Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Kya Duniya Ko Aabad Rakhne Ka Asal Mujrim Mard Hai?

Maa Ki Haqeeqi Aazadi Aur Khawateen Ki Niswaniyat.

Mamta Ka Janaza Aur Ek Zalim Majdur ka Matam.
Kya Duniya Ko Aabad Rakhne Ka Asal Mujrim 'Mard' hai?
جدیدیت کا فریب ,ماں کی عظمت, خاندانی نظام کی اہمیت, اسلام میں عورت کا مقام , نسلوں کی تربیت , لبرل ازم کا دھوکہ , 
جدیدیت کا فریب *   ماں کی عظمت *   خاندانی نظام کی اہمیت *   اسلام میں عورت کا مقام *   نسلوں کی تربیت *   لبرل ازم کا دھوکہ *   اردو اصلاحی تحریر *   فیمنزم کا جھوٹ
 ممتا بمقابلہ معیشت: ایک المناک جنگ.
ممتا کا جنازہ اور ’کماتے ہوئے مرد‘ کا نوحہ: کیا دنیا کو آباد رکھنے کا اصل مجرم ’مرد‘ ہے؟ - 
ممتا کا نوحہ اور مرد کی خاموش صلیب: ایک فکری جائزہ.

تاریخ کے سینے میں سب سے گہرا زخم نہ تو ہیروشیما کی راکھ ہے اور نہ ہی ماحولیاتی آلودگی کا دھواں، بلکہ اکیسویں صدی کا سب سے بھیانک المیہ وہ "تہذیبی خودکشی" ہے جس کا جشن جدیدیت کے ایوانوں میں منایا جا رہا ہے۔ یہ المیہ بارود سے نہیں، بلکہ فطرت سے بغاوت سے جنم لے رہا ہے، جہاں نسلِ انسانی کی بقا کو ’کیریئر‘ اور ’آزادی‘ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔
 سرابِ آزادی اور کھوئی ہوئی جنت
اگر ہم ماضی کے جھروکوں سے جھانکیں، تو ایک عجیب منظر نظر آتا ہے۔ وہ دور جسے آج کی نام نہاد روشن خیالی "تاریک دور" کہتی ہے، دراصل وہی دور تھا جب گھروں میں زندگی کی رمق تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مرد گھر کی دہلیز کے باہر زمانے کے سرد و گرم جھیلتا تھا، تاکہ گھر کے اندر بیٹھی عورت "ماں" بننے کا سکون پا سکے۔

جدیدیت نے عورت کے کان میں ایک افسوں پھونکا کہ "تمہاری قدر گھر کے سکون میں نہیں، دفتر کے ہنگاموں میں ہے۔" اسے باور کرایا گیا کہ اولاد کی پرورش ’قید‘ ہے اور غیر مردوں کے شانہ بشانہ فائلیں سنبھالنا ’آزادی‘۔ مگر جب بنتِ حوا نے اس پرفریب نعرے کے پیچھے چل کر عملی میدان میں قدم رکھا، تو اسے تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسے معلوم ہوا کہ جسے وہ مرد کی ’بادشاہت‘ سمجھتی تھی، وہ دراصل کانٹوں کا تاج تھا۔ روزی کمانا محض طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ اپنی انا کو روزانہ بازار میں نیلام کرنے کا نام ہے۔

 مرد: ایک خاموش محافظ یا نام نہاد مجرم؟

آج کے فیمنسٹ بیانیے میں مرد کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے، لیکن حقیقت کی آنکھ کچھ اور ہی دیکھتی ہے۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ عورت کے لیے "ماں" بننا اور پانچ پانچ بچوں کی پرورش کرنا کیوں ممکن تھا؟
 صرف اس لیے کہ ایک مرد پہاڑ بن کر زمانے کی سخت ہواؤں کو اپنے سینے پر روک رہا تھا۔

مرد کی وہ مشقت، وہ خاموش قربانی، اور وہ کفالت ہی تھی جس نے عورت کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ معاشی فکروں سے آزاد ہو کر اپنی گود ہری رکھ سکے۔
 اگر مرد صدیوں پہلے یہ کہہ دیتا کہ "میں اپنی کمائی کا واحد حقدار ہوں، مجھے کسی کا پیٹ نہیں پالنا" تو انسانیت کب کی دم توڑ چکی ہوتی۔ یہ مرد کا ایثار تھا جس نے عورت کو ممتا کی معراج تک پہنچنے کا موقع دیا۔

 ممتا بمقابلہ معیشت: ایک المناک جنگ.

جب عورت نے مرد کی ڈھال ہٹا کر خود کمانے کا فیصلہ کیا، تو فطرت نے اپنا انتقام لیا۔ معاشی دوڑ اور ممتا کی ذمہ داری ایک ساتھ نہیں نبھائی جا سکتی تھی۔ نتیجہ کیا نکلا؟
 جدید عورت نے سب سے پہلے اسی بوجھ کو کندھے سے اتارا جو اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا—یعنی اولاد۔

آج مغرب کے ویران ہوتے اسکول اور گرتی ہوئی شرحِ پیدائش اس بات کا نوحہ پڑھ رہے ہیں کہ جب عورت ’ورکر‘ بنی، تو اس کے اندر کی ’ماں‘ مر گئی۔ "میرا جسم، میری مرضی" کا نعرہ دراصل ممتا کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے۔ یہ نعرہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب  ترجیح  وہ  ننھی جان نہیں جو فطرت کا تحفہ ہے، بلکہ وہ  مصنوعی آزادی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام  نے اسے بیچی ہے۔

 جدیدیت کا سنہرا فریب اور ماں کی آغوش: تہذیب کی بقا کا اصل مرکز.

جدیدیت نے عورت کو ایک حسین خواب دکھایا—آزادی، خود مختاری اور مساوات کا خواب۔ اسے بتایا گیا کہ تمہاری شناخت، تمہاری قدر اور تمہاری کامیابی گھر کی چاردیواری سے باہر، بازار کی چمک دمک اور دفتر کی اونچی کرسی میں پوشیدہ ہے۔ یہ ایک ایسا دلکش نعرہ تھا جس نے عورت کو اس کی فطرت سے بغاوت پر اکسا دیا اور اسے یقین دلایا کہ اس کی اصل طاقت ’ماں‘ بننے میں نہیں، بلکہ ’مرد‘ جیسی بننے میں ہے۔

مگر یہ خواب محض ایک سراب تھا، ایک ایسا فریب جس کی قیمت آج پوری انسانیت ادا کر رہی ہے۔

ماں کی آغوش: کائنات کی پہلی درس گاہ

جدیدیت کے شور میں ہم یہ بھول گئے کہ انسانیت کی پہلی اور سب سے عظیم درس گاہ ماں کی گود ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں صرف جسم نہیں، بلکہ روحیں، کردار اور نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ یہ وہ یونیورسٹی ہے جہاں سے حیا، قربانی، محبت اور ایمان کا پہلا سبق ملتا ہے۔ ایک بچے کے لیے ماں کی آغوش محض پناہ گاہ نہیں، بلکہ اس کی پوری شخصیت کی بنیاد ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنی ماؤں کی گود کو ویران کر دیتی ہیں، ان کے معاشرے کھوکھلے ہو جاتے ہیں اور ان کی تہذیبیں کھنڈر بن جاتی ہیں۔

جدیدیت نے عورت سے کہا کہ بچے کی پرورش تمہارے کیریئر میں رکاوٹ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نسلوں کی پرورش سے بڑا کوئی ’کیریئر‘ نہیں ہے۔ اس نے ماں کے آنچل کے ٹھنڈے سائے کو قید اور کارپوریٹ دنیا کی تپتی دھوپ کو آزادی کا نام دیا۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ تھا، جس نے عورت سے اس کا سکون، وقار اور حقیقی طاقت چھین کر اسے ایک ایسی مشین بنا دیا جو پیسے تو کما سکتی ہے، مگر انسانیت کو جنم نہیں دے سکتی۔
ایک باریک پیغام: فریب کو پہچانو

اے بنتِ حوا! جدیدیت اور لبرل ازم کے جھوٹے خوابوں سے بیدار ہو جاؤ۔ وہ تمہیں تمہاری ذمہ داریوں سے بھاگنے کو ’آزادی‘ کہتے ہیں، جبکہ اصل آزادی اپنی فطرت کو پہچاننے اور اس پر فخر کرنے میں ہے۔ تمہارا اصل مقابلہ مرد سے نہیں، بلکہ اس شیطانی نظام سے ہے جو تمہیں ’ورکر‘ اور ’آئٹم‘ بنا کر تمہارے ’ماں‘ ہونے کے مقدس رتبے کو چھیننا چاہتا ہے۔

یاد رکھو! تمہاری گود میں پلنے والا بچہ صرف ایک فرد نہیں، بلکہ امت کا مستقبل ہے۔ تمہاری گود جتنی آباد ہوگی، ہماری تہذیب اتنی ہی مضبوط ہوگی۔ اپنی اصل قدر کو پہچانو، کیونکہ ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں ایک سو اسکولوں سے بہتر ہے، اور ایک نیک ماں کی تربیت یافتہ اولاد ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
 خلاصہ کلام: واپسی کا راستہ

خواتینِ اسلام اور باشعور طبقے کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔ وہ نظام جس نے آپ کو گھر کی ملکہ کے بجائے بازار کا مزدور بنا دیا، وہ آپ کا خیر خواہ نہیں ہے۔ دنیا کی رونقیں بچوں کی کلکاریوں سے ہیں، اور یہ کلکاریاں تبھی گونجیں گی جب ہم اس ’کمانے والے مرد‘ کی قدر کریں گے جسے آج ظالم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

فطرت کے اصول اٹل ہیں۔ اگر دنیا کو ویرانی سے بچانا ہے تو ہمیں دوبارہ اسی تقسیمِ کار کی طرف لوٹنا ہوگا جہاں مرد ’محافظ‘ ہو اور عورت ’مربی‘۔ ورنہ یاد رکھئے! "خود کفیل اور آزاد" عورت نے تو فیصلہ سنا دیا ہے کہ اسے اب نسلِ انسانی بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں، اور یہ فیصلہ انسانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS