Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Raushani Mein. Part 3.

Mojo Ya Jurabo Par Masah Karne ka Tariqa Part-3.

Mojo Ya Jurab Dono Par Masah Jayez Hai. Part-3 total Part-11
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.
   Author: MRS Arshad Ansari (مسز انصاری)
  Reference: Facebook (Gurupe)
Zurabo par Masah, mojo par masah, Sardi ke mausam me wuzu, wuzu ka tareeqa, jurabo par masah, masah ka sharai tareeqa,
Mojo Ya Jurabo Par Masah.
موزے یا جراب دونوں پر مسح جائز ہے : پوسٹ # 3
خف جس کا اردو ترجمہ موزے ہیں ، چمڑے کے بنے ہوتے ہیں ۔جرابیں چمڑے کی نہیں ہوتیں بلکہ اون ، سن یا سوت وغیرہ کی بنی ہوتی ہیں ، اور آج کل نائلون کی جرابیں بھی موجود ہیں۔
جرابیں :
جرابیں چمڑے کی نہیں ہوتیں ، جراب کاٹن، سوت یا کسی اور چیز سے بنے ہوئے پاؤں کے لفافے کو کہتے ہیں۔
ہر وہ چیز جو پاؤں کو سردی سے ، راستے کے گرد و غبار سے بچائے یا پاؤں پر کسی ایسے زخم سے بچائے جس پر بار بار پانی لگنا زخم کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے اور آدمی پہننے کے بعد باربار اتارنے پہننے میں مشقت محسوس کرے اس پر مسح کیا جا سکتا ہے ، خواہ وہ جراب ہو یا موزہ، اونی جراب ہو یا سوتی جراب ، چمڑے کا بنا جوتا ہو یا کوئی کپڑا ہی ہو جو پاؤں پر لپٹ کرباندھ لیا جائے ۔
لہٰذا بندوں کی آسانی اور سہولت کے لیے مسح کی رخصت سنتِ ثابتہ ہے، پھر چاہے وہ موزے ہوں یا جرابیں، چمڑے یا اون یا چیتھڑوں کے ہوں ، سفر اور حضر، معذور وغیر معذور سب کے لیے سنت ثابتہ ہے ، اور دونوں پر مسح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
عن ثوبان بعثَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ سريَّةً فأصابَهُمُ البَردُ فلمَّا قدِموا علَى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أمرَهُم أن يمسَحوا علَى العَصائبِ والتَّساخينِ
[ الراوي : ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح أبي داود | الصفحة أو الرقم: ۱۴۶ | خلاصة حكم المحدث : صحيح ]
ترجمہ : روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی….انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کوگرم کرنے والی اشیاء (جرابوں اورموزوں) پر مسح کریں۔
(سنن ابی داؤد ،الرقم:۱۴۶)
اس روایت کو حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ اور حافظ ذھبی رحمہ اللہ دونوں نے صحیح کہاہے۔
( دیکھیے : المستدرک والتلخیص ،الرقم:۶۰۲)
امام ابوداؤدؒ فرماتے ہیں:
ومسح علی الجوربین علی بن ابی طالب وابومسعود والبراء بن عازب وانس بن مالک وابوأمامۃ وسھل بن سعد وعمرو بن حریث وروی ذلک عن عمر بن الخطاب وابن عباس .
ترجمہ: اور علی بن ابی طالب ،ابومسعود(ابن مسعود)،البراء بن عازب ،انس بن مالک ،ابوأمامۃ ،سھل بن سعد اورعمرو بن حریث نے جرابوں پر مسح کیااور عمر بن الخطاب اورابن عباس سے بھی جرابوں پر مسح مروی ہے۔(سنن ابی داؤد،الرقم:۱۵۹)
اسی طرح جریر بن عبداللہؓ کی (بیان کردہ) حدیث میں ہے : ((رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِﷺ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَ مَسَحَ عَلیٰ خُفَّیْہِ)) میں نے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں کے اوپر مسح کیا۔
(صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ باب الصلوٰۃ فی الخفاف ح ۳۸۷ و صحیح مسلم، الطہارۃ باب المسح علی الخفین ح ۲۷۲)
جہاں تک چمڑے کے موزوں کا تعلق ہے تو تمام طبقہ فکر کا اس پر مسح کے جواز پر اتفاق ہے، جرابوں پر بھی تمام ائمہ اور علماء کے نزدیک مسح کرناجائز ہے لیکن بعض اہلِ علم نے جرابوں پر مسح کو کچھ شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے ، جبکہ صحیح احادیث میں جرابوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی قسم کی شرائط کا ذکر نہیں ملتا ۔
ذیل میں چند مرفوع احادیث پیش کی جارہی ہیں جن سے جرابوں پر مسح ثابت ہوتا ہے۔
حدیث # (1)
بعثَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ سريَّةً فأصابَهُمُ البَردُ فلمَّا قدِموا علَى رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ أمرَهُم أن يمسَحوا علَى العَصائبِ والتَّساخينِ
[ الراوي : ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح أبي داود | الصفحة أو الرقم: 146 | خلاصة حكم المحدث : صحيح ]
”یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ بھیجا تو سرد موسم کی وجہ سے انہیں تکلیف پہنچی جب وہ واپس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو سردی کی تکلیف کی شکایت آپ سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پگڑیوں اور «تساخين» پر مسح کرنے کا حکم دیا۔“
عربی میں «تساخين» ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے پاؤں گرم رکھے جائیں ’ جس میں موزے اور جراب دونوں شامل ہیں۔
* مسند امام احمد اور سنن امام ابوداؤد میں یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ بیان کی گئی ہے ۔
حدیث # (2 )
عن عبدِ اللهِ بن مسعودٍ أنه كان يمسحُ على الجوربينِ والنعلينِ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے موزوں اور جوتوں پر مسح کیا کرتے تھے۔
خلاصة حكم المحدث : رجاله موثقون
الراوي : [همام بن الحارث] | المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد | الصفحة أو الرقم : 1/263
| التخريج : أخرجه الطبراني (9/ 251) (9239)، وعبد الرزاق (777)، وابن المنذر في ((الأوسط)) (478) بلفظه.
* امام احمد رحمہ الله نے اپنی مسند اور امام ترمذی رحمہ الله اور امام ابن ماجہ رحمہ الله نے اپنی اپنی سنن میں اس حدیث کی تخریج کی ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
«ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضاء و مسح على الجوربين والنعلين»
حدیث # (3)
توضَّأَ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ومسحَ على الجوربَينِ والنَّعلَينِ
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔“
خلاصة حكم المحدث : قال الشيخ الألباني: صحيح
الراوي : المغيرة بن شعبة | المصدر : سنن ابي داود | كتاب الطهارة | رقم الحدیث : 159
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 74 (99)، سنن النسائی/الطھارة 96 (123)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 88 (559)، (تحفة الأشراف: 11534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/252) (صحیح)
* مذکورہ حدیث کی کتابوں کے «باب المسح على الجوربين» میں یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
قال أبو عيسى: هذا حديث حسن صحيح،
ابو عیسیٰ نے کہا: یہ حدیث حسن اور صحیح ہے ۔
حدیث # (4)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت امام ابن ماجہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سنن میں بیان کی ہے۔
«ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضاء و مسح على الجوربين والنعلين»
[ابن ماجه ج۱ كتاب الطهارة باب ماجاء فى المسح على الجوربين والنعلين ص ۲۹۰۔ رقم الحديث ۵۶۰]
”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور جرابوں اور موزوں پر مسح کیا۔“
اس کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہ الله میں سے جن عظیم ہستیوں سے جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے ان میں
عمر بن خطاب،
علی بن ابی طالب،
ابومسعود،
ابن عباس،
ابن عمر،
حضرت بلال،
ابوموسیٰ اشعری رضوان اللہ علیہم اجمیعن شامل ہیں
اسی طرح تابعین میں
قتادہ،
ابن المسیب،
عطاء، نخعی،
ابن جبیر اور نافع رحمہم اللہ اجمیعن سے المسح علی الجوربین ثابت ہے ۔
جن کاموں میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کی آسانی اور انہیں مشقت سے بچانے کے لیے رخصت دی ہے لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھاکر اللہ کا شکرگزار ہونا چاہیے ۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🖋️: مسز انصاری
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS