Kitni Lambi Zurabo Par Masah Kiya Jayega?
Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Roshni Mein. Part 10. total -11 Parts.
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.Author: MRS Arshad Ansari (مسز انصاری)Reference: Facebook (Gurupe)
| Zurabo Par Masah Ke Sharai Masail. |
کتنی لمبی جرابوں پر مسح کیا جائے گا؟
پوسٹ # 10
مسح کی ایک شرط یہ ہے کہ موزے یا جرابیں پاؤں کے اس حصے کو مکمل طور پر ڈھانپتے ہوں جن کا دھونا بحکم الٰہی فرض ہے ورنہ مسح کرنا درست نہیں، یعنی اگر ٹخنے کھلے ہوں تو ایسی جرابوں اور موزوں پر مسح نہیں ہوگا ، مسح کے لیے ٹخنوں کا ڈھانپا ہوا ہونا لازمی ہے۔
اس بارے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"موزوں اور جرابوں پر مسح کرنے کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ وضو میں جس قدر پاؤں دھونا فرض ہے کم از کم اتنی جگہ کو ڈھانپ کر رکھیں" ختم شد
ماخوذ از: "مجموع فتاوى ابن باز" (10/111) ،
اسی طرح دیکھیں: "فتاوى اللجنة الدائمة" (5/396)
اور فضیلۃ الباحث داؤد اسماعیل حفظہ اللہ کہتے ہیں :
جرابیں اگر ٹخنوں سے اوپر ہوں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر جرابیں اتنی چھوٹی ہیں کہ ٹخنے بھی ننگے ہیں تو جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ ان پر مسح نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ بعض علماء نے جواز بھی پیش کیا ہے۔ احتیاط اسی میں ہے کہ ان پر مسح نہ کیا جائے۔
فضیلۃ الباحث احمد بن احتشام حفظہ اللہ کہتے ہیں :
اگر جرابیں ٹخنوں سے نیچے ہوں تو مسح نہیں کر سکتے۔ اس بات کی کیا دلیل ہے۔
نماز میں ٹخنوں تک پاؤں دھونے کا حکم ہے۔ [المائدہ : 6]
مسح چونکہ پاوں دھونے ہی کے قائم مقام ہے لہذا مسح کے لیے یہ شرط ہے کہ جرابیں/موزے ٹخنوں تک ہوں اگر ٹخنے نہیں ڈھانپے ہوئے تو مسح نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔
پوسٹ نمبر 9-1 کے لنکس.






No comments:
Post a Comment