Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Raushani Mein. Part 5.

Musafir aur Muqeem Ke Liye Masah Ka Sharai Tareeqa.

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Roshni Mein. Part 5. Total Parts-11.
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.
   Author: MRS Arshad Ansari (مسز انصاری)
  Reference: Facebook (Gurupe)
Masah ka Sharai tareeqa, Musafir ke liye Masah ka tareeqa, Muqeem ke liye masah, Masah ka Sharai Tareeqa,
Musafir Ke Liye Masah Ka Hukm.
مسافر اور مقیم کے لیے مسح علی الخفین والجوربین کی مدت :
پوسٹ # 5
نبی کریم ﷺ نے مسافر اور مقیم کے لیے مسح علی الخفین کی مدت تفصیل سے بیان کی ہے ۔چنانچہ شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ:
: أتيتُ عائشة أسألها عن المسح على الخُفَّين، فقالت: عَلَيْكَ بِابْنِ أبِي طالب، فَسَلْهُ فإِنَّه كان يُسَافِرُ مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فسألناه فقال: جَعَلَ رسول الله ﷺ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ للمسافر، ويوما وليلة للمُقيم
[صحیح مسلم/ الطہارة (276)]
میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھنے آیا (کہ اس کی مدت کتنی ہے؟) تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابن ابی طالب کے پاس جا کر پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔‘‘
اہل علم کے راجح موقف کے مطابق مسح کی مدت کا آغاز وضو ٹوٹنے کے بعد پہلے مسح سے شروع ہو گا
جیسے کہ علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اوزاعی اور ابو ثور کہتے ہیں: مدت کا آغاز وضو ٹوٹنے کے بعد پہلے مسح سے ہو گا، یہی موقف امام احمد اور داود سے منقول ہے، اور یہی موقف دلیل کے اعتبار سے پسندیدہ اور راجح ہے، اسی موقف کو ابن المنذر نے اپنایا، اور یہی موقف عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔" ختم شد
"المجموع" (1/512)
یہی موقف ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اپنایا ہے، آپ کہتے ہیں:
"کیونکہ احادیث یہ کہتی ہیں کہ مقیم اور مسافر دونوں مسح کریں گے، اور جب تک کوئی مسح نہ کرے تو اس وقت تک اسے مسح کرنے والا کہنا ٹھیک نہیں ہے، یہی موقف درست ہے۔" ختم شد
"الشرح الممتع" (1/186)
عمومی حالات میں مسافر کو تین دن اور تین راتیں مسح کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن بسا اوقات سفری مشقت یا قافلے سے پیچھے رہ جانے کے اندیشے کی بنا پر ، یا کوئی ایسی صورت لاحق ہو جائے کہ واقعتاً جرابوں یا موزوں کو اتارنے اور پھر وضو کرنے میں وقت یقینی ہو تو عمومی معینہ مدت سے زیادہ مدت تک بھی مسح کیا جا سکتا ہے، یہ حالتِ مجبوری میں ایک رخصت ہے۔ اس رخصت کی دلیل درج ذیل ہے :
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ مِصْرَ فَقَالَ مُنْذُ كَمْ لَمْ تَنْزِعْ خُفَّيْكَ قَالَ مِنْ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ قَالَ أَصَبْتَ السُّنَّةَ
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مصر سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ( مدینہ منورہ ) آئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تم نے کتنی مدت سے موزے نہیں اتارے ؟ انہوں نے کہا : جمعہ سے جمعہ تک ( ہفتہ بھر ) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ۔
[سنن ابن ماجه، الطھارة، حدیث: 558]
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:[تيسير الفقه الجامع للاختيارات الفقهية: 159/1، والسلسلة الصحيحة للألباني: 239/6)]
اہل علم کے راجح موقف کے مطابق مسح کی مدت کا آغاز وضو ٹوٹنے کے بعد پہلے مسح سے شروع ہو گا، نہ کہ موزے پہننے سے، چنانچہ اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے لیے وضو کر کے موزے پہن لیتا ہے اور پھر صبح 9 بجے اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور وہ وضو نہیں کرتا۔ پھر جب 12 بجتے ہیں تو وہ وضو کرتا ہے تو مسح کی مدت کا آغاز 12 بجے شروع ہو گا اور ایک دن اور رات تک جاری رہے گا، یعنی 24 گھنٹے۔
جیسے کہ علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اوزاعی اور ابو ثور کہتے ہیں: مدت کا آغاز وضو ٹوٹنے کے بعد پہلے مسح سے ہو گا، یہی موقف امام احمد اور داود سے منقول ہے، اور یہی موقف دلیل کے اعتبار سے پسندیدہ اور راجح ہے، اسی موقف کو ابن المنذر نے اپنایا، اور یہی موقف عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔" ختم شد
"المجموع" (1/512)
یہی موقف ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اپنایا ہے، آپ کہتے ہیں:
"کیونکہ احادیث یہ کہتی ہیں کہ مقیم اور مسافر دونوں مسح کریں گے، اور جب تک کوئی مسح نہ کرے تو اس وقت تک اسے مسح کرنے والا کہنا ٹھیک نہیں ہے، یہی موقف درست ہے۔"
"الشرح الممتع" (1/186)
🖋️: مسز انصاری
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS