Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Roshni Mein.
Mojo Ya Jurabo Par Masah Karne ka Tariqa Part-2. Total-11 posts.
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.Author: MRS Arshad Ansari (مسز انصاری)Reference: Facebook (Gurupe)
موزوں يا جرابوں پر مسح كرنے كا طريقہ:
پوسٹ 2
موزوں پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ مسح کرنے والا اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو پانی سےتر کرے اورانگلیوں کے پوروں کو پاؤں کی انگلیوں سے شروع کرے ،پھر پنڈلی تک مسح کرے،دائیں پاؤں کو دائیں ہاتھ سے اور بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں کا مسح کرے۔
[ دیکھیے : الملخص الفقہی للشیخ صالح الفوزان: 1/43، فتاوی المرأة المسلمة 1/250، والشرح الممتع :1/213)]
دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں کا اور بائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں کا مسح کرے اس کی دلیل :
الأثر أخرجه ابن أبي شيبة في «المصنف»: (1/ 170) ومن طريقه البيهقي في «الكبرى»: (1/ 292) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة عن أشعث عن الحسن عن المغيرة بن شعبة قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بال ثم جاء حتى توضأ ثم مسح على خفيه ووضع يده اليمنى على خفه الأيمن ويده اليسرى على خفه الأيسر ثم مسح أعلاهما مسحة واحدة حتى كأني أنظر إلى أصابع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الخفين
ابن ابی شیبہ نے " المصنف" (1/170) میں نقل کیا ہے اور اس کی سند کو البیہقی نے "الکبریٰ" ( 1/292) میں ابو اسامہ حماد بن اسامہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :
" میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور اپنا داہنا ہاتھ اپنی دائیں موزے پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں جراب پر رکھا، پھر ان کے اوپر ایک مرتبہ مسح کیا، یہاں تک کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں دیکھ سکتا ہوں ۔
[ (مصنف ابن ابی شیبۃ برقم:1968‘السنن الکبری للبیہقی برقم:1385) ( المغنی از :ابن قدامہ :۱/ ۱۷۲ الفقہ الاسلامی و أدلتہ :۳۲۰) ]
مگر جس کیفیت سے بھی وہ موزے کے اوپر کی جانب ہاتھ پھیر لے تو اس کا مسح ہو جائے گا
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
يعنى مسح موزے كے اوپر والى جانب كيا جائيگا، چنانچہ وہ اپنا ہاتھ صرف پاؤں كى انگليوں سے پنڈلى كى طرف پھيرے، اور مسح دونوں ہاتھوں سے دونوں پاؤں پر كيا جائيگا، يعنى جس طرح كانوں كا مسح كيا جاتا ہے اسى طرح دائيں ہاتھ سے دائيں پاؤں اوراسى وقت بائيں ہاتھ سے بائيں پاؤں كا مسح كرے، كيونكہ سنت سے يہى ظاہر ہوتا ہے.
مغيرہ بن شعبہ رضى اللہ تعالى عنہ كا فرمان ہے:
" چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان دونوں پر مسح كيا "
انہوں نے يہ نہيں كہا كہ پہلے دائيں سے ابتدا كى، بلكہ يہ كہا كہ دونوں پر مسح كيا، چنانچہ سنت كا ظاہر يہى ہے، ہاں اگر يہ فرض كريں كہ اس كا ايك ہاتھ كام نہيں كرتا تو پھر وہ بائيں پاؤں سے قبل دائيں پاؤں كا مسح كر سكتا ہے.
بہت سے لوگ دونوں ہاتھ سے دائيں پاؤں اور پھر دونوں ہاتھوں سے بائيں پاؤں پر مسح كرتے ہيں، يہ ايسا عمل ہے ميرے علم كے مطابق تو اس كى كوئى دليل نہيں ملتى....
كسى بھى طريقہ پر مسح صرف موزوں كے اوپر ہى كرنا ہى كافى ہے، ليكن ہمارى يہ كلام تو افضليت كے متعلق تھى، كہ افضل كيا ہے. اھـ
[ ديكھيے : فتاوى المراۃ المسلۃ (1 / 250).]
الخلاصہ :
1. وضو کرنے والا اپنے دونوں ہاتھوں کو پانی سے تر کرے گا.
2. اپنے ہاتھوں کو دونوں پیروں کے موزوں یا جرابوں پر اوپری حصے پر پھیرے۔گا
3. موزوں جرابوں پر مسح انگلیوں سے شروع کرے گا اور پنڈلیوں کے آغاز تک لے جائے گا
4. مسح ایک ہی مرتبہ کرے گا ۔
5. موزوں كى دونوں سائڈيں اور اگلى پچھلى جانب مسح نہيں كيا جائيگا كيونكہ اس سلسلے ميں كچھ بھى وارد نہيں ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لَوْ كانَ الدِّيْنُ بالرَّأْيِ؛ لكَانَ أَسْفَلَ الخُفِّ: أَوْلَى بالمَسْحِ مِنْ أَعْلَاه؛
"اگر دین عقل پر منحصر ہوتا تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا زیادہ مناسب ہوتا۔
وقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَمْسَحُ على ظَاهِرِ خُفَّيْهِ)
لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزے کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے دیکھا ہے۔”
[ أخرجه أبو داود (162)]
واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔






No comments:
Post a Comment