Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Raushani Mein. Part 4.

Baarik Jurabo Par Masah Karne Ka Masla.

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Roshni Mein. Part 4/11
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.
   Author: MRS Arshad Ansari (مسز انصاری)
  Reference: Facebook (Gurupe)
BArrik jurabo par masah, Masah ka sharai Tareeqa, Islamic wuzu ka tarika, wuzu ka sunnat tarika,
Islamic Posts in the Light of Quran o Hadees.
باریک جرابوں پر مسح : پوسٹ # (4)
جرابوں پر مسح کی اجازت دینے والے اکثر علمائے کرام یہ کہتے ہیں کہ: جرابوں کا موٹا ہونا ضروری ہے کہ انہیں پہن کر آپ چل سکیں۔
دیکھیں: "المبسوط" (1/102) ، "المجموع" (1/483) ، "الإنصاف" (1/170)
کیونکہ جرابوں کا حکم موزوں والا ہی ہے، اور موزے شفاف اور باریک نہیں ہوتے، اس لیے موزوں کے حکم میں وہی جرابیں ہوں گی جو شفاف اور باریک نہ ہو ں بلکہ موزے کی طرح موٹی ہوں۔
کاسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر جرابیں پتلی اور اتنی باریک ہوں کہ ان میں سے پانی رس جائے تو سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ ان پر مسح کرنا جائز نہیں "انتہی
"بدائع الصنائع" (1/10)
اسی طرح ابن قطان الفاسی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سب کا اس بات پر اجماع ہے کہ : اگر جرابیں موٹی نہ ہوں تو ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے" انتہی
"الإقناع في مسائل الإجماع" ( مسئلہ نمبر: 351)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جرابوں پر مسح کرنا اس وقت جائز ہے جب انہیں پہن کر چلنا ممکن ہو، چاہے جرابوں کے تلوے چمڑے کے ہوں یا نہیں"
"مجموع الفتاوى" (21/213)
نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ:
"اگر جرابیں بالکل باریک ہوں تو ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ عام طور پر باریک جراب پہن کر چلنا ممکن نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان پر مسح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے"
"شرح عمدة الفقه" (1/251)
اسی طرح فتاوی دائمی کمیٹی (5/267) میں ہے کہ:
"جرابوں کا موٹا ہونا ضروری ہے کہ اس میں سے جلد نظر نہ آئے"
اسی طرح ایک جگہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ:
"ہر اس چیز پر مسح کرنا جائز ہے جو پاؤں ڈھانپنے کیلیے استعمال ہو، چاہے وہ موزے ہوں یا موٹی جرابیں"
" فتاوى اللجنة الدائمة " (4/101)
اسی کے مطابق شیخ محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ کا فتوی ہے:
"بھیڑ یا اونٹ کی اون، بالوں اور سوت وغیرہ سے بنی ہوئی جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ موٹی ہوں اور جس قدر پاؤں کو دھونا لازمی ہے اتنے حصے کو ڈھانپنے کے ساتھ ساتھ دیگر شرائط بھی پوری ہوں" انتہی
"فتاوى و رسائل الشیخ محمد بن ابراہیم" (2/66)
نیز ایک اور مقام پر انہوں نے کہا:
"اگر جراب اتنی باریک ہو کہ جلد نظر آئے ۔۔۔ تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں ہے"
"فتاوى و رسائل الشیخ محمد بن ابراہیم" (2/68)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جرابوں پر مسح کرنے کی شرط یہ ہے کہ: جرابیں موٹی اور پورے قدم کو ڈھانپ دیں، چنانچہ اگر جرابیں شفاف ہوں تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس صورت میں پاؤں ننگا ہونے کے حکم میں ہوگا"
" فتاوى الشیخ ابن باز" (10/110)
کچھ علمائے کرام نے جرابوں پر مسح کو مطلقاً جائز قرار دیا ہے۔
چنانچہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہمارے [شافعی] فقہائے کرام نے عمر اور علی رضی اللہ عنہما سے جرابوں پر مسح کرنے کا جواز نقل کیا ہے چاہے جرابیں باریک ہی کیوں نہ ہوں، نیز یہی بات ابو یوسف، محمد، اسحاق، اور داود سے بھی انہوں نے نقل کی ہے"
"المجموع شرح المهذب" (1/500)
ہر حالت میں جرابوں پر مسح کے جواز کے موقف کو شیخ البانی اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ راجح قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ کہتے ہیں
" راجح بات یہ ہے کہ جرابوں پر مسح جائز ہے، خواہ وہ اتنی ہلکی اور پتلی ہوں کہ ان سے پاؤں نظر آتا ہو۔ کیونکہ کتاب وسنت میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس میں یہ شرط لگائی گئی ہو کہ مسح صرف اس جراب پر ہو گا جو کٹی/پھٹی یا ہلکی/پتلی نہ ہو۔
اگر ایسی کوئی شرط موجود ہوتی تو قرآن وسنت میں ضرور اس کا بیان آ جاتا۔
یاد رکھیے! اصل وجہ جس کے لیے شریعت میں موزوں اور جرابوں پر مسح کی رخصت آئی ہے وہ امت کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔ لیکن اگر ہم نے مسح کے لیے ایسی خود ساختہ شرطیں لگا دیں جن کی کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں ہے تو یہ امت پر آسانی نہیں بلکہ تنگی ہو گی (جو مقاصدِ شریعت کے منافی ہے)۔
لہذا جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے جب تک اس کا نام جراب ہے، خواہ وہ ہلکی ہو یا موٹی، پھٹی ہو یا سالم، ان سب پر مسح کرنا درست ہے۔
شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ (فتاوی نور علی الدرب۔ 350)
لیکن جو موقف پہلے گزرا ہے وہ اکثر علمائے کرام کا موقف ہے اور وہی راجح ہے؛ کیونکہ جرابوں پر مسح کرنے کا جواز اس وقت پیدا ہوا جب انہیں موزوں پر قیاس کیا گیا ، لیکن بالکل باریک جرابوں کو موزوں پر قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ شفاف جرابیں موزوں جیسی نہیں ہوتیں۔
نیز جن جرابوں پر صحابہ کرام مسح کیا کرتے تھے وہ بھی موٹی ہوا کرتی تھیں؛ کیونکہ شفاف جرابیں تو اب آئیں ہیں۔
امام احمد کہتے ہیں:
"جرابوں پر مسح اسی وقت درست ہوگا جب جرابیں موٹی ہوں۔۔۔ کیونکہ صحابہ کرام نے جرابوں پر مسح کیا ہی اس لیے تھا کہ وہ جرابیں ان کے ہاں موزوں کے قائم مقام تھیں، اس طرح کہ انسان وہ جرابیں پہن کر با آسانی چل پھر سکتا تھا"
"المغنی" از: ابن قدامہ (1/216)
اگر یہ کہا جائے کہ علمائے کرام نے جرابوں کے بارے میں یہ شرائط کیوں عائد کی ہیں؟
تو اس کے جواب کیلیے مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"قرآنی آیت کی روشنی میں پاؤں کو دھونا ہی اصل ہے، اور اس اصل سے منتقل ہونے کیلیے ایسی صحیح احادیث کا ہونا لازمی ہے جن کے صحیح ہونے سے متعلق سب علمائے کرام کا اتفاق ہو، جیسے کہ موزوں پر مسح کرنے کی احادیث ہیں، چنانچہ ان احادیث کی وجہ سے پاؤں دھونے کی بجائے موزوں پر مسح کرنے پر اکتفا کرنا بلا اختلاف جائز ہو گیا۔
لیکن جرابوں پر مسح کرنے کی احادیث ماہرین علم حدیث کے ہاں صحیح نہیں ہیں، تو پاؤں کو دھونے کی بجائے جرابوں پر مسح کو مطلقاً جائز کیسے کہا جا سکتا ہے؟
اس لیے علمائے کرام نے جرابوں پر مسح کرنے کیلیے یہ شرائط عائد کی ہیں تا کہ جرابوں اور موزوں میں یکسانیت قائم رہے اور ان جرابوں کو موزوں کی احادیث کے ضمن میں شامل کیا جا سکے۔۔۔
چنانچہ اگر جرابیں موٹی ہیں اور ڈھیلی نہیں ہیں بلکہ بذات خود پاؤں کے سات چمٹی رہتی ہیں انہیں باندھنے کی ضرورت نہیں پڑتی ، نیز ان میں آسانی سے چلنا بھی ممکن ہے تو بلا شک و شبہ ایسی جرابوں اور موزوں میں کوئی خاطر خواہ فرق نہیں ہے؛ کیونکہ یہ موزوں کے حکم میں ہیں، اور اگر جرابیں بالکل باریک ہوں کہ قدموں پر چمٹا کر رکھنے کیلیے انہیں باندھنا بھی پڑے اور ان میں چلنا بھی ممکن نہ ہو تو پھر یہ جرابیں موزوں کے حکم میں نہیں ہونگی، کیونکہ اس صورت میں جرابوں اور موزوں میں واضح فرق ہے۔
آپ غور کریں کہ: اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزے جوتوں کا کام دیتے ہیں، ان میں انسان آسانی سے چل پھر سکتا ہے، جہاں مرضی جا سکتا ہے، اس لیے موزے جس شخص نے پہن رکھے ہوں اسے چلنے کیلیے موزے اتارنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اس لیے وہ موزوں کو ایک دن اور رات تک پہنے رکھتا ہے اتارتا نہیں ہے، بلکہ کئی دن اور رات تک بھی پہنے رکھتا ہے، تو ایسی صورت میں اس کیلیے ہر وضو کے وقت انہیں اتارنا مشقت طلب ہو گا۔
لیکن باریک جرابیں جس شخص نے پہنی ہوئی ہوں تو وہ چلنے سے پہلے انہیں دن میں کئی بار اتارے گا ، تو ایسی صورت میں اس کیلیے وضو کرتے ہوئے جرابوں کو اتارنا مشقت طلب نہیں ہو گا۔
لہذا اس فرق کا تقاضا ہے کہ موزے پہننے والے کیلیے ان پر مسح کی اجازت دی جائے لیکن باریک جرابیں پہننے والے کو مسح کی اجازت نہ دی جائے، نیز باریک جرابوں کو موزوں پر مسح کیلیے قیاس کرنا بھی قیاس مع الفارق ہوگا"
"تحفۃ الأحوذی" (1/ 285)
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ:
اکثر علمائے کرام باریک اور شفاف جرابوں پر مسح کرنے کی اجازت نہیں دیتے ، نیز اگر جرابوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے تو موٹی جرابوں کے بارے میں ہے۔
واللہ اعلم. [ ماخذ: الاسلام سوال و جواب ]
فتاویٰ کمیٹی کبار علمائے حرمین شریفین المملکۃ العربیۃ السعودیہ اس بارے میں کہتے ہیں :
اس بارے میں راجح قول یہی ہے کہ ان پر مسح جائز ہے، خواہ پھٹ گئی ہوں یا باریک ہوں اور ان میں سے جلد نظر آتی ہو۔ کیونکہ جراب پر مسح کا جائز ہونا اس وجہ سے نہیں کہ وہ پاؤں کے لیے ساتر ہیں (چھپانے والی ہیں)۔ پاؤں ایسا عضو نہیں جسے چھپانا واجب ہو۔ بلکہ اس سے مقصود رخصت اور سہولت دینا ہے۔ لہذا ہم اسے ہر وضو کے وقت انہیں اتارنے کا پابند نہیں کر سکتے، بلکہ یہی کہتے ہیں کہ آپ کو ان پر مسح کرنا ہی کافی ہے۔ اور اسی رخصت اور سہولت کے لیے موزوں پر مسح کرنا مشروع ہوا ہے۔ اور اس علت میں موزہ یا جراب دونوں ہی برابر ہیں، پھٹے ہوئے ہوں یا صحیح سالم، باریک ہوں یا موٹے۔
[ احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا | صفحہ : ١٨۹ ]
فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔۔
🖋️: مسز انصاری
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS