Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Hazrat Usman Ghani (R.A): Biography, Life & Caliphate.

Who was Hazrat Usman Ghani (R.A)? Biography & Legacy.

Hazrat Usman Ghani (R.A) Full Biography and Life History.
Why is He Called Zun-Nurain? (Possessor of Two Lights)
Early Life and Acceptance of Islam.
The Caliphate of Hazrat Usman (Khilafat-e-Usmani).
Major Contributions (Compilation of the Holy Quran).
Martyrdom (Shahadat) of Hazrat Usman Ghani.
Life of Zun-Nurain: Hazrat Usman Ghani (R.A) Full Story.
Hazrat Usman (R.A): The 3rd Caliph & Quran Compilation.
Hazrat Usman Ghani (R.A) Biography: Life & Martyrdom.

किसी क़ौम या जमात की अजमत का अंदाजा इससे नही लगाया जाता है के वह कितनी ताक़तवर, अक़लमंद और बहादुर थी/है, बल्कि इससे के वह अपनी तारीख, तहजीब और शकाफत को कितना संभाल कर रखति है। तारीख खामोश नही रहती बल्कि वह बोलती है, हमे सिर्फ उसे सुनने का तजुर्बा होना चाहिए। उम्मत ए मुस्लेमा का ज़वाल उस वक़्त शुरू हुआ जब उन्होंने इल्म और तलवार को छोड़कर गैरो की मुसाबिहत् इख़्तियार कर लिया। अंग्रेजो के दस्तरखवाँ पर छोड़ा हुआ हड्डी को खाने पर टूट पड़ा। उम्मत की ताक़त उसके अफराद मे नही, बल्कि उसके इत्तेहाद्द और अखलाकी किरदार मे है। मुसलमानो को तारीख मे अपना खोया हुआ मुक़ाम हासिल करने के लिए अपनी बुनियादी उसूलो यानी कुरान व सुन्नत को अपनाना होगा, उसी पर अमल करना और नक़्श ए कदम पर चलना होगा। उम्मत ए मुस्लेमा का एक फर्द होना फलसफा है, जिसका मकसद तमाम इंसानियत के लिए रहमत और रहनुमाई का नमुना पेश करना है।
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.

Hazrat Usman Ghani biography, Life of Hazrat Usman Ghani R.A, Hazrat Usman Ghani leadership and governance, Martyrdom of Hazrat Usman Ghani,
Expansion of the Islamic State under His Rule.

 ​﷽
سیـدنا عثمـان رضی اللہ عنہ
شہید اسلام دامادِ رسول خلیفہ ثالث سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی رضى اللہ عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ والد عفان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
 سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے ۔
سیدنا عثمان ذوالنورین رضى اللہ عنہ کی نانی نبی پاک کی پھوپھی تھیں۔

* آپ رضى اللہ عنہ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ رضى اللہ عنہ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ رضى اللہ عنہ نے خلیفہ اول سیدنا سیدنا ابوبکر صدیق رضى اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔*

طبقات ابن سعد کے مطابق
آپ رضى اللہ عنہ نے چوتھے نمبر پر اسلام قبول کیا ۔

*رسولِ اکرم صلى اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی رضى اللہ عنہ کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا،*

کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ رضى اللہ عنہ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔

*یہ سن کر آپ رضى اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ:-*

چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔
*سیدنا عثمان غنی رضى اللہ عنہ اعلی سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔*

*رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:-*

جنت میں ہر نبی کا ساتھی و رفیق ہوتا ہے میرا ساتھی ”عثمان “ رضى اللہ عنہ ہوگا۔

*سیــدنا عثمـان بن عفـان رضی اللہ عنـہ اصحـاب رسولﷺ میـں تیسری معــــزز ترین شخصیت:*

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ "كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‌‌‌‏ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ عُثْــمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ".

*عبداللہ بن عمـرؓ فرماتے ہیـں :*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانــہ ہی میں جب ہمیں صحـــابہ کے درمیان انتخــاب کے لیے کہا جاتا تو سب میں افضـــل اور بہتـــر ہم ابوبکر صـدیق رضی اللہ عنہ کو قـــرار دیتے، پھر عمـــر بن خــطاب رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان بن عــــفان رضی اللہ عنہ کو۔
*صحیح البخـاری : ٣٦٥٥*

سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بعد اپنی صاحب زادی سیدہ رقیہ رضى اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کردیا۔

*جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کی اجازت اور حکم الہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ بھی مع اپنی اہلیہ سیدہ رقیہ رضى اللہ عنہا حبشہ ہجرت فرما گئے،*

مگر جب یہ غلط افواہ پھیلی کہ کفار قریش مسلمان ہوگئے ہیں اور حالات سازگار ہوگئے ہیں تو دوسرے مسلمانوں کی طرح سیدناعثمان غنی رضى اللہ عنہ بھی واپس آگئے ۔

*جب ہجرت مدینہ کا حکم ہوا تو سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے،*
وہاں بھی آپ رضى اللہ عنہ نے تجارت کی اور کامیاب تاجر ثابت ہوے۔ ان دنوں مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا۔
*غزوہ بدر میں سیدنا رقیہ رضى اللہ عنہا کی علالت کے سبب نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے نہ جا سکے ۔*
غزوئہ احد اور خندق میں شریک ہوئے ۔
جب سیدہ رقیہ رضى اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو پیارے آقا صلى اللہ علیہ وسلم نے دوسری صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضى اللہ عنہا کو آپ کی زوجیت میں دے دی۔

 اس طرح آپ رضى اللہ عنہ کا لقب ” ذوالنورین“ یعنی دو نور والے معروف ہوا۔
(اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم اور خاندانِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریوں کی تفصیل ملاحظہ ہو )
جب رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا*
تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان غنی رضى اللہ عنہ کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔

قریش مکہ نے سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدناعثمان غنی رضى اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا ہے ۔
* اس موقع پر چودہ سو صحابہ رضى اللہ عنہم سے نبی اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی کہ سیدناعثمان رضى اللہ عنہ کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام  میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔

قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادہ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ واپس آگئے۔

غزوہ تبوک میں جب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے مالی اعانت کی اپیل فرمائی

تو سیدنا عثمان غنی رضى اللہ عنہ نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ،

اس موقع پر آپ صلى اللہ علیہ وسلم اتنا خوش اور راضی ہوئے کہ اسی وقت کئی مرتبہ آپ نے سیدنا عثمان کو جنت کی خوشخبری دی۔

رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم کے ” خطبہ حجہ الوداع “ کے موقع پر سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ آپکے ہمراہ تھے ۔
آپ رضی اللہ عنہ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضى اللہ عنہ کی مجلس مشاورت کے اہم رکن تھے ۔

سیدنا عمر رضى اللہ عنہ کی خلافت کا وصیت نامہ آپ رضى اللہ عنہ نے ہی تحریر فرمایا ۔

دینی معاملات پر آپ رضى اللہ عنہ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔

 سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔

بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرئہ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے۔
نبی پاک صلى اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :-
عثمان رضى اللہ عنہ کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔

عام طور پر دن کو روزہ رکھتے، رات ریاضت و عبادت میں گزارتے ۔ ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے ۔ یتیموں، بیواﺅں اور مسکینوں کی مسلسل خبر گیری فرماتے ۔
ابن عساکر نے زید بن ثابت رضى اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے پاس سے جب عثمان رضى اللہ عنہ گزرے تو میرے پاس فرشتہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس فرشتہ نے کہا کہ یہ شہید ہیں ان کو قوم شہید کر دے گی مجھے ان سے شرم آتی ہے“ ۔

ام المومنین سیدناعائشہ رضى اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:-
جب سیدنا عثمان رضى اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو اللہ کے نبی صلى اللہ علیہ وسلم اپنے لباس کو درست فرما لیتے اور فرماتے تھے کہ اس سے کس طرح شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرم کرتے ہیں ۔

آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-

کہ اے عثمان رضى اللہ عنہ اللہ تعالی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔

چنانچہ جس روز آپ رضى اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ رضى اللہ عنہ نے فرمایا:
کہ مجھے حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔

 35ھ میں ذی قعدہ کے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ رضى اللہ عنہ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا ،
صحیح بخاری میں آپکی شہادت کا واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے،

محاصرہ کے دوران آپ رضى اللہ عنہ کا کھانا اور پانی بند کردیا گیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے 82 سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان ذوالنورین کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے ظالموں نے شہید کردیا گیا ،

اسلامی تاریخ میں آپکی شہادت کو انتہائی معصوم و مظلوم شہادت کے نام سے جانا جاتا ہے ، شہادت سے کچھ پہلے آپ رضی اللہ عنہ کو خواب میں رسول ِ اکرم کی زیارت بھی ہوئی۔`
ﷲ تعالیٰ آپ پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ، اور امت ِ مسلمہ کو آپکی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمیــن یــا رب العالمیــن-

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS