find all Islamic posts in English Roman urdu and Hindi related to Quran,Namz,Hadith,Ramadan,Haz,Zakat,Tauhid,Iman,Shirk,daily hadith,Islamic fatwa on various topics,Ramzan ke masail,namaz ka sahi tareeqa

Kala Jadoo Ka Kya Ilaaj hai Shariyat Me?

Kala Jadoo Ka Kya ilaaj hai isse kaise Mahfuj Rahe?

काला जादू से कैसे बचा जा सकता है क़ुरान ओ सुन्नत की रौशनी में।
سوال کالا جادو ہو گیا ہے کوئی علاج بتائیں
جواب  کالا جادو ☠اور اس کا علاج
سوال۔ جس شخص پر جادو کردیا گیا ہو  تو اس کا علاج کیا ہے؟
سوال۔  مومن کےلئے اس سے بچاؤ کس طرح ممکن ہے کہ یہ فعل اسے نقصان نہ دے اور کیا اس کے لئے دعائیں یا پھر قرآن میں کوئی اذکار ہیں ؟
علاج کی کئی قسمیں ہیں :
اول: یہ دیکھا جائے گا جادوگر نے جادو کس چیز میں کیا ہے اگر اس کا پتہ چل جائے کہ اس نے کسی جگہ میں بالوں پر یا کنگھی کے دندانوں پر یا اس کے علاوہ کسی اور چیز پر کیا ہے جب یہ پتہ چل جائے کہ فلاں جگہ پر رکھا ہے تو اس چیز کو زائل کر دیا اور جلا دیا اور تلف کر دیا جائے تو جو کیا گیا ہے وہ ختم اور جو جادو گر کا ارادہ تھا وہ زائل ہو جائے گا ۔
دوم : یہ کہ اگر جادوگر کا پتہ چل جائے تو اس پر لازم کیا جائے کہ جو اس نے کیا ہے وہ اسے زائل کرے تو اسے یہ کہا جائے گا کہ یا تو اسے جو کہ تو نے کیا ہے اسے زائل کر دے یا پھر تیری گردن مار دی جائے گی تو پھر جب وہ اسے ختم کر دے تو اسے ولی الامر اس کی گردن اڑاۓ گا کیونکہ صحیح مسئلہ یہی ہے کہ جادوگر کو بغیر توبہ کے قتل کیا جائے گا جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا ۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
"جادوگر کی حد تلوار سے اس کی گردن اڑانی ہے " ۔
اور جب حضرت ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ معلوم ہوا کہ ان کی لونڈی جادو کرتی ہے تو انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔
سوم : پڑھائی کا جادو کے ختم کرنے میں بہت بڑا اثر ہے اور وہ اس طرح کہ جس پر جادو کیا گیا ہے اس پر یا پھر ایک برتن میں آیۃ الکرسی اور سورت اعراف اور یونس اور مریم جو جادو کی آیات اور اس کے ساتھ سورت کافرون اور اخلاص اور الفلق اور الناس پڑھے اور اس کی عافیت اور شفاء کی دعاء کرے اور خاص طور پر وہ دعاء جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے وہ پڑھے :
" اللهم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاؤك لا يغادر سقما "
( اے لوگوں کے رب تکلیف دور کر دے اور شفا یابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا‎ء نہیں ایسی شفاء نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے"
اور ایسے ہی وہ دم جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تھا :
" بسم الله ارقيك من كل شئ يؤذيك ومن شر كل نفس أو عين حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك "
(میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں "
تو اس دم کو تین مرتبہ کرے اور تین مرتبہ " قل ھو اللہ احد " اور معوذتین " قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس " بھی تین مرتبہ دہرائے۔
اور ایسے ہی وہ پانی میں پڑھے جو ہم نے ذکر کیا ہے اور اس میں سے جسے جادو کیا گیا ہے وہ پئے اور باقی پانی سے غسل کرے یہ ایک یا اس سے زیادہ حسب ضرورت کرے تو ان شاء اللہ جادو کا اثر جاتا رہے گا یہ علاج علماء نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے مثلا شیخ عبدالرحمان بن حسن رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ( فتح المجید شرح کتاب التوحید ) میں ( باب ما جاء فی النشرۃ ) منتر کے باب میں ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا ہے –
چہارم : سات بیری کے پتے کوٹ کر پانی میں ملائیں اور اس پر آیات اور سورتیں اور دعائیں پڑھیں جن کا ذکر پیچھے کیا گیا ہے تو یہ پانی پیا بھی جائے اور اس سے غسل بھی کرے اور ایسے ہی یہ اس کے علاج میں بھی نفع مند ہے جسے اس کی بیوی سے روکا گیا ہے تو سبز بیری کے سات پتے پانی میں رکھ کر اس پر مندرجہ بالا آیات و سورتیں اور دعائیں پڑھیں تو اللہ کے حکم سے یہ نافع ثابت ہو گا ۔
جادو والے مریض اور اس کے لئےجسے اس کی بیوی سےروک دیا گیا ہو کہ وہ اس سے جماع نہ کر سکے اس کے لئے پانی اور بیری کے پتوں پر جو آیات پڑھنی ہیں وہ ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں:
1- سورت فاتحہ پڑھنی ہے -
2- سورت بقرہ میں سے آیۃ الکرسی پڑھنی اور وہ اللہ کا فرمان یہ ہے :
" اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم لہ ما فی الارض من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بما شاء وسع کرسیہ السماوات والارض ولا یؤدہ حفظھما وھو العلی العظیم "
( اللہ تعالی ہی معبود برحق ہےجس کے سوا کوئی معبود نہیں جوزندہ اور سب کا تھامنے والا ہے جسے نہ تو اونگھ آئے اور نہ ہی نیند - آسمان وزمین میں تمام چیزیں اسی کی ملکیت ہیں کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے وہ جو انکے سامنے ہے اور جو انکے پیچھے ہے اس کے علم میں ہے وہ اسکے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی کی وسعت نے آسمانوں وزمین کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالی ان کی حفاظت سے نہ تو تھکتا اور نہ ہی اکتاتا ہے اور وہ بلند اور بہت بڑا ہے – (البقرہ 255)
3 - سورت اعراف کی یہ آیات پڑھیں :
" قال ان کنت جئت بآیۃ فات بھا ان کنت من الصادقین فالقی عصاہ فاذا ھی ثعبان مبین ونزع یدہ فاذا ھی بیضاہ للنظرین قال الملاء من قوم فرعون ان ھذا الساحر علیم یرید ان یخرجکم من ارضکم فماذا تامرون قالوا ارجہ واخاہ وارسل فی المدائن حاشرین یاتوک بکل ساحر علیم وجاء السحرۃ فرعون قالوا ان لنا لاجرا ان کنا نحن الغالبین قال نعم وانکم لمن المقربین قالوا یا موسی اما ان تلقی واما ان نکون نحن الملقین قال القوا سحروا اعین الناس واسترھبوھم وجاء وبسحر عظیم واوحینا الی موسی ان الق عصاک فاذا ھی تلقف ما یافکون فوقع الحق وبطل ما کانوا یعلمون فغلبوا ھنالک وانقلبوا صاغرین والقی السحرۃ ساجدین قالوا امنا برب موسی وھارون" الاعراف 106-
(فرعون نے کہا ہے کہ اگر آپ کوئی معجزہ لے کر آۓ ہیں تو اس کو اب پیش کیجۓ اگر آپ سچے ہیں ؟ تو انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو دفعتا وہ صاف ایک اژدھا بن گیا اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا قوم فرعون کے جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بہت بڑا جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سر زمین سے نکال باہر کرے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو انہوں نے کہا آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دے دو اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجۓ کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کر دیں اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوۓ اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب ہو گۓ تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم سب مقرب لوگوں میں ہو جاؤ گے ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسی خواہ آپ ‌ڈالیں یا ہم ہی ڈالیں؟ ( موسی علیہ السلام ) کہنے لگے تم ہی ڈالو پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا اور ہم نے موسی علیہ السلام کو حکم دیا اپنی لاٹھی ڈال دیجۓ سو اس کا ڈالنا تھا کہ اس نے سارے بنے بناۓ کھیل کو نگھلنا شروع کر دیا پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب کچھ جاتا رہا پس وہ لوگ موقع پر ہار گۓ اور خوب ذلیل ہو کر پھرے اور جو ساحر تھے سجدہ میں گر گۓ اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاۓ جو موسی اور ہارون کا رب ہے ) الاعراف 106 122-
4 - سورت یونس کی مندرجہ ذیل آیات پڑھیں :
"وقال فرعون ائتونی بکل ساحر علیم فلما جاء السحرۃ قال لھم موسی القوا ما انتم ملقون فلما القوا قال موسی ما جئتم بہ السحر ان اللہ سیبطلہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین ویحق الحق بکلماتہ ولو کرہ المجرمون " یونس /79 82 -
( اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس تمام جادوگروں کو حاضر کرو پھر جب جادوگر آۓ تو موسی علیہ السلام نے ان سے کہا ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو سو جب انہوں نے ڈالا تو موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کچھ تم لاۓ ہو جادو ہے یقینی بات یہ ہے اللہ تعالی اس کو ابھی درہم برہم کئے دیتا ہے اللہ تعالی ایسے فسادیوں کا کام نہیں بننے دیتا )
5 - اور سورت طہ کی مندرجہ ذیل آیات پڑھیں :
"قالوا یا موسی اما ان تلقی واما ان نکون اول من القی قال بل القوا فاذا حبالھم وعصیھم یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی قلنا لا تخف انک انت الاعلی والق ما فی یمینک تلقف ما صنعوا انما صنعوا کید ساحر ولا یفلح الساحر حیث اتی " طہ 65 69 -
( کہنے لگے اے موسی یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسی علیہ السلام کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ دوڑ رہی ہیں پس موسی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا ہم نے فرمایا خوف نہ کر یقینا تو ہی غالب اور برتر رہے گا اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے انہوں نے جو کچھ بنایا ہے صرف یہ جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا )
6- سورۃ الکافرین کو پڑھیں ۔
7 - سور‏ۃ الاخلاص اور معوذتین (فلق اور الناس)
8 - بعض شرعی دعائیں پڑھنا مثلا :
"اللھم رب الناس اذھب الباس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفا‏ؤک شفاء لا یغادر سقما " تین بار پڑھے ۔
( اے اللہ لوگوں کے رب تکلیف دور کر دے اور شفا یابی سے نواز تو ہی شفا دینے والا ہے تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ایسی شفا نصیب فرما کہ جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے ) اسے تین بار پڑھے تو اچھا ہے –
اور اگر ہو سکے ساتھ یہ بھی تین بار پڑھے تو بہتر ہے :
" بسم اللہ ارقیک من کل شیء یوذیک ومن شر کل نفس او عین حاسد اللہ یشفیک بسم اللہ ارقیک ۔
( میں اللہ کے نام سے تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو کہ تکلیف دینے والی ہے اور ہر نفس کے شر سے یا ہر حاسد آنکھ سے اللہ آپ کو شفا دے میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ) ۔
اور اگر مندرجہ بالا آیات اور دعائیں مریض کے اوپر پڑھتے جائیں اور اس کے سینے اور سر پر دم کرے تو یہ ان شاء اللہ اللہ کے حکم سے شفا ء کاملہ حاصل ہوگی۔
______________________________________________
سوال: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے جادو کر دیا جس کی وجہ سے ہمارا رزق بند ہوگیا ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے رزق کو مقرر کر رکھا ہے کیا یہ چیز ممکن ہے ؟
جواب: اس طرح کی چیزیں زیادہ تر توہمات ہوتی ہیں ۔ اللہ پر بھروسا رکھنا چاہیے ۔ اس کو یاد کرنا چاہیے ۔ دنیا میں بہرحال اسباب موجود ہیں ۔ اور ان کے اسباب کے تحت لوگ ایک دوسرے کو نقصان ہی پہنچاتے ہیں ۔ مثلاً اپ کو کوئی اینٹ اٹھا کر مار دیتا ہے جس سے آپ کا سر پھٹ جاتا ہے اسی طرح دنیا میں دوسری بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن سے نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ جادو کے بارے میں اتنی بات سمجھ لیجیے کہ قران سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے اور تجربوں سے بھی کہ یہ محض انسان کی نفسیات پر اثر انداز ہوتی ہے اس سے کوئی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ۔ اس لیے اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے ۔ اللہ کرم کرنے والا ہے ۔
______________________________________________
سوال: کیا کسی مسلمان کو سفلی علوم (جادو ٹونے ) کے ماہر سے اپنی بیماری یا مصیبت کا علاج کرانا چاہیے؟
جواب: سفلی علوم (جادو ٹونے ) کے عاملوں سے لازماً بچنا چاہیے، کیونکہ یہ لوگ شیاطین کو خوش کرنے کے لیے کئی طرح کے مشرکانہ اور کافرانہ عمل کرتے ہیں۔ جو لوگ ان سے اپنا کوئی کام کراتے ہیں، وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر ان کے شیاطین کی مدد سے اپنا کام کراتے ہیں۔رہی ان لوگوں کی یہ بات کہ ہم تو اپنا عمل کرتے ہیں ، شفا تو اللہ ہی دیتا ہے تو یہ بس ان کے منہ کی بات ہے جو شاید یہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں، ورنہ جادو کرنا کرانا تو صریح کفر ہے۔ ان کے اس قول کی مثال یہ ہے کہ کوئی چور بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں تو بس چوری کرتا ہوں ، رزق تو مجھے اللہ ہی دیتا ہے۔ یقینا چور اللہ کے اذن ہی سے چوری پر قادر ہوتا اور جادو کرنے والا اللہ کے اذن ہی سے جادو کر پاتا ہے اور اس کا جادو اللہ کے اذن ہی سے کامیاب ہوتا ہے، لیکن اللہ کی رضا اچھے کام کرنے میں ہے اور ناراضی برے کام کرنے میں ہے گو برے کام بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہو سکتے۔چنانچہ آپ ان کے اس جملے سے دھوکا نہ کھائیں۔
______________________________________________
سوال:کیا جادو یا کالا علم کوئی حقیقت رکھتا ہے ؟
اور کیا اس کا روحانی علاج کرانا درست ہے؟
اور کیا ہم عملیات پر یقین رکھ سکتے ہیں؟
جواب: ارشاد باری ہے:'وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ' (فلق113: 4)
''(یعنی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے۔''
اس آیت سے یہ پتا چلتا ہے کہ جادو کرنے والوں کا ایک شر ہے جس سے بچنے کے لیے ہمیں یہ کلمہ سکھایا گیا ہے۔ اور ارشاد باری ہے:
'' اور یہ (یہودی) ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جو سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے، ... یہی(شیاطین) لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔'' (بقرہ2: 102)
چنانچہ جادو یا کالا علم ایک حقیقت ہے، اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
عام مشاہدے میں جو چیز آئی ہے ،وہ یہ ہے کہ جس شخص پر کالا جادو کر دیا جائے، وہ شدید توہمات میں گھر جاتا ہے، بعض صورتوں میں وہ سخت بیمار ہو جاتاہے اور اسے عام علاج معالجے سے بھی کوئی شفا نہیں ہوتی۔
جادو وغیرہ کے لیے روحانی علاج کرانا درست ہے۔ البتہ، تعویذ گنڈے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ جانا ہے۔ ابو داؤد کی''کتاب الخاتم'' میں ایک مفصل حدیث بیان ہوئی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو مکروہ جانتے تھے ،ان باتوں میں سے ایک تعویذ باندھنا بھی ہے۔
خود دین نے اس کے توڑ کے لیے جو روحانی علاج بتایا ہے، وہ معوذتین کا پڑھنا ہے۔یہ دونوں سورتیں دراصل، جادو اور بعض دوسرے شرور سے خدا کی پناہ حاصل کرنے کی دعا ہیں۔ یہ اگر پورے یقین کے ساتھ پڑھی جائیں تو ان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے۔
اس کے علاوہ اگر آپ کسی روحانی عامل سے علاج کرانا چاہیں تو کرا سکتے ہیں، بس یہ دیکھ لیں کہ وہ کوئی شرکیہ عمل اختیار کرنے والا نہ ہو اور دھوکاباز نہ ہو۔
عملیات پر یقین رکھنے کے الفاظ درست نہیں ہیں، کیونکہ اس میں وہ سب کچھ بھی آ جاتا ہے جو انسانوں کی ایجاد ہے۔
البتہ، اشیا اور کلمات کے خواص اور ان کی تاثیرات کا علم ایک حقیقت ہے۔ قرآن مجید میں ہاروت و ماروت کے حوالے سے جس علم کا ذکر کیا گیا ہے ، عام طور پر اسے جادو سمجھا گیا ہے، لیکن مولانا امین احسن مرحوم نے واضح کیا ہے کہ وہ اشیا اور کلمات کے خواص اور ان کی تاثیرات کا علم تھا۔
البتہ، ہر مسلمان کے لیے یہ یقین رکھنا ضروری ہے کہ جادو ہو یا روحانی علم، ان میں تاثیر اللہ ہی کے اذن سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا کے علاوہ کوئی چیز بھی بذات خود کوئی تاثیر نہیں رکھتی۔
______________________________________________
سوال:کیا کسی مسلمان کو سفلی علوم (جادو ٹونے ) کے ماہر سے اپنی بیماری یا مصیبت کا علاج کرانا چاہیے؟
جواب:سفلی علوم (جادو ٹونے ) کے عاملوں سے لازماً بچنا چاہیے، کیونکہ یہ لوگ شیاطین کو خوش کرنے کے لیے کئی طرح کے مشرکانہ اور کافرانہ عمل کرتے ہیں۔ جو لوگ ان سے اپنا کوئی کام کراتے ہیں، وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر ان کے شیاطین کی مدد سے اپنا کام کراتے ہیں۔
رہی ان لوگوں کی یہ بات کہ ہم تو اپنا عمل کرتے ہیں ، شفا تو اللہ ہی دیتا ہے تو یہ بس ان کے منہ کی بات ہے جو شاید یہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں، ورنہ جادو کرنا کرانا تو صریح کفر ہے۔ ان کے اس قول کی مثال یہ ہے کہ کوئی چور بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں تو بس چوری کرتا ہوں ، رزق تو مجھے اللہ ہی دیتا ہے۔یقینا چور اللہ کے اذن ہی سے چوری پر قادر ہوتا اور جادو کرنے والا اللہ کے اذن ہی سے جادو کر پاتا ہے اور اس کا جادو اللہ کے اذن ہی سے کامیاب ہوتا ہے، لیکن اللہ کی رضا اچھے کام کرنے میں ہے اور ناراضی برے کام کرنے میں ہے گو برے کام بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہو سکتے۔چنانچہ آپ ان کے اس جملے سے دھوکا نہ کھائیں۔
______________________________________________
سوال:اگر کسی آدمی کو اپنی تعلیم یا کاروبار وغیرہ میں ناکامی پر ناکامی ہو رہی ہواور اسے اپنے ہاں ناکامی کی عام ممکنہ وجوہات میں سے کوئی وجہ بھی دکھائی نہ دے رہی ہو تو کیا ایسا ممکن ہے کہ اس پر جادو کی نوعیت کے کوئی اثرات ہوں۔ اگر ایسا ممکن ہے تو کیا اس کے توڑ کے لیے عملیات کے ماہرین کی طرف رجوع کرناشرعاًدرست ہے؟
جواب:اس دنیا میں جس طرح مادی علوم موجو د ہیں، اسی طرح نفسی علوم بھی موجود ہیں۔ ان سارے علوم سے جو کام بھی لیا جاتا ہے، وہ یقینا اللہ ہی کے اذن سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسا ممکن ہے کہ کسی آدمی پر کسی سفلی علم کی وجہ سے کوئی برے اثرات مرتب ہو رہے ہوں۔ ایسی صورت میں ان ماہرین عملیات سے رجوع کیا جا سکتا ہے جو شریعت کے تحت رہتے ہوئے آپ کو کوئی عمل وغیرہ بتائیں اور خود آپ کو بھی اس پر متنبہ رہنا چاہیے کہ ان کے بتائے ہوئے عمل میں کوئی شرکیہ بات یا دینی اعتبار سے غلط بات موجو د نہ ہو۔
______________________________________________
جادو سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر
قرآن وسنت کی روشنی میں
یہ بات ہر شخص کومعلوم ہے کہ بندش جماع کاجادو عموماً نوجوانوںپرکیاجاتاہے جب وہ شادی کرنے کاارادہ کررہے ہوںخاص کر ا س وقت جب وہ ایسے معاشرے میں رہائش پذیر ہوںجس میں بدبخت جادوگروںکی کثرت ہوایسے میں ایک سوال پیداہوتاہے کہ کیادولہا اوردلہن جادو سے بچنے کے لیے قلعہ بند نہیں ہوسکتے تاکہ ان پر اگر جادو کیاجائے تووہ ا س کے اثر سے محفوظ رہیں۔
زہر اورجادو کااثر
مدینہ منور ہ کی عجوہ کھجور کے سات دانے صبح نہار منہ کھا لیں اگر مدینہ منورہ کی عجو ہ کجھور نہ ملے توکسی بھی شہر کی عجوہ کھجور استعمال کرسکتے ہیں۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آتا ہے۔”جوشخص عجوہ کھجور کے سات دانے صبح کے وقت کھالیتاہے۔اسے زہر اورجادو کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔“
باوضو مسلمان پر جادو اثر نہیں کرتا
دوسری احتیاطی تدبیر وضو ہے کیونکہ باوضو مسلمان پر جادو اثر انداز نہیں کرتااوروہ فرشتوںکی حفاظت میں رات گزارتاہے۔ایک فرشتہ ا س کے ساتھ رہتاہے اور وہ جب کروٹ بدلتاہے فرشتہ اس کے حق میںدعا کرتے ہوئے کہتاہے کہ ”اے اللہ ! اپنے اس بندے کومعاف کردے کیونکہ اس نے طہارت کی حالت میں رات گزاری ہے۔“
نماز کی پابندی
جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی پابندی کی وجہ سے انسان شیطان سے محفوظ ہوجاتاہے اور اس سلسلے میں سستی برتنے کی وجہ سے شیطان اس پر غالب آجاتاہے اور جب وہ غالب آجاتاہے توا س میں داخل بھی ہوسکتاہے اوراس پر جادو بھی کرسکتاہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے۔کسی بستی میں جب تین آدمی موجود ہوںاور وہ باجماعت نماز اد ا نہ کریں توشیطان ان پرغالب آجاتاہے بس تم جماعت کے ساتھ رہو کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کوشکار کرتاہے جوریوڑ سے الگ ہوجاتی ہے۔
قیام لیل کی پابندی
جوشخص جادو کے اثر سے بچنے کے لیے قلعہ بندہوناچاہتاہے اسے قیام لیل ضرور کرناچاہیے کیونکہ اس میں کوتاہی کرکے انسان خود بخود اپنے اوپر شیطان کومسلط کرلیتاہے اور اس کے مسلط ہونے کی صورت میں اس کے لیے جادو کاراستہ ہموا رہوجاتاہے۔ حضر ت ابن مسعو د ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے شخص کاذکرکیاگیاجوصبح ہونے تک سویارہتاہے اورقیام لیل کے لیے بیدار نہیں ہوتا۔توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ا س کے کانوں میں شیطان پیشاب کرجاتاہے۔
ناپاک جگہ شیطان کاگھر
ناپاک جگہ پر شیطان کاگھر اورٹھکانہ ہوتاہے۔ا س لیے ا س میں کسی مسلمان کی موجودگی کوشیطان غنیمت تصورکرتے ہیں۔مجھے خود ایک شیطان جن نے بتایا کہ وہ ایک شخص میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھاجب اس نے بیت الخلاءمیں جاتے ہوئے دخول بیت الخلاءکی دعانہیں پڑھی تھی ایک اورجن نے بتایا تھاکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک طاقت ور اسلحہ عطاکیاہے جس کے ذریعے تم ہمارا خاتمہ کرسکتے ہومیں نے کہاوہ کیاہے ؟توا س نے جوابا ً کہا کہ وہ مسنون اذکار ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ بیت الخلاءمیں جاتے ہوئے یہ دعا پڑھاکرتے تھے۔
اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوذُبِکَ مِنَ الخُبُثِ وَالخَبَائِثِ
اے اللہ ! میں خبیث جن وںاورجننیوں سے تیری پناہ مانگتاہوں۔
وقت جماع دعا پڑھنا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی جب اپنی بیوی سے جماع کرے تویہ دعا پڑھے۔
بِسمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ جَنِّبَا الشَّیطٰنَ وَجَنِّبِ الشَّیطَانَ مَا رَزَقنَا
اللہ کے نام کے ساتھ ‘اے اللہ ! ہمیں شیطان سے بچا اورجو چیز توہمیں عطا فرما ئے اسے بھی شیطان سے بچا۔
اگر اس جماع کے بعد ان کوبچہ دیاجاتاہے تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچاسکتا۔
جادو و سحر
جادو کی قسمیں
جادو کی آٹھ قسمیں امام رازی ؒنے بیان کی ہیں۔
۱ ۔ ایک قسم کا جادو تو ستارہ پرست فرقہ کا ہے۔ وہ سات ستاروں کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بھلائی برائی انہی کے باعث ہوتی ہے، اس لیے ان کی طرف منسوب کر کے مقررہ الفاظ پڑھتے ہیں اور انہی کی پرستش کرتے ہیں ، اسی قوم میں حضرت ابراہیم آئے اور انہیں ہدایت کی۔

۲ ۔ دوسری قسم کا جادو قوی نفس اور قوت واہمہ والے لوگوں کا ہے۔ وہم اورخیال کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ دیکھئے اگر ایک تنگ پل زمین پر رکھ دیا جائے تو اس پر انسان بہ آسانی چلا جائے گا۔لیکن یہی تنگ پل اگر کسی پر ہو تو نہیں گزر سکے گا۔ اس لیے کہ اس وقت خیال ہوتا ہے کہ اب گرا تو واہمہ کی کمزوری کے باعث جتنی جگہ پر زمین میں چل پھر سکتا تھا۔ اتنی جگہ پر ایسے ڈر کے وقت نہیں چل سکتا۔حکیموں طبیبوں نے بھی مرعو ب شخص کو سرخ چیزوں کے دیکھنے سے رو ک دیا ہے اور مرگی والوں کو زیادہ روشنی والی اورتیز حرکت کرنے والی چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوت واہمہ کا ایک خاص اثر طبیعت پڑتاہے عقلمند لوگوں کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ نظر لگتی ہے۔صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نظر کا لگنا حق ہے۔ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کرنے والی ہوتی تو نظر ہوتی۔ اب اگر نفس قوی ہے تو ظاہری سہاروں اورظاہری کاموں کی کوئی ضرورت نہیں ، اور اگر اتنا قوی نہیں توپھر ان آلات کی بھی ضرور ت پڑتی ہے۔ جس قدر نفس کی قوت بڑھتی جائے گی وہ روحانیات میں ترقی کرتا جائے گا اور تاثیر میں بڑھتا جائے گا اور جس قدر یہ قوت کم ہوتی جائے گی، اسی قدر یہ گھٹتا جائے گا۔ یہ بات کبھی غذا کی کمی لوگوں کے میل جول کے ترک وغیرہ سے بھی حاصل ہو جاتی ہے۔کبھی تو اسے حاصل کر کے انسان نیکی کے کام شریعت کے مطابق اس سے لیتا ہے۔ اس حال کو شریعت کی اصطلاح میں کرامت کہتے ہیں۔جادو نہیں کہتے۔ اور کبھی اس حال سے باطل میں اور خلاف شرع کاموں میں مدد لیتا ہے اور دین سے دور ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے یہ خلا ف عادت کاموں سے کسی کو دھوکا کھا کر انہیں ولی نہ سمجھ لینا چاہیے کیونکہ شریعت کے خلاف چلنے والا ولی اللہ نہیں ہو سکتا۔ تم دیکھتے نہیں کہ صحیح حدیثوں میں دجال کی بابت کیا کچھ آیا ہے۔وہ کیسے کیسے خلاف عادت کام کر کے دکھائے گا۔ لیکن ان کی وجہ سے وہ خدا کا ولی نہیں بلکہ وہ ملعون مردود ہے۔
۳۔ تیسری قسم کا جادو جنات وغیرہ زمین والوں کی روحوں سے امدادو اعانت طلب کرنے کا ہے۔ معتزلہ اور فلاسفر اس کے قائل نہیں۔ ان روحوں سے بعض مخصوص الفاظ اور اعمال سے تعلق پیدا کرتے ہیں۔ اسے سحر بلعزائم اور عمل تسخیر بھی کہتے ہیں۔
۴۔ چوتھی قسم کا جادو خیالات کا بدل دینا ، آنکھوں پر اندھیرا ڈال دینا اور شعبدہ بازی کرنا ہے ، جس سے حقیقت کے خلاف کچھ کاکچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ شعبدہ باز پہلے ایک کام شروع کرتا ہے۔ جب لوگ دلچسپی کے ساتھ اس طرف نظریں جما لیتے ہیں اور اس کی باتوں میںمتوجہ ہو کر ہمہ تن اس میں مصروف ہو جاتے ہیں ، وہ پھرتی سے ایک دوسرا کام کر ڈالتا ہے۔ جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رہتا ہے اور اسے دیکھ کر وہ حیران رہ جاتے ہیں ، بعض مفسرین کا قول ہے کہ فرعون کے جادو گروں کا جادو بھی اس قسم کا تھا۔
اسی لیے قرآن کریم میں ہے۔
" قَالَ أَلْقُوا فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ"
" (موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا "
موسی علیہ السلام کے خیال میں وہ سب لکڑیاں اور رسیاں سانپ بن کر دوڑتی ہوئی نظر آنے لگیں۔حالانکہ درحقیقت ایسا نہ تھا واللہ اعلم۔
۵۔ پانچویں قسم کا جادو بعض چیزوں کی ترکیب دے کر کوئی عجیب کام اس سے لینا ، مثلا گھوڑی کی شکل بنا دینا اس پر ایک سوار بنا کر بٹھا دیا ، اس کے ہاتھ میں ترہی ہے ،جہاں ایک ساعت گزری اور اس کرنائے میں سے آواز نکلی۔ حالانکہ کوئی اسے نہیں چھیڑتا ، اسی طرح انسانی صورت اس کاریگری سے بنائی کہ گویا اصلی انسان ہنس رہا ہے یا رو رہا فرعون کے جادوگروں کا جادو بھی اسی قسم میں سے تھا کہ وہ بنائے سانپ وغیرہ زیپق کے باعث زندہ حرکت کرنے والے دکھائی دیتے تھے۔ گھڑی اور گھنٹے اور چھوٹی چھوٹی چیزیں جن سے بڑی بڑی وزنی چیزیں کھچ آتی ہیں۔ سب اسی قسم میں داخل ہیں ، حقیقت میں اسے جادو ہی نہ کہنا چاہیے ،کیونکہ یہ تو ایک ترکیب اور کاریگری ہے۔ جس کے اسباب با لکل ظاہر ہیں ،جو انہیں جانتا ہو وہ ان کلموں سے یہ کام لے سکتا ہے ، اسی طرح کا وہ حیلہ بھی ہے کہ جو بیت المقدس کے نصرانی کرتے تھے کہ پوشیدگی سے گرجے کی قندیلیں جلا دیں اور اسے گرجے کی کرامت مشہور کر دی اور لوگوںکو اپنے دین کی طرف جھکا لیا ، بعض کرامیہ صوفیوں کا بھی خیال ہے کہ اگر ترغیب و ترہیب کی حدیثیں گھڑ لی جائیں اور لوگوں کو عبادت کی طرف مائل کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن بڑی غلطی ہے۔رسول ? فرماتے ہیں ، جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنی جگہ جہنم میں مقرر کر لے۔ اور فرمایا میری حدیثیں بیان کرتے رہو ، لیکن مجھ پر جھوٹ نہ باندھو ، مجھ پر جھوٹ بولنے والا قطعا جہنمی ہے۔ ایک نصرانی پادری نے ایک مرتبہ دیکھا کہ ایک پرند ے کا ایک چھوٹا سا بچہ جسے اڑنے اور چلنے پھرنے کی طاقت نہیں ایک گھونسلے میں بیٹھا ہے ، جب وہ اپنی ضعیف اور پست آواز نکالتا ہے تو اور پرندے اسے سن کر رحم کھا کر زیتون کا پھل اس کے گھونسلے میں لا لا کر رکھ جاتے ہیں۔ اس نے اسی صورت کا ایک پرندہ کسی چیزکا بنایا اور نیچے سے اسے کھوکھلا رکھا اور ایک سوراخ اس کی چونچ کی طرف رکھا ، اسے لا کر اپنے گرجے میں ہوا کے رخ رکھ دیا ، چھت میں ایک چھوٹا سا سوراخ کر دیا ، تاکہ ہوا اس سے جائے ، اب جب ہوا اور اس کی آواز نکلتی تو اس قسم کے پرندے جمع ہو جاتے اور زیتون کے پھل لا لا کر رکھ جاتے ، اس نے لوگوں میں شہرت دینی شروع کی کہ اس گرجے میں یہ کرامت ہے ، یہاں ایک بزرگ کا مزارہے اور یہ کرامت انہی کی ہے ، لوگوں نے بھی جب یہ انہونی عجیب بات اپنی آنکھوں سے دیکھی تو معتقد ہو گئے اور اس قبر پر نذر و نیاز چڑھنے لگی ، اور یہ کرامت دور دراز تک مشہور ہو گئی۔ حالا نکہ نہ کوئی کرامت تھی نہ معجزہ ، صرف ایک پوشیدہ فن تھا۔ جسے اس ملعون شخص نے پیٹ بھرنے کے لیے پوشیدہ طور پر رکھا ہوا تھا اور وہ لعنتی فرقہ اس پر ریجھا ہوا تھا۔
۶۔ چھٹی قسم  کا جادو بعض دواوں کے مخفی خواص معلوم کرکے انہیں کام میں لانا ، اور یہ ظاہر ہے کہ دواوں میں عجیب عجیب خاصیتیں ہیں ، مقناطیس ہی کو دیکھو کہ لوہا کس طرح اس کی طرف کھچ جاتا ہے۔ اکثرجہلی صوفی اور جہلی فقیر اور جہلی درویش انہی حیلہ سازیوں کو کرامت کر کے لوگوں کو دکھاتے ہیں اور انہیں مرید بناتے پھرتے ہیں۔
۷ ۔ ساتویں قسم  کا جادو دل پر ایک خاص قسم کا اثر ڈال کر اس سے جو چاہتا منو الیتا ہے مثلا اس سے کہہ دیا کہ مجھے اسم اعظم یاد ہے۔ یا جنات میرے قبضے میں ہیں ، اب اگر سامنے والا کمزور دل کا اور کچے کانوں کا اور بودے عقیدے والا ہے تو وہ اسے سچ سمجھ لے گا اور اس کی طرف سے ایک قسم کا خوف اور ڈر ہیبت اور رعب اسکے دل پر بیٹھ جائے گا ،جو اس کو ضعیف بنا دے گا۔ اب اس وقت وہ جو چاہے گا کرے گا اور اس کو کمزور دل اسے عجیب عجیب باتیں دکھاتا جائے گا ، اس کو متبدلہ کہتے ہیں اور یہ اکثر کم عقل لوگوں پر ہو جایا کرتا ہے اور علم فراست سے کامل عقل والا اور کم عقل والا انسان معلوم ہو سکتا ہے اور اس حرکت کا کرنے والا اپنا یہ فعل قیافے سے کم عقل شخص معلوم کر کے ہی کرتا ہے۔
۸۔ آٹھویں قسم کا جادو چغلی جھوٹ سچ ملا کر کسی کے دل میں اپنا گھر کر لینا اور خفیہ چالوں سے اسے اپنا گرویدہ کر لینا ، یہ چغل خوری اگر لوگوں کو بھڑکانے بدکانے اور ان کے درمیان عداوت و دشمنی ڈالنے کے لیے ہو تو شرعا حرام ہے۔ جب اصلاح کے طور پر آپس میں ایک دوسرے مسلمان کو ملانے کے لیے کوئی ایسی ظاہر بات کہہ دی جائے ، جس سے یہ اس سے اور وہ اس سے خوش ہو جائے یا کوئی آنے والی مصیبت مسلمانوں پر سے ٹل جائے یا کفار کی قوت زائل ہو جائے ان میں بددلی پھیل جائے اور مخالفت و پھوٹ پڑ جائے تو یہ جائز ہے۔
ساحر و سحر کے احکام
شریعت اسلامیہ میں ساحر کے لیے کوئی حد نہیں ہے۔ لیکن جرم کے بعد اس پر سزاہے۔ جو امام کی مرضی پر موقوف ہے جسے ہم تعزیر کہتے ہیں ،
فضالہ بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓنے اپنے ایک فرمان میں لکھا تھا کہ ہر ایک جادوگر مرد و عورت کو قتل کر دو۔ چنانچہ ہم نے تین جادوگروں کی گردن ماردی۔
صحیح بخاری میں ہے کہ ام المو منین حضرت حفصہ ؓپر ان کی ایک لونڈی نے جادو کر دیا جس پر اسے قتل کیا گیا۔
حضرت امام احمد بن حنبل ؒفرماتے ہیں کہ تین صحابیوں سے جادوگر کے قتل کا فتویٰ ثابت ہے۔
ترمذی میں ہے کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ جادوگر کو تلوار سے قتل کر دینا ہے ،۔
جادوگر کا قتل جائز ہے الحماد میں ہے کہ
اَلمسلِم ُ وَالَّذِّمّی وَالحُرُّوَالعَبُ مَن اَقَرَّمِنھم اِنَّ سَاحِرفَقَدحَلَّ دَمُہ وَتُقتَلُ وَلَا یُقبَلُ تَوبَتُہ
جو شخص جادو کا اقرار کرے ، خواہ وہ مسلما ن ہو یا ذمی ، آزاد ہو یا غلام اس کا قتل جائز ہے اور اس کی توبہ مقبول نہیں۔
ایک جگہ اور فتویٰ الحماد میں ہے کہ یُقتَلُ السَّاحِرُوَالخَنَاقُ فَاِن تَابَا لَا یُقبَلُ تَوبَتُھُمَا
ساحر اور گلا گھونٹنے والے کا قتل جائز ہے اور ان کی توبہ قبول نہیں۔ رہی سحر کی بات تو اس کے متعلق یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں جس کو سحر کہا گیا ہے وہ حرام اورناجائز ہے۔ جیسا کہ روح المعانی میں ابو منصور ؒسے روایت ہے کہ مطلقا سحر کی سب اقسام کفر نہیں ، بلکہ صرف وہ سحر کفر ہے ، جس میں ایمان کے خلاف اقوال و اعمال اختیارکئے گئے ہوں۔ لہذااس کا سیکھنا اورسکھانا حرام ہے۔ اس پر عمل کرنا بھی حرام ہے۔ البتہ اگر مسلمانوں سے دفع ضرر کے لیے بقدر ضرورت سیکھا جائے تو بعض فقہا کے نزدیک اس کی اجازت ہے۔ اسی طرح عامل جو تعویذ گنڈے وغیرہ کرتے ہیں تو اگر ان میں بھی جنات و شیاطین سے مدد لی گئی ہو۔ تو یہ بھی سحر کے حکم میں ہیں اور حرام ہیں اور اگر الفاظ مشتبہ ہوں ، معنی معلوم نہ ہوں اور اس میں استمداد شیطان کا احتمال ہو تو بھی ناجائز ہیں۔ یہ مسئلہ بھی شامی میں ہے کہ اگر کسی کو ناحق ضررپہنچانے کیلیے جائز کلمات اختیار کیے تو یہ بھی حرام ہے۔ اب ہم جادو کے دفعیہ کے بارے میں بزرگ انسانوں اور بزرگ جنات و مو کلین کے بتلائے ہوئے اعمال و وظائف اور تعویذات پیش کر رہے ہیں۔ جادو کے دفعیہ کے اعمال سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس کائنات میں فعال ذات خدا کی ہے۔ نفع و ضرر ، عزت و ذلت ، خیر وشر سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان صرف تد ابیر اختیار کرتا ہے اور اثر و تاثیر اللہ دیتا ہے۔ جب بھی کوئی عمل کریں ، پہلے خدا کی طرف رجوع ہوں ، دعا کریں اور اپنا اور اپنے گھر والوں کا حصار لگائیں ، کیونکہ عمل کے دوران بعض اوقات جوابی حملہ اچانک ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جیسے ہی کسی کو یہ علم ہو جائے کہ اس پر جادو ہے یا بندش ہے تو اس کا فورا علاج کروائے۔ ورنہ یہ جادو آدمی کے لیے امراض کی شکل میں اور گھر کیلیے نحوست کا باعث بن جاتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے بہت کیس آتے ہیں جس میں جادو مرض کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور پھر بہت مشکل سے ہی جاتا ہے۔ کیونکہ وہ خون میں شامل ہو کر جزو بدن بن جاتا ہے۔ اس لیے ابتدا سے ہی علاج کروا لینا چاہیے۔
Share:

No comments:

Post a Comment

Translate

youtube

Recent Posts

Labels

Blog Archive

Please share these articles for Sadqa E Jaria
Jazak Allah Shukran

Most Readable

POPULAR POSTS