Mojo Par Masah Ke Sharayet: Quran O Hadees Ki Raushani Me.
Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Roshni Mein. Part-1. Total-11 Parts.
Mojo Par Masah Karna: Islami Ahkaam Aur Daleelain.
Quran Mein Mojo Par Masah Ki Tashreeh.
Hadees Ki Roshni Mein Mojo Par Masah Ki Sharayet.
Masah Karne Ka Sahi Tareeqa.
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.Author: MRS Arshad Ansari. (مسز انصاری)Source: Facebook.
السلام علیکم ورحمۃاللہ ۔۔۔۔۔
چونکہ ایشیاء میں موسمِ سرما کا آغاز ہونے جارہا ہے اور اس بار میٹرولوجسٹ نے تاریخی ٹھنڈ کی پیشنگوئی کی ہے، امکان ہے کہ درجہ حرارت منفی تک گر سکتا ہے، اور چونکہ ٹھنڈ میں موزوں اور جرابوں پر مسح ہمارے عظیم ترین اور ہم پر آسانیاں فرمانے والے رب کی عظیم نعمت ہے، مگر موزوں اور جرابوں پر مسح کے بارے میں لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں ، اسی چیز کو مدّ نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد سے، اور آپ تمام پیارے دینی بہن بھائیوں کی دعاؤں سے 11 پوسٹس پر مشتمل سلسلہ بعنوان【 المسح علی الخفین والجوربین 】میری وال پر دیا گیا ، زیرِ نظر پوسٹ میں ان تمام 11 پوسٹس کے لنکس دیے جارہے ہیں تاکہ آپ اس پوسٹ کو شئیر کریں اور آگے بڑھائیں، آپ کے توسط سے یہ دینی معلومات جتنی دور جائے گی اتنا ہی آپ کے اعمال حسنہ ان شاءاللہ وزنی ہوں گے ۔
اس مختصر سلسلہ میں میری مکمل کوشش یہی رہی کہ المسح علی الخفین والجوربین کے عنوان پر وہ تمام مسائل پیارے بہن بھائیوں کے گوش گزار کروں جو قدم قدم پر قریبًا ہم سب کو درپیش ہوتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ مجھ سمیت ہر اس بہن بھائی کو مغفور فرمائے جو اس اہم دینی معلومات کو آگے بڑھائے ۔۔۔۔۔ آمین یارب العالمین
السَّــــلاَم عَلَيــْـــــكُم وَرَحْمَــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــاتُه
حیاتِ انسانی میں پیش آنے والے اکثر مسائل میں ایک مسئلہ ‘‘موزوں پر مسح,, کرنے کا بھی ہے ، اور ٹھنڈ کے موسم کی آمد کے ساتھ یا انسان کسی سفر پر ہو تو اس کی حاجت شدید ہوجاتی ہے ۔
" مسح علی الخفین والجوربین " کے موضوع پر ان شاءاللہ گیارہ پوسٹس پیش کی جائیں گی جنہیں بہت تحقیق اور راجحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب سے قبول فرمائے ۔۔۔۔۔۔ آمین یارب العالمین
موزوں پر مسح كرنے كى شرائط : Part-1
موزوں پر مسح کرنا قرآن عظیم ‘احادیث نبی ٔ کریمﷺ سے ثابت ہے
اللہ تعالی کے فرمان (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ)
اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے، اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو، اور اپنے سروں کا مسح کرو
[ سورة المآئدہ - آیت 6]
اس آیت میں (أرجلِکم ) کے کسرہ کے ساتھ کی بعض قرائت سے استدلال کرتے ہوئے قرآن ِ کریم سے مسح کو ثابت کیا گیا ہے‘یہ قرائت (وَأَرْجُلِكُمْ) قرائت ِ سبعہ متواترہ میں سے ایک قرائت ہے‘جوامام ابن کثیر ‘ابو عمرو اور حمزہ کی ہے [ دیکھئے:المحلی لابن حزم :۲/۵۶‘مفاتیح الغیب للرازی :۱۱/۱۶۱ ]
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت بھی جرابوں پر مسح کرنے کے جواز کی قائل ہے،اُسی طرح ہی تابعینِ کرام رحمہم اللہ کی بھی ایک جماعت اس کی قائل و فاعل ہے۔
چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ(1/ 189) اور علامہ ابن قیّم کی ’’أعلام الموقعین‘‘(1/ 75) پر جن تیرہ تابعین کے اسماے گرامی مذکور ہیں۔ان میں:
1 حسن بصری۔
2 سعید بن مسیب۔
3 ابن جریج۔
4 عطاء۔
5 ابراہیم نخعی۔
6 فضل بن وکیع۔
7 اعمش۔
8 قتادہ۔
9 خلّاص۔
10 سعید بن جبیر۔
11 نافع۔
12 سفیان ثوری۔
13 ابو ثور رحمہم اللہ جیسے اساطینِ علم شامل ہیں۔
یہ بھی واضح رہے کہ اگر کسی شخص نے وضو مسنونہ کے بعد موزے پہنے ہوئے ہوں تو اس کے لیے پاؤں دھونے کے بجائے مسح افضل ہے ‘‘کیوں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته))
(مسلم :۶۸۶)
یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے ‘لہذا اللہ کی طرف سے کیا ہوا صدقہ قبول کرو ‘‘
نیز نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لأن الله يحب أن تؤتى رخصه كما يحب أن تؤتى عزائمه
( كما رواه أحمد وصححه الألباني في صحيح الجامع 1885)
نیز اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسح کیا ہے ‘اور اسی پر مواظبت برتی ہے
البتہ اگر پاؤں کھلے ہوں تو بلا شک و شبہ دھونا افضل ہی نہیں بلکہ واجب ہے ۔
موزوں اور جرابوں پر مسح کے لئے درج ذیل چار شرائط ہیں جو موزوں اور جرابوں پر مسح کو اجازت کرتی ہیں ۔
❶- دونوں موزے حالت طہارت میں پہنے گئے ہوں، مسنون وضو کے بعد ہی موزے یا جرابیں پہنی جائیں۔
كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فاهويت لانزع خفيه، فقال:" دعهما، فإني ادخلتهما طاهرتين، فمسح عليهما".
میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو میں نے چاہا (کہ وضو کرتے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار ڈالوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے۔ (یعنی میں وضو سے تھا) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔
الراوي : المغيرة بن شعبة | المحدث : البخاري | المصدر : صحيح البخاري | الصفحة أو الرقم: 5799 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح] | التخريج : أخرجه مسلم (274) ، وأبو داود (151) كلاهما باختلاف يسير، وابن ماجه (545) مختصرا | تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
❷- موزوں پر نجاست نا ہو جو ادائگی صلاۃ میں مانع ہو، چنانچہ ناپاکی کی صورت میں ان پر مسح کرنا جائز نہ ہوگا ۔
❸- مسح کی ایک شرط حدثِ اصغر ہے، مسح صرف حدث اصغر کے لئے کیا جا سکتا ہے ، حالتِ جنابت یا کوئی بھی واجب الغسل امر کے لیے مسح کی رخصت جائز نہیں ہے ، بلکہ اس کے لئے غسل کرنا ہوگا ۔
صفوان بن عسال رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہیں :
كان يأمرُنا إذا كنا سَفْرًا -أو مُسافرين- أن لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِن جَنَابَةٍ، لكن مِن غَائِطٍ وبَوْلٍ ونَوْمٍ
الراوي : صفوان بن عسال | المحدث : الترمذي | المصدر : سنن الترمذي | الصفحة أو الرقم : 96
| التخريج : أخرجه النسائي (127) ، وابن ماجه (478) ، وأحمد (18091) باختلاف يسير
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں حكم ديا كہ جب ہم سفر ميں ہوں تو جنابت كے بغير دن رات اور تين دن تك موزے نہ اتاريں، ليكن پيشاب پاخانہ اور نيند سے پہنے ركھيں "
ْ عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، وَلْيَمْسَحْ عَلَيْهِمَا ثُمَّ لَا يَخْلَعْهُمَا إِنْ شَاءَ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ».
[صحيح] - [رواه الدارقطني] - [سنن الدارقطني: 781]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
"جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور (اس کے بعد) موزے پہنے، تو ان کو پہن کر نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے اور چاہے تو انہیں جنابت لاحق ہونے کے علاوہ کسی صورت میں نہ اتارے
4- مسح ، مدتِ مسح میں ہی کیا جا سکتا ہے ‘جس کی حد بندی شریعت نے کی ہے ، اس حدبندی کے تحت مقیم کے لئے ایک دن اورایک رات یعنی ۲۴ گھنٹے ہیں، جبکہ مسافر کے لئے شریعت نے تین دن ‘اور تین رات یعنی ۷۲ گھنٹے مقرر کئے ہیں
فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
: مسز انصاری






No comments:
Post a Comment