find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Ager Koi Shakhs Jama'at Shuru hone Ke Bad Aaya To Kya Wah Dua Istaftaah Parhega.

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

اگر کوئی شخص جماعت شروع ہونے کے بعد آیا تو کیا وہ دعاء استفتاح پڑھے گا
برائے مہربانی مدلل جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں۔۔۔۔ سائل:   . . . . .   . .  
الجواب بعون رب العباد:
*********************
كتبه:أبوزهير محمد يوسف بٹ بزلوی ریاضی۔
**************************
جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ نماز میں چاھئے امام کے پیچھے ہوں یا اکیلے دونوں صورت میں پڑھنا سنت یے۔
چاھئے مقتدی جماعت کی صورت میں امام کے ساتھ پہلی رکعت میں آئے یا دوسری رکعت میں دونوں ہی حالتوں میں دعاء استفتاح کا پڑھنا اسکے حق میں مسنون ہے
اگر وہ امام کو رکوع یا سجدہ کی حالت میں پائے اس صورت میں وہ امام جس حالت میں ہے اسکے ساتھ مل جائے کیونکہ امام کی اقتداء ضروری ہے اور دعاء استفتاح کا پڑھنا سنت ہے۔
دلیل حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہ امام کو جس بھی حالت میں پائے اسکی اقتداء کی جائے:
نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ امام کو اسی لئے بنایا گیا ہے کہ اسکی اقتداء  کی جائے ، پس جب امام نماز کھڑا ہو کر پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر ہی پڑھو ، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاو ، اور جب وہ سمع اللہ کہے تو تم ربنا ولك الحمد کہو جب وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بیٹھ کر نماز ادا کرو۔[بخاری 689 ، صحیح مسلم 411]۔
امام نووی شارح صحیح مسلم فرماتے ہیں کہ امام کی متابعت ، اتباع کرنا واجب ہے۔ جب وہ رکوع کرے تو مقتدی بھی رکوع اور سجدہ وغیرہ کرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [شرح صحیح مسلم]۔
فتاوی لجنہ دائمہ میں ہے کہ مقتدی پر واجب ہے کہ وہ امام کی رکوع،  سجدہ رفع اور قیام میں اسکی متابعت کرے ، مقتدی کے لئے قطعا جائز نہیں کہ وہ امام سے قبل رکوع سجدہ قیام وغیرہ کرے اسلئے کہ نبی علیہ السلام نے نماز میں امام کی اقتداء کرنے کا حکم دیا ہے اور امام سے قبل رکوع سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔[فتاوی لجنہ دائمہ315/7]۔
امام شیرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مقتدی کو سورہ فاتحہ کے فوت ہونے کا خطرہ ہو اس صورت میں وہ دعاء استفتاح ترک کرے اسلئے کہ نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے اگر وہ دعاء استفتاح کے پڑھنے میں مشغول ہوجائے گا اسے اس کا فرض چھوٹ جائے گا اور دعاء استفتاح کا پڑھنا سنت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [شرح المهذب والمجموع للنووي 109/4].
علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کی صحیح اقوال کے مطابق مقتدی پر دعاء استفتاح کا پڑھنا سنت اور سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے پس جب تمہیں سورہ فاتحہ کے فوت ہونے کا خدشہ ہو تو تم سورہ فاتحہ سے شروع کرو اور امام کے رکوع کرنے سے قبل ہی اسے مکمل کردو اور باقی چیزیں ساقط ہوجاتی ہیں۔
نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جب امام تکبیر کہے تو تم بھی کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہو۔[حدیث متفق علیہ  ،  مجموع فتاوی ابن باز جلد 11 ص نمبر:243 ،  244]۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مقتدی امام کو قیام میں نہ پائے اس صورت میں اسکے لئے دعاء استفتاح کا پڑھنا ضروری نہیں ہے۔[المجموع للنووي].
شیخ عبد المحسن العباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں دعاء استفتاح پڑھنا سنت ہے میں نہیں جانتا کہ نماز میں دعاء استفتاح کو پڑھنا کوئی وجوب کا قائل ہے۔
ان تمام احادیث اور اہل علم کے اجتھادات سے معلوم ہوا کہ دعاء استفتاح کا پڑھنا سنت ہے اسلئے اگر کوئی اسے ترک بھی کردے اسکی نماز میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا ہے۔
هذا ماعندي والله أعلم بالصواب.

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS