی آغوش میں آ جاتا، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا، اس نے مخالفین کو مزید مہلت دی کہ وہ اس عرصے میں اپنی جمعیت اور مضبوط کر لیں۔ اسلام سے ان قبائل کی عناد اور نفرت کی اصل وجہ وہی تھی جس کا ذکر ہم ابتداء میں کر آئے ہیں، یعنی قبائلی عصبیت اور یہ جذبہ کہ ہم کسی طاقت کا غلبہ تسلیم نہیں کر سکتے، جب ان قبائل کو مدینہ پر حملہ کرنے میں ناکامی ہوئی بلکہ اس کے برعکس انہیں اپنی بعض بستیوں ہی سے نکلنا پڑا تو بدوی طبائع نے فاتح طاقت کے سامنے سر جھکانا اور اس کی سیادت قبول کر کے اس کے ماتحت زندگی بسر کرنا گوارا نہ کیا، چنانچہ وہ اس خیال سے بنی اسد اور طلیحہ سے جا کر مل گئے کہ ممکن ہے ان کا ساتھ دینے سے وہ اپنی عبرت ناک شکست کا داغ دھو سکیں۔
شام سے لشکرِ اسامہ کی واپسی:
مختلف قبائل کے مسلمان زکوٰۃ لے کر مدینہ پہنچ ہی رہے تھے کہ حضرت اسامہؓ بھی سرزمین روم سے مظفر ومنصور واپس آ گئے، حضرت ابوبکرؓ اور کبار صحابہ نے مقام جرف میں لشکر کا استقبال کیا، عامۃ الناس نے بھی بڑے جوش و خروش سے اس فوج کا خیر مقدم کیا، جب لشکر مدینہ میں داخل ہوا تو ہر جانب سے خوشی اور مسرت کے گیتوں کی آوازیں آ رہی تھیں، حضرت اسامہؓ سب سے پہلے مسجد نبوی میں پہنچے، وہ عَلم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے انہیں مرحمت فرمایا تھا، مسجد میں بلند کیا اور نماز شکرانہ ادا کی۔
حضرت ابوبکرؓ نے نہایت دور اندیشی سے فیصلہ کیا کہ دشمن کو تیاری کا موقع نہ دیا جائے، بلکہ اس پر پے در پے حملے کر کے اس کی قوت و طاقت توڑ دی جائے، انہوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کو فی الحال آرام کرنے کا حکم دیا اور خود ان لوگوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے جو اس سے پہلے ذی القصہ کی لڑائی میں ان کے ساتھ شریک تھے، لوگوں نے درخواست کی کہ آپ اپنے آپ کو خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ اگر خدا نخواستہ آپ کو کوئی ضرر پہنچ گیا تو اسلامی سلطنت کا نظام تہہ و بالا ہو جائے گا، اس لیے آپ اپنی جگہ کسی اور کو لشکر کا سردار مقرر فرما دیں، تاکہ اگر وہ میدان میں کام بھی آ جائے تو مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچ سکے، لیکن حضرت ابوبکرؓ جب کسی کام کا ارادہ کر لیتے تھے تو جب تک اسے پورا نہ کر لیتے پیچھے ہٹنے کا نام ہی نہ لیتے تھے، انہوں نے یہ باتیں سن کر فرمایا:
"واللہ! میں ہرگز پیچھے نہ رہوں گا، بلکہ تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری ہمتوں کو بلند رکھوں گا۔"
مدینہ سے روانہ ہو کر حضرت ابوبکرؓ ابرق پہنچے جو ذی القصہ کے قریب واقع ہے، وہاں بنی عبس، ذبیان اور بنی بکر سے ان کی مڈ بھیڑ ہوئی، جنگ میں مؤخر الذکر قبائل کو شکست اٹھانی پڑی اور مسلمانوں نے انہیں اس علاقے سے نکال دیا، ابرق بنی ذبیان کی ملکیت تھا، لیکن جب حضرت ابوبکرؓ نے انہیں وہاں سے نکال دیا تو اعلان کیا کہ اب یہ سرزمین مسلمانوں کی ملکیت ہے، آئندہ بنی ذبیان اس پر قابض نہ ہو سکیں گے، چنانچہ اس کے بعد یہ مقامات مسلمانوں ہی کی ملکیت میں رہے اور حالات معمول پر آنے کے بعد بھی بنو ثعلبہ نے اس جگہ دوبارہ آباد ہونا چاہا تو حضرت ابوبکرؓ نے اجازت نہ دی۔
عبس، ذبیان، غطفان، بنی بکر اور مدینہ کے قریب بسنے والے دوسرے باغی قبائل کے لیے مناسب تھا کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی اور بغاوت سے باز آ جاتے، حضرت ابوبکرؓ کی کامل اطاعت اور ارکان اسلام کی بجا آوری کا اقرار کرتے اور مسلمانوں سے مل کر مرتدین کے خلاف نبرد آزما ہو جاتے، عقل کا تقاضا بھی یہی تھا اور واقعات بھی اسی کی تائید کرتے تھے، حضرت ابوبکرؓ کے ذریعے سے ان کا زور ٹوٹ چکا تھا، روم کی سرحدوں پر حصول کامیابی کے باعث اہل مدینہ کا رعب قائم ہو چکا تھا، مسلمانوں کی قوت وطاقت بڑھ چکی تھی اور اب وہ اس کمزوری کے عالم میں نہ تھے جو جنگ بدر اور ابتدائی غزوات کے ایام میں ان پر طاری تھی، اب مکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا اور طائف بھی اور ان دونوں شہروں کی سیادت سارے عرب پر مُسلم تھی، پھر خود ان قبائل کے درمیان ایسے مسلمان کثرت سے موجود تھے جنہیں باغی کسی صورت ساتھ نہ ملا سکے تھے اور اس طرح ان کی پوزیشن بے حد کمزور تھی۔
لیکن مسلمانوں کی دشمنی نے ان کی آنکھیں اندھی کردی تھیں اور سود و زیاں کا احساس دلوں سے جاتا رہا تھا، انہوں نے اپنے وطنوں کو چھوڑ دیا اور قبیلہ بنی اسد کے نبوت کے دعویدار طلیحہ بن خویلد سے جا ملے، جو مسلمان ان کے درمیان موجود تھے وہ انہیں ان کے ارادوں سے باز نہ رکھ سکے، ان لوگوں کے پہنچ جانے سے طلیحہ اور مسیلمہ کی قوت و طاقت میں بہت اضافہ ہو گیا اور یمن میں بغاوت کے شعلے زور و شور سے بھڑکنے لگے۔
یہ حالات دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ نے فیصلہ کیا کہ جنگ کا سلسلہ بدستور جاری رکھا جائے اور اس وقت تک دم نہ لیا جائے جب تک یمن کا چپہ چپہ اسلامی حکومت کے زیر نگین نہ آ جائے، اگر یہ قبائل عقل سے کام لیتے تو طلیحہ اور دوسرے مدعیان نبوت کو اتنا فروغ حاصل نہ ہوتا اور بہت جلد سارا عرب اسلام کی آغوش میں آ جاتا، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا، اس نے مخالفین کو مزید مہلت دی کہ وہ اس عرصے میں اپنی جمعیت اور مضبوط کر لیں۔ اسلام سے ان قبائل کی عناد اور نفرت کی اصل وجہ وہی تھی جس کا ذکر ہم ابتداء میں کر آئے ہیں، یعنی قبائلی عصبیت اور یہ جذبہ کہ ہم کسی طاقت کا غلبہ تسلیم نہیں کر سکتے، جب ان قبائل کو مدینہ پر حملہ کرنے میں ناکامی ہوئی بلکہ اس کے برعکس انہیں اپنی بعض بستیوں ہی سے نکلنا پڑا تو بدوی طبائع نے فاتح طاقت کے سامنے سر جھکانا اور اس کی سیادت قبول کر کے اس کے ماتحت زندگی بسر کرنا گوارا نہ کیا، چنانچہ وہ اس خیال سے بنی اسد اور طلیحہ سے جا کر مل گئے کہ ممکن ہے ان کا ساتھ دینے سے وہ اپنی عبرت ناک شکست کا داغ دھو سکیں۔
لیکن حضرت ابوبکرؓ تمام قبائلی عصبیتوں سے دور تھے، ان کے پیش نظر صرف ایک مقصد تھا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ طریقہ اختیار کیا جائے اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلا جائے، انہوں نے اپنی ساری جدوجہد اسی مقصد کے حصول کے لیے وقف کر دی، یہی سیاست تھی جس کے نفاذ کا اعلان انہوں نے بیعت کے دن کیا تھا اور اپنے عہد خلافت میں اسی پر نہایت سختی سے کاربند رہے۔
========> جاری ہے ۔۔۔







No comments:
Post a Comment