Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Raushani Mein. Part 11 Last.

Kya Moje Ya Zurab Se Pahle Mukammal Wuzu Jaruri Hai?

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Roshni Mein. Part 11. Last
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.
   Author: MRS Arshad Ansari (مسز انصاری)
  Reference: Facebook (Gurupe)
Zurabo par masah, Wuzu se pahle masah, zurabo pahane se pahle wuzu,
Masah Ke Sharai Masail aur Hal.
کیا موزے یا جراب سے پہلے مکمل وضو ضروری ہے ؟
پوسٹ # 11
اس مسئلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ موزہ یا جراب پہننے سے پہلے مکمل وضو کرنا ضروری ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ جائز ہے کہ دائیں پاؤں کو دھو کر اس میں موزہ یا جراب پہن لے، پھر بائیں پاؤں کو دھوئے اور اس میں موزہ یا جراب پہن لے کیونکہ اس صورت میں اس نے دائیں اور بائیں پاؤں کو پاک کرنے کے بعد موزے یا جراب کو پہنا ہے اور اس پر یہ بات صادق آتی ہے کہ اس نے انہیں پاک حالت میں داخل کیا ہے، لیکن ایک حدیث ہے جسے امام حاکم نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اِذَا تَوَضَّأَ اَحَدُکُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْةِ»(المستدرک للحاکم: ۱۸۱/۱)
’’جب تم میں سے کوئی وضو کر لے اور اپنے موزے پہن لے۔‘‘
اس حدیث میں (اِذَا تَوَضَّأَ) ’’جب وضو کر لے‘‘ کے الفاظ پہلے قول کو راجح قرار دیتے ہیں کیونکہ جس شخص نے ابھی تک بایاں پاؤں نہ دھویا ہو تو اس پر یہ بات صادق نہیں آتی کہ اس نے وضو کر لیا ہے لہٰذا اس کے مطابق پہلا قول زیادہ بہتر اور افضل ہے۔
[ دیکھیے : فتاویٰ ارکان اسلام || عقائد کے مسائل || صفحہ : ٢١١ ]
اگر کوئی شخص صرف پاؤں دھوکر موزے پہن لیتا ہے اور پھر باقی وضو مکمل کرتا ہے تو ترتیب کے ساقط ہونے کی وجہ سے شوافع کے نزدیک اس شخص کا وضو صحیح نہیں اور نہ موزوں پر مسح ہی کیا جا سکتا ہے ، اور احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسح کے لیے ضروری ہے کہ مکمل وضو کرکے موزے پہنے جائیں۔
جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث میں اس کی وضاحت ہے۔
حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے مسافر کو تین دن تین رات اور مقیم کو ایک دن ایک رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی، بشرطیکہ وضو کرے۔
پھر انھیں پہنے۔
(صحیح ابن خزیمة: 1/69)
اس بارے میں شیخ ابنِ باز رحمہ اللہ کہتے ہیں :
افضل اورزیادہ احتیاط والی بات یہ ہے کہ بایاں پاؤں دھونےسےپہلےجراب نہ پہنی جائےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ:
«اذا توضا احدكم فليس خفيه فليمسح عليهما وليصل فيهما ولا يخلفعهما ان شاء الا من الجنابة»
(رواه الحاكم ...دارقطني... اسناده صحيح علي شرط مسلم)
‘‘جب تم میں سے کوئی وضو کرےاورموزےپہنےتو اسےچاہئےکہ ان پر مسح کرلےاورانہی میں نمازپڑھ لےاوراگرچاہےتو انہیں نہ اتارےہاں البتہ حالت جنابت میں انہیں اتارنا پڑےگا۔’’
(دار قطنی اورحاکم نےاسےبروایت حضرت انسؓ بیان کیااورامام حاکم نےاسےصحیح قرار دیاہے)
اسی طرح حضرت ابو بکرہ ثقفیرضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہےکہ:
«انه رخص للمسافر ثلاثة ايام وليا ليهن وللمقيم يوما وليلة اذا تطهر فلبس خفية ان يمسح عليهما» (اخرجه دارقطنی )
'' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کو تین دن اور تین راتیں اور مقیم کو ایک دن رات کےلئےیہ رخصت دی کہ اگر اس نےوضو کرکرموزےپہنےہوں تو ان پر مسح کرلے۔''
(دار قطنی۔۔۔ابن خزیمہ نےاسےصحیح کہا ہے۔)
صحیحین میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےموزےاتارنا چاہےتونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ:
«ادعهما فاني ادخلتهما طاهر تين » (صحيح بخاری)
''انہیں چھوڑ دومیں نے انہیں حالت طہارت میں پہنا ہے۔''
ان تینوں اوران کے ہم معنی دیگر احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کے لئے موزوں پر مسح جائز نہیں الایہ کہ اس نے انہیں کمال طہارت کے بعد پہنا ہو جس نے موزے یا جراب کو بایاں پاوں دھونے سے پہلے دائیں میں پہن لیاہو تو اس نے اسے تکمیل طہارت سے پہلے پہن لیا ہے۔بعض اہل علم اس صورت میں بھی مسح کے جواز کے قائل ہیں کیونکہ دونوں میں سے ہرایک پاوں کو دھونے کے بعد جراب میں داخل کیا گیا ہے لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ دونوں کودھونے کے بعد جرابوں کو پہنا جائے اوردلیل سے بھی بظاہر یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے ۔لہذا جس شخص نے بایاں پاوں دھونے سے پہلے دائیں پاوں میں موزہ یا جراب پہن لی ہو اسے چاہئے کہ وہ اسے اتارلے اوردونوں پاوں کو دھونے کے بعد انہیں پہنے تاکہ اختلاف سے بھی بچ جائے اوردین میں محتاط پہلو کو بھی اختیار کرلے۔واللہ ولی التوفیق۔(شیخ ابن باز ؒ)
[ دیکھیے : فتاویٰ اسلامیہ | شیخ ابنِ باز رحمہ اللہ | جلد :1 | صفحہ : ٣١٢ ]
موزے اس وقت پہننے چائیں،
جب وضو مکمل ہوچکا ہو،
اگر کسی نے دایاں پاؤں دھونے کے بعد موزہ پہن لیا،
پھر بایاں پاؤں دھویا اور موزہ پہن لیا،
تو یہ فعل درست نہیں ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
🖋️: مسزانصاری
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS