find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Kya Talim hi sikhati hai jine ka salika?

   ?kya Talim Hi Sikhati hai Jine Ka Salika 

? Islamic Talim (Education) kya Hai

*کیا تعـــــلیم ہی سکھــــاتی ہے جیـــنے کا سلیـــــقہ ...؟* 
تحریر ـــ  *عبــــــدالسلام نــــدوی*                    
تعلیم اور اخلاق کا عموما چولی دامن کا ساتھ مانا گیا ہے،اخلاقی بےراہ روی و معاشرتی بگاڑ کے موضوع پر جب بھی کسی صاحب علم سے گفت وشنید کا موقعہ حاصل ہوتا ہے،تو اسکی بنیادی وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے اکثروبیشتر حضرات علمی نااہلی وتعلیمی سرگرمی کے فقدان کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں، پر یہ امر کتنی حقیقت اور کتنا سراب ہے آج کے اس تحریر میں ہم اسی کو کھنگالنے کی کوشش کریں گے،
موجودہ معاشرہ جن برائیوں کی لپیٹ میں ہے،ان میں ضبط ولادت،گھریلو تشدد،جہیز(اجتماعی ڈکیتی) کا مطالبہ وخواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ سر فہرست ہے،معاشرہ کے دامن پہ لگے یہ وہ چند کالے دھبے ہیں جنہیں ہر صاحب عقل سماج کے لئے بدنما داغ گردانتا ہے،اور اسکا ذمہ دار سماج کے غیرتعلیم یافتہ طبقہ کو ٹھہراتا ہے،پر آپ سب یہ جان کر شاید دانتوں تلے انگلی چبانے لگیں کہ ان برائیوں میں ملوث بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو اہل علم میں شمار ہوتے ہیں اور علمی حلقہ سے تعلق رکھتےہیں،مثال کے طور پر اگر ہم محض خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ(Eve-teasing)کےمعاملہ کولے لیں توگزشتہ سال یعنی ۲۰۱۷ میں شائع شدہ دہلی کے ایک اخبار کے مطابق یہ واردات سب سے زیادہ دہلی کے معروف ومشہور شہر اوکھلا میں پیش آئی ہے،اس اخبار نے ایک طالبہ کا درد بھرا مراسلہ شائع کیاتھا جس میں اس نے گھر سے باہر نکلنے پر غیر محفوظ ہونے کے احساس کا ذکر کیا تھا،اور یہ کہ اسے ہر آن یہ خدشہ ستاتا رہتاہےکہ کہیں شہر کےاوباش،پڑھے لکھے جاہل،ڈگری یافتہ لچے اور صاحب عقل سلیم درندے شہوانیت سے پراپنی آرزووں کی تکمیل کیلئے اس پر چھلانگ نہ لگادیں اور اسکی نازک جسم کو دبوچ نہ لیں،علاقائی سطح پر شائع ہونےوالے اس ہفتہ واری انگریزی اخبار نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ اوکھلا ہندوستان میں اول درجہ کا تعلیم یافتہ وترقی یافتہ شہر ہے، اسے مزید چارچاند وہاں واقع پوری دنیا میں اپنےانمٹ نقوش چھوڑنے والی مشہور ومعروف یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی لگاتی ہے،یہی نہیں بلکہ وطن عزیز میں دعوتی و رفاہی سرگرمیاں انجام دینے والی اکثر فعال تنظیمیں اسی کے اطراف میں اپنا مرکزی ادارہ قائم کئے ہوئی ہیں،لیکن ان سب کے باوجود جنسی بےراہ وروی کےمعاملہ میں یہ شہر اخبار کی سرخی وجرائد ومجلات کی زینت بنا رہتاہے،اسی زمرے میں ایک مزید مثال کرناٹک کےسابق دارالحکومت اور ٹیپو کے شہر میسورکی میں پیش کرناچاہوں گا،جہاں دن کی چکاچونداور رات کی سیاہ تاریکیوں کے سناٹے میں پنپتی گھناونے جرائم کی کچھ داستانیں بنگولورو سے شائع ہونے والے اخبار "روزنامہ سالار" کے ذریعہ ۲۱/۱/۲۰۱۸ کو نشر کی گئی تھیں،یہ داستانیں نائس روڈ و قومی شاہراہوں پہ "چور طلباء" کے بڑھتے زور پر مشتمل تھیں،اسی میں یہ ذکر کیاگیا تھا کہ محض گزشتہ دوسالوں میں پولیس نے ۱۵۷ ایسے طلبہ کو گرفتار کیا ہےجو دسویں سےلیکر ڈگری کے آخر تک کی تعلیم حاصل کرنے والے ہیں،اور جرائم کا یہ معاملہ گرم توے پر پانی کے چھڑکاو کی طرح نہیں ہے، کیونکہ اسی *اخبار کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پولیس نےحالیہ دنوں بارہ اوباشوں پر مشتمل ایک ایسی ٹولی کو حراست میں لیا ہے جس کے اہم ملزم نےپی یوسی امتحانات میں چھیاسی فیصد نمبرات سے کامیابی حاصل کی تھی*،بہر کیف جرائم کی یہ ایک مختصر داستان ہے جو شہری اورضلعی پیمانہ پر پیش کی گئی،اب آئیئے صوبائی سطح پر نظر دوراتے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ جب سے حکومتیں قائم ہوناشروع ہوئی ہیں تب سے دار الحکومت کاانتخاب تمام حکماء کےلئے ایک بڑا چیلنج بنا رہاہے،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دارالحکومت وہ جگہ ہے جہاں ملک کے کل معاملات طے پاتے ہیں اور یہیں سےتمام فرامین صادر بھی ہوتے ہیں،چنانچہ دار الحکومت کے لئے تعلیمی واخلاقی،تہذیبی وثقافتی ادارتی و اقتصادی ہرپہلو سے قابل اطمینان ہونا ازحد ضروری ہے،ہندوستان کا دار الحکومت بھی اس خوبی سے متصف ہے،صرف تعلیمی پہلو پر ہی نظر ڈالیں تو یہاں علم حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بنسبت دوسرے صوبوں کے زیادہ نظر آتی ہے،لیکن چند سال قبل میری نظر سے جب ایک اخبار کی یہ رپورٹ گزری کہ صوبہ دہلی اب " ریپ کیپیٹل "بن چکا ہے،تو تھوڑے وقفہ کے لئے میں سہم ساگیا،پرکرتابھی کیا نربھیا کے واقعہ نے مجھے بھی اس نعرہ پر لبیک کہنے پہ مجبور کردیا،اور اب مظلومیت کے اس صف میں نربھیا کے ساتھ شمالی کرناٹک کے مشہور شہر وجئے پورہ کی دانمانامی ایک دلت لڑکی بھی کھڑی ہے،جسے اونچی ذاتی سےتعلق رکھنے والے چار ہندو لڑکو نے اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کے گھاٹ اتار دیا،
اس اجمالی تحریر پر نظر ثانی کریں اور مجھے اسکا جواب دیں کہ کیا واقعی میں محض تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ان انسانیت سوز جرائم کے انسداد میں آخری مہر کی حیثیت رکھتا ہے ..؟اگر معاملہ ایسا ہے تو کیوں جرم کی دنیا کے بےتاج بادشاہوں کا تعلق اعلی تعلیم یافتہ طبقوں سے ہے،بلکہ ان میں بڑی تعداد پی ایچ ڈی و بی یوایم ایس کے ڈگری ہولڈرز کی ہے، یعنی وہ ڈاکٹرز جنہیں ایک عقیدہ کے مطابق بھگوان کا دوسرا روپ مانا جاتا ہے،اپنے اس بات کی توثیق کےلئے میں راجستھان کے اس اسٹینگ آپریشن کا ذکر کرنا چاہوں گا،جو دو جرنلسٹز کے ذریعہ کیا گیا تھا،اور جس میں ڈاکٹروں کو اسقاط حمل(female foeticide) میں بڑے پیمانہ پر ملوث پایا گیا تھا،اسی اسٹینگ آپریشن میں ایک خاتون ڈاکٹرسے یہ پوچھنے پر کہ" بچہ اگر مادر رحم میں پانچ چھ مہینہ کا ہوجائےتو آپ اسکا اسقاط کیسے کرتی ہیں، اس نے انسانیت کو شرمسار کرنے والا یہ جواب دیا تھا کہ "ہم تھیلی میں بچہ کو ڈال کر کسی کوڑا دان میں پھینک دیتے ہیں"،نعوذ باللہ،
اسقاط حمل کےلئےعورتوں پر ہونے والے پورے ملک میں تشدد کی جو داستانیں ہیں اگر اسکا ذکر کیا جائے تو یہ مختصر مضمون کتابچہ کی شکل اختیار کرلےگا،اور یہ کہانیاں گاؤں کےان پڑھ باشندوں کی نہیں بلکہ اسمارٹ سیٹیز میں اپنے شب وروز گزارنے والے اعلی تعلیم یافتہ طبقہ کی ہے،
اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ محض تعلیم سماج کی برائیوں کا واحد حل نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ تربیت کاہونا بھی لازم ہے،صحیح تعلیم کے ساتھ صحیح تربیت جب تک معاشرے کے اندر اتارا نہیں جائیگا تب تک ایسے پڑھے لکھے ڈاکو پنپتے رہیں گے،جو انتہائی منظم طریقہ سے جرم کی واردات انجام دیتے رہیں گے اور ہمارا سماج اپنی ہی قوم کے جیالوں کے ہاتھوں ذلت و پستی کے عمیق غار میں جاتارہیگا،

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS