Find All types of Authentic Islamic Posts in English, Roman Urdu, Urdu and Hindi related to Quran, Namaz, Hadeeth, Ramzan, Haz, Zakat, Tauhid, Iman, Shirk, Islah-U-Nisa, Daily Hadith, Hayat-E-Sahaba and Islamic quotes.

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Raushani Mein. Part 7.

Kya Masah Karke Moje Utarne Se Wuzu Qayem Rahega?

Mojo Par Masah Karne Ki Ijazat – Quran Aur Hadees Ki Roshni Mein. Part 7/11
This post has been shared with the full permission of the original author, who encouraged its publication to spread Islamic knowledge and reflections. All views and insights are credited to the author, whose intention is to benefit the Ummah through thoughtful sharing.
   Author: MRS Arshad Ansari (مسز انصاری)
  Reference: Facebook (Gurupe)
Masah ka Masla, Zurabo Par MAsah ka tarika, Wuzu Ka Masla Sardi Ke Mausam me,
Moje Par Masah Ka Sharai Tareeqa.
کیا مسح كر كے موزے اتارنے سے وضو قائم رہے گا؟
پوسٹ # 7
وضوء كر كے موزوں پر مسح كرنے كے بعد موزے اتارنے كے حكم ميں علماء كرام كا اختلاف ہے.
اور اہلِ علم کے مختلف اقوال ہیں ، جن میں ان صحیح ترین قول یہ ہے کہ مسح كر كے موزے اتارنے سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ طہارت باقی رہتی ہے ، اِلا کہ کوئی حدث لاحق ہو ، اور وہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے موزہ اتارا ہی نہ ہو کیونکہ اصل میں طہارت باقی ہے اور اس کے ختم ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے ، اس لئے دوبارہ سے نئے طور پر طہارت کی تجدید کرنا لازم نہیں اور نہ ہی پاؤں دوبارہ دھونے کی ضرورت ہے
بعض علماء كرام كا كہنا ہے كہ اس كے ليے صرف پاؤں كا دھونا كافى ہے اس طرح اس كا وضوء مكمل ہو جائيگا.
ليكن يہ قول ضعيف ہے، اس ليے كہ وضوء ميں تسلسل ضرورى اور واجب ہے، يعنى وضوء كے اعضاء دھوتے ہوئے زيادہ اور لمبا وقت نہيں ہونا چاہيے بلكہ اعضاء تسلسل كے ساتھ دھوئے جائيں.
ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى نے مغنى ميں بيان كيا ہے كہ:
يہ قول وضوء ميں عدم موالاۃ يعنى تسلسل كے عدم وجوب پر مبنى ہے اور يہ ضعيف ہے.
ديكھيں: المغنى ابن قدامہ المقدسى ( 1 / 367 ).
اور دوسرے علماء كا كہنا ہے كہ ايسا كرنے سے طہارت باطل ہو جاتى ہے، جب وہ نماز ادا كرنا چاہے تو اس كے ليے وضوء كرنا ضرورى ہے، انہوں اس ميں دليل يہ دى ہے كہ:
مسح دھونے كے قائم مقام ہے، چنانچہ جب موزے اتار ديے جائيں تو پاؤں كى طہات ختم ہو جاتى ہے، كيونكہ اس سے نہ تو دھلے ہوئے رہتے ہيں، اور نہ ہى مسح كردہ، اور جب پاؤں كى طہارت ختم ہو جائے تو سارى طہارت ہى باطل ہو گئى اس ليے كہ طہارت كى تجزى نہيں ہوتى ( يعنى اس كے اجزاء نہيں كيے جا سكتے )، شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، جيسا كہ ان كے فتاوى جات ميں ہے.
ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 10 / 113 ).
اور كچھ علماء كرام كا كہنا ہے كہ اس سے طہارت باطل نہيں ہوتى جب تك كہ وضوء نہ توڑا جائے، سلف رحمہ اللہ كى جماعت كا قول يہى ہے، جن ميں قتادہ، حسن بصرى، ابن ابى ليلى رحمہم اللہ شامل ہيں، اور ابن حزم رحمہ اللہ نے بھى ان كى تائيد كى ہے.
ديكھيں: المحلى ابن حزم ( 1 / 105 ).
اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ اور ابن منذر رحمہما اللہ نے بھى يہى اختيار كيا ہے، امام نووى رحمہ اللہ تعالى المجموع ميں كہتے ہيں: مختار اور زيادہ قوى يہى ہے.
ديكھيں: المجموع للنووى ( 1 / 557 ).
انہوں نے كئى ايك دلائل سے استدلال كيا ہے:
1 - حدث كے بغير طہارت ختم نہيں ہوتى، اور موزے اتارنا حدث نہيں ہے.
2 - موزوں پر مسح كرنے والے كى طہارت شرعى دليل سے ثابت ہے، اور اس كے باطل ہونے كا حكم بھى شرعى دليل كے بغير لگانا ممكن نہيں، اور كوئى ايسى شرعى دليل نہيں ملتى جو موزے اتارنے سے طہارت ٹوٹنے پر دلالت كرتى ہو.
3 - وضوء كرنے كے بعد بال منڈانے پر قياس كى بنا پر، كيونكہ جس شخص نے وضوء كيا اوراس ميں سر پر مسح بھى كيا، پھر بعد ميں اپنے سر كے بال منڈا ديے تو اس كا وضوء اور طہارت باقى ہے، ايسا كرنے سے طہارت ختم نہيں ہوتى، تو موزوں پر مسح كر كے اتارنے والا بھى اسى طرح ہے.
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
" جب اس نے مسح كرنے كے بعد موزا يا جراب اتار دى تو ايسا كرنے سے اس كى طہارت ختم نہيں ہو گى، چنانچہ صحيح قول كے مطابق وہ وضوء ٹوٹنے تك جتنى چاہے نماز ادا كر سكتا ہے "
[ ماخوذ از: مجموع فتاوى ابن عثيمين (11 / 193).]
واللہ تعالیٰ اعلم ۔۔۔۔۔۔۔۔
🖋️: مسز انصاری
پوسٹ نمبر 6-1 کے لنکس
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

POPULAR POSTS