find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Seerat un nabi Mohammad Sallahu Alaihe Wasallam. Part 06

Jab Mohammad Sallahu Alaihe Wasallam ko Halima apne sath le gayi.

سیرت النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..

قسط 6...
ولادت مبارکہ کے ساتویں دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیقہ کی رسم ادا کی گئی.. اس موقع پر حضرت عبدالمطلب نے قریش مکہ کو دعوت دے کر شریک کیا.. دوران مجلس قریش مکہ میں سے کسی نے دریافت کیا.. "اے عبدالمطلب ! کیا آپ نے اپنے پوتے کا کوئی نام بھی رکھا ھے..؟"

حضرت عبدالمطلب نے فرمایا.. "ھاں میں نے اس کا نام "محمد" (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکھا ھے.."

یہ نام سن کر قریش مکہ نے بہت تعجب کا اظہار کیا کہ یہ کیسا نام ھے کیونکہ عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کسی کا نام "محمد" نہ رکھا گیا تھا اس لیے قریش مکہ کی حیرت بجا تھی..

اس زمانہ میں دستور تھا کہ شھر کے رؤساء اور شرفاء اپنے شیرخوار بچوں کو اطراف کے دیہات اور قصبات میں بھیج دیتے تھے.. یہ رواج اس غرض سے تھا کہ بچے شھری ماحول سے دور ان دیہات اور قصبوں کے خالص بدوی ماحول میں پرورش پاکر نہ صرف خالص عربی زبان سیکھ سکیں اور اپنے اندر فصاحت و بلاغت کا جوھر پیدا کرسکیں بلکہ وھاں چند سال رہ کر عربوں کی خالص خصوصیات بھی اپنے لاشعور میں سمو سکیں..

شرفاء عرب نے مدتوں اس رسم کو محفوظ رکھا.. یہاں تک کہ بنو امیہ نے دمشق میں پایہ تخت قائم کیا اور شاھانہ شان و شوکت میں کسری' و قیصر کی ھمسری کی.. تاھم ان کے بچے حسب معمول صحراؤں میں بدوؤں کے گھر ھی پرورش پاتے رھے لیکن خلیفہ "ولید بن عبدالملک" جب کچھ خاص اسباب کی وجہ سے وھاں نہ جا سکا اور حرم شاھی ھی پلا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ عربی کی فصاحت و بلاغت سے محروم ھوگیا اور بنوامیہ میں وہ واحد خلیفہ تھا جسے فصیح و بلیغ عربی صحیح طرح سے بولنا نہیں آتی تھی..

غرض اس دستور مذکورہ کی خاطر اطراف کے دیہات و قصبات سے عورتیں سال میں دو مرتبہ شھروں کا رخ کرتی تھیں جہاں شھر کے شرفاء اور رؤساء اپنے بچے ان کے حوالے کردیتے اور ساتھ میں معاوضہ کے طور پر ان عورتوں کو اتنا کچھ روپیا پیسہ مل جاتا کہ ان کی زندگی بھی آرام سے گزرتی..

اسی دستور کے موافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش مبارکہ کے چند روز بعد قبیلہ بنو ھوازن کی چند عورتیں شیرخوار بچوں کی تلاش میں مکہ آئیں.. ان میں سے ایک حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں.. اتفاق سے باقی سب عورتیں تو بچے حاصل کرنے میں کامیاب رھیں مگر حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بوجوہ بچہ حاصل کرنے میں ناکام رھیں..

اب وہ کیوں ناکام رھیں اور پھر کیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچیں , اس کے متعلق کتب تاریخ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان کیے گئے نہائت ھی دلچسپ واقعات کا ذکر کیا گیا ھے..

ابن اسحق , جہم بن ابی جہم کی روایت سے حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی باتیں بیان کرتے ھیں کہ انہیں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے خود یہ سارا واقعہ سنایا.. حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ھیں کہ..

"جب قبیلہ بنی سعد (بنو ھوازن اسی بڑے قبیلہ کا ایک ذیلی قبیلہ تھا جس سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق تھا) میں کسی سال مکہ میں کئی بچوں کی پیدائش کی خبر پہنچتی تھی تو بنی سعد کی عورتیں ان بچوں کو اجرت پر دودھ پلانے کے لیے مکہ کی طرف لپکنے لگتی تھیں.. پھر ایک سال ایسا ھی ھوا کہ مکہ کے معزز اور شریف خاندانوں میں کئی بچوں کی پیدائش کی خبر ملی تو بنی سعد کی دس عورتیں جن میں میں بھی شامل تھی , اپنے شوہر حارث بن عبدالعزّیٰ اور اپنے ایک شیرخوار بچے کے ساتھ مکہ کی طرف چلیں.. یہ قحط سالی کے دن تھے اور قحط نے کچھ باقی نہ چھوڑا تھا.. میں اپنی ایک سفید گدھی پر سوار تھی اور ہمارے پاس ایک اونٹنی بھی تھی لیکن واللہ ! اس سے ایک قطرہ دودھ نہ نکلتا تھا.. اِدھر بھُوک سے بچہ اس قدر بِلکتا تھا کہ ہم رات بھر سو نہیں سکتے تھے.. نہ میرے سینے میں بچہ کے لیے کچھ تھا اور نہ اونٹنی اس کی خوراک دے سکتی تھی.. بس ہم بارش اور خوشحالی کی آس لگائے بیٹھے تھے.. میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلی تو وہ کمزوری اور دُبلے پن کے سبب اتنی سست رفتار نکلی کہ پورا قافلہ تنگ آگیا..

خیر ہم کسی نہ کسی طرح دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ پہنچ گئے.. پھر ہم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش نہ کیا گیا ہو مگر جب اسے بتایا جاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتیم ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے سے انکار کر دیتی کیونکہ ہم بچے کے والد سے داد ووہش کی امید رکھتے تھے.. ہم کہتے کہ یہ تو یتیم ہے , بھلا اس کی بیوہ ماں اور اس کے دادا کیا دے سکتے ہیں.. بس یہی وجہ تھی کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینا نہیں چاہتے تھے..

ادھر جتنی عورتیں میرے ہمراہ آئی تھیں سب کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا صرف مجھ ہی کو نہ مل سکا.. جب واپسی کی باری آئی تو مجھے خالی ہاتھ جانا اچھا نہ لگا.. میں نے اپنے شوہر سے کہا.. "اللہ کی قسم ! مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میری ساری سہیلیاں تو بچے لے کر جائیں اور تنہا میں کوئی بچہ لیے بغیر واپس جاؤں.. میں جاکر اسی یتیم بچے کو لے لیتی ہوں.. شوہر نے کہا.. "کوئی حرج نہیں.. ممکن ہے اللہ اسی میں ہمارے لیے برکت دے.." یہ فیصلہ کرکے جہاں میری ساتھی عورتوں نے رات بھر کے لیے پڑاؤ ڈالا تھا , میں بھی رات گزارنے کے لیے وھیں ان کے ساتھ پڑگئی..

وہ ساری رات میری آنکھوں میں کٹ گئی کیونکہ نہ تو میرے یا میرے شوہر کے کھانے کے لیے کچھ تھا اور نہ ھی میری گدھی اور اونٹنی کے لیے چارا تھا.. میرا شیرخوار بچہ عبداللہ ساری رات میرے پستان چچوڑتا رھا لیکن چونکہ میں خود اس رات فاقہ سے تھی تو میری چھاتیوں سے دودھ کہاں سے اترتا.. خیر وہ رات تو میں نے جیسے تیسے جاگ جاگ کاٹ لی اور صبح ھوتے ھی وھی یتیم بچہ لینے چل دی.. یہ بھی خیال تھا کہ اس بچے کی ماں سے اتنا تو پیشگی مل ھی جاۓ گا کہ جس سے میں اپنے اور اپنے شوہر کے لیے کھانے پینے کی کوئی چیز اور اپنے گدھی اور اونٹنی کے لیے چارا لے سکوں گی..

جب میں اس بچے کو لینے اس کی ماں کے پاس پہنچی تو وہ مجھ سے بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور اپنا بچہ مجھے دیتے ھوۓ اس کی دودھ پلائی کی جو رقم مجھے دی وہ بھی میری توقع سے زیادہ تھی.. اس کے علاوہ وہ بچہ جسے میں یتیم سمجھ کر مجبورا" لینے آئی تھی , اتنا خوبصورت تھا کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت بچہ کبھی نہ دیکھا تھا.. وہ جب ھمک کر میری گود میں آیا اور پھر میرے سینے سے لگا تو مجھے اتنا سکون ملا کہ جس کا بیان کرنا مشکل ھے..

جب میں بچے کو لے کر اپنے ڈیرے پر واپس آئی اور اسے اپنی آغوش میں رکھا تو اس نے جس قدر چاہا دونوں سینے دودھ کے ساتھ اس پر اُمنڈ پڑے اور اس نے شکم سیر ہوکر پیا.. اس کے ساتھ اس کے بھائی نے بھی شکم سیر ہوکر پیا , پھر دونوں سوگئے حالانکہ اس سے پہلے ہم اپنے بچے کے ساتھ سو نہیں سکتے تھے.. ادھر میرے شوہر اونٹنی دوہنے گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے لبریز ہے.. انھوں نے اتنا دودھ دوہا کہ ہم دونوں نے نہایت آسودہ ہو کر پیا اور بڑے آرام سے رات گزاری.. صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا.. "حلیمہ ! اللہ کی قسم ! تم نے ایک بابرکت روح حاصل کی ہے.." میں نے کہا.. "مجھے بھی یہی توقع ہے.."

اس کے بعد ہمارا قافلہ روانہ ہوا.. میں اپنی اسی خستہ حال گدھی پر سوار ہوئی اور اس بچے کو بھی اپنے ساتھ لیا لیکن اب وہی گدھی اللہ کی قسم ! پورے قافلے کو کاٹ کر اس طرح آگے نکل گئی کہ کوئی گدھا اس کا ساتھ نہ پکڑ سکا.. یہاں تک میری سہیلیاں مجھ سے کہنے لگیں.. "او ابو ذویب کی بیٹی ! ارے یہ کیا ہے..؟ آخر یہ تیری وہی گدھی تو ہے جس پر تُو سوار ہو کر آئی تھی..؟ (لیکن اب اتنی تیز رفتار کیسے)" میں کہتی.. "ہاں ہاں ! اللہ کی قسم یہ وہی ہے.." وہ کہتیں.. "اس کا یقینا کوئی خاص معاملہ ہے.."

حلیمہ سعدیہ کے گھر میں کل چھ افراد رہا کرتے تھے.. شوہر حارث , شیر خوار عبداللہ , بیٹیاں انیسہ , حذیفہ اور جدامہ (رضی اللہ عنہا).. ( ان ہی کا لقب شیما تھا) عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کی قسمت کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دودھ شریک بھائی کا شرف حاصل ھوا..

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذرا بڑے ہوئے اور پاؤں پاؤں چلنے لگے تو شیما (رضی اللہ عنہا) ہی زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھیلا کرتیں.. اس کھیل کے دوران ایک مرتبہ شیما (رضی اللہ عنہا) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت تنگ کیا تو غصہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر اس زور سے کاٹا کہ دانتوں کے نشان بیٹھ گئے.. یہ نشان ان کے لئے اُس وقت باعث رحمت بن گئے جب کہ غزوۂ حنین کے بعد شیما مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضاعی بہن ہوں..

جب مسلمانوں نے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے بچپن کا واقعہ یاد دلاتے ہوئے اپنے کندھے پر دانتوں کے نشان دکھائے جس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ یاد آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بڑے احترام سے اپنی چادر بچھا کر بٹھایا اور فرمایا کہ اگر میرے پاس رہنا چاہو تو بہن کی طرح رہ سکتی ہو لیکن انہوں نے عرض کیا کہ وہ اپنے وطن لوٹ جانا چاہتی ہیں.. انہوں نے اسلام قبول کرلیا.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں جو عطایا دئیے ان میں تین غلام , باندیاں , کچھ اونٹ اور بکریاں شامل تھیں..

ان چاروں میں سے جناب عبداللہ رضی اللہ عنہ اور شیما رضی اللہ عنہا کا اسلام لانا تو ثابت ھے لیکن باقی دو کا حال معلوم نہیں جبکہ جناب حارث رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد مکہ آۓ تو تب اسلام قبول کرلیا تھا..

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات مکہ سے واپسی پر شروع ھوۓ وہ ان کے گھر پہنچنے پر بھی جاری رھے.. مریل اور بوڑھی اونٹنی کے تھنوں میں دودھ بھر آیا حالانکہ اس سے قبل بڑی مشکل سے گزارے کے لئے دودھ آتا تھا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے سبب خیر و برکت سے ہمارے گھرانے کو نوازتا رہا.. خود حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے دودھ کم اترتا تھا اور خود عبداللہ کے لیے بھی مشکل سے پورا پڑتا تھا لیکن یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارکہ کی برکتیں ھی تھیں کہ آپ کے آتے ھی حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی چھاتیوں میں اتنا دودھ اتر آیا کہ جس کا انہوں نے اس سے پہلے سوچا بھی نہ تھا لیکن اس زمانے میں بھی "ننھے حضور" کی منصف مزاجی اور عدل پسندی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی ایسا نہ کیا کہ ایک پستان کا دودھ پی کر دوسرے سے بھی پی لیں بلکہ دوسری پستان کا دودھ اپنے دودھ شریک بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لیے چھوڑ دیتے.. اس کے علاوہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا جب تک آپ کو دودھ پلاتی رھیں ایسا کبھی نہ ھوا کہ ان کا کوئی بستر یا کوئی دوسرا کپڑا آپ کے بول و براز سے خراب ھوا ھو..

آپ کے دم سے ظہور پذیر برکتیں صرف حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تک محدود نہ تھیں بلکہ اس کا دائرہ ان کے گھر سے وسیع ھو کر اڑوس پڑوس کے گھروں تک بھی پہنچنے لگا.. قحط اور خشک سالی کی بدولت بنو سعد کے گھرانے کی تمام زمینیں بنجر ہو گئی تھیں اور جانوروں کے تھن دودھ سے محروم ہو گئے تھے.. بستی والے چرواہوں سے کہا کرتے کہ تم بھی اپنی بکریاں وہاں لے جاؤ جہاں حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) کے جانور چرتے ہیں..

ایک مرتبہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عکاظ کے میلہ میں لے گئیں.. وہاں ایک کاہن کی نظر آپ پر پڑی تو پکار پکار کر کہنے لگا کہ اے عکاظ والو ! اس بچہ کو جان سے مار ڈالو ورنہ یہ بڑا ہو کر تم سب کو مٹا دے گا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر فوراً وہاں سے چلی گئیں..

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کا عظیم مقام ھے.. وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضائی والدہ ھیں.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا سے بےحد محبت تھی.. مورخین نے بیان کیا ھے کہ بہت عرصہ بعد عہد نبوت میں ایک بوڑھی عورت آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ھوئیں.. غربت و افلاس سے ان کا حال دگرگوں تھا.. آپ نے فوراً پہچان لیا اور وفور شوق و محبت سے اپنی نشست سے اٹھے اور "میری ماں , میری ماں" کہہ کر ان سے لپٹ گئے.. پھر آپ نے چادر بچھا کر عزت و تکریم سے ان کو اس پر بٹھایا.. یہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا تھیں..

سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ روایت بھی تاریخ میں منقول ھے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور جوانی میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں مکے حاضر ھوئی تھیں.. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی خدمت میں کئی اونٹ اور اونٹنیاں پیش کی تھیں.. مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکریوں کا ایک ریوڑ اور سازو سامان سے لدی ایک ناقہ ان کی خدمت میں پیش کی.. وہ ان تحائف سے زیادہ اس بات پر شاداں و فرحاں تھیں کہ ان کے رضاعی بیٹے کو اللہ نے اس سے بھی بلند مقام عطا فرمایا تھا جس کی دعائیں اور تمنائیں وہ کرتی تھیں..

اس کے علاوہ آپ کو اپنی رضائی بہن سیدہ شیما رضی اللہ عنہا سے بہت انسیت تھی.. آپ کی شیرخوارگی کا زمانہ میں وھی آپ کو کھیلایا کرتی تھیں..

سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا نے دو سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی محبت سے دودھ پلایا اور آپ کی پرورش کی.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نشو و نما دوسرے بچوں سے بہت اچھی تھی اس لئے جسمانی اعتبار سے دو سال کی عمر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار برس کے دکھائی دیتے تھے.. دو سال کی عمر تک حلیمہ سعدیہ آپ کو سال میں دو بار والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سے ملانے لیجاتیں اور پھر واپس لاتیں.. دوسال بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس مکہ لے جانے کا وقت آیا تو یہ امر حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے بہت تکلیف کا باعث بن گیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کو بےانتہا محبت تھی جس کی وجہ سے آپ کی جدائی برداشت کرنا ان کے لیے کوئی آسان کام نہ تھا.. حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ھیں..

"جب دوسال گزر جانے پر میں آپ کو لیکر حضرت آمنہ کے پاس مکہ پہنچی تو آپ کی جدائی کے غم میں میری آنکھوں سے بےتحاشہ آنسو بہ رھے تھے.. یہ دیکھ کر حضرت آمنہ بولیں.."کیا تم اسے اپنے پاس کچھ اور رکھنا چاھتی ھو..؟"

ان کی زبان سے یہ سن کر میں خوشی سے بےحال ھوکر بولی.."اگر آپ چند مہینے اسے میرے پاس اور رھنے دیں تو آپ کی بڑی مہربانی ھوگی.." میری اس درخواست پر حضرت آمنہ نے بخوشی مجھے اس کی اجازت دے دی..

حضرت آمنہ کے اس فیصلے کی ایک بڑی اور غالبا" اصل وجہ یہ تھی کہ ان دنوں میں مکہ میں وبا پھیلی ھوئی تھی.. حضرت آمنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں ٹھہرانا مناسب نہ سمجھا اور واپس حضرت حلیمہ کے ساتھ گاؤں بھجوادیا..

تاھم چند ماہ کا یہ فیصلہ بوجوہ کئی سالوں پر محیط ھوگیا اور آپ حضرت حلیمہ کے پاس مذید چار سال رھے اور چھ سال کی عمر میں ھی واپس مکہ اپنی والدہ ماجدہ کے پاس آسکے.. چھ سال کا یہ عرصہ حضرت حلیمہ اور ان کے گھر کے لیے بےپناہ خیروبرکت کا سبب بنا رھا اور ان کا گھر سارے قبیلے کے لیے رشک کا باعث بن گیا..

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے جس محبت اور اپنائیت سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پالا پوسا وہ یاد گار اور تاریخی حقیقت ھے.. یہ بھی ایک مسلّمہ امر ھے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود ِمسعود سے اس خاندان کی قسمت ھی بدل گئی.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام بنی سعد کے دوران پورے علاقے اور قبیلے میں اس سعادت مند بچے کا تذکرہ زبان زد عام ھو گیا کیونکہ برکات و انعامات کی بارش نے سبھی کو نہال کر دیا تھا.. آپ کے اپنے خاندان میں واپس چلے جانے کے بعد بھی قبیلے اور بالخصوص حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ کا تذکرہ ھوتا رھتا تھا..

واقعہ شق صدر..
--------------------

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بہت سے محیر العقل واقعات سے بھری پڑی ہے.. یہ واقعات آپ کی پیدائش سے پہلے , بچپن میں اور نبوت کے بعد بھی رونما ہوئے.. ایسے تمام حیران کن واقعات جو کسی نبی کو نبوت ملنے سے پہلے درپیش آئیں , "ارھاصات" کہلاتے ہیں..

ایسا ہی ایک عجیب واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے گھر ولادت کے چوتھے یا پانچویں سال پیش آیا جب اُن کا سینہ فرشتوں نے چاک کر کے اُن کا دل دھویا تھا.. اسے شَقّ ِ صَدر (سینہ مبارک چاک کیے جانے) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مجلس میں کیا تھا جب کہ قبیلہ بنی عامر کے ایک بوڑھے شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی ابتدائی زندگی کے حالات سنانے کی خواہش کی تھی.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا..

"میرا شیر خواری اور بچپن کا ابتدائی زمانہ بنی سعد بن بکر میں گزرا.. ایک دن میں اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ سفید پوش آدمیوں (فرشتوں) کی ایک ٹولی نے جن کے ہاتھوں میں سونے کی تھالی میں (زمزم کی) برف بھری تھی, مجھے پکڑ لیا.. میرے ساتھی ڈر کر بھاگ گئے.. انھوں نے مجھے زمین پر لٹایا اور (میرے سینے یا پیٹ کے) اندرونی اجزأ نکال کر (زمزم کی) برف (کے پانی سے) سے اچھی طرح دھویا اور پھر اپنی جگہ رکھ دیا.. یہ منظر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا.. دوسرے نے میرے سینے میں ہاتھ ڈالا اور دل کو نکالا اور اس سے ایک لوتھڑا نکال کر فرمایا.. "یہ تم سے شیطان کا حصہ ہے" پھر دل کو (سونے کی) طشت میں زمزم (کی برف) کے پانی سے دھویا.. پھر اپنے ہاتھ کو فضا میں بلند کیا تو اچانک ایک نور کی مہر اس کے ہاتھوں میں آگئی.. اس نے مہر دل پر لگائی تو وہ نور سے بھر گیا.. پھر دل کو جوڑ کر اپنے مقام پر رکھ دیا..

اب تیسرے نے سینہ سے ناف تک ہاتھ پھیرا تو زخم مندمل ہو گیا.. میں اٹھ کھڑا ہوا تو تینوں نے باری باری مجھے سینے سے لگایا اور میری پیشانی پر بوسہ دیا.."

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دودھ شریک بھائی نے یہ منظر دیکھا تو دوڑ کر اپنے والدین کو اطلاع دی کہ کچھ سفید پوش آدمیوں نے میرے قریشی بھائی کا پیٹ چاک کر دیا ہے.. یہ سنتے ہی وہ فوراً وہاں گئے اور دیکھا کہ بچہ کے چہرہ کا رنگ فق ہے.. اس واقعے سے حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کو خطرہ محسوس ہوا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی والدہ کے پاس پہنچانے کے لئے مکہ روانہ ہوگئے اور حضرت آمنہ سے سارا حال بیان کیا..

یہ سن کر حضرت آمنہ نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں.. خدا کی قسم ! اس پر آسیب کا کوئی اثر نہ ہو گا بلکہ یہ بچہ تو بڑی شان والا ہے..

===========>جاری ھے..

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS